Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 41 · Chapter 433

Gestures

بَابُ ضَرْبِ الرَّجُلِ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ عِنْدَ التَّعَجُّبِ أَوِ الشَّيْءِ

تعجب کے وقت اپنی ران یا کسی چیز پر ہاتھ مارنا

2 hadiths in this chapter

959

Al-Adab Al-Mufrad #959

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ((أَلَا تُصَلُّونَ؟)) فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا عِنْدَ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ يَقُولُ: " ﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ [الكهف: 54] "

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت میرے اور سیدہ فاطمہ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا:’’تم (تہجد کی)نماز نہیں پڑھتے۔‘‘ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں تو صرف اللہ کے قبضے میں ہیں جب وہ چاہتا ہے ہمیں اٹھا دیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور مجھے کچھ نہ کہا۔ پھر میں نے سنا آپ واپس جاتے ہوئے ہاتھ ران پر مارتے ہوئے (یہ آیت تلاوت)فرما رہے تھے:اور آدمی سب سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔‘‘

960

Al-Adab Al-Mufrad #960

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: رَأَيْتُهُ يَضْرِبُ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، أَتَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَكُونُ لَكُمُ الْمَهْنَأُ وَعَلَيَّ الْمَأْثَمُ؟ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِي فِي نَعْلِهِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهُ))

اردو ترجمہ · Urdu

ابو رزین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے دیکھا اور وہ فرما رہے تھے:اے اہل عراق! کیا تم سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ پر جھوٹ باندھتا ہوں؟ کیا تمہارے لیے لذت اور راحت ہو اور مجھ پر گناہ ہو؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جب تم میں سے کسی (کے جوتے)کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسرے (ایک)جوتے میں نہ چلے یہاں تک کہ اس کو درست کرلے۔‘‘