Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 41 · Chapter 435

Gestures

بَابُ مَنْ كَرِهَ أَنْ يَقْعُدَ وَيَقُومَ لَهُ النَّاسُ

جو شخص اس بات کو ناپسند کرے کہ خود تو بیٹھا رہے اور لوگ اس کے لیے کھڑے رہیں

2 hadiths in this chapter

964

Al-Adab Al-Mufrad #964

Sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: صُرِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ بِالْمَدِينَةِ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَكُنَّا نَعُودُهُ فِي مَشْرُبَةٍ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ يُصَلِّي قَاعِدًا، فَصَلَّيْنَا قِيَامًا، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى وَهُوَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ قَاعِدًا، فَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ قِيَامًا، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اقْعُدُوا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: ((إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَلَا تَقُومُوا وَالْإِمَامُ قَاعِدٌ كَمَا تَفْعَلُ فَارِسُ بِعُظَمَائِهِمْ))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ طیبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے کھجور کے ایک تنے پر گر گئے جس سے آپ کے پاؤں مبارک کو موچ آگئی۔ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے چوبارے میں آپ کی عیادت کرتے تھے، چنانچہ ایک دفعہ ہم آئے تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کھڑے ہوکر نماز پڑھی، پھر ہم دوبارہ آئے تو آپ فرض نماز بیٹھ کر پڑھ رہے تھے تو ہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھی تو (دوران نماز)آپ نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ، پھر جب آپ نے نماز ختم کی تو فرمایا:جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو اور جب وہ کھڑے ہوکر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہوکر پڑھو۔ امام بیٹھا ہو تو تم کھڑے مت رہو جس طرح اہل فارس اپنے بڑوں کے لیے کرتے ہیں۔‘‘

965

Al-Adab Al-Mufrad #965

Sahih

قَالَ: وَوُلِدَ لِفُلَانٍ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: لَا نُكَنِّيكَ بِرَسُولِ اللَّهِ. حَتَّى قَعَدْنَا فِي الطَّرِيقِ نَسْأَلُهُ عَنِ السَّاعَةِ، فَقَالَ: ((جِئْتُمُونِي تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ؟)) قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: ((مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ، يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ)) قُلْنَا: وُلِدَ لِفُلَانٍ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: لَا نُكَنِّيكَ بِرَسُولِ اللَّهِ، قَالَ: ((أَحْسَنَتِ الْأَنْصَارُ، سَمُّوا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ انصار کے کسی آدمی کے ہاں بچہ ہوا تو اس نے اس کا نام محمد رکھا۔ انصار نے کہا:ہم تمہیں اللہ کے رسول کی کنیت سے نہیں پکاریں گے یہاں تک کہ ہم راستہ میں بیٹھ گئے تاکہ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم مجھ سے قیامت کے متعلق سوال کرنے کے لیے آئے ہو؟‘‘ ہم نے کہا:جی ہاں۔ آپ نے فرمایا:’’کوئی زندہ جان ایسی نہیں جو سو سال پورے کرے۔‘‘ (مگر اس پر قیامت آجائے گی۔)ہم نے عرض کیا:ایک انصاری کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے جس کا نام اس نے محمد رکھا ہے تو انصار نے اسے کہا ہے کہ ہم تجھے رسول اللہ کی کنیت سے ہرگز نہیں پکاریں گے، یعنی ابو القاسم نہیں کہیں گے۔)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:انصار نے اچھا کیا ہے، میرے نام پر نام رکھ لو مگر میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔‘‘