Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 61–70 of 129

61

وَمِنْهُمُ ٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ ٱلنَّبِىَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌۭ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍۢ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ ۚ وَٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لیے۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے

[٧٤] منافقوں کا آپ کو لائی لگ کہنا اور اس کا جواب :۔ منافقوں کو رسول اللہ سے یہ شکایت تھی کہ آپ ہر شخص کی بات سن لیتے ہیں اور پھر اسے درست بھی سمجھ لیتے ہیں۔ دراصل ان کی خواہش یہ تھی کہ آپ ان مسلمانوں کی باتوں پر اعتماد نہ کیا کریں جو ہم جیسے معزز لوگوں کی خبریں یعنی ہماری سازشوں اور شرارتوں کے حالات سے آپ کو مطلع کرتے رہتے ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کا ایسا ہونا دراصل تمہارے ہی حق میں بہتر ہے۔ تم ان کے سامنے اپنے ایمان کے جھوٹے دعوے کرتے، مسلمانوں کے ہمدرد ہونے پر جھوٹی قسمیں کھاتے اور جہاد سے فرار کے لیے جھوٹے بہانے بناتے ہو۔ مگر وہ صبر سے کام لیتا ہے۔ اگر وہ اسی وقت ہر بات کی تحقیق شروع کردیتا تو سب سے پہلے تمہاری ہی شامت آجاتی۔- [٧٥] متقی کی بات قابل اعتبار ہے :۔ یعنی رسول سنتا تو سب کی ہے مگر اعتماد صرف ان لوگوں پر کرتا ہے جو سچے مومن ہیں اور اللہ سے ڈرنے والے اور جھوٹ اور چغل خوری سے پرہیز کرنے والے ہیں۔ لہذا اگر وہ تمہاری شرارتوں اور معاندانہ سرگرمیوں کی اطلاع دیتے ہیں تو وہ فی الواقع قابل اعتماد ہوتی ہیں۔

62

يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَحَقُّ أَن يُرْضُوهُ إِن كَانُوا۟ مُؤْمِنِينَ

مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں

[٧٦] منافقوں کی جب بھی کوئی سازش یا دغا بازی پکڑی جاتی تو فوراً اس سے مکر جاتے اور اپنے جھوٹے بیان پر قسمیں کھا کھا کر مسلمانوں کو مطمئن اور راضی کرنے کی کوشش کیا کرتے۔ حالانکہ یہی بات ان کی منافقت کو مزید تقویت پہنچا دیتی تھی۔ اس کے بجائے اب بھی اگر وہ اللہ سے ڈر جاتے اور اپنی غلطیوں اور گناہوں کا اعتراف کر کے اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنے کی کوشش کرتے تو یہ فی الواقع ان کے اللہ پر یقین رکھنے کی دلیل بن سکتی تھی۔

63

أَلَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّهُۥ مَن يُحَادِدِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَأَنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدًۭا فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْخِزْىُ ٱلْعَظِيمُ

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے

[٧٧] منافقوں کی رسوائی کیسے ؟ یعنی ایک رسوائی تو اس وقت ہوتی ہے جب ان کی کوئی سازش اور دغا بازی سب لوگوں کے سامنے آجاتی ہے جس کی وجہ سے ان کو مزید جھوٹی باتیں بنا کر اور قسمیں کھا کر اپنی طرف سے مسلمانوں کو اپنی صفائی کی یقین دہانی کرانا پڑتی ہے اور یہ رسوائی اس رسوائی کے مقابلہ میں بہت ہلکی ہے جو انہیں قیامت کے دن سب کے سامنے اٹھانا پڑے گی۔ جب ان کی یہ سب شرارتیں کھل کر سامنے آجائیں گی اور معذرتوں کا بھی موقع نہ ہوگا پھر انہیں جہنم کا دائمی عذاب بھگتنا پڑے گا۔

64

يَحْذَرُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌۭ تُنَبِّئُهُم بِمَا فِى قُلُوبِهِمْ ۚ قُلِ ٱسْتَهْزِءُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ مُخْرِجٌۭ مَّا تَحْذَرُونَ

منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر) پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اُتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کر دے۔ کہہ دو کہ ہنسی کئے جاؤ۔ جس بات سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کردے گا

Explained together with ayah 63

65

وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ۚ قُلْ أَبِٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ وَرَسُولِهِۦ كُنتُمْ تَسْتَهْزِءُونَ

اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے

[٧٨] منافقوں کی دل لگی کا موضوع ؟ غزوہ تبوک میں منافقین کی ایک جماعت بھی شامل تھی۔ جنہیں چار و ناچار ساتھ جانا پڑگیا تھا۔ مگر راستہ میں بھی انہیں شرارتیں ہی سوجھتی رہیں اور ایسی باتیں کرنے لگے جس سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں۔ مثلاً ایک نے کہا : یہ مسلمان بھی عجیب غلط فہمی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر ہم مکہ کے قریش پر غالب آگئے ہیں تو قیصر روم کا مقابلہ کرنے کے لیے چڑھ دوڑے ہیں حالانکہ روم وہ عظیم طاقت ہے جو کسریٰ کو بھی شکست دے چکا ہے اور اس وقت اس کا طوطی بول رہا ہے۔ دوسرا کہنے لگا میں تو سمجھتا ہوں کہ ہم سب جکڑ بند کر کے قید کردیئے جائیں گے اور شاید ان کے ہاتھوں ہماری بڑی سخت پٹائی بھی ہو۔ پھر کبھی انہیں یہ خیال بھی آنے لگتا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پیغمبر کو اللہ تعالیٰ ہماری ان باتوں پر اور دلوں کے حالات پر وحی کے ذریعہ مطلع کر دے۔ چناچہ ان کا یہ خطرہ سچ ثابت ہوا۔ اور جب آپ کو فی الواقع بذریعہ وحی ان لوگوں کے حالات سے مطلع کیا گیا تو آپ نے انہیں بلا کر باز پرس کی تو کہنے لگے : ہم تو یہ باتیں اس طویل سفر میں محض دل بہلاوے کے طور پر کر رہے تھے سنجیدگی سے نہیں کر رہے تھے۔ اللہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ کیا تمہیں اس دل بہلاوے اور ہنسی مذاق کے لیے ایسی ہی باتیں سوجھتی ہیں جن میں اللہ اور اس کے رسول کی سبکی ہوتی ہو اور اسلام کی سربلندی کے مقصد کو نقصان پہنچتا ہو ؟ اور کوئی بات تمہیں دل بہلاوے کے لیے نہیں سوجھتی۔

66

لَا تَعْتَذِرُوا۟ قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَٰنِكُمْ ۚ إِن نَّعْفُ عَن طَآئِفَةٍۢ مِّنكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِأَنَّهُمْ كَانُوا۟ مُجْرِمِينَ

بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں

[٧٩] اس گروہ سے وہ منافق مراد ہیں جنہوں نے اس طرح کی گفتگو میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اور وہ گروہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے جو بعد میں فی الواقع نفاق کی راہ کو چھوڑ کر حقیقی معنوں میں مسلمان بن گیا تھا۔

67

ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلْمُنَٰفِقَٰتُ بَعْضُهُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۚ يَأْمُرُونَ بِٱلْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ ۚ نَسُوا۟ ٱللَّهَ فَنَسِيَهُمْ ۗ إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے اور نیک کاموں سے منع کرتے اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ان کو بھلا دیا۔ بےشک منافق نافرمان ہیں

[٨٠] منافق امر تو منکرات کا کرتے ہیں اور نہی اوامر کی :۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کتاب و سنت میں اتنی زیادہ تاکید آئی ہے جس سے بعض علماء نے اس فریضہ کو فرض کفایہ کے بجائے فرض عین سمجھ لیا ہے اور یہ منافق لوگ خواہ مرد ہوں یا عورتیں سب اس اہم فریضہ کے برعکس کام کرتے ہیں۔ کوئی برائی کی بات ہو، کفر و شرک کا معاملہ ہو یا اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا، ان کے دل فوراً ادھر مائل ہوجاتے ہیں اور اس میں ہر طرح سے امداد و تعاون پر تیار ہوجاتے ہیں اور ایسے کاموں میں ان کے دلوں کو اطمینان اور راحت ملتی ہے اور جب کوئی اچھا کام ہو رہا ہو یا دین کی سربلندی کا معاملہ درپیش ہو تو ایسی خبر سنتے ہی ان کے دل بجھ جاتے ہیں۔ پھر وہ ایسی تدبیروں میں مصروف ہوجاتے ہیں کہ یا تو وہ کام شروع ہی نہ ہو اور اگر ہوچکا ہے تو تکمیل کو نہ پہنچ سکے۔- [٨١] یعنی وہ رسم ورواج، دکھلاوے اور حرام کاموں میں تو اپنے دل کی خوشی سے اور فراخدلی سے خرچ کرتے ہیں۔ لیکن جب جہاد کے لیے یا کسی بھی بھلے کام کے لیے چندہ کی ضرورت پیش آتی ہے تو ان کے دلوں میں گھٹن پیدا ہوجاتی ہے اور کوئی چیز ہاتھوں سے نکالنے کو جی نہیں چاہتا۔- [٨٢] بھلانے کی نسبت اللہ کی طرف :۔ اللہ کا بھلانا یہ ہے کہ اس نے ان منافقوں کو اپنے فضل اور رحمت سے محروم کردیا اور اس کے بجائے سب مسلمانوں کی نظروں میں اللہ نے ذلیل و رسوا بنادیا۔ نیز عرب میں محاورہ یہ ہے کہ کسی چیز کے بدلے پر بھی اس کا نام بول دیتے ہیں۔ اور اسے مشا کلہ کہتے ہیں جیسے ( يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۝ۭ ) 2 ۔ البقرة :9) (وہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں اور اللہ انہیں ان کے دھوکے کا بدلہ دیتا ہے) اب اللہ نے اپنے بھلانے کی جو جو سزا بھی مقرر کر رکھی ہے۔ ان سب سزاؤں پر اس لفظ کا اطلاق ہوگا۔ جیسا کہ ان سزاؤں کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے اس سے اگلی آیت میں کردی ہے یعنی اللہ کے بھلانے سے مراد ان پر اللہ کی پھٹکار اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔

68

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْمُنَٰفِقِينَ وَٱلْمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ هِىَ حَسْبُهُمْ ۚ وَلَعَنَهُمُ ٱللَّهُ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌۭ مُّقِيمٌۭ

الله نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہی ان کے لائق ہے۔ اور خدا نے ان پر لعنت کر دی ہے۔ اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب (تیار) ہے

Explained together with ayah 67

69

كَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ كَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنكُمْ قُوَّةًۭ وَأَكْثَرَ أَمْوَٰلًۭا وَأَوْلَٰدًۭا فَٱسْتَمْتَعُوا۟ بِخَلَٰقِهِمْ فَٱسْتَمْتَعْتُم بِخَلَٰقِكُمْ كَمَا ٱسْتَمْتَعَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُم بِخَلَٰقِهِمْ وَخُضْتُمْ كَٱلَّذِى خَاضُوٓا۟ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو، جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ تھے تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔ اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں

[٨٣] یعنی قوم عاد، ثمود، نوح، ابراہیم وغیرہ وغیرہ ایسی اقوام تھیں جن کی شان و شوکت تم لوگوں سے بڑھ کر تھی۔ انہوں نے تم سے بہت زیادہ عیش و عشرت سے زندگی بسر کی تھی۔ وہ لوگ طاقت کے لحاظ سے بھی تم سے مضبوط تر تھے اور مال اور اولاد کے لحاظ سے بھی تم سے بہت آگے تھے۔ وہ لوگ بھی دنیا میں مست ہو کر آیات کو بھول گئے تھے۔ اس کی نافرمانیوں پر اتر آئے اور اللہ کی آیات سے مذاق اور دل بہلاوے کرنے لگے تھے۔ اور آج تم بھی بعینہ وہی کچھ کر رہے ہو۔ اللہ کو بھول جانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی نے دنیا میں کوئی اچھے کام کیے بھی ہوں تو آخرت میں وہ سب رائیگاں جائیں گے کیونکہ اعمال کی جزا تو صرف اس صورت میں ملتی ہے کہ اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان ہو اور جب یہ بنیاد ہی موجود نہ ہو تو پھر جزاء کیسی ؟ اور اس سے بڑھ کر خسارہ کیا ہوسکتا ہے کہ کسی شخص کو اس کی کی ہوئی محنت کا ثمرہ ہی نہ مل سکے۔

70

أَلَمْ يَأْتِهِمْ نَبَأُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوحٍۢ وَعَادٍۢ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَٰهِيمَ وَأَصْحَٰبِ مَدْيَنَ وَٱلْمُؤْتَفِكَٰتِ ۚ أَتَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ ۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے۔ اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

[٨٤] یہ سب اقوام ایسی ہیں جن کا اپنے اپنے وقتوں میں ڈنکا بجتا تھا۔ پھر جب انہوں نے اللہ کے رسول اور اس کی آیات کو جھٹلایا اور نافرمانی اور مخالفت کی راہ اختیار کی تو ان پر اللہ کی طرف سے ارضی یا سماوی عذاب آیا جس نے انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ ایسی قوموں کے حالات کی تفصیل پہلے سورة اعراف میں بھی گزر چکی ہے اور آئندہ بھی متعدد مقامات پر مذکور ہوگی۔- الٹائی ہوئی بستیوں سے مراد سیدنا لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں ہیں۔ سیدنا جبریل نے بحکم الٰہی ان بستیوں کو اپنے پر کے اوپر اٹھایا اور بلندیوں پر لے جا کر انہیں اٹھا کر زمین پردے مارا تھا۔ پھر بھی اس قوم پر اللہ کا غضب کم نہ ہوا تو ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔ سیدنا لوط کا مرکز تبلیغ سدوم کا شہر تھا۔ اور یہ الٹائی ہوئی بستیاں غالباً آج کل بحیرہ مردار میں دفن ہوچکی ہیں۔- [٨٥] یعنی اللہ تعالیٰ کو نہ ان لوگوں سے کوئی دشمنی تھی، نہ انہیں عذاب دینے کا شوق تھا اور نہ ضرورت تھی بلکہ جس طریق زندگی کو انہوں نے اختیار کیا اور اس پر مصر رہے وہ راستہ ہی ہلاکت اور بربادی کا تھا اور اس بات کی اطلاع انہیں رسولوں کے ذریعہ دی جا چکی تھی۔

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.