Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 1–10 of 75

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو

[١] انفال سے مراد کون سے اموال ہیں ؟:۔ اموال زائدہ یا انفال سے مراد وہ اموال ہیں جو کسی کی محنت کا صلہ نہ ہوں بلکہ اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے عطا کئے ہوں اور ان کی کئی اقسام ہیں مثلاً (١) اموال غنیمت جو اگرچہ مجاہدین کی محنت کا صلہ معلوم ہوتا ہے۔ تاہم اسے اس لیے انفال میں شمار کیا گیا کہ پہلی امتوں پر غنیمت کے اموال حرام تھے۔ ایسے سب اموال ایک میدان میں اکٹھے کردیئے جاتے پھر رات کو آگ اتر کر ان کو بھسم کردیتی تھی۔ مگر اس امت پر حلال کی گئی ہے (٢) اموال فے یعنی ایسے اموال جو لڑے بھڑے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں (٣) اموال سلب یعنی وہ مال جو ایک مجاہد مقتول دشمن کے جسم سے اتارتا ہے (٤) دیگر اموال جیسے جزیہ، صدقات اور عطیات وغیرہ۔ یہ سب انفال کے ضمن میں آتے ہیں۔- [ ٢] سورة انفال کا شان نزول غزوہ بدر اور اموال غنیمت میں جھگڑا :۔ غزوہ بدر کے اختتام پر یہ صورت پیدا ہوئی کہ جس فریق نے اموال غنیمت لوٹے تھے وہ ان پر قابض ہوگیا تھا۔ ایک دوسرا فریق جس نے کفار کا تعاقب کیا تھا یہ کہتا تھا کہ ہم بھی ان اموال میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ اگر ہم کفار کا تعاقب نہ کرتے تو وہ مڑ کر حملہ کرسکتے تھے اور اس طرح فتح شکست میں تبدیل ہوسکتی تھی اور ایک تیسرا فریق جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد حفاظت کی خاطر حصار بنائے ہوئے تھا وہ کہتا تھا کہ ہم بھی ان اموال میں برابر کے حصہ دار ہیں کیونکہ اگر ہم آپ کی حفاظت نہ کرتے اور خدانخواستہ آپ کو کوئی گزند پہنچ جاتا تو فتح شکست میں بدل سکتی تھی۔ مگر قابضین ایسی باتیں قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ جس سے ان مجاہدین میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس صورت حال کا حل دریافت کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے اور وحی الٰہی کا انتظار کرنے لگے۔ اس وقت یہ آیت بلکہ اس سورة کا کثیر حصہ نازل ہوا۔ جس کی ابتدا ہی مسلمانوں کی اخلاقی کمزوریوں اور ان کی اصلاح کے طریقوں سے کی گئی ہے۔- [ ٣] اموال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کے لئے کیوں ؟:۔ اموال غنیمت وغیرہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک فیصلہ دے دیا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ لہذا تمہیں اس میں جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اموال کے متعلق جو فیصلہ کرے گا وہی تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔- سیدنا سعد (رض) فرماتے ہیں کہ بدر کے دن میں ایک تلوار لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ اللہ نے مشرکین (کو قتل کرنے) سے میرا سینہ ٹھنڈا کردیا۔ یا کچھ ایسے ہی الفاظ کہے اور کہا کہ یہ تلوار آپ مجھے ہی دے دیجئے۔ آپ نے فرمایا یہ تلوار میری ہے نہ تیری ہے۔ میں نے (دل میں) کہا : ہوسکتا ہے۔ آپ یہ تلوار کسی ایسے آدمی کو دے دیں۔ جس نے مجھ جیسی محنت نہ کی ہو، پھر میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قاصد آیا اور آپ کی طرف سے کہا کہ : تو نے مجھ سے تلوار مانگی تھی۔ اس وقت وہ میری نہ تھی اور اب مجھے اختیار دیا گیا ہے۔ لہذا وہ تمہیں دیتا ہوں۔ اس وقت یہ آیت اتری۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر، مسلم، کتاب الجہادوالسیہ، باب الانفال)- اور اموال غنیمت کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حق قرار دینے کی وجہ یہ تھی کہ غزوہ بدر میں مسلمانوں کو فتح خالصتاً اللہ کی مدد اور مہربانی سے حاصل ہوئی تھی۔ جیسا کہ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔- پھر اسی سورة کی آیت نمبر ٤١ کی رو سے اموال غنیمت میں پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے مقرر کیا گیا اور باقی ٥ ٤ مجاہدین میں برابر تقسیم کا حکم دیا گیا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔- سیدنا عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ اللہ نے مال غنیمت ہمارے ہاتھوں سے …

2

إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتْهُمْ إِيمَٰنًۭا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

[٥] سچے مومن کی علامات :۔ اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں مومنوں کی چند علامات ذکر کر کے بتلایا ہے کہ مومن ہونے کا وہی دعویٰ کرسکتے ہیں جن میں یہ علامات پائی جاتی ہوں، سرفہرست یہ ہے کہ جب ان کے تنازعات کے درمیان اللہ کا ذکر یا اس کا حکم آجائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور وہ اس کی نافرمانی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ دوسری علامت یہ ہے کہ جب ان پر اللہ کے احکام بیان کئے جائیں تو وہ بسر و چشم اس کی اطاعت کرتے ہیں جس سے ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان ایک ہی حالت پر نہیں رہتا بلکہ اللہ کی فرمانبرداری سے اس میں اضافہ اور اس کی نافرمانی سے اس میں کمی واقع ہوتی رہتی ہے اور تیسری علامت یہ ہے کہ جس کام کا انہیں حکم دیا جاتا ہے وہ اس کے جملہ اسباب تو اختیار کرتے ہیں مگر ان کا بھروسہ ان اسباب پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔ اپنی پوری کوششوں کے بعد وہ اس کے انجام اور نتیجہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتے ہیں۔

3

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

[٦] ان کی چوتھی علامت یہ ہے کہ وہ نماز کو اس کے پورے آداب اور حقوق کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور پانچویں علامت یہ ہے کہ اپنے اموال میں سے اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں۔ مثلاً حج وعمرہ اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر حق ہے۔ اموال زکوٰۃ میں اللہ کا اور بندوں کا دونوں کا حق ہے۔ اسی طرح نفلی صدقات، اقرباء، فقراء اور مساکین کے لیے ہوتے ہیں۔

4

أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُمْ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ

یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے

[٧] سچے مومنوں کا درجہ :۔ جن ایمان داروں میں یہ پانچ علامات پائی جاتی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے پکے سچے مومن قرار دیا ہے۔ ایسے ہی مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات بھی ہوں گے، بخشش بھی اور عزت کی روزی بھی۔ اب دیکھئے پہلی آیت میں جن تین علامات کا ذکر کیا گیا ہے وہ قلبی عبادت سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر درمیان میں آجانے سے دلوں کا دہل جانا اللہ تعالیٰ کی آیات سے ایمان میں اضافہ ہوجانا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا اور نماز بدنی عبادت ہے اور انفاق فی سبیل اللہ مالی عبادت ہے۔ اب بعض علماء نے ان میں یہ نسبت قائم کی ہے کہ قلبی عبادات کے عوض درجات میں بلندی ہوگی اور بدنی عبادات کے عوض مغفرت ہوگی اور مالی عبادات کے عوض عزت کی روزی ملے گی۔

5

كَمَآ أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيْتِكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی

[٨] جنگ بدر کا پس منظر :۔ اموال غنیمت کے متعلق فیصلہ کرنے اور مومن کو پند و نصائح کے بعد اب یہ بتلایا جا رہا ہے کہ غزوہ بدر کی ابتداء کن حالات میں اور کیسے ہوئی۔ صورت حال یہ تھی کہ کفار مکہ کے ظلم و ستم سے مجبور ہو کر اور لٹ پٹ کر مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آگئے تھے۔ مگر ان کفار نے پھر بھی مسلمانوں کا پیچھا نہ چھوڑا اکا دکا ناکام سے حملے بھی کرچکے تھے اور آئندہ مسلمانوں کے مکمل طور پر استیصال کی تدبیریں سوچ رہے تھے۔ ان حالات میں مسلمانوں نے یہ سوچا کہ قریش کی تجارتی شاہراہ کی ناکہ بندی کردی جائے چناچہ اس غرض کے لیے آپ نے اس شاہراہ کے قریب بسنے والے قبائل سے معاہدے بھی کئے، ان میں سے بعض قبائل تو مسلمانوں کے حلیف بن گئے اور بعض سے غیر جانبدار رہنے کا معاہدہ کیا گیا۔ اور اس ناکہ بندی سے مقصود یہ تھا کہ اس تجارت سے کمایا ہوا مال جو مسلمانوں کے استیصال پر خرچ ہونا ہے اس پر مسلمان کنٹرول کرسکیں۔ دوسرے ان مشرکوں نے مسلمانوں کو بےسرو سامانی کی حالت میں ہجرت کرنے پر مجبور کیا اور بعد میں ان کی جائیدادوں پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔ پھر انہی جائیدادوں کو بیچ کر ان سے اس تجارتی قافلہ کے لیے سرمایہ مہیا کیا گیا تھا۔ اور طے یہ ہوا تھا کہ اس تجارتی قافلہ کا منافع تو مسلمانوں کے استیصال پر خرچ کیا جائے۔ اور اصل زر ان لوگوں کو واپس کردیا جائے۔ جنہوں نے مسلمانوں کی جائیدادیں فروخت کر کے سرمایہ لگایا تھا۔ اس طرح وہ گویا مسلمانوں پر دوہرا ظلم ڈھا رہے تھے۔ اور ان واقعات کی خبریں مدینہ بھی پہنچ رہی تھیں۔ لہذا مسلمانوں کے لیے اس قافلہ کی ناکہ بندی ضروری ہوگئی تھی۔ چناچہ ٢ ھ میں قریش کا یہی قافلہ ابو سفیان کی سر کردگی میں شام سے واپس مکہ جا رہا تھا۔ اس قافلہ کے محافظ تو صرف چالیس پچاس آدمی تھے۔ جبکہ یہ قافلہ ایک ہزار بار بردار اونٹوں پر مشتمل تھا اور تقریباً پچاس ہزار دینار کا مال لے کر مکہ جا رہا تھا۔ مسلمانوں نے ارادہ کیا کہ اس قافلہ پر حملہ کردیا جائے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔- قافلہ پر حملہ کی تیاری :۔ سیدنا انس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ معلوم کر کے آئیں کہ ابو سفیان کا قافلہ کس حال میں ہے۔ بسیسہ جب واپس آئے تو اس وقت گھر میں میرے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کوئی نہ تھا۔ بسیسہ نے خبر سنائی تو آپ باہر تشریف لے گئے اور فرمایا : ہمیں قافلہ کی طلب ہے۔ لہذا جس کے پاس سواری ہو وہ ہمارے ساتھ چلے۔ بعض لوگوں نے دور کے مقام سے اپنی سواریاں لانے کی اجازت طلب کی۔ آپ نے فرمایا : نہیں جس کی سواری حاضر ہے وہ چلیں۔ پھر آپ صحابہ (رض) کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ (مسلم، کتاب الامارہ، باب ثبوت الجنۃ للشہید)- ابوجہل کا جنگ پر اصرار :۔ اسی وجہ سے آپ نے جہاد کی غرض سے کسی کو شامل ہونے کی دعوت نہیں دی تھی۔ مگر آپ کو گھر سے نکال لانے میں اللہ کی حکمت یہ تھی کہ کافروں سے مڈ بھیڑ ہو اور حق و باطل کا معرکہ بپا ہو۔ چناچہ حالات کا پانسہ یوں بدلا کہ ابو سفیان کو بھی مسلمانوں کے اس ارادہ کی خبر ہوگئی تو اس نے قافلہ کی حفاظت کے لیے ایک تیز رفتار سوار کو مکہ بھیج کر کفار مکہ کو مسلمانوں کے اس ارادہ سے مطلع کردیا۔ چناچہ ایک ہزار آدمیوں پر مشتمل لشکر ابو جہل کی سر کردگی میں اس تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لیے روانہ ہوگیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا کرنا یہ ہوا کہ ابو سفیان اپنی راہ بدل کر خیر خیریت سے واپس مکہ مکرمہ پہنچ گیا اور کافروں کا یہ لشکر میدان بدر تک جا پہنچا۔ وہاں پہنچ کر ان لوگوں کو بھی خبر مل گئی کہ تجارتی قافلہ بخیریت مکہ پہنچ گیا ہے۔ لہذا کچھ لوگوں کی رائے یہ ہوئی کہ اب ہمیں واپس مکہ چلے جانا چاہیے کیونکہ جس مقصد سے ہم آئے تھے وہ پورا ہوچکا۔ لیکن ابو جہل اس بات پر مصر تھا کہ یہاں تک تو یہ لشکر پہنچ ہی چکا ہے اور مسلمان بھی آپہنچے ہیں تو اب …

6

يُجَٰدِلُونَكَ فِى ٱلْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى ٱلْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں

Explained together with ayah 5

7

وَإِذْ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحْدَى ٱلطَّآئِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ ٱلشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَيَقْطَعَ دَابِرَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے

Explained together with ayah 5

8

لِيُحِقَّ ٱلْحَقَّ وَيُبْطِلَ ٱلْبَٰطِلَ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں

[٩] جو مسلمان تجارتی قافلہ پر حملہ کی غرض سے نکلے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ اب ہم تین سو تیرہ نہتے آدمیوں کو شاید کفار کے ایک ہزار مسلح لشکر سے جنگ کرنا پڑے۔ تو ان میں سے کچھ لوگوں کو یہ بات سخت ناگوار گزری۔ موت انہیں منہ کھولے سامنے نظر آنے لگی۔ ان کا تقاضا یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو گروہوں (تجارتی قافلہ پر یا کفار کے لشکر پر فتح) میں سے ایک کا وعدہ کیا ہے تو پھر ہمیں تجارتی قافلہ کا رخ کرنا چاہیے جو غیر مسلح ہے اور آدمی بھی تھوڑے ہیں اور مال بھی بہت ہاتھ آئے گا مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کچھ اور تھی اور آپ خود بھی کفار سے معرکہ کو ہی درست قرار دیتے تھے۔ تاہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی مشورہ کرنا ضروری سمجھا بالخصوص انصار سے، کیونکہ انصار اپنے معاہدہ کی رو سے اس بات کے تو پابند تھے کہ اگر مدینہ پر کفار کا حملہ ہو تو وہ آپ کا ساتھ دیں گے۔ مگر یہ حملہ مدینہ پر نہیں تھا۔ لہذا ان انصار سے مشورہ ضروری تھا۔ اس مشورہ کی روداد درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے۔- جنگ کے متعلق مشورہ اور انصار کا جواب :۔ سیدنا انس (رض) فرماتے ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ابو سفیان کے نکل جانے کی اطلاع ملی تو آپ نے صحابہ کرام (رض) سے مشورہ کیا۔ سیدنا ابوبکر (رض) نے بات کی تو آپ نے اعراض فرمایا۔ سیدنا عمر (رض) نے بات کی تو بھی آپ نے اعراض کیا۔ پھر سیدنا سعد بن عبادہ (رض) کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کا اشارہ شاید ہماری طرف ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر آپ ہمیں سمندر میں کودنے کا حکم دیں گے تو ہم کود جائیں گے اور اگر آپ ہمیں برک الغماد تک گھوڑے دوڑا دوڑا کر ہلاک کر ڈالنے کا حکم دیں تو ہم تعمیل کریں گے۔ (مسلم، کتاب الجہاد، باب غزوہ بدر) اور مقداد بن اسود نے کہا : ہم وہ بات نہیں کہیں گے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہی تھی کہ تم اور تمہارا پروردگار دونوں جا کر لڑو، ہم تو آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔ عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ چمکنے لگا اور ان کے اس قول نے آپ کو خوش کردیا۔ (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب اذ تستغیثون ربکم )- معرکہ حق وباطل :۔ چناچہ اس مشورہ کے بعد آپ نے کفار کے مسلح لشکر کی طرف بڑھنے کا ارادہ کرلیا اور اللہ کی بھی یہی مشیت تھی کہ حق و باطل میں فیصلہ کن معرکہ ہو اور اس طرح مسلمانوں کو پوری طرح جانچنے کے بعد کامیابی سے ہمکنار کرے اور اپنا وعدہ پورا کرے۔ دوسری طرف ابو جہل کی ضد کافروں کو مقابلے کے میدان میں گھسیٹ کرلے آئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ جس طرح حق و باطل کے معرکہ میں کفر کا سر توڑنا چاہتے تھے، اس کے اسباب پیدا ہوگئے۔- اموال غنیمت کے متعلق فیصلہ سنانے اور سچے مومنوں کی علامات بتلانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آیت نمبر ٥ اور ٦ میں فرمایا (كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ ۝ ۙ ) 8 ۔ الانفال :5) یعنی جس طرح بعض اموال غنیمت لوٹنے والوں کو اللہ کا فیصلہ ان کی طبائع پر ناگوار گزرا۔ اسی طرح یہ بات بھی بعض مسلمانوں کو ناگوار گزری کہ اللہ نے آپ کو گھر سے حق و باطل کا معرکہ بپا کرنے، حق کو غالب اور سر بلند کرنے اور باطل کا سر کچلنے کے لیے نکالا تھا، تجارتی قافلہ کو لوٹنے کے لیے نہیں نکالا تھا اور یہی بات بعض مسلمانوں کو اتنی ناگوار تھی کہ وہ لڑائی کو موت کے منہ میں جانے کے مترادف سمجھ رہے تھے اور ان کا جھگڑا اسی حق و باطل کی جنگ کے سلسلہ میں تھا وہ کہتے تھے کہ جب اللہ نے ہم سے دو باتوں میں سے کسی ایک کا وعدہ کر رکھا ہے تو آخر ہم لڑائی ہی کی راہ کیوں اختیار کریں اور کیوں نہ تجارتی قافلے کا تعاقب کریں۔

9

إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَٱسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُم بِأَلْفٍۢ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُرْدِفِينَ

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے

[١٠] عریش میں آپ کی دعا :۔ جب بدر کے مقام پر دونوں لشکروں نے آمنے سامنے ڈیرہ ڈال لیا اور آپ نے دیکھا کہ مسلمان کافروں کے مقابلہ میں تہائی سے بھی کم ہیں، نہتے بھی ہیں اور سامان رسد بھی موجود نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے لیے ایک خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا، جسے عریش کہتے ہیں۔ اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ساری رات اللہ کے حضور دعاؤں اور آہ وزاری میں گزاردی، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔- سیدنا عمر (رض) فرماتے ہیں کہ بدر کے دن جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین پر نظر ڈالی تو وہ ایک ہزار تھے اور مسلمان ٣١٩ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبلہ رو ہو کر دونوں ہاتھ پھیلا دیئے۔ پھر اپنے رب سے فریاد کرنے لگے آپ نے اس طرح دعا کی : اے اللہ تو نے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کر۔ اے اللہ اگر مسلمانوں کی اس جماعت کو تو نے ہلاک کردیا تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی۔ آپ کافی دیر قبلہ رو ہو کر ہاتھ پھیلائے رہے۔ یہاں تک کہ چادر آپ کے کندھوں سے گرگئی۔ اتنے میں سیدنا ابوبکر صدیق (رض) آئے۔ انہوں نے چادر اٹھا کر آپ کے کندھوں پر ڈالی۔ پھر پیچھے سے آپ کے ساتھ چمٹ گئے اور کہا : اے اللہ کے نبی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب سے آہ وزاری کرنے میں حد کردی۔ بیشک اللہ آپ سے اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (مسلم، کتاب الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر )- [ ١١] فرشتوں کا نزول :۔ سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک مسلمان ایک کافر کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اسے اوپر سے ایک کوڑے کی آواز آئی اور سوار کی بھی آواز آئی، وہ سوار کہہ رہا تھا کہ حیزوم (غالباً اس کے گھوڑے کا نام تھا) آگے بڑھ۔ اتنے میں اس مسلمان نے دیکھا کہ وہ کافر اس کے سامنے چت پڑا ہے۔ اس کی ناک پر نشان تھا اور اس کا سر پھٹ گیا تھا۔ گویا کسی نے اسے کوڑا مارا ہے۔ پھر اس کا سارا جسم سبز ہوگیا۔ وہ انصاری حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور سارا ماجرا بیان کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم سچ کہتے ہو۔ یہ فرشتے تیسرے آسمان سے مدد کے لیے آئے تھے۔ (مسلم، کتاب الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر )- ٢۔ سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : یہ جبریل امین ہیں اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے اور ان پر لڑائی کے ہتھیار ہیں۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب شھود الملائکۃ بدرا)- انہی سے روایت ہے کہ مسلمانوں نے ستر کافروں کو قتل کیا اور ستر کو قید کیا۔ (مسلم، کتاب الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر) نیز دیکھئے سورة آل عمران آیت ١٢٥)

10

وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا ٱلنَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

[١٢] فرشتوں کی اطلاع ثابت قدم رکھنے کے لئے :۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو فرشتوں کے بغیر بھی تمہاری مدد کرسکتا اور تمہیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتا تھا، اور اگر فرشتے بھیج کر مدد کی تو بھی اسی کی مدد تھی۔ تمہیں پہلے مطلع کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ تم کہیں اپنے سے تین گنا کافروں کا مسلح لشکر دیکھ کر حوصلہ نہ چھوڑ بیٹھو، یہ اطلاع فقط تمہارا حوصلہ بڑھانے اور تمہیں ثابت قدم رکھنے کی وجہ سے دی گئی تھی۔

Al-Anfaal 8:10Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.