Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 61–70 of 129

61

وَمِنْهُمُ ٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ ٱلنَّبِىَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌۭ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍۢ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ ۚ وَٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لیے۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے

خلاصہ تفسیر - اور ان ( منافقین) میں بعضے ایسے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذائیں پہنچاتے ہیں ( یعنی آپ کی شان میں ایسی باتیں کہتے ہیں کہ سن کر آپ کو ایذاء ہو) اور ( جب کوئی روکتا ہے تو) کہتے ہیں کہ آپ ہر بات کان دے کر سن لیتے ہیں ( آپ کو جھوٹ بول کر دھوکہ دیدینا آسان ہے، اس لئے کچھ فکر نہیں) آپ ( جواب میں) فرما دیجئے کہ ( تم کو خود دھوکہ ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کسی بات کو سن لینا دو طور پر ہے، ایک تصدیق کے طور پر کہ دل سے بھی اس کو صحیح سمجھیں، دوسرا خوش خلقی اور کریم النفسی کے طور پر کہ باوجود یہ جان لینے کے کہ یہ بات محض غلط ہے شرافت نفس اور حسن خلق کی بناء پر اس کو ٹال دیں، اور کہنے والے پر داروگیر یا اس کی صریح تکذیب نہ کریں سو) وہ نبی کان دے کر تو وہی بات سنتے ہیں جو تمہارے حق میں خیر ( ہی خیر) ہے، ( جس کا حاصل اور نتیجہ یہ ہے کہ وہ اللہ ( کی باتیں وحی سے معلوم کرکے ان) پر ایمان لاتے ہیں ( جن کی تصدیق کا خیر ہونا تمام عالم کے لئے ظاہر ہے، کیونکہ تعلیم اور عدل اسی تصدیق پر موقوف ہے) اور مومنین ( مخلصین کی باتوں) کا ( جو بحیثیت ایمان و اخلاص ہوں) یقین کرتے ہیں ( اس کا خیر ہونا بھی ظاہر ہے کہ عدل عام موقوف ہے احوال کی صحیح اطلاع پر اور اس کا ذریعہ یہی مومنین مخلصین ہیں، غرض کان دے کر اور سچا سمجھ کر تو صرف سچے اور مخلصین کی باتیں سنتے ہیں) اور ( باقی تمہاری شرارت آمیز باتیں جو سن لیتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) آپ ان لوگوں کے حال پر مہربانی فرماتے ہیں جو تم میں ایمان کا اظہار کرتے ہیں ( گو دل میں ایمان نہ ہو، پس اس مہربانی اور خوش اخلاقی کی وجہ سے تمہاری باتیں سن لیتے ہیں اور باوجو اس کی حقیقت سمجھ جانے کے درگذر اور خاموشی برتتے ہیں، پس ان باتوں کا سننا دوسرے طور کا ہے، تم نے اپنی حماقت سے اس کو بھی اول طور محمول کرلیا، خلاصہ یہ کہ تم یہ سمجہتے ہو کہ حقیقت کو حضرت نہیں سمجہتے اور واقع میں حقیقت کو تم ہی نہیں سمجہتے) اور جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذائیں پہنچاتے ہیں ( خواہ ان باتوں سے جن کے کہنے کے بعد اُذُن کہا تھا یا خود اسی هُوَ اُذُنٌ کے کہنے سے کیونکہ ان کا آپ کو اُذُنُ کہنا آپ کی تنقیص کے لئے تھا کہ معاذ اللہ آپ کو سمجھ نہیں جو کچھ سن لیتے ہیں اس کو مان لیتے ہیں) ان لوگوں کے لئے دردناک سزا ہوگی، یہ لوگ تمہارے ( مسلمانوں کے) سامنے ( جھوٹی) قسمیں کھاتے ہیں ( کہ ہم نے فلاں بات نہیں کہی، یا ہم غزوہ میں فلاں عذر سے نہ جاسکے) تاکہ تم کو راضی کرلیں ( جس سے ان کا جان و مال محفوظ رہے) حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ سچے مسلمان ہیں تو اس کو راضی کریں ( جو کہ موقوف ہے اخلاص اور ایمان پر) کیا ان کو خبر نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا ( جیسا یہ لوگ کر رہے ہیں) تو یہ بات طے ہوچکی ہے کہ ایسے شخص کو دوزخ کی آگ اس طور پر نصیب ہوگی کہ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، ( اور) یہ بڑی رسوائی ( کی بات) ہے منافق لوگ ( طبعاً ) اس سے اندیشہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں پر ( بذریعہ وحی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی ایسی سورت ( مثلا یا آیت) نازل نہ ہوجاوے جو ان کو ان منافقین کے ما فی الضمیر پر اطلاع دیدے ( یعنی انہوں نے جو استہزا کی باتیں خفیہ کی ہیں کہ مسلمانوں کے اعتبار سے وہ مثل ان اسرار کے ہیں جو دلوں میں پوشیدہ ہیں ان کی خبر نہ ہوجاوے) آپ فرما دیجئے کہ اچھا تم استہزاء کرتے رہو ( اس میں ان کے استہزاء پر مطلع ہوجانے کو جتلا دیا، چناچہ آگے خود ارشاد ہے کہ) بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو ظاہر کرکے رہے گا جس کے ( اظہار) سے تم اندیشہ کرتے تھے ( چناچہ اسْتَهْزِءُوْا میں ظاہر کردیا کہ تم استہزاء کررہے تھے) اور ( ظاہر ہوجانے کے بعد) اگر آپ ان سے ( اس استہزاء کی وجہ) پوچھیں تو …

62

يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَحَقُّ أَن يُرْضُوهُ إِن كَانُوا۟ مُؤْمِنِينَ

مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں

Explained together with ayah 61

63

أَلَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّهُۥ مَن يُحَادِدِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَأَنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدًۭا فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْخِزْىُ ٱلْعَظِيمُ

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے

Explained together with ayah 61

64

يَحْذَرُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌۭ تُنَبِّئُهُم بِمَا فِى قُلُوبِهِمْ ۚ قُلِ ٱسْتَهْزِءُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ مُخْرِجٌۭ مَّا تَحْذَرُونَ

منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر) پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اُتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کر دے۔ کہہ دو کہ ہنسی کئے جاؤ۔ جس بات سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کردے گا

(آیت) اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ ، اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ حق تعالیٰ منافقین کی خفیہ سازشوں اور شرارتوں کو ظاہر فرما دیں گے، جس کا ایک واقعہ غزوہ تبوک سے واپسی کا ہے جب کہ کچھ منافقین نے آپ کے قتل کی شازش کی تھی، حق تعالیٰ نے آپ کو اس پر بذریعہ جبرئیل مطلع کرکے اس راستہ سے ہٹا دیا جہاں یہ منافقین اس کام کے لئے جمع ہوئے تھے۔ ( مظہری عن البغوی) - اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے ستر منافقین کے نام مع ان کی ولدیت اور پورے نشان پتے کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلا دیئے تھے، مگر رحمۃ للعالمین نے ان کو لوگوں پر ظاہر نہیں فرمایا ( مظہری )

65

وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ۚ قُلْ أَبِٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ وَرَسُولِهِۦ كُنتُمْ تَسْتَهْزِءُونَ

اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے

Explained together with ayah 64

66

لَا تَعْتَذِرُوا۟ قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَٰنِكُمْ ۚ إِن نَّعْفُ عَن طَآئِفَةٍۢ مِّنكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِأَنَّهُمْ كَانُوا۟ مُجْرِمِينَ

بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں

Explained together with ayah 64

67

ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلْمُنَٰفِقَٰتُ بَعْضُهُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۚ يَأْمُرُونَ بِٱلْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ ۚ نَسُوا۟ ٱللَّهَ فَنَسِيَهُمْ ۗ إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے اور نیک کاموں سے منع کرتے اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ان کو بھلا دیا۔ بےشک منافق نافرمان ہیں

خلاصہ تفسیر - منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک طرح کے ہیں کہ بری بات کی ( یعنی کفر و مخالفت اسلام کی) تعلیم دیتے ہیں اور اچھی بات سے ( یعنی ایمان اور اتباع نبوی سے) منع کرتے ہیں اور ( خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے) اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں انھوں نے خدا کا خیال نہ کیا، ( یعنی اطاعت نہ کی) پس خدا نے ان کا خیال نہ کیا ( یعنی ان پر رحمت خاصہ نہ کی) بلا شبہ یہ منافق بڑے ہی سرکش ہیں، اللہ تعالیٰ نے منافق مردوں عورتوں اور ( علانیہ) کفر کرنے والوں سے دوزخ کی آگ کا عہد کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے وہ ان کے لئے ( سزائے) کافی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے دور کر دے گا اور ان کو ( حسب وعدہ مذکور) عذاب دائمی ہوگا ( اے منا فقو ) تمہاری حالت ( کفر اور استحقاق جزائے کفر میں) ان لوگوں کی سی ہے جو تم سے پہلے ( زمانہ میں) ہوچکے ہیں جو شدت قوت میں اور کثرت اولاد و اموال میں تم سے بھی زیادہ تھے تو انہوں نے اپنے ( دنیوی) حصے سے خوب فائدہ حاصل کیا سو تم نے بھی اپنی ( دنیوی) حصہ سے خوب فائدہ حاصل کیا جیسا تم سے پہلے لوگوں نے اپنے ( دنیوی) حصہ سے فائدہ حاصل کیا تھا، اور تم بھی ( بری باتوں میں ایسے ہی گھسے جیسے وہ لوگ ( بری باتوں میں) گھسے تھے، ان لوگوں کے اعمال ( حسنہ) دنیا اور آخرت ( سب) میں ضائع ہوگئے ( کہ دنیا میں ان اعمال پر بشارت ثواب نہیں، اور آخرت میں ثواب نہیں) اور ( اسی حبط فی الدنیا والاخرة کی وجہ سے) وہ لوگ بڑے نقصان میں ہیں ( کہ دارین میں مسرت اور راحت سے محروم ہیں، پس اسی طرح تم بھی ان کی طرح کفر کرتے ہو تو انہی کی طرح خائب و خاسر ہوگے، اور جیسا ان کے اموال و اولاد ان کے کام نہ آئے تم تو ان چیزوں میں ان سے کمہو، تمہارے بدرجہ اولی کام نہ آویں گے، یہ تو ضرر آخرت کی وعید ہوئی، آگے احتمال ضرر دنیا کے ذکر سے متنبہ فرماتے ہیں کہ) کیا ان لوگوں کو ان ( کے عذاب و ہلاک) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے ہوئے ہیں، جیسے قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور الٹی ہوئی بستیاں ( یعنی قرٰی قوم لوط) کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر صاف نشانیاں ( حق کی) لے کر آئے ( لیکن نہ ماننے سے برباد ہوئے) سو ( اس بربادی میں) اللہ تعالیٰ نے تو ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ( اسی طرح ان منافقین کو بھی ڈرنا چاہئے ) ۔- معارف و مسائل - مذکور الصدر آیات میں سے پہلی آیت میں منافقین کا ایک حال یہ بتلایا کہ وہ اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں، (آیت) يَقْبِضُوْنَ اَيْدِيَهُمْ ، تفسیر قرطبی میں ہے کہ ہاتھ بند رکھنے سے مراد ترک جہاد اور حقوق واجبہ کا ادا نہ کرنا ہے، (آیت) نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمْ ، اس کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے ان کو بھلا دیا، اللہ تعالیٰ تو نسیان اور بھول سے پاک ہیں، مراد اس جگہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کے احکام کو اس طرح چھوڑ دیا جیسے بھول گئے ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے بھی ثواب آخرت کے معاملہ میں ان کو ایسا ہی کر چھوڑا کہ نیکی اور ثواب میں کہیں ان کا نام نہ رہا۔

68

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْمُنَٰفِقِينَ وَٱلْمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ هِىَ حَسْبُهُمْ ۚ وَلَعَنَهُمُ ٱللَّهُ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌۭ مُّقِيمٌۭ

الله نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہی ان کے لائق ہے۔ اور خدا نے ان پر لعنت کر دی ہے۔ اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب (تیار) ہے

Explained together with ayah 67

69

كَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ كَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنكُمْ قُوَّةًۭ وَأَكْثَرَ أَمْوَٰلًۭا وَأَوْلَٰدًۭا فَٱسْتَمْتَعُوا۟ بِخَلَٰقِهِمْ فَٱسْتَمْتَعْتُم بِخَلَٰقِكُمْ كَمَا ٱسْتَمْتَعَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُم بِخَلَٰقِهِمْ وَخُضْتُمْ كَٱلَّذِى خَاضُوٓا۟ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو، جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ تھے تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔ اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں

آیت (69) كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ میں ایک تفسیر یہ ہے کہ یہ خطاب منافقین کو ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں آچکا، اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ خطاب مسلمانوں کو ہے یعنی ( اَنتُم كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ ) مراد یہ ہے کہ تم لوگ بھی اپنے سے پہلے لوگوں کی طرح ہو جس طرح وہ لوگ دنیا کی لذائذ میں منہمک ہو کر آخرت کو بھلا بیٹھے اور طرح طرح کے معاصی اور بد اخلاقیوں میں مبتلا ہوگئے تم بھی ایسے ہی لوگ ہوں گے۔- اسی آیت کی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم بھی وہی طریقے اختیار کرو گے جو تم سے پہلی امتیں کرچکی ہیں، ہاتھ در ہاتھ اور بالشت در بالشت یعنی ہوبہو ان کی نقل اتارو گے، یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے بل میں گھسا ہے تو تم بھی گھسو گے، حضرت ابوہریرہ نے یہ روایت نقل کرکے فرمایا کہ اس حدیث کی تصدیق کے لئے تمہارا جی چاہے تو قرآن کی یہ آیت پڑھ لو کالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ ۔- حضرت عبداللہ بن عباس نے یہ سن کر فرمایا : ما اشبہ اللیلۃ بالبارحة، یعنی آج کی رات گذشتہ شب سے کیسی ملتی جلتی اور مشابہ ہے یہ بنی اسرائیل ہیں ہمیں ان کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ( قرطبی ) ۔- حدیث کا مقصد واضح ہے کہ آخر زمانے میں مسلمان بھی یہود و نصارٰی کے طریقوں پر چلنے لگیں گے اور منافقین کا عذاب بیان کرنے کے بعد اس کا بیان کرنا اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہود و نصارٰی کے طریقوں کا اتباع کرنے والے مسلمان وہی ہوں گے جن کے دلوں میں مکمل ایمان نہیں، نفاق کے جراثیم ان میں پائے جاتے ہیں، صلحاء امت کو اس سے بچنے اور بچانے کی ہدایت اس آیت میں دی گئی ہے۔

70

أَلَمْ يَأْتِهِمْ نَبَأُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوحٍۢ وَعَادٍۢ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَٰهِيمَ وَأَصْحَٰبِ مَدْيَنَ وَٱلْمُؤْتَفِكَٰتِ ۚ أَتَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ ۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے۔ اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

Explained together with ayah 69

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.