وَمِنْهُمُ ٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ ٱلنَّبِىَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌۭ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍۢ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ ۚ وَٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ
اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لیے۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے
خلاصہ تفسیر - اور ان ( منافقین) میں بعضے ایسے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذائیں پہنچاتے ہیں ( یعنی آپ کی شان میں ایسی باتیں کہتے ہیں کہ سن کر آپ کو ایذاء ہو) اور ( جب کوئی روکتا ہے تو) کہتے ہیں کہ آپ ہر بات کان دے کر سن لیتے ہیں ( آپ کو جھوٹ بول کر دھوکہ دیدینا آسان ہے، اس لئے کچھ فکر نہیں) آپ ( جواب میں) فرما دیجئے کہ ( تم کو خود دھوکہ ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کسی بات کو سن لینا دو طور پر ہے، ایک تصدیق کے طور پر کہ دل سے بھی اس کو صحیح سمجھیں، دوسرا خوش خلقی اور کریم النفسی کے طور پر کہ باوجود یہ جان لینے کے کہ یہ بات محض غلط ہے شرافت نفس اور حسن خلق کی بناء پر اس کو ٹال دیں، اور کہنے والے پر داروگیر یا اس کی صریح تکذیب نہ کریں سو) وہ نبی کان دے کر تو وہی بات سنتے ہیں جو تمہارے حق میں خیر ( ہی خیر) ہے، ( جس کا حاصل اور نتیجہ یہ ہے کہ وہ اللہ ( کی باتیں وحی سے معلوم کرکے ان) پر ایمان لاتے ہیں ( جن کی تصدیق کا خیر ہونا تمام عالم کے لئے ظاہر ہے، کیونکہ تعلیم اور عدل اسی تصدیق پر موقوف ہے) اور مومنین ( مخلصین کی باتوں) کا ( جو بحیثیت ایمان و اخلاص ہوں) یقین کرتے ہیں ( اس کا خیر ہونا بھی ظاہر ہے کہ عدل عام موقوف ہے احوال کی صحیح اطلاع پر اور اس کا ذریعہ یہی مومنین مخلصین ہیں، غرض کان دے کر اور سچا سمجھ کر تو صرف سچے اور مخلصین کی باتیں سنتے ہیں) اور ( باقی تمہاری شرارت آمیز باتیں جو سن لیتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) آپ ان لوگوں کے حال پر مہربانی فرماتے ہیں جو تم میں ایمان کا اظہار کرتے ہیں ( گو دل میں ایمان نہ ہو، پس اس مہربانی اور خوش اخلاقی کی وجہ سے تمہاری باتیں سن لیتے ہیں اور باوجو اس کی حقیقت سمجھ جانے کے درگذر اور خاموشی برتتے ہیں، پس ان باتوں کا سننا دوسرے طور کا ہے، تم نے اپنی حماقت سے اس کو بھی اول طور محمول کرلیا، خلاصہ یہ کہ تم یہ سمجہتے ہو کہ حقیقت کو حضرت نہیں سمجہتے اور واقع میں حقیقت کو تم ہی نہیں سمجہتے) اور جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذائیں پہنچاتے ہیں ( خواہ ان باتوں سے جن کے کہنے کے بعد اُذُن کہا تھا یا خود اسی هُوَ اُذُنٌ کے کہنے سے کیونکہ ان کا آپ کو اُذُنُ کہنا آپ کی تنقیص کے لئے تھا کہ معاذ اللہ آپ کو سمجھ نہیں جو کچھ سن لیتے ہیں اس کو مان لیتے ہیں) ان لوگوں کے لئے دردناک سزا ہوگی، یہ لوگ تمہارے ( مسلمانوں کے) سامنے ( جھوٹی) قسمیں کھاتے ہیں ( کہ ہم نے فلاں بات نہیں کہی، یا ہم غزوہ میں فلاں عذر سے نہ جاسکے) تاکہ تم کو راضی کرلیں ( جس سے ان کا جان و مال محفوظ رہے) حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ سچے مسلمان ہیں تو اس کو راضی کریں ( جو کہ موقوف ہے اخلاص اور ایمان پر) کیا ان کو خبر نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا ( جیسا یہ لوگ کر رہے ہیں) تو یہ بات طے ہوچکی ہے کہ ایسے شخص کو دوزخ کی آگ اس طور پر نصیب ہوگی کہ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، ( اور) یہ بڑی رسوائی ( کی بات) ہے منافق لوگ ( طبعاً ) اس سے اندیشہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں پر ( بذریعہ وحی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی ایسی سورت ( مثلا یا آیت) نازل نہ ہوجاوے جو ان کو ان منافقین کے ما فی الضمیر پر اطلاع دیدے ( یعنی انہوں نے جو استہزا کی باتیں خفیہ کی ہیں کہ مسلمانوں کے اعتبار سے وہ مثل ان اسرار کے ہیں جو دلوں میں پوشیدہ ہیں ان کی خبر نہ ہوجاوے) آپ فرما دیجئے کہ اچھا تم استہزاء کرتے رہو ( اس میں ان کے استہزاء پر مطلع ہوجانے کو جتلا دیا، چناچہ آگے خود ارشاد ہے کہ) بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو ظاہر کرکے رہے گا جس کے ( اظہار) سے تم اندیشہ کرتے تھے ( چناچہ اسْتَهْزِءُوْا میں ظاہر کردیا کہ تم استہزاء کررہے تھے) اور ( ظاہر ہوجانے کے بعد) اگر آپ ان سے ( اس استہزاء کی وجہ) پوچھیں تو …