Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 31–40 of 129

31

ٱتَّخَذُوٓا۟ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَٰنَهُمْ أَرْبَابًۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلْمَسِيحَ ٱبْنَ مَرْيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوٓا۟ إِلَٰهًۭا وَٰحِدًۭا ۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ عَمَّا يُشْرِكُونَ

انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے

خلاصہ تفسیر - ( آگے افعال کفریہ کا بیان ہے کہ) انہوں نے ( یعنی یہود و نصاری نے) خدا ( کی توحید فی الطاعۃ) کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو ( باعتبار اطاعت کے) رب بنا رکھا ہے ( کہ ان کی اطاعت تحلیل اور تحریم میں مثل اطاعت خدا کے کرتے ہیں کہ نص پر ان کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے پس اس حساب سے وہ ان کی عبادت کرتے ہیں) اور مسیح بن مریم ( علیہ السلام) کو بھی ( ایک اعتبار سے رب بنا رکھا ہے کہ ان کو ابن اللہ کہتے ہیں کہ الوہیت اس کے لوازم سے ہے) حالانکہ ان کو ( کتب الہیہ میں) صرف یہ حکم کیا گیا ہے کہ فقط ایک معبود ( برحق) کی عبادت کریں جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ ان کے شرک سے پاک ہے ( اور یہ تو بیان تھا اتباع باطل کا آگے بیان ہے اس کا کہ وہ دین حق کو رد کرتے ہیں کہ یہ بھی کفر ہے یعنی) وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور ( یعنی دین اسلام) کو اپنے منہ سے ( پھونک مار مار کر) بجھا دیں ( یعنی منہ سے رد و اعتراض کی باتیں اس غرض سے کرتے ہیں کہ دین حق کو فروغ نہ ہو) حالانکہ اللہ تعالیٰ بدون اس کے کہ اپنے نور ( مذکور) کو کمال تک پہنچا دے مانے گا نہیں، گو کافر لوگ ( جن میں یہ بھی آگئے) کیسے ہی ناخوش ہوں، (چنانچہ) وہ اللہ ایسا ہے کہ ( اسی اتمام نور کے لئے) اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت ( کا سامان یعنی قرآن) اور سچا دین ( یعنی اسلام) دے کر ( دنیا میں) بھیجا ہے تاکہ اس ( دین) کو ( کہ وہی نور مذکور ہے) تمام (بقیہ) دینوں پر غالب کردے ( کہ یہی اتمام ہے) گو مشرک (جن میں یہ بھی داخل ہوگئے) کیسے ہی ناخوش ہوں، اے ایمان والو اکثر احبارو رہبان ( یعنی یہود و نصارٰی کے علماء و مشائخ عوام) لوگوں کے مال نامشروع طریقہ سے کھاتے۔ ( اڑاتے) ہیں ( یعنی احکام حقہ کو پوشیدہ رکھ کر موافق مرضی عوام کے فتوے دے کر ان سے نذرانے لیتے ہیں) اور ( اس کی وجہ سے وہ) اللہ کی راہ ( یعنی دین اسلام) سے ( لوگوں کو) باز رکھتے ہیں ( کیونکہ ان کے جھوٹے فتو وں کے دھوکہ میں آکر گمراہی میں پھنسے رہتے ہیں اور حق کو قبول بلکہ طلب بھی نہیں کرتے) اور ( غایت حرص سے مال بھی جمع کرتے ہیں جسکی نسبت یہ وعید ہے کہ) جو لوگ سونا چاندی جمع کر کر رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ( یعنی زکوٰة نہیں نکالتے) سو آپ ان کو ایک بڑی درد ناک سزا کی خبر سنا دیجئے، جو کہ اس روز واقع ہوگی کہ ان کو دوزخ کی آگ میں ( اول) تپایا جائے گا، پھر ان سے لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور ان کی پشتوں کو داغ دیا جائے گا، ( اور یہ جتلایا جا ئیگا کہ) یہ وہ ہے جسکو تم نے اپنے واسطے جمع کر کر کے رکھا تھا، سو اب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو “۔- معارف و مسائل - ان چاروں آیتوں میں یہود و نصارٰی کے علماء اور عباد و زہاد کی گمراہی اور ان کے کفریات قولی و عملی کا ذکر ہے احبار حبر کی جمع ہے اور رہبان راہب کی جمع ہے، حبر یہود و نصارٰی کے عام کو اور راہب عابد و زاہد کو کہا جاتا ہے۔- پہلی آیت میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے علماء اور عبادت گذاروں کو اللہ کے سوا اپنا رب اور معبود بنا رکھا ہے، اسی طرح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو اپنا رب بنا لیا ہے، حضرت عیسیٰ السلام کو رب و معبود بنانا تو اس لئے ظاہر ہے کہ وہ ان کو خدا تعالیٰ کا بیٹا مانتے ہیں اور کہتے تھے، اور علماء و عباد کو معبود بنانے کا جو الزام ان پر عائد کیا گیا ہے اگرچہ وہ صراحتہ ان کو اپنا رب نہ کہتے تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اطاعت مطلقہ جو خالص اللہ جل شانہ کا حق ہے اس حق کو ان کے حوالے کردیا تھا، کہ حال میں ان کے کہنے کی پیروی کرتے تھے، اگرچہ انکا قول اللہ اور رسول کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، تو یہ ظاہر ہے کہ کسی کی ایسی اطاعت کرنا کہ اللہ و رسول کے فرمان کے خلاف بھی کہے تو اس کی اطاعت نہ چھوڑے یہ ایسا ہی ہے جیسے …

32

يُرِيدُونَ أَن يُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَيَأْبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَهُۥ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَٰفِرُونَ

یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں۔ اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے

اس کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں نے یہ گمراہی اختیار کرلی حالانکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جو ان تمام چیزوں کے شرک سے پاک ہے جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔- اس آیت میں تو ان کے اتباع باطل اور غیر اللہ کی ناجائز اطاعت کا ذکر تھا، اس کے بعد کی آیت میں ان کی ایک اور گمراہی کا ذکر ہے کہ یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ خود گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں، بلکہ ہدایت اور دین حق کے مٹانے اور رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی مضمون کو بطور مثال کے اس طرح فرمایا ہے کہ یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ ان کے بس کی بات نہیں، اللہ تعالیٰ یہ طے کرچکے ہیں کہ وہ اپنے نور یعنی دین اسلام کو مکمل اور پورا ہی کریں گے خواہ کافر لوگ کیسے ہی ناخوش ہوں۔

33

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُشْرِكُونَ

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں

اس کے بعد تسیری آیت کے مضمون کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت کا سامان یعنی قرآن اور دین حق یعنی اسلام دے کر اسی لئے بھیجا ہے تاکہ اس کو دنیا کے تمام بقیہ دینوں پر غالب کردے، تقریباً انہی لفظوں کے ساتھ قرآن کریم میں متعدد آیات آئی ہیں جن میں یہ وعدہ ہے کہ دین اسلام کو تمام دنیا کے ادیان پر غالب کیا جائے گا۔- تفسیر مظہری میں ہے کہ دین اسلام کو تمام دوسرے دینوں پر غالب کرنے کی خوشخبری اکثر زمانوں اور اکثر حالات کے اعتبار سے ہے جیسا کہ حضرت مقداد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ روئے زمین پر کوئی کچا پکا مکان باقی نہ رہے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہوجائے، عزت داروں کی عزت کے ساتھ اور ذلیل لوگوں کی ذلت کے ساتھ جن کو اللہ تعالیٰ عزت دیں گے وہ مسلمان ہوجائیں گے اور جن کو ذلیل کرنا ہوگا وہ اسلام کو قبول تو نہ کریں گے مگر اسلامی حکومت کے تابع ہوجائیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا، ایک ہزار سال کے قریب اسلام کی شان و شوکت پوری دنیا پر چھائی رہی۔- رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور سلف صالحین کے عہد مبارک میں تو اس نور کی تکمیل و اتمام کا مشاہدہ ساری دنیا کر ہی چکی ہے، اور آئندہ بھی دلائل اور حقائق کے اعتبار سے ہر زمانہ میں دین اسلام ایسا مکمل دین ہے کہ کسی معقول پسند انسان کو اس پر حرف گیری کا موقع نہیں مل سکتا، اس لئے کفار کی مخالفتوں کے باوجود یہ دین حق اپنی حجت و دلیل کے اعتبار سے ہمیشہ غالب ہے، اور جب مسلمان اس دین کی پوری پیروی کریں تو ان کا ظاہری غلبہ اور حکومت و سلطنت بھی اس کے لوازم میں سے ہے، جیسا کہ تاریخ اسلام کا تجربہ اس پر شاہد ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے قرآن و سنت پر پوری طرح عمل کیا تو کوئی کوہ و دریا ان کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکا، اور یہ پوری دنیا پر غالب آکر رہے، اور جب کبھی جہاں کہیں ان کو مغلوب یا مقہور ہونے کی نوبت آئی ہے، تو وہ قرآن و سنت کے احکام سے غفلت اور خلاف ورزی کا نتیجہ بد تھا، جو ان کے سامنے آیا، دین حق پھر بھی اپنی جگہ مظفر و منصور ہی رہا۔

34

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلْأَحْبَارِ وَٱلرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلْبَٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۗ وَٱلَّذِينَ يَكْنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍۢ

مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو

چو تھی آیت میں مسلمانوں کو مخاطب بنا کر یہود و نصارٰی کے علماء و مشائخ کے ایسے حالات کا ذکر ہے جن کی وجہ سے عوام میں گمراہی پھیلی، مسلمانوں کو مخاطب کرنے سے شاید اس طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ یہ حالات یہود و نصارٰی کے علماء و مشائخ کے بیان ہو رہے ہیں لیکن ان کو بھی اس سے متنبہ رہنا چاہئے کہ ان کے ایسے حالات نہ ہوجائیں۔- اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ یہود و نصارٰی کے بہت سے علماء و مشائخ کا یہ حال ہے کہ باطل طریقوں سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور اللہ کے سیدھے راستہ سے ان کو روکتے ہیں۔- یہود و نصارٰی کے اکثر علماء و مشائخ کا یہی حال تھا اور ایسے حالات میں عام طور پر کہنے والے سبھی کو برا کہا کرتے ہیں، لیکن قرآن کریم نے اس جگہ لفظ كَثِيْرًا کا اضافہ کرکے مسلمانوں کو دشمنوں کے معاملہ میں بھی احتیاط کلام کی تلقین فرمادی کہ یہ حال سب لوگوں کی طرف منسوب نہیں فرمایا، بلکہ یہ فرمایا کہ ان میں بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں، ان کی گمراہی یہ بتلائی گئی کہ وہ لوگوں کے اموال باطل طریقہ سے کھاتے ہیں، باطل طریقہ سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بعض اوقات ان لوگوں سے پیسے لے کر حکم تورات کے خلاف فتوٰی دیدیتے تھے، اور بعض اوقات احکام الہی میں اخفاء اور تلبیس سے کام لیتے تھے، اس پر مزید ان کی یہ گمراہی بتلائی گئی کہ یہ کم بخت صرف خود ہی گمراہ نہیں بلکہ دوسرے طالبان رشد و ہدایت کو اللہ کے راستہ سے روکنے کا سبب بھی ہیں، کیوں کہ جب لوگ اپنے مقتداؤں کو ایسے کام کرتے دیکھیں تو ان میں بھی جذبہ حق پرستی مرجاتا ہے، اس کے علاوہ ان کے غلط فتو وں کی بنیاد پر وہ گمراہی اور غلطی ہی کو صواب و صحیح سمجھنے لگتے ہیں۔ - یہود و نصارٰی کے علماء و مشائخ کی یہ بیماری کہ پیسوں کے لالچ میں غلط فتوی دیدیں چونکہ حب مال اور حرص دنیا کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی، اس لئے آیت مذکورہ میں حب مال کے اندر غلو کے نتائج بد اور عذاب الیم کا بیان اور اس بیماری سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ ذکر کیا گیا ہے، ارشاد ہے (آیت) وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ، یعنی جو لوگ سونے چاندی کو جمع کرتے رہتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو عذاب دردناک کی خوش خبری سنا دیجئے “۔- وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا کے لفظوں سے اس طرف اشارہ ہوگیا کہ جو لوگ بقدر ضروری اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو باقی ماندہ جمع کیا ہوا مال ان کے حق میں مضر نہیں۔- حدیث میں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس مال کی زکوٰة ادا کردی جائے وہ كَنَزْتُمْ میں داخل نہیں۔ ( ابوداود، احمد وغیرہ) - جس سے معلوم ہوا کہ زکوٰة نکالنے کے بعد جو مال باقی رہے اس کا جمع رکھنا کوئی گناہ نہیں۔- جمہور فقہاء و ائمہ کا یہی مسلک ہے وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا کی ضمیر فضۃ کی طرف راجع ہے، جس کے معنی چاندی کے ہیں، اوپر سونے اور چاندی دو چیزوں کا ذکر تھا مگر ضمیر صرف چاندی کی طرف راجع کی گئی، تفسیر مظہری میں اس کو اشارہ اس بات کا قرار دیا ہے کہ جب کسی شخص کے پاس سونا اور چاندی تھوڑا تھوڑا موجود ہو تو اعتبار چاندی کا کیا جائے گا، سونے کی قیمت بھی چاندی کے حساب میں لگا کر زکوٰة ادا کی جائے گی۔

35

يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِى نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا۟ مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ

جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو

پانچویں آیت میں اس عذاب الیم کی تفصیل اس طرح بیان فرمائی ہے : (آیت) يَّوْمَ يُحْمٰي عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰي بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُمْ وَظُهُوْرُهُمْ ۭهٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ ، یعنی زکوٰة نہ ادا کرنے والوں کو یہ عذاب الیم اس دن ہوگا جب کہ ان کے جمع کئے ہوئے سونے چاندی کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیوں، پہلوؤں اور پشتوں پر داغ دیئے جائیں گے، اور ان سے زبانی سزا کے طور پر کہا جائے گا کہ یہ وہ چیز ہے جس کو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، سو اپنے جمع کئے ہوئے سرمایہ کو چکھو، اس سے معلوم ہوا کہ جزاء عمل عین عمل ہے جو سرمایہ ناجائز طور پر جمع کیا تھا یا اصل سرمایہ تو جائز تھا مگر اس کی زکوٰة ادا نہیں کی تو خود وہ سرمایہ ہی ان لوگوں کا عذاب بن گیا۔- اس آیت میں داغ لگانے کے لئے پیشا نیوں، پہلوؤ ں، پشتوں کا ذکر کیا گیا ہے، یا تو اس سے مراد پورا بدن ہے، اور یا پھر ان تین چیزوں کی تخصیص اس بناء پر ہے کہ بخیل آدمی جو اپنا سرمایہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا نہیں چاہتا، جب کوئی سائل یا زکوٰة کا طلبگار اس کے سامنے آتا ہے تو اس کو دیکھ کر سب سے پہلے اس کی پیشانی پر بل آتے ہیں، پھر اس سے نظر بچانے کے لئے یہ داہنے بائیں مڑنا چاہتا ہے اور اس سے بھی سائل نہ چھوڑے تو اس کی طرف پشت کرلیتا ہے اس لئے پیشانی، پہلو، پشت اس عذاب کے لئے مخصوص کئے گئے۔

36

إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثْنَا عَشَرَ شَهْرًۭا فِى كِتَٰبِ ٱللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ مِنْهَآ أَرْبَعَةٌ حُرُمٌۭ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا۟ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَٰتِلُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ كَآفَّةًۭ كَمَا يُقَٰتِلُونَكُمْ كَآفَّةًۭ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ

خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔ ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔ اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے

خلاصہ تفسیر - یقینا شمار مہینوں کا ( جو کہ) کتاب الٰہی ( یعنی احکام شرعیہ) میں اللہ کے نزدیک ( معتبر ہیں) بارہ مہینے ( قمری) ہیں ( اور کچھ آج سے نہیں بلکہ) جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کئے تھے ( اسی روز سے اور) ان میں چار خاص مہینے ادب کے ہیں ( ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب) یہی ( امر مذکورہ) دین مستقیم ہے ( یعنی ان مہینوں کا بارہ ہونا اور چار کا بالتخصیص اشہر حرم ہونا اور بخلاف عادت جاہلیت کے کبھی سال کے مہینوں کا عدد بڑھا دیتے، اور کبھی اشہر حرم کی تخصیص چھوڑ دیتے کہ یہ بد دینی ہے) سو تم ان سب مہینوں کے بارے میں ( دین کے خلاف کرکے جو کہ موجب گناہ ہے) اپنا نقصان مت کرنا ( یعنی اس عادت جاہلیت کے موافق مت کرنا) اور ان مشرکین سے ( جبکہ یہ اپنی کفریات کو جن میں یہ خاص عادت بھی آگئی نہ چھوڑیں) سب سے لڑنا جیسا کہ وہ تم سب ( مسلمانوں) سے لڑ ( نے کو ہر وقت تیار رہا کر) تے ہیں، اور ( اگر ان کے جمعیت اور سامان سے اندیشہ ہو تو) یہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کا ساتھی ہے ( پس ایمان و تقوٰی کو اپنا شعار رکھو اور کسی سے مت ڈرو، آگے ان کی عادت جاہلیت کا بیان ہے کہ) یہ ( مہینوں کا یا ان کی حرمت کا آگے کو) ہٹا دینا کفر ہیں اور ترقی ہے جس سے ( اور عام) کفار گمراہ کئے جاتے ہیں، ( اس طور پر) کہ وہ اس حرام مہینہ کو کسی سال ( نفسانی غرض سے) حلال کرلیتے ہیں اور کسی سال ( جب کوئی غرض نہ ہو) حرام سمجھتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو مہینے حرام کئے ہیں ( صرف) ان کی گنتی ( بلا لحاظ تخصیص و تعیین) پوری کرلیں پھر ( جب تخصیص و تعیین نہ رہی تو) اللہ کے حرام کئے ہوئے مہینہ کو حلال کرلیتے ہیں، ان کی بد اعمالیاں ان کو مستحسن معلوم ہوتی ہیں، اور ( ان کے اصرار علی الکفر پر غم کرنا بےسود ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو ہدایت ( کی توفیق) نہیں دیتا ( کیونکہ یہ خود راہ پر آنا نہیں چاہتے ) ۔- معارف و مسائل - پچھلی آیات میں کفار و مشرکین کے کفر و شرک، گمراہی اور بد اعمالیوں کا ذکر تھا، ان دو آیتوں میں بھی اسی سلسلہ کا ایک مضمون اور عرب جاہلیت کی ایک جاہلانہ رسم بد کا بیان اور مسلمانوں کو اس سے اجتناب کی ہدایت ہے وہ رسم بد ایک واقعہ سے متعلق ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ عہد قدیم سے تمام انبیاء سابقین کی شریعتوں میں سال کے بارہ مہینے مانے جاتے تھے اور ان میں سے چار مہینے بڑے متبرک اور ادب و احترام کے مہینے سمجھے جاتے تھے تین مہینے مسلسل ذیقعدہ، ذی الحجہ محرم اور ایک رجب کا۔- تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتیں اس پر متفق ہیں کہ ان چار مہینوں میں ہر عبادت کا ثواب زیادہ ہوتا ہے، اور ان میں کوئی گناہ کرے تو اس کا وبال اور عذاب بھی زیادہ ہے، سابق شریعتوں میں ان مہینوں کے اندر قتل و قتال بھی ممنوع تھا۔- مکہ مکرمہ کے عرب چونکہ اسماعیل (علیہ السلام) کے واسطہ سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ لصلوٰة والسلام کی اولاد ہیں، اس لئے یہ سب لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کے قائل اور ان کی شریعت کو ماننے کا دعوٰی کرتے تھے، اور چونکہ ملت ابراہیم میں بھی ان چار مہینوں ( یعنی اشہر حرم) میں قتل و قتال اور شکار ممنوع تھا، عرب جاہلیت پر اس حکم کی تعمیل اس لئے سخت دشوار تھی کہ دور جاہلیت میں قتل و قتال ہی ان کا پیشہ بن کر رہ گیا تھا، اس لئے اس میں آسانی پیدا کرنے کے لئے انہوں نے اپنی نفسانی اغراض کے لئے طرح طرح کے حیلے نکالے کبھی اشہر حرم کے کسی مہینہ میں جنگ کی ضرورت پیش آئی یا لڑتے لڑتے شہر حرام آجاتا تو کہہ دیتے کہ اب کے سال یہ مہینہ حرام نہیں ہوا اگلا مہینہ حرام ہوگا، مثلاً محرم آگیا تو کہتے کہ اس سال محرم کا مہینہ حرام نہیں بلکہ صفر کا مہینہ حرام ہوگا، اور مزید ضرورت پڑتی تو کہتے کہ ربیع الاول حرام ہوگا، یا یہ کہتے کہ اس سال صفر کا مہینہ پہلے آگیا، محرم بعد میں آئے …

37

إِنَّمَا ٱلنَّسِىٓءُ زِيَادَةٌۭ فِى ٱلْكُفْرِ ۖ يُضَلُّ بِهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُحِلُّونَهُۥ عَامًۭا وَيُحَرِّمُونَهُۥ عَامًۭا لِّيُوَاطِـُٔوا۟ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ فَيُحِلُّوا۟ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ ۚ زُيِّنَ لَهُمْ سُوٓءُ أَعْمَٰلِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

امن کے کس مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

دوسری آیت میں بھی اسی رسم جاہلیت کا ذکر اس طرح فرمایا (آیت) اِنَّمَا النَّسِيْۗءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ ، لفظ نسی مصدر ہے جس کے معنی پیچھے ہٹا دینے اور موخر کردینے کے ہیں، اور بمعنی موخر بھی استعمال ہوتا ہے۔- مشرکین عرب نے ان مہینوں کے آگے پیچھے کرنے کو یہ سمجھا تھا کہ اس طرح ہماری اغراض نفسانی بھی فوت نہ ہوں گی، اور حکم خداوندی کی تعمیل بھی ہوجائے گی، حق تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تمہارا مہینوں کو موخر کرنا اور اپنی جگہ سے ہٹا دینا کفر میں اور زیادتی ہے، جس سے ان کفار کی گمراہی اور بڑہتی ہے، کہ وہ شہر حرام کو کسی سال تو حرام قرار دیں اور کسی سال حلال کرلیں۔- (آیت) لِّيُوَاطِــــُٔــوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ ، یعنی تاکہ وہ پوری کرلیں گنتی ان مہینوں کی جن کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے، مطلب یہ ہے کہ محض گنتی پوری کرلینے سے تعمیل حکم نہیں ہوتی بلکہ جو حکم جس مہینہ کے لئے دیا گیا ہے اسی مہینہ میں اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔- احکام و مسائل - مذکورہ آیتوں سے ثابت ہوا کہ مہینوں کی جو ترتیب اور ان مہینوں کے جو نام اسلام میں معروف ہیں وہ انسانوں کی بنائی ہوئی اصطلاح نہیں، بلکہ رب العالمین نے جس دن آسمان و زمین پیدا کئے اسی دن یہ ترتیب اور یہ نام اور ان کے ساتھ خاص خاص مہینوں کے خاص خاص احکام متعین فرما دیئے تھے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک احکام شرعیہ میں قمری مہینوں کا اعتبار ہے، اسی قمری حساب پر تمام احکام شرعیہ روزہ، حج، زکوٰة وغیرہ دائر ہیں، لیکن قرآن حکیم نے تاریخ و سال معلوم کرنے کے لئے جیسے قمر کو علامت قرار دیا ہے اسی طرح آفتاب کو بھی اس کی علامت فرمایا ہے، (آیت) لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ، اس لئے تاریخ و سال کا حساب چاند اور سورج دونوں سے جائز ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام کے لئے چاند کے حساب کو پسند فرمایا، اور احکام شرعیہ اس پر دائر فرمائے اس لئے قمری حساب کا محفوظ رکھنا فرض کفایہ ہے، اگر ساری امت قمری حساب ترک کرکے اس کو بھلا دے تو سب گہنگار ہوں گے، اور اگر وہ محفوظ ہے تو دوسرے حساب کا استعمال بھی جائز ہے لیکن سنت اللہ اور سنت سلف کے خلاف ضرور ہے اس لئے بلا ضرورت اس کو اختیار کرنا اچھا نہیں۔- حساب کو پورا کرنے کے لئے جو لوند کا مہینہ بڑھایا جاتا ہے، بعض لوگوں نے اس کو بھی اس آیت کے تحت ناجائز سمجھا ہے، مگر وہ صحیح نہیں کیونکہ جس حساب میں لوند کا مہینہ بڑھاتے ہیں اس سے احکام شرعیہ کا تعلق نہیں، اہل جاہلیت قمری اور شرعی مہینوں میں زیادتی کرکے شرعی احکام کو بدلتے تھے، اس لئے منع کیا گیا لوند کا کوئی اثر شرعی احکام پر نہیں پڑتا اس لئے وہ اس ممانعت میں داخل نہیں۔

38

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ ٱنفِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱثَّاقَلْتُمْ إِلَى ٱلْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا مِنَ ٱلْءَاخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا فِى ٱلْءَاخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ

مومنو! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم (کاہلی کے سبب سے) زمین پر گرے جاتے ہو (یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے) کیا تم آخرت (کی نعمتوں) کو چھوڑ کر دینا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں

خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو تم لوگوں کو کیا ہوا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں ( یعنی جہاد کے لئے) نکلو تو تم زمین کو لگے جاتے ہو ( یعنی اٹھتے اور چلتے نہیں) کیا تم نے آخرت کے عوض دنیاوی زندگی پر قناعت کرلی سو دنیوی زندگی کی تمتع تو کچھ بھی نہیں بہت قلیل ہے اگر تم ( اس جہاد کے لئے) نہ نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو سخت سزا دے گا، ( یعنی تم کو ہلاک کردے گا) اور تمہارے بدلے دوسری قوم پیدا کردے گا، ( اور ان سے اپنا کام لے گا) اور تم اللہ ( کے دین) کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکو گے، اور اللہ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے اگر تم لوگ رسول (اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد نہ کرو گے تو ( اللہ آپ کی مدد کرے گا، جیسا کہ) اللہ تعالیٰ آپ کی مدد اس وقت کرچکا ہے جبکہ ( اس سے زیادہ مصیبت و پریشانی کا وقت تھا جبکہ) آپ کو کافروں نے ( تنگ کر کر کے مکہ سے) جلا وطن کردیا تھا جبکہ دو آدمیوں میں ایک آپ تھے ( اور دوسرے حضرت ابوبکر صدیق آپ کے ہمراہ تھے) جس وقت کہ دونوں ( صاحب) غار ( ثور) میں ( موجود) تھے جبکہ آپ اپنے ہمراہی سے فرما رہے تھے کہ تم ( کچھ) غم نہ کرو یقینا اللہ تعالیٰ ( کی مدد) ہمارے ہمراہ ہے سو ( وہ مدد یہ ہوئی کہ) اللہ تعالیٰ نے آپ ( کے قلب) پر اپنی ( طرف سے) تسلی نازل فرمائی اور آپ کو ( ملائکہ کے) ایسے لشکروں سے قوت دی جن کو تم لوگوں نے نہیں دیکھا، اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کی بات ( اور تدبیر) سچی کردی ( کہ وہ ناکام رہے) اور اللہ ہی کا بول بالا رہا ( کہ ان کی تدبیر اور حفاظت غالب رہی) اور اللہ زبردست حکمت والا ہے ( اسی لئے اس کی بات اور حکمت غالب رہی جہاد کیلئے) نکل پڑو ( خواہ) تھوڑے سے سامان سے ( ہو) اور ( خواہ) زیادہ سامان سے ( ہو) اور اللہ ہی کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم یقین رکھتے ہو، ( تو دیر مت کرو) اگر کچھ لگتے ہاتھ ملنے والا ہوتا اور سفر بھی معمولی ہوتا تو یہ ( منافق) لوگ ضرور آپ کے ساتھ ہو لیتے لیکن ان کو تو مسافت ہی دور دراز معلوم ہونے لگی ( اس لئے یہاں ہی رہ گئے) اور ابھی ( جب تم لوگ واپس آؤ گے تو) خدا کی قسمیں کھا جائیں گے کہ اگر ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے، یہ لوگ ( جھوٹ بول بول کر) اپنے آپ کو تباہ ( یعنی مستحق عذاب) کررہے ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں ( بلا شبہ انکو استطاعت تھی اور پھر یہ نہیں گئے ) ۔- معارف ومسائل - آیات مذکورہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات میں سے ایک اہم غزوہ کا بیان اور اس کے ضمن میں بہت سے احکام اور ہدایات ہیں، یہ غزوہ غزوہ تبوک کے نام سے موسوم ہے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تقریبا آخری غزوہ ہے۔- تبوک مدینہ کے شمال میں سرحد شام پر ایک مقام کا نام ہے، شام اس وقت رومی مسیحیوں کی حکومت کا ایک صوبہ تھا، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٨ ہجری میں جب فتح مکہ اور غزوہ حنین سے فارغ ہو کر مدینہ طیبہ پہنچے تو اس وقت جزیرة العرب کے اہم حصے اسلامی حکومت کے زیر نگیں آچکے تھے اور مشرکین مکہ کی ہشت سالہ مسلسل جنگوں کے بعد اب مسلمانوں کو ذرا سکون کا وقت ملا تھا۔- مگر جس ذات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی (آیت) لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ، نازل فرما کر پورے عالم کی فتوحات اور اس میں اپنے دین حق کو غالب کرنے کی بشارت دے دیتھی اس کو اور اس کے رفقاء کار کو فرصت کہاں، مدینہ پہونچتے ہی ملک شام سے آنے والے تجارت پیشہ لوگ جو شام سے زیتون کا تیل لا کر مدینہ وغیرہ میں فروخت کیا کرتے تھے، ان لوگوں نے یہ خبر پہنچائی کہ شاہ روم ہرقل نے اپنی فوجیں مقام تبوک میں سرحد شام پر جمع کردی ہیں اور فوجیوں کو پورے ایک سال کی تنخواہیں پیشگی دے کر مطمئن اور خوش کردیا ہے، اور عرب کے بعض قبائل سے بھی ان کی سازباز ہے …

39

إِلَّا تَنفِرُوا۟ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْـًۭٔا ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

اور اگر تم نہ نکلو گے تو خدا تم کو بڑی تکلیف کا عذاب دے گا۔ اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کر دے گا (جو خدا کے پورے فرمانبردار ہوں گے) اور تم اس کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکو گے اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

دوسری آیت میں سستی اور کاہلی برتنے والوں کو ان کے مرض اور علاج پر متنبہ کرنے کے بعد آخری فیصلہ یہ بھی سنا دیا کہ : - اگر تم جہاد کے لئے نہ نکلے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کردیں گے اور تمہاری جگہ کسی اور قوم کو کھڑا کردیں گے، اور دین پر عمل نہ کرنے سے تم اللہ کو یا اللہ کے رسول کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکو گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے “

40

إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ ٱللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ثَانِىَ ٱثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِى ٱلْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَٰحِبِهِۦ لَا تَحْزَنْ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَا ۖ فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُۥ بِجُنُودٍۢ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلسُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ ٱللَّهِ هِىَ ٱلْعُلْيَا ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو خدا ہی کی بلند ہے۔ اور خدا زبردست (اور) حکمت والا ہے

تیسری آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کا واقعہ پیش کرکے یہ بتلا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا رسول کسی انسان کی نصرت و امداد کا محتاج نہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو براہ راست غیب سے امداد پہنچا سکتے ہیں، جیسا کہ ہجرت کے وقت پیش آیا، جب آپ کو آپ کی برادری اور اہل وطن نے وطن سے نکلنے پر مجبور کردیا، سفر میں آپ کا رفیق بھی ایک صدیق کے سوا کوئی نہ تھا دشمنوں کے پیادے اور سوار تعاقب کر رہے تھے، آپ کی جائے پناہ بھی کوئی مستحکم قلعہ نہ تھا بلکہ ایک غار تھا، جس کے کنارے تک تلاش کرنے والے دشمن پہنچ چکے تھے، اور رفیق غار ابوبکر کو اپنی جان کا تو غم نہ تھا مگر اس لئے سہم رہے تھے کہ یہ دشمن سردار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ آور ہوجائیں گے، مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوہ ثبات بنے ہوئے نہ صرف خود مطمئن تھے بلکہ اپنے رفیق صدیق کو فرما رہے تھے لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا، تم غمگین نہ ہو کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔- یہ بات کہنے کو تو دو لفظ ہیں جن کا بولنا کچھ مشکل نہیں، مگر سننے والے حالات کا پورا نقشہ سامنے رکھ کر دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں کہ محض مادیات پر نظر رکھنے والے سے یہ اطمینان ممکن ہی نہیں، اس کا سبب اس کے سوا نہ تھا جس کو قرآن نے اگلے جملے میں ارشاد فرمایا کہ - اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب مبارک پر تسلی نازل فرمادی، اور ایسے لشکروں سے آپ کی امداد فرمائی جن کو تم لوگون نے نہیں دیکھا “۔- یہ لشکر فرشتوں کے لشکر بھی ہوسکتے ہیں اور پورے عالم کی قوتیں خود بھی خدائی لشکر ہیں وہ بھی ہو سکتی ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالاخر کفر کا کلمہ پست ہو کر رہا اور اللہ ہی کا بول بالا ہوا۔

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.