خلاصہ تفسیر - اور اگر وہ لوگ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں ( عہدوں) کو توڑ ڈالیں ( جیسا کہ انکی حالت سے غالب ہے اور ( عہد توڑ کر ایمان بھی نہ لائیں بلکہ اپنے کفر پر قائم رہیں جسکا ایک اثر یہ ہے کہ) تمہارے دین ( اسلام) پر طعن ( و اعتراض) کریں تو ( اس حالت میں) تم لوگ اس قصد سے کہ یہ ( اپنے کفر سے) باز آجائیں، ان پیشوایان کفر سے ( خوب) لڑو ( کیونکہ اس صوت میں) انکی قسمیں ( باقی) نہیں رہیں ( یہاں تک قبل نقض پیشینگوئی ہوچکی، آگے بعد وقوع نقض کے قتال کی ترغیب ہے کہ) تم ایسے لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا ( اور بنی بکر کی بمقابلہ خزاعہ کے مدد کی) اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جلا وطن کردینے کی تجویز کی، اور انہوں نے تم سے خود پہلے چھیڑ نکالی ( کہ تمہاری طرف سے وفائے عہد میں کوئی کمی نہیں ہوئی انہوں نے بیٹھے بٹھائے خود ایک شوشہ چھوڑا، پس ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو) کیا ان سے ( لڑنے میں) ڈرتے ہو ( کہ ان کے پاس جمعیت زیادہ ہے سو ( اگر یہ بات ہے تو ہرگز ان سے مت ڈرو کیونکہ) اللہ تعالیٰ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ تم ان سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو ( اور ان سے ڈرنے کا یہ مقتضا ہے کہ ان کے حکم کے خلاف مت کرو اور وہ حکم دیتے ہیں قتال کا پس) ان سے لڑو اللہ تعالیٰ ( کا وعدہ ہے کہ) ان کو تمہارے ہاتھوں سزا دے گا اور ان کو ذلیل ( و خوار) کرے گا اور تم کو ان پر غالب کرے گا اور ( ان کی اس تعذیب اور تمہاری نصرت سے) بہت سے ( ایسے) مسلمانوں کے قلوب کو شفاء دے گا اور ان کے قلوب کے غیظ ( و غضب) دور کردے گا ( جو خود تاب مقابلہ کی نہیں رکھتے اور ان کی حرکات کو دیکھ کر دل ہی دل میں گھٹتے ہیں) اور ( ان ہی کفار میں سے) جس پر ( توجہ و فضل کرنا) منظور ہوگا اللہ تعالیٰ توجہ ( بھی) فرمائے گا ( یعنی مسلمان ہونے کی توفیق دے گا، چناچہ فتح مکہ میں بعضے لڑے اور ذلیل و مقتول ہوئے اور بعضے مسلمان ہوگئے) اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں ( کہ علم سے ہر ایک کا انجام کہ اسلام ہے یا کفر جانتے ہیں، اور اسی لئے اپنی حکمت سے احکام مناسبہ مقرر فرماتے ہیں اور تم جو لڑنے سے جی چراتے ہو گو بعضے ہی سہی تو) کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم یوں ہی ( اسی حالت پر) چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے ( ظاہری طور پر) ان لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے ( ایسے موقع پر) جہاد کیا ہو اور اللہ و رسول اور مؤمنین کے سوا کسی کو خصوصیت کا دوست نہ بنایا ہو ( جس کے ظاہر ہونے کا اچھا ذریعہ ایسے موقع کا جہاد ہے جہاں مقابلہ اعزہ و اقاب سے ہو کہ پورا امتحان ہوجاتا ہے کہ کون اللہ کو چاہتا ہے اور کون برادری کو) اور اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے تمہارے سب کاموں کی ( پس اگر جہاد میں چستی کرو گے یا سستی کرو گے اسی کے موافق تم کو جزا دے گا۔- معارف و مسائل - قریش مکہ جن سے ٦ ہجری میں بمقام حدیبیہ ایک معاہدہ التواء جنگ کا ہوا تھا ان کے متعلق سورة توبہ کی ابتدائی آیتوں میں بطور پیشگوئی کے یہ اطلاع دے دیگئی تھی کہ یہ لوگ اپنے معاہدہ پر قائم نہ رہیں گے جس کا ذکر سورة توبہ کی ساتویں آیت میں (آیت) كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ کے الفاظ میں گزر چکا ہے، اور پھر آٹھویں نویں دسویں آیتوں میں ان کی عہد شکنی کے اسباب کا بیان ہوا، گیارہویں آیت میں اس کا بیان آیا کہ عہد شکنی کے اس جرم عظیم کے بعد بھی اگر یہ لوگو مسلمان ہوجائیں اور اپنے اسلام کا اظہار نماز و روزہ کے ذریعہ کرنے لگیں تو پھر مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان کے پچھلے جرائم کا کوئی اثر اپنے معاملات میں با قی نہ رکھیں، بلکہ ان کو اپنا دینی بھائی سمجھیں اور برادرانہ معاملات کریں، مذکورہ بارہویں آیت میں اس کا بیان ہے کہ پیشنگوئی کے مطابق جب یہ لوگ عہد شکنی کر ہی ڈالیں تو پھر ان کے ساتھ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔- …