Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 111–120 of 129

111

۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱشْتَرَىٰ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلْجَنَّةَ ۚ يُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّۭا فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ وَٱلْقُرْءَانِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِ ۚ فَٱسْتَبْشِرُوا۟ بِبَيْعِكُمُ ٱلَّذِى بَايَعْتُم بِهِۦ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے۔ جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے

خلاصہ تفسیر - بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی ( اور خدا کے ہاتھ مال و جان بیچنے کا مطلب یہ ہے کہ) وہ لوگ اللہ کی راہ میں ( یعنی جہاد میں) لڑتے ہیں جس میں ( کبھی) قتل کرتے ہیں اور ( کبھی) قتل کئے جاتے ہیں ( یعنی وہ بیع جہاد کرنا ہے خواہ اس میں قاتل ہونے کی نوبت آئے یا مقتول ہونے کی) اس ( قتال) پر ( ان سے جنت کا) سچا وعدہ کیا گیا ہے توریت میں ( بھی) اور انجیل میں ( بھی) اور قرآن میں ( بھی) اور ( یہ مسلم ہے کہ) اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے ( اور اس نے اس بیع پر وعدہ جنت کا کیا ہے) تو ( اس حالت میں) تم لوگ ( جو کہ جہاد کر رہے ہو) اپنی اس بیع ( مذکور) پر جس کا تم نے ( اللہ تعالیٰ سے) معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ کیونکہ اس بیع پر تم کو حسب وعدہ مذکورہ جنت ملے گی) اور یہ ( جنت ملنا) بڑی کامیابی ہے ( تو ضرور تم کو یہ سودا کرنا چاہئے) وہ ( مجاہدین ایسے ہیں جو علاوہ جہاد کے ان اوصاف کمال کیساتھ بھی موصوف ہیں کہ گناہوں سے) توبہ کرنے والے ہیں ( اور اللہ کی) عبادت کرنے والے ( ہیں اور اللہ کی) حمد کرنے والے ( ہیں اور) روزہ رکھنے والے ( ہیں اور) رکوع اور سجدہ کرنے والے ( ہیں یعنی نماز پڑھتے ہیں اور) نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے ( ہیں) اور بری باتوں سے باز رکھنے والے ( ہیں) اور اللہ کی حدود کا ( یعنی احکام کا) خیال رکھنے والے ( ہیں) اور ایسے مؤمنین کو ( جن میں جہاد اور یہ صفات ہوں) آپ خوش خبری سنا دیجئے ( کہ ان سے جنت کا وعدہ مذکور ہے۔- معارف و مسائل - ربط آیات : سابقہ آیات میں جہاد سے بلا عذر رکنے کی مذمت کا بیان تھا، ان آیات میں مجاہدین کی فضیلت کا بیان ہے۔- شان نزول : حسب تصریح اکثر حضرات مفسرین یہ آیات بیعت عقبہ کے شرکاء کے متعلق نازل ہوئی ہیں جو ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں انصار مدینہ سے لی گئی تھی اسی لئے پوری سورت کے مدنی ہونے کے باوجود ان آیات کو مکی کہا گیا ہے۔- عقبہ پہاڑ کے حصہ کو کہا جاتا ہے اس جگہ وہ عقبہ مراد ہے جو منیٰ میں جمرہ عقبہ کے ساتھ پہاڑ کا حصہ ہے ( آجکل حجاج کی کثرت کے سبب پہاڑ کا یہ حصہ صاف کرکے میدان بنادیا گیا ہے صرف جمرہ رہ گیا ہے اس عقبہ پر مدینہ طیبہ کے حضرات سے تین مرتبہ بیعت لی گئی ہے پہلی بیعت بعثت نبوی سے گیارہویں سال میں ہوئی، جس میں چھ حضرات مسلمان ہو کر بیعت کرکے مدینہ واپس ہوئے، تو مدینہ کے گھر گھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چرچا ہونے لگا، اگلے سال موسم حج میں بارہ حضرات اسی جگہ جمع ہوئے، جن میں پا نچ پہلے اور سات نئے تھے، سب نے بیعت کی، اب مدینہ میں مسلمانوں کی خاصی تعداد ہوگئی، جو چالیس نفر سے زائد تھی، انہوں نے درخواست کی کہ ہمیں قرآن پڑھانے کے لئے کسی کو بھیج دیا جائے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت مصعب بن عمیر کو بھیج دیا، انہوں نے موجودہ مسلمانوں کو قرآن بھی پڑھایا اور اسلام کی تبلیغ بھی کی جس کے نتیجہ میں مدینہ کی بڑی جماعتیں اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئیں۔- اس کے بعد بعثت نبوی کے تیرہویں سال میں ستر مرد دو عورتیں اسی جگہ جمع ہوئے، یہ تیسری بیعت عقبہ ہے جو آخری ہے، اور عموماً بیعت عقبہ سے یہی بیعت مراد ہوتی ہے، یہ بیعت اسلام کے اصولی عقائد و اعمال کے ساتھ خصوصی طور پر کفار سے جہاد اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کرکے مدینہ پہونچیں تو آپ کی حفاظت و حمایت پر لی گئی، اس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس وقت معاہدہ ہو رہا ہے، آپ جو شرائط اپنے رب کے متعلق یا اپنے متعلق کرنا چاہیں وہ واضح کردی جائیں، آپ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے لئے تو یہ شرط رکھتا ہوں کہ آپ سب اس کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے، اور اپنے لئے یہ شرط ہے …

At-Tawba 9:111Listen in Qur'an →
112

ٱلتَّٰٓئِبُونَ ٱلْعَٰبِدُونَ ٱلْحَٰمِدُونَ ٱلسَّٰٓئِحُونَ ٱلرَّٰكِعُونَ ٱلسَّٰجِدُونَ ٱلْءَامِرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَٱلنَّاهُونَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَٱلْحَٰفِظُونَ لِحُدُودِ ٱللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا امر کرنے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے، خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (یہی مومن لوگ ہیں) اور اے پیغمبر مومنوں کو (بہشت کی) خوش خبری سنادو

(آیت) اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الایة، یہ صفات انہی مؤمنین کی ہیں جن کے بارے میں اوپر یہ فرمایا ہے کہ اللہ نے ان کی جان اور مال کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے۔ نزول اس کا ایک خاص جماعت شرکاء بیعت عقبہ کے لئے ہوا، مگر مفہوم آیت تمام مجاہدین فی سبیل اللہ کو شامل ہے، اور جو اوصاف ان کے التَّاۗىِٕبُوْنَ الخ سے بیان کئے گئے، یہ شرط کے طور پر نہیں، کیونکہ جنت کا وعدہ مطلقًا جہاد فی سبیل اللہ پر آیا ہے، ان اوصاف کے بیان سے مقصد یہ ہے کہ جو لوگ جنت کے اہل ہوئے ہیں ان کے ایسی اوصاف ہوا کرتے ہیں، خصوصاً بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے صحابہ کا یہی حال تھا۔- السَّاۗىِٕحُوْنَ کے معنی جمہور مفسرین کے نزدیک صَائِمُون یعنی روزہ داروں کے ہیں، اصل میں یہ لفظ سیاحت سے ماخوذ ہے، اسلام سے پہلے دین نصرانیت میں سیاحت ایک عبادت سمجھی جاتی تھی کہ انسان اپنے گھر بار کو چھوڑ کر عبادت کے لئے نکل کھڑا ہوا، اسلام میں اس کو رہبانیت قرار دیا گیا، اور اس سے منع کیا گیا اس کے قائم مقام روزہ کی عبادت مقرر کی گئی، کیونکہ سیاحت کا مقصد ترک دنیا تھا، روزہ ایسی چیز ہے کہ اپنے گھر میں رہتے ہوئے ایک معین وقت میں دنیا کی تمام خواہشات کو ترک کردینا ہوتا ہے اور اسی بنا پر بعض روایات میں جہاد کو بھی سیاحت قرار دیا گیا ہے۔ ابن ماجہ، حاکم، بیہقی نے بسند صحیح روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سیاحۃ امتی الجھاد فی سبیل اللہ، یعنی اس امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔- حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں سائحین کا لفظ آیا ہے اس سے مراد صائمین ہیں، حضرت عکرمہ نے سائحین کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ طالب علم ہیں جو طلب علم کیلئے اپنے گھر بار کو چھوڑ کر نکلتے ہیں ( مظہری) ۔- اس جگہ مؤمنین مجاہدین کے اوصاف تائبون، عابدون، حامدون، سائحون، راکعون، ساجدون، آمرون بالمعروف، والناہوں عن المنکر، سات چیزیں بیان فرمانے کے بعد آٹھواں وصف الحفظون الحدود اللہ فرمایا، یہ درحقیقت تمام اوصاف مذکورہ سابقہ کا ایک جامع لفظ ہے، گویا سات اوصاف میں جو تفصیل بتلائی گئی اس کا اجمال یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے ہر کام اور کلام میں حدود اللہ یعنی احکام شرعیہ کے پابند ہیں، ان کی حفاظت کرتے ہیں۔- آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَبَشِّرِ الْمُؤ ْمِنِيْنَ یعنی جن مؤمنین کے یہ اوصاف ہوں جو اوپر بیان کئے گئے ان کو ایسی نعمتوں کی خوش خبری سنا دیجئے جن کو کسی کا وہم و خیال بھی نہیں پاسکتا، اور نہ کسی عبادت سے اس کو سمجھایا جاسکتا ہے، اور نہ کسی کے کانوں نے ان کا تذکرہ سنا ہے، مراد جنت کی نعمتیں ہیں۔

At-Tawba 9:112Listen in Qur'an →
113

مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن يَسْتَغْفِرُوا۟ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوٓا۟ أُو۟لِى قُرْبَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں

خلاصہ تفسیر - پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ( کیوں نہ) ہوں اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں ( اس وجہ سے کہ کافر ہو کر مرے ہیں) اور ( اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ سے شبہ ہو کہ انہوں نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت کی تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ) ابراہیم ( علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت مانگنا ( وہ اس کے قبل تھا کہ اس کا دوزخی ہونا ظاہر ہوجاوے اور) وہ ( بھی) صرف وعدہ کے سبب سے تھا جو انہوں نے اس سے وعدہ کرلیا تھا ( اس قول میں سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ ، غرض جواز تو اس لئے تھا کہ اس کا دوزخی ہونا ظاہر نہ ہوا تھا، اور وقوع کو اس سے ترجیح ہوگئی تھی کہ وعدہ کرلیا تھا، ورنہ باوجود جواز کے بھی وقوع نہ ہوتا) پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ وہ خدا کا دشمن ( یعنی کافر ہو کر مرا) ہے تو وہ اس سے محض بےتعلق ہوگئے ( کہ استغفار بھی چھوڑ دیا، کیونکہ اس وقت دعائے مغفرت کرنا بےمعنی ہے، کیونکہ کافر میں احتمال مغفرت کا ہے ہی نہیں، بخلاف حالت حیات کے کہ دعاء مغفرت کے معنی اس وقت طلب توفیق ہدایت ہوسکتے ہیں کہ توفیق ہدایت کے لئے مغفرت لازم ہے، اور رہا یہ کہ وعدہ کیوں کرلیا تھا وجہ اس کی یہ ہے کہ واقعی ابراہیم ( علیہ السلام) بڑے رحیم المزاج حلیم الطبع تھے ( کہ باوجودیکہ باپ نے ان کو کیسی کیسی سخت باتیں کہیں، مگر حلم سے کام لیا، اور مزید براں یہ کہ شفقت کے جوش سے وعدہ کرلیا اور احتمال نفع تک اس وعدہ کو پورا فرمایا، جب یاس ہوگیا ہار کر چھوڑ دیا، بخلاف تمہارے استغفار کے کہ مشرکین کے مرنے کے بعد ہو رہا ہے، جن کا حالت شرک پر مرنا ظاہر مشاہد سے معلوم ہے اور احکام شرعیہ میں ایسا ظاہر کافی ہے، پھر قیاس کب صحیح ہے، اور اس قیاس پر شبہ کب مبنی ہوسکتا ہے ) ۔- معارف و مسائل - سورة توبہ پوری کفار و مشرکین سے تبری اور علیحدگی کے احکام پر مشتمل ہے، سورة کا شروع ہی بَرَاۗءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ ، سے ہوا ہے، اور اسی لئے اس سورة کا ایک نام سورة براءت بھی معروف ہے اوپر جس قدر احکام آئے وہ دنیوی زندگی میں کفار و مشرکین سے براءت اور قطع تعلق کے متعلق ہیں، اس آیت میں یہی حکم براءت اور قطع تعلق کا اخروی زندگی کے لئے آیا ہے کہ مرنے کے بعد کافر و مشرک کے لئے دعاء مغفرت کرنا بھی جائز نہیں، جیسا کہ اس سے پہلے ایک آیت میں منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منع کیا گیا ہے۔- واقعہ نزول اس آیت کا صحیح بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابو طالب اگرچہ مسلمان نہ ہوئے تھے مگر عمر بھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حمایت و حفاظت کرتے رہے، اور اس معاملہ میں برادری کے کسی فرد کا کہنا نہیں مانا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اس کا بڑا اہتمام تھا کہ کسی طرح یہ کلمہ اسلام پڑھ لیں، اور ایمان لے آئیں تو شفاعت کا موقع مل جائے گا اور یہ جہنم کے عذاب سے بچ جائیں گے، مرض وفات میں جب ان کا آخری وقت ہوا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بڑی فکر تھی کہ اس وقت بھی کلمہ شریف پڑھ لیں تو کام ہوجائے، چناچہ اس حالت میں آپ ان کے پاس پہونچے، مگر ابوجہل، عبداللہ بن امیہ پہلے سے وہاں موجود تھے، آپ نے فرمایا کہ میرے چچا کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں تو میں آپ کی بخشش کے لئے کوشش کروں گا، مگر ابو جہل بول اٹھا کہ کیا آپ عبد المطلب کے دین کو چھوڑ دیں گے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کئی مرتبہ پھر اپنا کلام دہرایا، مگر ہر مرتبہ ابو جہل یہی بات کہہ دیتا، یہاں تک کہ آخری کلام میں ابو طالب نے یہی کہا کہ میں عبد المطلب کے دین پر ہوں، اسی حالت میں وفات ہوگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ …

At-Tawba 9:113Listen in Qur'an →
114

وَمَا كَانَ ٱسْتِغْفَارُ إِبْرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍۢ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥٓ أَنَّهُۥ عَدُوٌّۭ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَأَوَّٰهٌ حَلِيمٌۭ

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے

اس پر بعض مسلمانوں کو یہ شبہ ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی تو اپنے کافر باپ کے لئے دعا کی تھی، اس کے جواب میں دوسری آیت نازل ہوئی (آیت) مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ الایة، جس کا حاصل یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنے والد کے لئے دعا کی تھی اس کا معاملہ یہ ہے کہ شروع میں جب تک ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ معلوم نہ تھا کہ آخر تک کفر ہی پر قائم رہے گا، اسی پر مرے گا، تو اس کا دوزخی ہونا یقینی نہیں تھا، اس وقت انہوں نے یہ وعدہ کرلیا تھا کہ میں آپ کے لئے دعا مغفرت کروں گا، سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ ، پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے یعنی کفر ہی پر اس کا خاتمہ ہوا ہے تو اس سے بےتعلقی اختیار کرلی اور استغفار کرنا چھوڑ دیا۔- قرآن مجید کے مختلف مواقع میں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے والد کے لئے دعا مغفرت کرنا منقول ہے وہ سب اسی پر محمول ہونا چاہئے، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کو ایمان و اسلام کی توفیق دے تاکہ ان کی مغفرت ہو سکے۔- غزوہ احد میں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک کو کفار نے زخمی کردیا تو آپ چہرہ سے خون صاف کرتے ہوئے یہ دعا فرما رہے تھے " اللھم اغفر لقومی انھم لا یعلمون " یعنی یا اللہ میری قوم کی مغفرت فرما دے وہ نادان ہیں، کفار کے لئے اس دعا مغفرت کا حاصل بھی یہی ہے کہ ان کو ایمان و اسلام کی توفیق عطا فرمادے کہ یہ مغفرت کے قابل ہوجائیں۔- امام قرطبی نے فرمایا کہ اس سے ثابت ہوا کہ زندہ کافر کے لئے اس نیت سے دعا مغفرت کرنا جائز ہے کہ اس کو ایمان کی توفیق ہو اور یہ مستحق مغفرت ہوجائے۔- (آیت) اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ، لفظ اواہ بہت سے معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے قرطبی نے اس میں پندرہ قول نقل کئے ہیں، مگر سب معانی متقاربہ ہیں، کوئی اختلاف حقیقی نہیں، ان میں سے چند معانی یہ ہیں، بکثرت آہ کرنے والا، یا بکثرت دعا کرنے والا، اللہ کے بندوں پر رحم کرنے والا، حضرت عبداللہ بن مسعود سے یہی معنی منقول ہیں۔

At-Tawba 9:114Listen in Qur'an →
115

وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ إِذْ هَدَىٰهُمْ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

اور خدا ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان کو وہ چیز نہ بتا دے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بےشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

خلاصہ تفسیر - اور اللہ ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت کئے پیچھے گمراہ کردے جب تک کہ ان چیزوں کو صاف صاف نہ بتلادے جن سے وہ بچتے رہیں ( پس جب ہم کو (مسلمانوں کو) ہدایت کی اور اس کے قبل استغفار للمشرکین کی ممانعت نہ بتلائی تھی تو اس کے کرنے سے تم کو یہ سزا نہیں دی جائے گی کہ تم میں گمراہی کا مادہ پیدا کردیا جاوے) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں ( سو وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ بدون ہمارے بتلائے ہوئے ایسے احکام کو کوئی نہیں جان سکتا، اس لئے ان افعال سے مضرت بھی نہیں پہنچنے دیتے اور) بلاشبہ اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں وہی جلاتا اور مارتا ہے ( یعنی ہر طرح کی حکومت اور قدرت اسی کے لئے خاص ہے اس لئے جو چاہے حکم دے سکتا ہے، اور جس ضرر سے چاہے بچا سکتا ہے) اور تمہارا اللہ کے سوا نہ کوئی یار ہے نہ مددگار ہے ( بلکہ وہی یار و مددگار ہے، اس لئے قبل نہی کو ضرر سے بچاتا ہے، اور اگر تم نے بعد نہی اطاعت نہ کی تو اور کوئی بچانے والا نہیں ) ۔

At-Tawba 9:115Listen in Qur'an →
116

إِنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۚ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍۢ

خدا ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگانی بخشتا ہے (وہی) موت دیتا ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے

Explained together with ayah 115

At-Tawba 9:116Listen in Qur'an →
117

لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِىِّ وَٱلْمُهَٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِى سَاعَةِ ٱلْعُسْرَةِ مِنۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍۢ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُۥ بِهِمْ رَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ

بےشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھر جانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بےشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے

خلاصہ تفسیر - اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حال پر توجہ فرمائی ( کہ آپ کو نبوت اور امامت جہاد اور تمام خوبیاں عطا فرمائیں) اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی ( توجہ فرمائی کہ ان کو ایسی مشقت کے جہاد میں مستقیم رکھا) جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں تزلزل ہو چلا تھا ( اور جہاد میں جانے سے ہمت ہارنے کو تھے مگر) پھر اللہ نے ان ( گروہ) کے حال پر توجہ فرمائی ( کہ ان کو سنبھال لیا اور آخر ساتھ ہو ہی لئے پس) بلا شبہ اللہ تعالیٰ سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے ( کہ اپنی مہربانی سے ہر ایک کے حال پر کس کس طرح توجہ فرمائی) اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی ( توجہ فرمائی) جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا یہاں تک کہ جب ( ان کی پریشانی کی یہ نوبت پہنچی کہ) زمین باوجود اپنی ( اتنی بڑی) فراخی کے ان پر تنگی کرنے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ خدا ( کی گرفت) سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے ( اس وقت وہ خاص توجہ کے قابل ہوئے) پھر ان کے حال پر ( بھی خاص) توجہ فرمائی تاکہ وہ آئندہ بھی ( ایسے مواقع مصیبت و معصیت میں اللہ کی طرف) رجوع رہا کریں بیشک اللہ تعالیٰ بہت توجہ فرمانے والے بڑے رحم کرنے والے ہیں، اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ( عمل میں) سچوں کے ساتھ رہو ( یعنی جو نیت اور بات میں سچے ہیں ان کی راہ چلو کہ تم بھی صدق اختیار کرو) ۔- معارف و مسائل - یہاں سے چند آیات پہلے آیت وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا کے بیان میں یہ لکھا گیا تھا کہ غزوہ تبوک کے لئے سب مسلمانوں کو نکلنے کا حکم عام ہونے کے وقت اہل مدینہ کے لوگوں کی پانچ قسمیں ہوگئی تھیں دو قسمیں متخلفین بغیر عذر کی تھیں جن کا بیان سابقہ آیات میں تفصیل کے ساتھ آچکا ہے، مذکور الصدر آیات میں مؤمنین مخلصین کی تین قسموں کا ذکر ہے۔ اول وہ لوگ جو حکم جہاد پاتے ہی فوراً تیار ہوگئے، ان کا بیان آیت مذکورہ کے ابتدائی جملے میں (آیت) الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ، میں ہوا ہے دوسرے وہ لوگ جو ابتداء کچھ تردد میں رہے مگر پھر سنبھل گئے اور جہاد کے لئے سب کے ساتھ ہوگئے انکا بیان اسی آیت کے اس جملے میں ہے مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ۔ - تیسرے وہ مؤمنین تھے جو اگرچہ وقتی کاہلی و سستی کی وجہ سے جہاد میں نہ گئے، مگر بعد میں نادم اور تائب ہوئے، اور بالاخر ان سب کی توبہ قبول ہوگئی، مگر ان میں پھر دو قسم ہوگئی تھیں یہ کل دس آدمی تھے جن میں سے سات آدمیوں نے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی واپسی کے بعد فوراً اپنی ندامت و توبہ کا اظہار اس شان سے کیا کہ اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا کہ جب تک ہماری توبہ قبول نہ ہوگی بندھے رہیں گے ان کی آیت توبہ تو اسی وقت نازل ہوگئی جس کا بیان پہلے ہوچکا ہے، تین آدمی وہ تھے جنہوں نے یہ عمل نہیں کیا، ان کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو مقاطعہ کا حکم ( دے دیا کہ کوئی ان کے ساتھ سلام کلام نہ کرے، جس سے یہ حضرات سخت پریشان ہوگئے، ان کا ذکر دوسری آیت (آیت) وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا میں ہوا ہے، جس میں بالاخر ان کی توبہ کے قبول ہونے کا بیان ہے، اور اس کے ساتھ ہی ان سے مقاطعہ کا حکم ختم کردیا گیا، (آیت) لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول کرلی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان مہاجرین و انصار کی جنہوں نے تنگی اور تکلیف کے وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع کیا۔- جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو گناہ سے بچا دیا، …

At-Tawba 9:117Listen in Qur'an →
118

وَعَلَى ٱلثَّلَٰثَةِ ٱلَّذِينَ خُلِّفُوا۟ حَتَّىٰٓ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّوٓا۟ أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ ٱللَّهِ إِلَّآ إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب اُنہیں زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کے جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں۔ اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

(آیت) وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا، اس میں خلفوا کے لفظی معنی یہ ہیں کہ جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے مراد یہ ہے کہ جن کی توبہ کا معاملہ مؤ خر کیا گیا، یہ تین حضرات، حضرت کعب بن مالک شاعر، اور مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ہیں، تینوں انصاری بزرگ تھے، جو اس سے پہلے بیعت عقبہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دوسرے غزوات میں شریک رہ چکے تھے، مگر اس وقت اتفاقی طور سے اس لغزش میں مبتلا ہوگئے، اور منافقین جو اس جہاد میں اپنے نفاق کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے تھے انہوں نے بھی ان کو ایسے ہی مشورے دیئے جس سے ان کی ہمت ٹوٹ گئی، مگر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جہاد سے واپس آئے تو ان سب منافقین نے حاضر ہو کر جھوٹے اعذار پیش کرکے اور جھوٹی قسمیں کھا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو راضی کرنا چاہا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی باطنی حالت کو اللہ کے سپرد کیا، اور ظاہری قسموں کو قبول کرلیا، یہ لوگ آرام سے رہنے لگے، کچھ لوگوں نے ان تینوں انصاری بزرگوں کو بھی یہی مشورہ دیا کہ تم بھی جھوٹے عذر کر کے اپنی صفائی پیش کردو، مگر ان کے دلوں نے ملامت کی کہ ایک گناہ تو جہاد سے تخلف کا کرچکے ہیں، اب دوسرا گناہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جھوٹ بولنے کا کریں، اس لئے صاف صاف اپنے قصور کا اعتراف کرلیا، جس کی سزا میں ان سے مقاطعہ سلام و کلام جاری کیا گیا، انجام یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان سب کی حقیقت کھول دی، جھوٹی قسمیں کھا کر عذر کرنے والوں کا پردہ فاش کردیا، جس کا ذکر اور ان کے انجام بد کا حال اس سے پہلی کئی آیات میں (آیت) يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَيْهِمْ سے عَلَيْهِمْ دَاۗىِٕرَةُ السَّوْءِ تک بیان ہوا ہے، اور ان تین بزرگوں نے جو سچ بولا اور اعتراف کیا ان کی توبہ اس آیت میں نازل ہوئی، اور پچاس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعراض اور صحابہ کرام کے مقاطعہ سلام و کلام کی انتہائی سخت مصیبت جھیلنے کے بعد بڑی سرخروئی اور مبارکبادوں کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور سب مسلمانوں میں مقبول ہوئے۔- ان تینوں انصاری بزرگوں کے واقعہ کی تفصیل احایث صحیحہ سے : - صحیحین بخاری و سلم اور اکثر کتب حدیث میں اس واقعہ کے متعلق حضرت کعب بن مالک کی ایک طویل حدیث لکھی گئی ہے، جو بہت سے فوائد اور مسائل اور حقائق پر مشتمل ہے، اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اس کا پورا ترجمہ یہاں نقل کردیا جائے، ان تین بزرگوں میں سے ایک کعب بن مالک (رض) تھے انہوں نے اپنے واقعہ کی تفصیل اس طرح بتلائی ہے کہ : - رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جتنے غزوات میں شرکت کی میں ان سب میں بجز غزوہ تبوک کے آپ کے ساتھ شریک رہا، البتہ غزوہ بدر کا واقعہ چونکہ اچانک پیش آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب کو اس میں شریک ہونے کا حکم بھی نہیں دیا تھا، اور شریک نہ ہونے والوں پر کوئی عتاب بھی نہیں فرمایا تھا اس میں بھی شریک نہ ہوسکا تھا، اور میں لیلتہ العقبہ کی بیعت میں بھی حاضر تھا جس میں ہم نے اسلام کی حمایت و حفاظت کا معاہدہ کیا تھا، اور مجھے یہ بیعت عقبہ کی حاضری غزوہ بدر کی حاضری سے بھی زیادہ محبوب ہے، اگرچہ غزوہ بدر لوگوں میں زیادہ مشہور ہے، اور میرا واقعہ غزوہ تبوک میں غیر حاضری کا یہ ہے کہ میں کسی وقت بھی اس وقت سے زیادہ خوش حال اور مالدار نہ تھا۔ بخدا میرے پاس کبھی اس سے پہلے دو سواریاں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ جو اس وقت موجود تھیں۔- اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت شریفہ غزوات کے معاملہ میں یہ تھی کہ مدینہ سے نکلنے کے وقت اپنے ارادے کے اخفا کے لئے ایسا کرتے تھے کہ جس سمت میں جا کر جہاد کرنا ہو تو مدینہ سے اس کے خلاف سمت کو نکلنے تھے، تاکہ منافقین مخبری کرکے فریق مقابل کو آگاہ …

At-Tawba 9:118Listen in Qur'an →
119

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَكُونُوا۟ مَعَ ٱلصَّٰدِقِينَ

اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو

(آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ ، سابقہ آیات میں جو واقعہ تخلف عن الجہاد کا بعض مخلصین سے پیش آیا پھر ان کی توبہ قبول ہوئی یہ سب نتیجہ ان کے تقوٰی اور خوف خدا کا تھا، اس لئے اس آیت میں عام مسلمانوں کو تقوٰی کیلئے ہدایت فرمائی گئی، اور كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا کہ صفت تقوٰی حاصل ہونے کا طریقہ صالحین و صادقین کی صحبت اور عمل میں ان کی موافقت ہے اس میں شاید یہ اشارہ بھی ہو کہ جن حضرات سے یہ لغزش ہوئی اس میں منافقین کی صحبت مجالست اور ان کے مشورہ کو بھی دخل تھا، اللہ کے نافرمانوں کی صحبت سے بچنا چاہئے اور صادقین کی صحبت اختیار کرنا چاہئے، اس جگہ قرآن حکیم نے علماء صلحاء کے بجائے صادقین کا لفظ اختیار فرما کر عالم و صالح کی پہچان بھی بتلا دی ہے کہ صالح صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جس کا ظاہر و باطن یکساں ہو، نیت و ارادے کا بھی سچا ہو قول کا بھی سچا ہو، عمل کا بھی سچا ہو۔

At-Tawba 9:119Listen in Qur'an →
120

مَا كَانَ لِأَهْلِ ٱلْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ ٱلْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا۟ عَن رَّسُولِ ٱللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا۟ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌۭ وَلَا نَصَبٌۭ وَلَا مَخْمَصَةٌۭ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَطَـُٔونَ مَوْطِئًۭا يَغِيظُ ٱلْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّۢ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِۦ عَمَلٌۭ صَٰلِحٌ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

خلاصہ تفسیر - مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش میں ( رہتے) ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ نہ دیں اور نہ یہ ( زیبا تھا) کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمج ہیں ( کہ آپ تو تکلیفیں سہیں اور یہ آرام سے بیٹھے رہیں، بلکہ آپ کے ہمراہ جانا ضروری تھا اور) یہ ( ساتھ جانے کا ضروری ہونا) اس سبب سے ہے کہ ( علاوہ ادائے حق محبت رسول اللہ کے ان مجاہدین کو بات بات پر ثواب حاصل ہوا ہے اگر خلاص کے ساتھ جاتے ان کو بھی یہ ملتا چنانچہ) ان کو اللہ کی راہ ( یعنی جہاد) میں جو پیاس لگی اور جو ماندگی پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو چلنا چلے جو کفار کے لئے موجب غیظ ہوا اور دشمنوں کی جو کچھ خبر لی ان سب پر ان کے نام ایک ایک نیک کام لکھا گیا ( باوجودیکہ بعض امور افعال اختیاریہ نہیں، مگر یہ مقتضائے مقبولیت و محبوبیت ہے کہ امور اضطراریہ بھی مثل اعمال اختیاریہ کے موجب ثواب قرار دیئے گئے، اور اس وعدہ میں احتمال تخلف کا نہیں کیونکہ) یقینا اللہ تعالیٰ مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتے ( پس وعدہ کرلیا تو ضائع نہ ہوگا) اور ( نیز) جو کچھ چھوٹا یا بڑا انہوں نے خرچ کیا اور جتنے میدان ان کو طے کرنے پڑے یہ سب بھی ان کے نام ( نیکیوں میں) لکھا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے ( ان سب) کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دے ( کیونکہ جب ثواب لکھا گیا تو بدلہ ملے گا ) ۔- معارف و مسائل - ان دونوں آیتوں میں متخلفین کو تخلف پر ملامت اور فہمائش اور شرکاء جہاد کے فضائل اور بسلسلہ جہاد قدم قدم پر ہر قول و فعل اور ہر محنت و مشقت پر اجر عظیم کا ذکر ہے جس میں بوقت جہاد دشمن کو کوئی تکلیف پہنچا دینا اور ایسی چال چلنا جس سے ان کو غیظ ہو یہ سب اعمال صالحہ موجب ثواب ہیں۔

At-Tawba 9:120Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.