Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 1–10 of 129

1

بَرَآءَةٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

(اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری) ہے

خلاصہ تفسیر - اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین ( کے عہد) سے دست برداری ہے جن سے تم نے ( بلا تعیین مدت) عہد کر رکھا تھا ( یہ جماعت سوم کا حکم ہے ان جماعتون کی تفصیل معارف و مسائل میں آرہی ہی) اور جماعت چہارم یعنی جن سے کچھ بھی عہد نہ تھا ان کا بھی حکم اس سے بدرجہ اولی مفہوم ہوگیا کہ جب معاہدین سے رفع امان کردیا تو غیر معاہدین میں تو کوئی احتمال امن کا پہلے سے بھی نہیں ہے) سو ( ان دونوں جماعتوں کو اطلاع کردو کہ) تم لوگ اس سرزمین میں چار مہینے چل پھر لو ( اجازت ہے تاکہ اپنا موقع اور پناہ ڈھونڈھ لو) اور ( اس کے ساتھ) یہ ( بھی) جان رکھو کہ ( اس مہلت کی بدولت صرف مسلمانوں کی دست برد سے بچ سکتے ہو لیکن) تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے ( کہ اس کے قبضہ سے نکل سکو) اور یہ ( بھی جان رکھو) کہ بیشک اللہ تعالیٰ ( آخرت میں) کافروں کو رسوا کریں گے ( یعنی عذاب دیں گے تمہاری سیاحت اس سے نہیں بچا سکتی اور احتمال قتل دنیا میں الگ رہا۔ اس میں ترغیب ہے توبہ کی) اور ( پہلی دوسری جماعت کا حکم یہ ہے کہ) اللہ اور رسول کی طرف سے بڑے حج کی تاریخوں میں عام لوگوں کے سامنے اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول دونوں ( بدون مقرر کرنے کسی میعاد کے ابھی) دست بردار ہوتے ہیں ان مشرکین ( کو امن دینے) سے ( جنہوں نے خود نقض عہد کیا۔ مراد جماعت اول ہے مگر) پھر ( بھی ان سے کہا جاتا ہے کہ) اگر تم ( کفر سے) توبہ کرلو تو تمہارے لئے ( دونوں جہان میں) بہتر ہے ( دنیا میں تو اس لئے کہ تمھا ری عہد شکنی معاف ہوجائے گی اور قتل سے بچ جاؤ گے اور آخرت میں ظاہر ہے کہ نجات ہوگی) اور اگر تم نے ( اسلام سے) اعراض کیا تو یہ سمجھ رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے ( کہ کہیں نکل کر بھاگ جاؤ اور ( آگے خدا کو عاجز نہ کرسکنے کی تفسیر ہے کہ) ان کافروں کو ایک دردناک سزا کی خبر سنا دیجئے ( جو آخرت میں واقع ہوگی یہ تو یقینی اور احتمال سزائے دینا کا الگ، مطلب یہ ہوا کہ اگر اعراض کرو گے تو سزا بھگتو گے) ہاں مگر وہ مشرکین ( اس رفع امان و دست برداری سے) مستثنی ہیں جن سے تم نے عہد لیا پھر انہوں نے ( عہد پورا کرنے میں) تمہارے ساتھ ذرا کمی نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلہ ( تمھارے) کسی ( دشمن) کی مدد کی ( مراد اس سے جماعت دوم ہے) سو ان کے معاہدہ کو ان کی مدت ( مقررہ) تک پورا کردو ( اور بد عہدی نہ کرو کیونکہ) واقعی اللہ تعالیٰ (بد عہدی سے) احتیاط رکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں (پس تم احتیاط رکھو گے تو تم بھی پسندیدہ حق ہوجاؤ گے۔ آگے جماعت اول کے حکم کا تتمہ ہے کہ جب ان کو کوئی مہلت نہیں تو گو ان سے ابھی قتال کی گنجائش ہو سکتی تھی لیکن ابھی محرم کے ختم تک اشہر حرم مانع قتال ہیں) سو ( ان کے گزرنے کا انتظار کرلو اور) جب اشہر حرم گزر جائیں تو ( اس وقت) ان مشرکین ( جماعت اول) کو جہاں پاؤ مارو پکڑو باندھو اور داؤ گھات کے موقعوں میں ان کی تاک میں بیٹھو ( یعنی لڑائی میں جو جو ہوتا ہے سب کی اجازت ہے) پھر اگر ( کفر سے) توبہ کرلیں اور ( اسلام کے کام کرنے لگیں یعنی مثلا نماز پڑھنے لگیں، زکوة دینے لگیں تو ان کا رستہ چھوڑ دو ( یعنی قتل و قید مت کرو کیونکہ) واقعی اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والے بڑی رحمت کرنے والے ہیں ( اس واسطے ایسے شخص کا کفر بخش دیا اور اس کی جان بچا لی اور یہی حکم بقیہ جماعت کا ہوگا ان کی میعادیں گزرنے کے بعد ) ۔

2

فَسِيحُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍۢ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى ٱللَّهِ ۙ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُخْزِى ٱلْكَٰفِرِينَ

تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے۔ اور یہ بھی کہ خدا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے

معارف ومسائل - سورة براءت شروع ہو رہی ہے جس کو سورة توبہ بھی کہا جاتا ہے۔ براءت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں کفار سے براءت کا ذکر ہے اور توبہ اس لئے کہ اس میں مسلمانوں کی توبہ قبول ہونے کا بیان ہے ( مظہری) اس سورت کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ مصاحف قرآن میں اس سورت کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی جاتی اس کے سوا تمام قرآنی سورتوں کے شروع میں بسم اللہ لکھی جاتی ہے۔ اس کی وجہ معلوم کرنے سے پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ قرآن مجید تئیس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا نازل ہوا ہے ایک ہی سورت کی آیتیں مختلف اوقات میں نازل ہوئیں، جبریل امین جب وحی لے کر آتے تو ساتھ ہی بحکم الہی یہ بھی بتلاتے تھے کہ یہ آیت فلاں سورت میں فلاں آیت کے بعد رکھی جائے۔ اسی کے مطابق رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاتبین وحی کو ہدایت فرما کر لکھوا دیتے تھے۔- اور جب ایک سورت ختم ہو کر دوسری سورت شروع ہوتی تھی تو سورت شروع ہونے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوتی تھی جس سے یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ پہلی سورت ختم ہوگئی اب دوسری سورت شروع ہو رہی ہے۔ قرآن مجید کی تمام سورتوں میں ایسا ہی ہوا۔ سورة توبہ نزول کے اعتبار سے بالکل آخری سورتوں میں سے ہے۔ اس کے شروع میں عام دستور کے مطابق نہ بسم اللہ نازل ہوئی اور نہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کاتب وحی کو اس کی ہدایت فرمائی۔ اسی حال میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی۔- جامع قرآن حضرت عثمان غنی (رض) نے اپنی خلافت کے عہد میں جب قرآن مجید کو کتابی صورت میں ترتیب دیا تو سب سورتوں کے خلاف سورة توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہ تھی اس لئے یہ شبہ ہوگیا کہ شاید یہ کوئی مستقل سورت نہ ہو بلکہ کسی دوسری سورت کا جز ہو۔ اب اس کی فکر ہوئی کہ اگر یہ کسی دوسری سورت کا جزء ہوتا وہ کونسی سورت ہوسکتی ہے۔ مضامین کے اعتبار سے سورة انفال اس کے مناسب معلوم ہوئی۔- اور حضرت عثمان سے ایک روایت میں یہ بھی منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ان دونوں سورتوں کو قرینتین یعنی ملی ہوئی کہا جاتا تھا۔ ( مظہری) اس لئے سورة انفال کے بعد اس کو رکھ دیا گیا یہ احتیاط تو اس لئے کی گئی کہ دوسری سورت کا جز ہو تو اس کے ساتھ رہنا چاہئے مگر احتمال یہ بھی تھا کہ علیحدہ مستقل سورت ہو اس لئے لکھنے میں یہ سورت اختیار کی گئی کہ سورة انفال کے ختم پر سورة توبہ کے شروع سے پہلے کچھ جگہ خالی چھوڑ دی گئی جیسے عام سورتوں میں بسم اللہ کی جگہ ہوتی ہے۔- سورة براءت یا توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھے جانے کی یہ تحقیق خود جامع قرآن حضرت عثمان سے ابوداؤد، نسائی، مسند امام احمد، ترمذی میں مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباس کے ایک سوال کے جواب میں منقول ہے۔ اس سوال میں حضرت ابن عباس نے حضرت عثمان غنی سے یہ بھی استفسار کیا تھا کہ قرآن کی سورتوں کی جو ترتیب قائم کی گئی ہے کہ سب سے پہلے بڑی سورتیں رکھی گئیں جن میں سو آیتوں سے زیادہ ہوں جن کو اصطلاح میں مِئین کہا جاتا ہے اس کے بعد وہ بڑی سورتیں رکھی گئی ہیں جن میں سو سے کم آیات ہیں جن کو مثانی کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد چھوٹی سورتیں رکھی گئی ہیں جن کو مفصلات کہا جاتا ہے۔ اس ترتیب کا بھی تقاضا یہ ہے کہ سورة توبہ کو سورة انفال سے پہلے رکھا جائے کیونکہ سورة توبہ کی آیتیں سو سے زائد اور انفال کی سو سے کم ہیں۔ شروع کی سات طویل سورتیں جن کو سبع طوال کہا جاتا ہے اس میں بھی بجائے انفال کے سورة توبہ ہی زیادہ مناسب ہے۔ اس کے خلاف کرنے میں کیا مصلحت ہے۔ حضرت عثمان غنی نے فرمایا کہ یہ سب باتیں صحیح ہیں لیکن قرآن کے معاملہ میں احتیاط کا مقتضی وہی ہے جو اختیار کیا گیا۔ کیونکہ اگر سورة توبہ مستقل سورت نہ ہو بلکہ سورة انفال کا جز ہو تو یہ ظاہر ہے کہ سورة انفال کی آیات پہلے نازل ہوئی ہیں اور توبہ کی اس کے بعد۔ اس لئے ان …

3

وَأَذَٰنٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوْمَ ٱلْحَجِّ ٱلْأَكْبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِىٓءٌۭ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُۥ ۚ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى ٱللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے) ۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو

کفار سے معاہدات ختم ہوجانے پر بھی ان کو مہلت دینے کا کریمانہ سلوک :- ان احکام کا نفاذ اور مہلت کا شروع اس وقت سے تجویز ہوا جبکہ ان احکام کا اعلان تمام عرب میں ہوجائے۔ اس اعلان عام کے لئے یہ انتظام کیا گیا کہ ٩ ہجری کے ایام حج میں منیٰ و عرفات کے عام اجتماعات میں اس کا اعلان کیا جائے جس کا ذکر سورة توبہ کی تیسری آیت میں اس طرح آیا (آیت) وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِيْۗءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ڏ وَرَسُوْلُهٗ ۭ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۭ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِــيْمٍ ۔ یعنی اعلان عام ہے عام لوگوں کے سامنے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑے حج کی تاریخوں میں اس بات کا کہ اللہ اور اس کا رسول دونوں دست بردار ہوتے ہیں ان مشرکین سے پھر اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور اگر تم نے اعراض کیا تو یہ سمجھ رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے اور ان کافروں کو ایک دردناک عذاب کی خبر سنا دیجئے۔- کفار سے معاہدہ ختم کیا جائے تو اعلان عام اور سب کو ہشیار خبردار کئے بغیر ان کے خلاف کوئی عمل درست نہیں :- چنانچہ اس حکم ربانی کی تعمیل کے لئے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٩ ہجری کے حج میں حضرت صدیق اکبر اور علی مرتضی (رض) کو مکہ مکرمہ بھیج کر میدان عرفات اور منٰی میں جہاں تمام قبائل عرب کا اجتماع تھا یہ اعلان کرادیا اور یہ بھی ظاہر تھا کہ اس عظیم الشان مجمع کی معرفت پورے عرب میں میں اس حکم کا مشتہر ہوجانا لازمی تھا۔ پھر احتیاطًا حضرت علی کی معرفت یمن میں بالتخصیص اس کا اعلان کرادیا۔- اس اعلان عام کے بعد صورت حال یہ ہوگئی کہ پہلی جماعت یعنی مشرکین مکہ کو اشھر حرم کے خاتمہ یعنی محرم ١٠ ہجری کے ختم تک اور دوسری جماعت کو رمضان ١٠ ہجری تک اور تیسری چوتھی جماعتوں کو ١٠ ربیع الثانی ١٠ ہجری تک حدود سے خارج ہوجانا چاہئے اور جو اس کی خلاف ورزی کرے وہ مستحق قتال ہے۔ اس طرح اگلے سال کے زمانہ حج تک کوئی کافر داخل حدود نہ رہنے پائے گا جس کا ذکر سورة توبہ کی اٹھائیسویں آیت میں آئے گا جس میں ارشاد ہے (آیت) فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا۔ یعنی یہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ جاسکیں گے۔ اور حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ا رشاد لا یحجن بعد العام مشرک کا یہی مطلب ہے سورة توبہ کی ابتدائی پانچ آیتوں کی تفسیر واقعات کی روشنی میں سامنے آچکی۔- مذکورہ پانچ آیات سے متعلق چند مسائل اور فوائد :- اول یہ کہ فتح مکہ کے بعد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش مکہ اور دوسرے دشمن قبائل کے ساتھ جو معاملہ عفو و درگزر اور رحم و کرم کا فرمایا اس نے عملی طور پر مسلمانوں کو یہ اخلاقی درس دیا کہ جب تمہارا کوئی دشمن تمہارے قابو میں آجائے اور تمھاے سامنے عاجز ہوجائے تو اس سے گذشتہ عداوتوں اور ایذاؤں کا انتقام نہ لو بلکہ عفو و کرم سے کام لے کر اسلامی اخلاق کا ثبوت دو ۔ اگرچہ ایسا کرنا اپنے طبعی جذبات کو کچلنا ہے لیکن اس میں چند عظیم فائدے ہیں۔ اول خود اپنے لئے کہ انتقام لے کر اپنا غصہ اتار لینے سے وقتی طور پر اگرچہ نفس کو کچھ راحت محسوس ہو لیکن یہ راحت فنا ہونے والی ہے اور اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کے درجات عالیہ جو اس کو ملنے والے ہیں وہ اس سے ہر حیثیت میں زیادہ بھی ہیں اور دائمی بھی اور عقل کا تقاضا یہی ہے کہ دائمی کو فانی پر ترجیح دے، دوسرے یہ کہ دشمن پر قابو پانے کے بعد اپنے غصہ کے جذبات کو دبا دینا اس کا ثبوت ہے کہ ان کی لڑائی اپنے نفس کے لئے نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے لئے تھی اور یہی وہ اعلی مقصد ہے جو اسلامی جہاد اور عام …

4

إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنقُصُوكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَمْ يُظَٰهِرُوا۟ عَلَيْكُمْ أَحَدًۭا فَأَتِمُّوٓا۟ إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَىٰ مُدَّتِهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ

البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو۔ (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے

(٦) چھٹا مسئلہ یہ ہے کہ چوتھی آیت میں جہاں مسلمانوں کو میعاد صلح کے ختم ہونے تک عہد کو پورا کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ آیت کو اس جملہ پر ختم کیا گیا ہے (آیت) اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ ۔ یعنی بیشک اللہ تعالیٰ احتیاط رکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ معاہدہ پورا کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لیں۔ عام قوموں کی طرح اس میں حیلے اور تاویلیں نکال کر خلاف ورزی کی راہ نہ ڈھونڈیں۔

5

فَإِذَا ٱنسَلَخَ ٱلْأَشْهُرُ ٱلْحُرُمُ فَٱقْتُلُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَٱحْصُرُوهُمْ وَٱقْعُدُوا۟ لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍۢ ۚ فَإِن تَابُوا۟ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَخَلُّوا۟ سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

(٧) ساتواں مسئلہ مذکورہ پانچویں آیت کی تفصیلات سے یہ معلوم ہوا کہ جب صحیح مقصد کے لئے کسی قوم سے جنگ چھڑ جائے تو پھر ان کے مقابلہ کے لئے ہر طرح کی قوت پورے طور پر استعمال کرنا چاہئے اس وقت رحم دلی یا نرمی درحقیقت رحم دلی نہیں بلکہ بزدلی ہوتی ہے۔- (٨) آٹھواں مسئلہ مذکورہ پانچویں آیت سے یہ ثابت ہوا کہ کسی غیر مسلم کے مسلمان ہوجانے پر اعتماد تین چیزوں پر موقوف ہے۔ ایک توبہ دوسرے اقامت صلوٰة تیسرے ادائے زکوٰة جب تک اس پر عمل نہ ہو محض کلمہ پڑھ لینے سے ان کے ساتھ جنگ بند نہ کی جائے گی۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد جن لوگوں نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا تھا ان کے مقابلہ پر صدیق اکبر نے جہاد کرنے کے لئے اسی آیت سے استدلال فرما کر تمام صحابہ کو مطمئن کردیا تھا۔- (٩) نواں مسئلہ ان آیات میں یہ ہے کہ (آیت) يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ سے کیا مراد ہے۔ اس میں حضرات مفسرین کے مختلف اقوال ہیں حضرت عبداللہ بن عباس، فاروق اعظم، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر (رض) اجمعین وغیرہ نے فرمایا کہ يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ سے مراد یوم عرفہ ہے کیونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے الحج عرفۃ ( ابوداؤد۔ ترمذی ) ۔- اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے مراد یوم النحر یعنی ذی الحجہ کی دسویں تاریخ ہے۔ حضرت سفیان ثوری اور بعض دوسرے ائمہ نے ان سب اقوال کو جمع کرنے کے لئے فرمایا کہ حج کے پا نچوں دن يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ کا مصداق ہیں جن میں عرفہ اور یوم النحر دونوں داخل ہیں اور لفظ یوم مفرد لانا اس محاورہ کے مطابق ہے جیسے غزوہ بدر کے چند ایام کو قرآن کریم میں یوم الفرقان کے مفرد نام سے تعبیر کیا ہے۔ اور عرب کی عام جنگوں کو لفظ یوم ہی سے تعبیر کیا جاتا ہے اگرچہ ان میں کتنے ہی ایام صرف ہوئے ہوں جیسے یوم بعاث، یوم احد وغیرہ اور چونکہ عمرہ کو حج اصغر یعنی چھوٹا حج کہا جاتا ہے اس سے ممتاز کرنے کے لئے حج کو حج اکبر کہا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآنی اصطلاح میں ہر سال کا حج حج اکبر ہی ہے۔ عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ جس سال عرفہ بروز حمبعہ واقع ہو صرف وہ ہی حج اکبر ہے اس کی اصلیت اس کے سوا نہیں ہے کہ اتفاقی طور پر جس سال رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حجة الوداع ہوا ہے اس میں عرفہ بروز جمعہ ہوا تھا۔ یہ اپنی جگہ ایک فضیلت ضرور ہے مگر آیت مذکورہ کے مفہوم سے اس کا تعلق نہیں۔ امام جصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ ایام حج کو حج اکبر فرمانے سے یہ مسئلہ بھی نکل آیا کہ ایام حج میں عمرہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ان ایام کو قرآن کریم نے حج اکبر کے لئے مخصوص فرما دیا ہے۔

6

وَإِنْ أَحَدٌۭ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ٱسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُۥ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَعْلَمُونَ

اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچادو۔ اس لیے کہ یہ بےخبر لوگ ہیں

خلاصہ تفسیر - اور اگر کوئی شخص مشرکین میں سے ( زمانہ اباحت قتل میں بعد ختم میعاد امن کے توبہ و اسلام کے فوائد و برکات سن کر اس طرف راغب ہو اور حقیقت و حقّیت اسلام کی تلاش کی غرض سے آپ کے پاس آکر) آپ سے پناہ کا طالب ہو ( تاکہ اطمینان سے سن سکے اور سمجھ سکے) تو ( ایسی حالت میں) آپ اس کو پناہ دیجئے تاکہ وہ کلام الہٰی ( مراد مطلق دلائل دین حق کے ہیں) سن لے پھر ( اس کے بعد) اس کو اس کی امن کی جگہ میں پہنچا دیجئے ( یعنی پہنچنے دیجئے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر اپنی رائے قائم کرلے) یہ حکم ( اتنی پناہ دینے کا) اس سبب سے (دیا جاتا) ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ پوری خبر نہیں رکھتے ( اس لئے قدرے مہلت دینا ضروری ہے۔ جماعت اول نے جو نقض عہد کیا تھا ان کے نقض عہد سے پہلے بطور پیشین گوئی کے فرماتے ہیں کہ) ان مشرکین ( قریش) کا عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک کیسے ( قابل رعایت) رہے گا ( کیونکہ رعایت تو اس عہد کی ہوتی ہے جس کو دوسرا شخص خود نہ توڑے ورنہ رعایت نہیں باقی رہتی۔ مطلب یہ کہ یہ لوگ عہد کو توڑ دیں گے اس وقت اس طرف سے بھی رعایت نہ ہوگی) مگر جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام ( یعنی حرم) کے نزدیک عہد لیا ہے ( مراد دوسری جماعت ہے جن کا استثناء اوپر بھی (آیت) اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ الخ میں آچکا ہے یعنی ان سے امید ہے کہ یہ عہد کو قائم رکھیں گے) سو جب تک یہ لوگ تم سے سیدھی طرح رہیں ( یعنی عہد نہ توڑیں) تم بھی ان سے سیدھی طرح رہو ( اور مدت عہد کی ان سے پوری کردو چناچہ زمانہ نزول براءت میں اس مدت میں نو ماہ باقی رہے اور بوجہ ان کی عہد شکنی نہ کرنے کے ان کی یہ مدت پوری کی گئی) بلا شبہ اللہ تعالیٰ ( بدعہدی سے) احتیاط رکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں ( پس تم بھی احتیاط رکھنے سے پسندیدہ حق ہوجاؤ گے یہ استثناء کرکے پھر عود ہے مضمون متعلق جماعت اول کی طرف کہ) کیسے (ان کا عہد قابل رعایت رہے گا یعنی وہ لوگ عہد پر کب قائم رہیں گے) حالانکہ ان کی یہ حالت ہے کہ اگر وہ تم پر کہیں غلبہ پاجائیں تو تمہارے بارے میں نہ قرابت کا پاس کریں اور نہ قول وقرار کا ( کیونکہ ان کی یہ صلح مجبوری اور خوف جہاد سے ہے دل سے نہیں پس) یہ لوگ تم کو ( صرف) اپنی زبانی باتوں سے راضی کررہے ہیں اور ان کے دل ( ان باتوں کو) نہیں مانتے ( پس جب دل سے اس عہد کے پورا کرنے کا عزم نہیں ہے تو کیا پورا ہوگا) اور ان میں زیادہ آدمی شریر ہیں ( کہ عہد پورا کرنا نہیں چاہتے اور اگر ایک آدھ پورا کرنا بھی چاہتا ہو تو زیادہ کے سامنے ایک دو کی کب چلتی ہے اور وجہ ان کے شریر ہونے کی یہ ہے کہ) انہوں نے احکام الہٰیہ کے عوض ( دنیا کی) متاع ناپائیدار کو اختیار کر رکھا ہے ( جیسا کہ کفار کی حالت ہوتی ہے کہ دین کو چھوڑ کر دنیا کو اس پر ترجیح دیتے ہیں جب دنیا زیادہ محبوب ہوگی تو جب عہد شکنی میں دنیوی غرض حاصل ہوتی نظر آئے گی اس میں کچھ باک نہ ہوگا بخلاف اس شخص کے جو دین کو ترجیح دیتا ہے وہ احکام الہٰیہ اور وفائے عہد وغیرہ کا پابند ہوگا) سو ( اس ترجیح دنیا علی الدین کی وجہ سے) یہ لوگ اللہ کے ( سیدھے) راستہ سے ( جس میں وفائے عہد بھی داخل ہے) ہٹے ہوئے ہیں ( اور) یقینا یہ ان کا عمل بہت ہی برا ہے ( اور ہم نے جو اوپر کہا ہے لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ الخ سو اس میں تمہاری کچھ تخصیص نہیں ان کی تو یہ حالت ہے کہ) یہ لوگ کسی مسلمان کے بارے میں ( بھی) نہ قرابت کا پاس کریں اور نہ قول وقرار کا اور یہ لوگ ( خصوص اس باب میں) بہت ہی زیادتی کر رہے ہیں سو ( جب ان کے عہد پر اعتماد و اطمینان نہیں بلکہ احتمال عہد شکنی کا بھی ہے جیسا کہ اس کی جانب مخالف کا بھی احتمال ہے اس لئے ہم ان کے بارے میں مفصل حکم سناتے ہیں کہ) اگر یہ لوگ ( کفر سے) تو بہ کرلیں ( یعنی مسلمان ہوجائیں) اور ( اس اسلام کو ظاہر بھی کردیں …

7

كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِۦٓ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۖ فَمَا ٱسْتَقَٰمُوا۟ لَكُمْ فَٱسْتَقِيمُوا۟ لَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ

بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بےشک خدا پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے

کفار کے مقابلہ میں بھی سچائی پر قائم رہنے اور ان کے متعلق مبالغہ آمیزی سے پرہیز کرنے کی تعلیم : قرآن کریم کے اس بیان نے مسلمانوں کو یہ ہدایت دی کہ اپنے دشمن مخالفین کے معاملہ میں بھی جب کوئی گفتگو آئے تو سچائی اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دیں مبالغہ آمیزی سے کام نہ لیں جیسا کہ ان آیات میں مشرکین مکہ کے بارے میں اس کی پوری رعایت کی گئی ہے کہ اگرچہ معدودے چند لوگوں کے سوا سبھی نے عذر و عہد شکنی کی تھی اور ایسے حالات میں عام طور پر کہنے والے سبھی کو برا کہا کرتے ہیں مگر قرآن کریم نے (آیت) اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام فرما کر ان لوگوں کا استثناء کردیا جنہوں نے عہد شکنی نہیں کی اور یہ حکم دیا کہ جب تک وہ استقامت اور وفاء عہد پر قائم رہیں تم بھی عہد پر قائم رہو دوسرے لوگوں کی خیانت سے متاثر ہو کر ان کے عہد کو نہ توڑو۔

8

كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا۟ عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا۟ فِيكُمْ إِلًّۭا وَلَا ذِمَّةًۭ ۚ يُرْضُونَكُم بِأَفْوَٰهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَٰسِقُونَ

(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب ان کا یہ حال ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کر دیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے۔ اور ان میں اکثر نافرمان ہیں

اس کے بعد عہد شکنی کرنے والوں کا جہاں یہ حال بیان فرمایا کہ ان لوگوں کے دلوں میں شروع ہی سے خیانت تھی وفائے عہد کا ارادہ ہی نہ تھا یہاں بھی اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ فرما کر اشارہ کردیا کہ ان میں بھی سب کا یہ حال نہیں بعض شریف لوگ ایسے بھی ہیں جو عہد پر قائم رہنا چاہتے تھے مگر دوسروں کے سامنے ان کی بات نہ چلی۔- یہ وہی مضمون ہے جس کی ہدایت قرآن کریم نے دوسری جگہ صاف لفظوں میں اس طرح دی ہے (آیت) لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۔ یعنی کسی قوم کی عداوت تمہیں اس پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف کو چھوڑ بیٹھو۔ - اس کے بعد نویں آیت میں ان غدار مشرکین کی غداری کی علت اور ان کے مرض کا سبب بیان فرما کر ان کو بھی ایک ہدایت نامہ دے دیا کہ اگر یہ غور کریں تو اپنی اصلاح کرلیں اور عام مسلمانوں کو بھی متنبہ کردیا کہ جس سبب سے یہ لوگ غدر و خیانت میں مبتلا ہوئے اس سبب سے پورے طور پر پرہیز کو اپنا شعار بنالیں۔ اور وہ سبب ہے حب دنیا کہ دنیا کے مال و متاع کی محبت نے ان کو اندھا کردیا ہے تھوڑے سے پیسوں کے بدلہ میں اللہ کی آیات اور اپنے ایمان کو بیچ ڈالتے ہیں۔ اور ان کا یہ کردار نہایت برا ہے۔- دسویں آیت میں انھیں لوگوں کی انتہائی کجروی کا یہ بیان ہے (آیت) لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤ ْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ ان لوگوں نے عہد کرنے والے مسلمانوں سے غداری کی اور ان کی قرابت اور عہد و پیمان کو پیچھے ڈال دیا بلکہ ان کا حال یہ ہے کہ کسی مسلمان کے بارے میں نہ یہ قرابت کی رعایت کرنے والے ہیں نہ کسی عہد و پیمان کی۔- مشرکین کے مذکورہ حالات کا طبعی تقاضا یہ ہوسکتا تھا کہ مسلمان ان سے ہمیشہ کے لئے بیزار ہوجائیں۔ اور کسی حالت میں بھی ان کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ اسی لئے قرآنی عدل و انصاف نے گیا رھویں آیت میں یہ ہدایت دے دی۔

9

ٱشْتَرَوْا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦٓ ۚ إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ خدا کی آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور لوگوں کو خدا کے رستے سے روکتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

Explained together with ayah 8

10

لَا يَرْقُبُونَ فِى مُؤْمِنٍ إِلًّۭا وَلَا ذِمَّةًۭ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُعْتَدُونَ

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

(آیت) فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۔ یعنی اگر یہ لوگ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو اب یہ بھی تمہارے دینی بھائی ہیں۔- اس میں بتلا دیا کہ کوئی کیسا ہی دشمن ہو اور کتنی ہی ایذاء اس نے پہنچائی ہو جب وہ مسلمان ہوگیا تو جس طرح اللہ تعالیٰ اس کے سب پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں، مسلمانوں پر بھی لازم ہے کہ پچھلے سب معاملات کو دل سے بھلا دیں اور آج سے ان کو اپنا دینی بھائی سمجھیں اور برادرانہ تعلق کے حقوق ادا کریں۔- اسلام برادری میں داخل ہونے کی تین شرطیں :- اس آیت نے واضح کردیا کہ اسلامی برادری میں داخل ہونے کے لئے تین شرطیں ہیں اول کفر و شرک سے توبہ دوسرے نماز تیسرے زکوٰة۔ کیونکہ ایمان و توبہ تو ایک امر مخفی ہے جس کی حقیقت کا عام مسلمانوں کو علم نہیں ہوسکتا اس لئے اس کی دو ظاہری علامتوں کو بیان کردیا گیا یعنی نماز اور زکوٰة۔- حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ اس آیت نے اہل قبلہ مسلمانوں کے خون کو حرام کردیا، یعنی جو لوگ نماز، زکوٰة کے پابند ہوں اور اسلام کے خلاف کوئی قول و فعل ان کا ثابت نہ ہو وہ تمام احکام میں مسلمان سمجھے جائیں گے، اگرچہ ان کے دل میں صحیح ایمان نہ ہو، یا نفاق ہو۔- حضرت صدیق اکبر (رض) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد زکوٰة سے انکار کرنیوالوں پر جہاد کرنے کے لئے اسی آیت سے استدلال فرما کر صحابہ کرام کو مطمئن کیا تھا ( ابن کثیر )

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.