Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 1–10 of 129

1

بَرَآءَةٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

(اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری) ہے

معاہدہ مشرکین سے اعلان برأت - قول باری ہے (براء ۃ من اللہ و رسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین اعلان برأت ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کئے تھے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ برأت قطع موالات اور امان کے خاتمہ نیز بچائو کے مرتفع ہوجانے کا نام ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں۔ نذہ براء ۃ من اللہ و رسولہ “ اسی بناء لفظ براۃ مرفوع ہے۔ ایک قول ہے کہ ’ براۃ ‘ مبتدا ہے اور اس کی خبر حرف الی میں موجود ظرفیت کا معنی ہے اس بناء پر یہ آیت اس معاہدہ کے خاتمہ کی مقتضی ہے جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مشرکین کے درمیان طے پایا تھا نیز امان کے ارتفاع۔ حالت جنگ کی بحالی اور قتال کے اعلان کی بھی مقتضی ہے۔ یہ آیت اس قول باری کی طرح ہے (و اما تخافن من قوم خیانۃ فانبذالیھم علی سواء اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانہ اس کے آگے پھینک دوض اس طرح زیر بحث آیت میں برات کچا جو ذکر ہے وہ گویا اس معاہدے کو علانیہ ان کے آگے پھینک دینے اور معاہدہ ختم کردینے کے مترادف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ درج بالا آیت میں معاہدے کو علانیہ پھینک دینے کا حکم ان مشرکین کے ساتھ خاص تھا جو اپنے دلوں میں خیانت چھپائے ہوئے تھے اور معاہدے سے غداری اور بدعہدی کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس بنا پر زیر بحث آیت میں مذکورہ لفظ برأت کا تقاضا تو یہ تھا کہ مشرکین کو اعلان برأت کے ساتھ ہی معاہدہ کا خاتمہ وہ جاتا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے فواً بعد یہ فرمایا (فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر۔ پس تم لوگ ملک میں چار مہینے اور چل پھر لو) تو اس کے ذریعے یہ بیان کردیا کہ معاہدے کے خاتمہ کی ابتدا چار ماہ بعد ہوگی اور جن مشرکین سے اس قسم کے معاہدے کئے گئے تھے وہ چار ماہ کی مدت کے اختتام تک باقی رہیں گے۔ حسن کا قول ہے کہ اس وقت جن مشرکین کے ساتھ چار ماہ سے زائد مدت تک کے معاہدے تھے ان کی مدت گھٹا کر چار ماہ کردی گئی اور جن کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی مدت چار ماہ سے کم تھی وہ بڑھا کر چار ماہ کردی گئی۔ ایک قول یہ ہے کہ ان چار مہینوں سے عہد یعنی اعلان کے مہینے مراد ہیں جن کی مشرکین کو مہلت دی گئی تھی۔ اس کی ابتدا بیس (٢٠) ذی قعدہ سے ہوئی تھی، اور ذی الحجہ، محرم اور صفر کے مہینے اس میں شامل کر کے دس ربیع الاول کو اس کا اختتام ہوا تھا۔

2

فَسِيحُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍۢ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى ٱللَّهِ ۙ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُخْزِى ٱلْكَٰفِرِينَ

تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے۔ اور یہ بھی کہ خدا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے

حجۃ الوداع سے پہلے حج ذی قعدہ میں ہوا - اس لئے کہ اس سال کا حج ذی قعدہ میں ہوا جس میں حضرت ابوبکر (رض) کو امیر حج بنا کر بھیجا گیا تھا۔ اور حضرت علی (رض) نے مکہ میں مشرکین کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے بموجب سورة برأت پڑھ کر سنائی تھی۔ پھر اگلے سال حج ذی الحجۃ میں ہوا تھا جس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فریضہ حج ادا کیا تھا اور جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی مہینے کو حج کا مہینہ قرار دے دیا۔ اس لئے کہ مشرکین حج کے مہینے کو آگے پیچھے کردیا کرتے تھے۔ اس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس سال فریضہ حج ادا کیا اتفاق سے اس سال حج اس مہینے میں ادا کی گیا جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ابتدا ہی سے حج فرض کردیا تھا اور انہیں لوگوں کو حج کے لئے بلانے کا حکم دیا تھا چناچہ ارشاد ہے (و ادنفی الناس بالحج یا توک رجالا اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو وہ تمہارے پاس پیدل آئیں گے) تا آخر آیت۔- اسی بنا پر حضور صلی اللہ الیہ وسلم نے عرفات میں کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا تھا (الا ان الزمان قد استدارکھیئتہ یوم خلق السماوات والارض۔ لوگو آگاہ ہو جائو کہ زمانہ اپنی اس اصل حالت کی طرف پلٹ آیا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے وقت اس کی تھی) اسی طرح ذی الحجہ کی نویں تاریخ یعنی یوم عرفہ حج کا دن مقرر ہوا اور دسویں تاریخ یوم النحر قرار پائی۔ یہ ان لوگوں کا قول ہے جو یہ کہتے ہیں کہ آیت میں مذکور چار مہینے یہی تھے جن میں مشرکین کو ملک میں چلنے پھرنے کی اجازت تھی اور ان کے گزر جانے کے ساتھ ہی مشرکین سے کئے گئے معاہدوں کا خاتمہ ہوگیا اور ان کی جان و مال کی حفاظت کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ معاہدے کی مدت کے اختتام سے پہلے معاہدے کو توڑ دینے اور اسے علانیہ ان کے آگے پھینک دینے نیز حالت جنگ بحال کرنے اور امان یعنی جنگ نہ کرنے کی حالت کو ختم کرنے کے جواز کی کئی صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ دشمن کی بدعہدی اور اس کی خیانت اور بدنیتی کا خطرہ ہو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس بات کا ثبوت مل جائے کہ وہ خفیہ طور پر اس معاہدے سے پھرگئے ہیں اس صورت میں علانیہ اس معاہدے کو ان ک آگے پھینک دیا جائے۔ تیسری صورت یہ کہ معاہدے کی ایک شق یہ ہو کہ امام المسلمین جب تک چاہے گا انہیں امان یعنی جنگ بندی کی حالت پر برقرار رکھے گا اور جب چاہے گا جنگ بندی کی حالت ختم کر دے گا۔ جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل خیبر سے فرمایا تھا (اقرکم ما اقرکم اللہ۔ جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں اس حالت پر برقرار رکھنا چاہے گا میں بھی تمہیں اس پر برقرار رکھوں گا) ایک اور صورت یہ ہے کہ معاہدے میں ایک مدت کی تعیین کے ساتھ یہ شرطیں بھی رکھی گئی ہوں کہ انہیں جنگ سے امان حاصل ہوجائے گی اور انہیں آگاہ کئے بغیر ان پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ نہ ہی انہیں غافل پا کر ان پر دھاوا بولا جائے گا نیز انہیں جب بتادیا جائے گا تو جنگ سے امان کی حالت ختم ہوجائے گی۔ اس قسم کے معاہدے کو مدت کے اختتام سے پہلے توڑ دینا جائز ہوگا اس لئے کہ معاہدے کے مضمون میں یہ بات واضح کردی گئی تھی اس میں خواہ دشمن کی طرف سے غداری کا خطرہ ہو یا نہ ہو یہ کہ معاہدے میں یہ شرط رکھ دی گئی ہو کہ ہم جب چاہیں گے ہمیں اس معاہدے کو ختم کردینے کا اختیار ہوگا یا یہ شرط نہ بھی ہو۔- ان تمام صورتوں میں ہمیں جب وقت بھی اسلام کی سربلندی اور غلبے کا کوئی موقع نظر آئے گا ہمارے لئے دشمن کے سامنے اس معاہدے کو پھینک کر اسے توڑ دینا جائز ہوگا۔ ایسا اقدام بدعہدی نہیں کہلائے گا جس میں قصداً خیانت کا ارادہ کیا گیا ہو نہ ہی یہ عہد سے بےوفائی کہلائے گا۔ اس لئے کہ معاہدے میں مذکور امان کی خلاف ورزی اور نقص عہد اس صورت میں لازم آتا جب امام المسلمین امان کے بعد ایسے وقت ان پر حملہ آور ہوتا جب وہ ہماری اس …

3

وَأَذَٰنٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوْمَ ٱلْحَجِّ ٱلْأَكْبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِىٓءٌۭ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُۥ ۚ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى ٱللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے) ۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو

قول باری ہے (واذاک من اللہ و رسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر ان اللہ بریء من المشرکین و رسولہ۔ اطلاع عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج کے بڑے دن، تمام لوگوں کے لئے کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی) یعنی اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان ہے کہا جاتا ہے اذنیٰ بکذا مجھے اس نے یہ بات معلوم کرائی اور مجھے اس کا علم ہوگیا۔- حج اکبر کے بارے میں تعبیرات - ” یوم الحجۃ الاکبر “ کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ بعض روایات میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ اس سے مراد یوم عرفہ ہے۔ حضرت علی (رض) ، حضرت عمر (رض) ، حضرت ابن عباس (رض) ، عطاء اور مجاہد سے مختلف روایات کی صورت میں یہی منقول ہے کہ اس سے یوم النحر یعنی دسویں ذی الحجہ مراد ہے۔ حضرت علی (رض) ، حضرت ابن عباس (رض) ، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ، حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) ، ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر (رض) سے مختلف روایات کی صورت میں یہ قول بھی منقول ہے کہ اس سے ایام حج مراد ہیں۔ یہ تعبیر عربی زبان میں عام ہے جس طرح نگ صفین میں کئی دنوں تک لڑائی ہوتی رہی لیکن اس کی تعبیر یوم صفین کے الفاظ سے کی جاتی ہے۔ حماد نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حج اکبر حج قرآن کو کہتے ہیں اور حج اصغر حج افراد کچا نام ہے۔- لیکن یہتفسیر اس بنا پر ضعیف ہے کہ اس سے یہ بات ضروری ہوجاتی ہے کہ حج افراد کے لئے ایک معین دن ہوتا ہے اور حج قرآن کے کلیے بھی ایک معین دن۔ جبکہ یہ بات واضح ہے کہ حج افراد کے لئے بھی وہی دن ہے جو قرآن کے لئے ہے۔ اس صور میں حج اکبر کے دن کی فضیلت کا فائدہ باطل وہ جائے گا۔ اس صورت میں یہ واجب تھا کہ برأت کا یہ اعلان حج قران کے دن کیا جاتا۔ دوسری طرف قو باری (یوم الحج الاکبر) سے جب یوم عرفہ یا یوم النحر مراد ہوتا اور حج اصغر عمرہ کو کہا جاتا تو اس سے یہ ضروری ہوجاتا کہ حج کے ایام عمرہ کے ایام سے جدا ہوتے اور عمرہ ایام حج میں ادا نہ کیا جاتا۔ ابن سیرین سے ان کا یہ قول منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (یوم الحج الاکبر) صرف اس لئے فرمایا کہ تمام مذاہب کی عیدیں اس میں جچمع ہوگئی ہیں۔ نیز یہ وہ سال تھا جس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فریضہ حج ادا کیا تھا۔ ابن سیرین کی اس تفسیر کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ غلط ہے اس لئے کہ برأت کا اعلان اس سال ہوا تھا جس سال حضرت ابوبکر (رض) نے امیر حج کی حیثیت سے فریضہ حج ادا کیا تھا نیز جس سال حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فریضہ حج ادا کیا تھا اس سال مشرکین پر حج کے دروازے بند کردیئے گئے تھے۔ اس لئے کہ انہیں ایک سال قبل ہی آئندہ کے لئے بیت اللہ میں داخل ہونے کی ممانعت کردی گئی تھی۔ حضرت عبداللہ بن شداد کا قول ہے کہ حج اکبر یوم النحر ہے اور حج اصغر عمرہ ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ عمرہ حج اصغر ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے بھی اسی قسم کا قول منقول ہے۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الحج الاکبر) اس بات کا مقتضی ہے کہ کوئی حج اصغر بھی ہونا چاہیے اور یہ عمرہ ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن شداد (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی منقول ہے کہ آپ نے فرمایا (العمرۃ الحج الصغریٰ عمرہ چھوٹا حج ہے۔ جب یہ باتثابت ہوگئی کہ حج کا اسم عمرہ پر بھی واقع ہوتا ہے پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت اقرع بن جابس (رض) ک اس سوال پر کہ آیا حج کا فریضہ ہر سال ادا کیا جائے گا یا صرف ایک مرتبہ ؟ ارشاد فرمایا کہ (لا بل حجۃ واحدۃ نہیں بلکہ صرف ایک حج) یہ بات عمرہ کے وجوب کی نفی پر دلالت کرتی ہے اس لئے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حج کے سوا حج کے وجوب کی نفی فرما دی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ (الحج عرفہ حج عرفہ ہے) یعنی عرفات کے میدان میں کھڑے ہونے کا نام …

4

إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنقُصُوكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَمْ يُظَٰهِرُوا۟ عَلَيْكُمْ أَحَدًۭا فَأَتِمُّوٓا۟ إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَىٰ مُدَّتِهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ

البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو۔ (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے

Explained together with ayah 3

5

فَإِذَا ٱنسَلَخَ ٱلْأَشْهُرُ ٱلْحُرُمُ فَٱقْتُلُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَٱحْصُرُوهُمْ وَٱقْعُدُوا۟ لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍۢ ۚ فَإِن تَابُوا۟ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَخَلُّوا۟ سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

اشہر حرم گزرنے پر مشکین سے قتال - قول باری ہے (فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلو المشرکین حیث و جدتموھم پس جب حرمت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پائو) معاویہ بن صالح نے علی بھ ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ قول باری (لست علیھم بسطیطر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر کچھ مسلط تو نہیں ہیں) نیز (وما انت علیھم بجبار اور آپ ان پر جبر کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے) نیز (قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ درگزر سے کام لیں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) ان سب کو ان دو آیات نے منسوخ کردیا ہے۔ پہلی آیت یہ ہے (فاقتلو المشرکین حیث و جدتموھم) اور دوسری آیت یہ ہے (قاتلوا الذین لا یومنون باللہ والیوم الاخر۔ ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ اور یوم آخرت پر یقین نہیں رکھتے) تا آخر آیت۔ موسیٰ بن عقبہ کا قول ہے کہ اس سے قبل حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قول باری (و القوا الیکم السلم فما جعل اللہ لکم علیھم سبیلا اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لئے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے) کی بنا پر ان مشرکین سے اپنا ہاتھ روک رکھتے جو آپ سے جنگنہ کرتے پھر قول باری (براء ۃ من اللہ و رسولہ) نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ پھر فرمایا (فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں آیت زیر بحث کا عموم تمام مشرکین کو خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا غیر اہل کتاب قتل کرنے کی مقتضی ہے۔ نیز یہ کہ ان سب سے اسلام یا تلوار کے سوا اور کوئی بات قبول نہ کی جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو جزیہ کے بدلے ان کے مذہب پر برقرار رکھ کر ان کی تخصیص کردی چناچہ ارشاد باری ہے (قاتلوا الذین لا یومنون باللہ والیوم الاخر) تا آخر آیت۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھجر کے علاقے میں رہنے والے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا تھا۔ علقمہ بن مرثد کی روایت میں جو انہوں نے ابن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے کہ آپ جب کوئی فوجی مہم یعنی سریہ روانہ کرتے تو اس میں شامل مجاہدین کو یہ ہدایات دیتے کہ ” جب مشرکین سے تمہارا مقابلہ ہوجائے تو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو ، اگر وہ انار کریں تو انہیں جزیہ ادا کرنے کے لئے کہو اگر وہ یہ بات مان جائیں تو ان سے جزیہ وصول کرلو اور اپنا ہاتھ ان سے روک لو۔ “ اس حکم میں تمام مشرکین کے لئے عموم ہے لیکن ہم نے آیت کی بنا پر ان مشرکین ی تخصیص کردی جو مشرکین عرب میں سے نہیں تھے اور قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث و جدتموھم) کا حکم مشرکین عرب کے ساتھ خاص ہوگیا دوسرے مشرکین اس حکم میں داخل نہ رہے۔- محاصرہ سے مشرکین کو غور و خوض کا موقع مل جائے گا - قول باری (وخدوھم احصروھم اور انہیں پکڑو اور گھیرو) اس پر دلالت کرتا ہے کہ انہیں پکڑنے کے بعد قید کردیا جائے اور انہیں قتل کرنے میں سست روی اختیار کی جائے تاکہ انہیں اسلام کے متعلق سوچنے اور اسے قبول کرنے کا موقع مل جائے اس لئے کہ حصر کے معنی حبس یعنی قید کرنے کے ہیں۔ یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ مشرکین کو ان کے قلعوں اور شہروں میں محصور کردینا بھی جائز ہے جبکہ ان میں بچے اور عورتیں موجود ہوں جن کا قتل جائز نہیں ہے۔ نیز یہ کہ محاصرہ کے ذریعے ان کا مقابلہ کیا جائے۔ قول باری (فاقتلوا لمشرکین) کا عموم مشرکین کو قتل کی تمام صورتوں کے ذریعے قتل کرنے کے جواز کا مقتضی ہے تاہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے مثلہ کرنے یعنی اعضاء و جوارح کاٹ ڈالنے اور باندھ کر تیروں سے قتل کرنے کی ممانعت ثابت ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : (اعف الناس قتلۃ اہل الایمان۔ اہل ایمان کے قاتلین مکروہ ترین لوگ ہیں) نیز آپ …

6

وَإِنْ أَحَدٌۭ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ٱسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُۥ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَعْلَمُونَ

اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچادو۔ اس لیے کہ یہ بےخبر لوگ ہیں

مشرک حربی اگر اسلام فہمی کے لئے امان طلب کرے تو امان دی جائے - قول باری ہے (و ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلام اللہ اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے) آیت حربی کو امان دینے کے جواز کی مقتضی ہے جب وہ ہم سے اسلام کی صداقت کو ثابت کرنے والے دلائل سننے کی خاطر پناہ مانگ کر ہمارے پاس آنا چاہے تو اسے پناہ دینا ہمارے لئے جائز ہوگا اس لئے کہ قول باری (استجارک) کے معنی ہیں تم سے امان طلب کرے “ اور قول باری (فاجرہ) کے معنی ہیں ” اسے امان دے دو “ تاکہ دلائل موجود ہیں یہ امر اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی کافر ہم سے یہ مطالبہ کرے کہ اس کے کفر کی تردید میں دلائل دیئے جائیں اور توحید و رسالت کے ثبوت میں براہین پیش کئے جائیں تاکہ اتمام حجت کی بنا پر اور دلائل کی روشنی میں وہ ان دونوں باتوں کو تسلیم کرسکے تو اس پر اتمام حجت کرنا اور توحید باری کو بیان کرنا نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صداقت کو ثابت کرنا ہم پر لازم ہوگا۔ ہمارے لئے توحید و رسالت کے دلائل و براہین بیان کئے بغیر اسے قتل کردینا جائز نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ایسے شخص کو امان دے دیں تاکہ وہ ہمارے پاس آ کر اللہ کا کلام سن سکے۔ آیت میں یہ دلالت بھی موجود ہ کہ جو شخص دین کی کوئی بات سیکھنا چاہے اسے سکھانا ہم پر فرض ہوگا اس لئے کہ جو کافر اللہ کا کلام سننے کی خاطر ہم سے امان کی درخواست کرتا ہے اس کے پیش نظر صرف یہی مقصد ہوتا ہے کدین اسلام کی صداقت اور حقانیت سے کسی نہ کسی طرح وہ آگاہ اور روشناس ہوجائے۔- حربی کو بحفاظت اس کے ٹھکانے پہنچانا ضروری ہے - قول باری ہے (ثم ابلغہ ما منہ، پھر اسے اس کے مامن تک پہنچا دو ) یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ امام المسلمین پر امان لے کر آنے والے اس حربی کی حفاظت ونگداشت نیز لوگوں کو اسے کسی قسم کی گزند پہنچانے سے روکنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس لئے کہ فرمان الٰہی ہے (فاجدہ) پھر ارشاد ہے (ثم ابلغہ ما منہ) اس میں یہ دلیل بھی موجود ہے کہ امام المسلمین کی یہ ذم داری ہے کہ ذمیوں کی حفاظت کرے، لوگوں کو انہیں نقصان پہنچانے سے روکے رکھے نیز ان پر ظلم و ستم کے ہر اقدام کا سد باب کرے۔- حربی زیادہ عرصہ دارالاسلام میں نہ ٹھہرے ورنہ سال بعد ذمی ہوگا اور خراج دے گا - یہ دلالت بھی موجود ہے کہ حربی کو دارالاسلام میں زیادہ عرصے تک ٹھہرے رہنے کی اجازت دینا جائز نہیں ہے۔ اسے صرف اتنا ہی عرصہ قیام کرنے کی اجازت ملنی چاہیے جس میں وہ اپنی ضرورت پوری کرلے۔ اس لئے کہ قول باری ہے (حتیٰ یسمع کلام اللہ ثم ابلغہ مامنہ) اللہ تعالیٰ نے کلام الٰہی سننے کے بعد اسے دارالحرب واپس بھیج دینے کا حکم دیا ہے۔ ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے کہ امام المسلمین کے لئے یہ جائز نہیں کہ بلاوجہ اور بلا عذر کسی حربی کو دارالاسلام میں قیام پذیر رہنے کی کھلی چھٹی دے دے بلکہ اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ اسے دارالحرب واپس جانے کے لئے کہہ دے اگر وہ اس کے بعد بھی یاک سال تک دارالاسلام میں ٹھہرا رہے گا تو ذمی بن جائے گا اور اس پر خراج عائد کردیا جائے گا۔ قول باری ہے (کیف یکون للمشرکین عھذ عند اللہ و عند رسولہ الا الذین عاھدتم عند المسجد الحرام۔ ان مشرکین کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عد آخر کیسے ہوسکتا ہے… بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سورت کی ابتدا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مشرکین کے درمیان معاہدوں کے انقطاع کے ذکر سے ہوئی چناچہ ارشاد ہوا (براء ۃ من اللہ و رسولہ الا الایذن عاھدتم من المشرکین) ایک قول کے مطابق یہ ایسے مشرکین تھے جن کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا …

7

كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِۦٓ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۖ فَمَا ٱسْتَقَٰمُوا۟ لَكُمْ فَٱسْتَقِيمُوا۟ لَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ

بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بےشک خدا پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے

Explained together with ayah 6

8

كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا۟ عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا۟ فِيكُمْ إِلًّۭا وَلَا ذِمَّةًۭ ۚ يُرْضُونَكُم بِأَفْوَٰهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَٰسِقُونَ

(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب ان کا یہ حال ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کر دیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے۔ اور ان میں اکثر نافرمان ہیں

Explained together with ayah 6

9

ٱشْتَرَوْا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦٓ ۚ إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ خدا کی آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور لوگوں کو خدا کے رستے سے روکتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

Explained together with ayah 6

10

لَا يَرْقُبُونَ فِى مُؤْمِنٍ إِلًّۭا وَلَا ذِمَّةًۭ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُعْتَدُونَ

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

Explained together with ayah 6

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.