يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو
سورة الانفال - مال غنیمت اور اس کے احکام - ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) مجاہد، ضحاک ، قتادہ، عکرمہ اور عطاء کا قول ہے کہ انفال غنائم کو کہتے ہیں۔ عطاء نے حضرت ابن عباس (رض) سے ایک اور روایت کی ہے کہ انفال ان تمام چیزوں کا نام ہے جو مشرکین سے قتال کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگیں خواہ وہ کوئی سواری ہو غلام یا مال ومتاع۔ اسی لئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اختیار تھا کہ آپ ان چیزوں کو جہاں چاہیں کھپا دیں۔ مجاہد سے ایک روایت ہے کہ انفال خمس یعنی مال غنیمت کے پانچویں حصے کو کہتے ہیں جو ان لوگوں کا حق ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا حق دار ٹھہرایا ہے جن کا قول ہے کہ انفال کا تعلق ان فوجی دستوں سے تھا جو اصل فوج کے آگے آگے ہوتے تھے۔ لغت میں نفل اس چیز کو کہتے ہیں جو اصل حق سے زائد ہوتی ہے۔ اسی سے نافلہ کا لفظ بنا ہے جو تطوع کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ہمارے نزدیک نفل مال غنیمت محفوظ کرلینے سے پہلے دیا جاتا ہے لیکن اس کے بعد یہ صرف پانچویں حصے سے دیا جاسکتا ہے۔ وہ اس طرح کہ سپہ سالار یا امام کسی سر یہ یعنی فوجی دستے سے کہہ دے کر خمس نکالنے کے بعد تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہوگا۔ یاخمس نکالنے سے پہلے پورے مال غنیمت میں سے چوتھائی حصہ ہوگا یا یوں اعلان کر دے کہ جس شخص کو جو چیز ہاتھ لگے وہ اس کی ہوگی، یہ بات قتال پر ابھارنے اور دشمن کے خلاف بھڑکانے کی خاطر کہی جائے۔ یا یوں کہے کہ جس شخص نے کسی دشمن کو قتل کردیا اسے اس کا سارا سامان یعنی سلب مل جائے گا لیکن جب مال غنیمت محفوظ کرلیا جائے تو پھر امام کے لئے لشکر کے حصے میں سے کسی کو بطور نفل کچھ دینا جائز نہیں ہوگا۔ تاہم اس کے لئے پانچویں حصے میں سے کسی کو بطور نفل کچھ دے دینا بھی جائز ہوگا۔ اس آیت کے نزول کے سبب کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ حضرت سعد (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جنگ بدر میں ایک تلوار میرے ہاتھ لگی میں اسے لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا اور عرض کیا کہ یہ تلوار مجھے بطور نفل دے دیجئے “۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سن کر فرمایا کہ اسے تم نے جہاں سے اٹھایا ہے وہیں لے جا کر رکھ دو “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی یسئلونک عن الانفال۔ تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلا کر فرمایا کہ جائو اور جا کر اپنی تلوار لے لو “۔ معاویہ بن صالح نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے قول باری یسئلونک عن الانفال کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا :” انفال ان غنائم کا نام تھا جو صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے مخصوص ہوتے تھے اور ان میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی واعلموا انما غنمتم من شئی فان اللہ خمسہ وللرسول اور تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمات تم نے حاصل کیا ہے ان کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ……کا ہے) تا آخر آیت۔ ابن جریج نے کہا ہے کہ مجھے سلیمان نے مجاہد سے یہ بات بتائی ہے۔ حضرت عبادہ بن الصامت (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) اور دیگر حضرات کا قول ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معرکہ بدر کے دن مختلف انفال تقسیم کئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو کوئی چیز ہاتھ لگی ہو وہ اس کی ہے “۔ اس پر صحابہ کرام کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا، کچھ لوگ تو اس بارے میں ہماری رائے رکھتے تھے جبکہ کچھ دوسرے حضرات یہ کہتے تھے کہ ہم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد اپنی جانوں کا حلقہ باندھ دیا جب ہمارے اختلافات بڑھ گئے اور ہمارے اخلاق بگڑ گئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ سارا مال ہمارے ہاتھوں سے چھین کر اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے کردیا جسے آپ …