Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 1–10 of 75

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو

سورة الانفال - مال غنیمت اور اس کے احکام - ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) مجاہد، ضحاک ، قتادہ، عکرمہ اور عطاء کا قول ہے کہ انفال غنائم کو کہتے ہیں۔ عطاء نے حضرت ابن عباس (رض) سے ایک اور روایت کی ہے کہ انفال ان تمام چیزوں کا نام ہے جو مشرکین سے قتال کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگیں خواہ وہ کوئی سواری ہو غلام یا مال ومتاع۔ اسی لئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اختیار تھا کہ آپ ان چیزوں کو جہاں چاہیں کھپا دیں۔ مجاہد سے ایک روایت ہے کہ انفال خمس یعنی مال غنیمت کے پانچویں حصے کو کہتے ہیں جو ان لوگوں کا حق ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا حق دار ٹھہرایا ہے جن کا قول ہے کہ انفال کا تعلق ان فوجی دستوں سے تھا جو اصل فوج کے آگے آگے ہوتے تھے۔ لغت میں نفل اس چیز کو کہتے ہیں جو اصل حق سے زائد ہوتی ہے۔ اسی سے نافلہ کا لفظ بنا ہے جو تطوع کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ہمارے نزدیک نفل مال غنیمت محفوظ کرلینے سے پہلے دیا جاتا ہے لیکن اس کے بعد یہ صرف پانچویں حصے سے دیا جاسکتا ہے۔ وہ اس طرح کہ سپہ سالار یا امام کسی سر یہ یعنی فوجی دستے سے کہہ دے کر خمس نکالنے کے بعد تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہوگا۔ یاخمس نکالنے سے پہلے پورے مال غنیمت میں سے چوتھائی حصہ ہوگا یا یوں اعلان کر دے کہ جس شخص کو جو چیز ہاتھ لگے وہ اس کی ہوگی، یہ بات قتال پر ابھارنے اور دشمن کے خلاف بھڑکانے کی خاطر کہی جائے۔ یا یوں کہے کہ جس شخص نے کسی دشمن کو قتل کردیا اسے اس کا سارا سامان یعنی سلب مل جائے گا لیکن جب مال غنیمت محفوظ کرلیا جائے تو پھر امام کے لئے لشکر کے حصے میں سے کسی کو بطور نفل کچھ دینا جائز نہیں ہوگا۔ تاہم اس کے لئے پانچویں حصے میں سے کسی کو بطور نفل کچھ دے دینا بھی جائز ہوگا۔ اس آیت کے نزول کے سبب کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ حضرت سعد (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جنگ بدر میں ایک تلوار میرے ہاتھ لگی میں اسے لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا اور عرض کیا کہ یہ تلوار مجھے بطور نفل دے دیجئے “۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سن کر فرمایا کہ اسے تم نے جہاں سے اٹھایا ہے وہیں لے جا کر رکھ دو “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی یسئلونک عن الانفال۔ تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلا کر فرمایا کہ جائو اور جا کر اپنی تلوار لے لو “۔ معاویہ بن صالح نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے قول باری یسئلونک عن الانفال کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا :” انفال ان غنائم کا نام تھا جو صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے مخصوص ہوتے تھے اور ان میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی واعلموا انما غنمتم من شئی فان اللہ خمسہ وللرسول اور تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمات تم نے حاصل کیا ہے ان کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ……کا ہے) تا آخر آیت۔ ابن جریج نے کہا ہے کہ مجھے سلیمان نے مجاہد سے یہ بات بتائی ہے۔ حضرت عبادہ بن الصامت (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) اور دیگر حضرات کا قول ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معرکہ بدر کے دن مختلف انفال تقسیم کئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو کوئی چیز ہاتھ لگی ہو وہ اس کی ہے “۔ اس پر صحابہ کرام کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا، کچھ لوگ تو اس بارے میں ہماری رائے رکھتے تھے جبکہ کچھ دوسرے حضرات یہ کہتے تھے کہ ہم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد اپنی جانوں کا حلقہ باندھ دیا جب ہمارے اختلافات بڑھ گئے اور ہمارے اخلاق بگڑ گئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ سارا مال ہمارے ہاتھوں سے چھین کر اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے کردیا جسے آپ …

2

إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتْهُمْ إِيمَٰنًۭا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

Explained together with ayah 1

3

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

Explained together with ayah 1

4

أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُمْ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ

یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے

Explained together with ayah 1

5

كَمَآ أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيْتِكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی

Explained together with ayah 1

6

يُجَٰدِلُونَكَ فِى ٱلْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى ٱلْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں

Explained together with ayah 1

7

وَإِذْ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحْدَى ٱلطَّآئِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ ٱلشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَيَقْطَعَ دَابِرَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے

غزو بدر میں وعدہ خداوندی - قول باری ہے واذیعدکم اللہ احدی الطائفتین انھالکم۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا) اس واقعہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صداقت کے کئی دلائل موجود ہیں ایک تو یہ کہ آپ نے لوگوں کو یہ بتادیا تھا کہ قافلہ قریش اور لشکر قریش میں سے ایک کے ساتھ مسلمانوں کو واسطہ پڑے گا قریش کا یہ تجارتی قافلہ واپسی کے سفر پر تھا اور اس میں پورے قریش کا سرمایہ لگا ہوا تھا اس کی حفاظت اور حمایت کے لئے قریش کا لشکر مکہ سے چل پڑا تھا پھر وہی کچھ ہوا جس کا آیت میں وعدہ کیا گیا تھا۔ قول باری ہے وتودون ان غیر ذات الشوکۃ تکون لکم۔ اور تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے) یعنی مسلمان تجارتی قافلے پر کامیابی حاصل کرنا چاہتے تھے اس لئے کہ اس میں مال و اسباب کی فراوانی تھی اور معرکہ آرائی کی کم سے کم گنجائش مسلمانوں کو یہ خیال اس لئے آیا تھا کہ وہ جنگ کی پوری تیاری کر کے نہیں نکلے تھے۔ انہیں یہ خیال بھی نہیں تھا کہ قریش والے ان سے پنجہ آزمائی کے لئے آدھمکیں گے۔ قول باری ہے ویریداللہ ان یحق الحق بکلماتہ ویقطح دابر الکافرین۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے) اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دینے اور انہیں تہ تیغ کرنے کا جو عدہ فرمایا تھا اس آیت میں اس وعدے کی تکمیل کی طرف اشارہ ہے۔

8

لِيُحِقَّ ٱلْحَقَّ وَيُبْطِلَ ٱلْبَٰطِلَ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں

Explained together with ayah 7

9

إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَٱسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُم بِأَلْفٍۢ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُرْدِفِينَ

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے

فرشتوں کے ذریعہ مدد - قول باری ہے فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملائکۃ مردفین وما جعلہ اللہ الا بشری ولتطمین بہ قلوبکم۔ جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لئے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں۔ یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لئے بتادی کہ تمہیں خوشخبری ہو اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں) یہ تمام باتیں واقعاتی طور پر اسی طرح پیش آئیں جس طرح آیت میں بتائی گئی تھیں اور اس طرح یہ باتیں مسلمانوں کے دلوں میں طمانیت کا ذریعہ بن گئیں۔

10

وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا ٱلنَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

Explained together with ayah 9

Al-Anfaal 8:10Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.