Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 91–100 of 129

91

لَّيْسَ عَلَى ٱلضُّعَفَآءِ وَلَا عَلَى ٱلْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا۟ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۚ مَا عَلَى ٱلْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍۢ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر نہ ان پر جن کے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد نہ ہوں یعنی) جب کہ خدا اور اس کے رسول کے خیراندیش (اور دل سے ان کے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

خلاصہ تفسیر - کم طاقت لوگوں پر کوئی گناہ نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ ان لوگوں پر جن کو ( سامان جہاد کی تیاری میں) خرچ کرنے کو میسر نہیں جبکہ یہ لوگ اللہ اور رسول کے ساتھ ( اور احکام میں) خلوص رکھیں ( اور دل سے اطاعت کرتے رہیں تو) ان نکوکاروں پر کسی قسم کا الزام ( عائد) نہیں ( کیونکہ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا) اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں ( کہ اگر یہ لوگ اپنے علم میں معذور ہوں اور اپنی طرف سے خلوص و اطاعت میں کوشش کریں اور واقع میں کچھ کمی رہ جائے تو معاف کردیں گے) اور نہ ان لوگوں پر ( کوئی گناہ اور الزام ہے) کہ جس وقت وہ آپ کے پاس اس واسطے آتے ہیں کہ آپ ان کو کوئی سواری دیدیں اور آپ ( ان سے) کہہ دیتے ہیں کہ میرے پاس تو کوئی چیز نہیں جس پر میں تم کو سوار کردوں تو وہ ( ناکام) اس حالت سے وا پس چلے جاتے ہیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے ہیں اس غم میں کہ ( افسوس) انکو ( سامان جہاد کی تیاری میں) خرچ کرنے کو کچھ میسر نہیں ( نہ خود ہی اور نہ دوسری جگہ سے ملا، غرض ان معذورین مذکورین پر کوئی مواخذہ نہیں) بس الزام ( اور مواخذہ) تو صرف ان لوگوں پر ہے جو باوجود اہل سامان ( قوت) ہونے کے ( گھر یر رہنے کی) اجازت چاہتے ہیں وہ لوگ ( غایت بےحمیتی سے) خانہ نشیں عورتوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے، اور اللہ نے انکے دلوں پر مہر کردی جس سے وہ ( گناہ وثواب کو) جانتے ہی نہیں۔- معارف و مسائل - سابقہ آیات میں ایسے لوگوں کے حالات کا بیان تھا جو درحقیقت جہاد میں شرکت سے معذور نہ تھے مگر سستی کے سبب عذر کرکے بیٹھ رہے، یا ایسے منافق جنہوں نے اپنے کفر و نفاق کی وجہ سے حیلے بہانے تراش کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لے لی تھی، اور کچھ وہ سرکش بھی تھے جنہوں نے عذر کرنے اور اجازت لینے کی بھی ضرورت نہ سمجھی، ویسے ہی بیٹھ رہے، ان کا غیر معذور ہونا اور ان میں جو کفر ونفاق کے مرتکب تھے ان کیلئے عذاب الیم کا ہونا سابقہ آیات میں بیان ہوا ہے۔- مذکور الصدر آیات میں ان مخلص مسلمانوں کا ذکر ہے جو حقیقتہ معذور ہونے کے سبب شرکت جہاد سے قاصر رہے، ان میں کچھ تو نابینا یا بیمار معذور تھے جن کا عذر کھلا ہوا تھا، اور کچھ وہ لوگ بھی تھے جو جہاد میں شرکت کے لئے تیار تھے، بلکہ جہاد میں جانے کے لئے بےقرار تھے، مگر ان کے پاس سفر کے لئے سواری کا جانور نہ تھا، سفر طویل اور موسم گرمی کا تھا، انہوں نے اپنے جذبہ جہاد اور سواری نہ ہونے کی مجبوری کا ذکر کرکے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ ہمارے لئے سواری کا کوئی انتظام ہوجائے۔- کتب تفسیر و تاریخ میں اس قسم کے متعدد واقعات لکھے ہیں، بعض کا معاملہ تو یہ ہوا کہ شروع میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے عذر کردیا کہ ہمارے پاس سواری کا کوئی انتظام کردیا کہ چھ اونٹ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اسی وقت آگئے، آپ نے یہ ان کو دے دیے ( مظہری) اور ان میں سے تین آدمیوں کے لئے سواری کا انتظام حضرت عثمان غنی نے کردیا حالانکہ وہ اس سے پہلے بہت بڑی تعداد کا انتظام اپنے خرچ سے کرچکے تھے۔

92

وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ أَجِدُ مَآ أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا۟ وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا۟ مَا يُنفِقُونَ

اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے

Explained together with ayah 91

93

۞ إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَى ٱلَّذِينَ يَسْتَـْٔذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَآءُ ۚ رَضُوا۟ بِأَن يَكُونُوا۟ مَعَ ٱلْخَوَالِفِ وَطَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہیں (یعنی) اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں

بعض وہ بھی رہے کہ جن کو آخر تک سواری نہ ملی، اور مجبور ہو کر رہ گئے، آیات مذکورہ میں انہی سب حضرات کا ذکر آیا ہے، جن کا عذر اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا، آخر میں پھر اس پر تنبیہ فرما دی کہ وبال تو صرف ان لوگوں پر ہے جنہوں نے قدرت کے باوجود جہاد سے غیر حاضر رہنا عورتوں کی طرح پسند کیا ‘ (آیت) اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَي الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَهُمْ اَغْنِيَاۗءُ کا یہی مطلب ہے۔

94

يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ ۚ قُل لَّا تَعْتَذِرُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا ٱللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ ۚ وَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُۥ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے تم کہنا کہ مت عذر کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے سب حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا

خلاصہ تفسیر - یہ لوگ تمہارے ( سب کے) سامنے عذر پیش کریں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے، ( سو اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ( سب کی طرف سے صاف) کہہ دیجئے کہ ( بس رہنے دو ) یہ عذر پیش مت کرو ہم کبھی تم کو سچا نہ سمجھیں گے ( کیونکہ) اللہ تعالیٰ ہم کو تمہاری ( واقعی حالت کی) خبر دے چکے ہیں ( کہ تم کو کوئی عذر صحیح نہ تھا) اور ( خیر) آئندہ بھی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول تمہاری کارگزاری دیکھ لیں گے ( معلوم ہوجائے گا کہ حسب زعم خود کتنے مطیع اور مخلص ہو) پھر ایسے کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے ( جس سے تمہارا کوئی اعتقاد کوئی عمل مخفی نہیں) پھر وہ تم کو بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے ( اور اس کا بدلہ دے گا) ہاں وہ اب تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھا جاویں گے ( کہ ہم معذور تھے) جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تاکہ تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو ( اور ملامت وغیرہ کرو) سو تم ( ان کا مطلب پورا کردو اور) ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو ( اس غرض فانی کے حاصل ہونے سے ان کا کچھ بھلا نہ ہوگا، کیونکہ) وہ لوگ بالکل گندے ہیں اور ( اخیر میں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ان کاموں کے بدلہ میں جو کچھ وہ ( نفاق و خلاف وغیرہ) کیا کرتے تھے ( نیز اس کا بھی مقتضا ہے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاوے، کیونکہ تعرض سے مقصود اصلاح اور اس کی ان کے خبث سے امید نہیں اور نیز) یہ اس لئے قسمیں کھاویں گے کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ سو ( اول تو تم دشمنان خدا سے راضی ہی کیوں ہونے لگے لیکن بالفرض) اگر تم ان سے راضی بھی ہوجاؤ تو ( انکو کیا نفع کیونکہ) اللہ تعالیٰ تو ایسے شریر لوگوں سے راضی نہیں ہوتا ( اور بدون رضائے خالق کے رضائے خلق محض بےسود ہے ) ۔- معارف و مسائل - پہلی آیات میں ان منافقین کا ذکر تھا جنہوں نے غزوہ تبوک میں نکلنے سے پہلے جھوٹے حیلے بہانے کرکے جہاد میں جانے سے عذر کردیا تھا، مذکور الصدر آیات میں ان کا ذکر ہے، جنہوں نے جہاد سے واپسی کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی جہاد سے غیر حاضری کے جھوٹے عذر پیش کئے، یہ آیات مدینہ طیبہ واپس آنے سے پہلے نازل ہوچکی تھی جن میں اس آئندہ پیش آنے والے واقعہ کی خبر تھی کہ جب آپ مدینہ واپس پہونچیں گے تو منافقین عذر کرنے کے لئے آپ کے پاس آئیں گے، چناچہ اسی طرح واقعہ پیش آیا۔- آیات مذکورہ میں ان کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین حکم دیئے گئے۔ اول یہ کہ جب یہ عذر کرنے کے لئے آئیں تو آپ ان سے کہہ دیں کہ فضول جھوٹے عذر نہ کرو، ہم تمہاری بات کی تصدیق نہ کریں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی ہمیں تمہارے سب حالات اور خیالات اور تمہاری شرارت اور دلوں میں چھپے ہوئے خفیہ ارادے سب بتلا دیئے ہیں، جس سے تمہارا جھوٹا ہونا ہم پر واضح ہوگیا، اس لئے عذر بیان کرنا فضول ہے، اس کے بعد فرمایا (آیت) وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ ، اس میں ان کو مہلت دی گئی کہ اب بھی توبہ کریں نفاق چھوڑ کر سچے مسلمان ہوجائیں، کیونکہ اس میں یہ فرمایا کہ آئندہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہارا عمل دیکھیں گے کہ وہ کیا اور کیسا رہتا ہے اس کے مطابق عمل ہوگا، اگر تم توبہ کر کے سچے مسلمان ہوگئے، تو تمہارے گناہ معاف ہوجاویں گے ورنہ یہ جھوٹے حیلے بہانے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیں گے۔

95

سَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمْ إِذَا ٱنقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌۭ ۖ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو خدا کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو سو اُن کی طرف التفات نہ کرنا۔ یہ ناپاک ہیں اور جو یہ کام کرتے رہے ہیں اس کے بدلہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے

دوسرا حکم دوسری آیت میں بیان ہوا ہے کہ یہ لوگ آپ کی واپسی کے بعد جھوٹی قسمیں کھا کر آپ کو مطمئن کرنا چاہیں گے، اور مقصد اس سے یہ ہوگا کہ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ ، یعنی آپ کی اس غیر حاضری جہاد کو نظر انداز کردیں، اس پر ملامت نہ کریں، اس پر یہ ارشاد ہوا کہ ان کی یہ خواہش آپ پوری کردیں فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ ، یعنی آپ ان سے اعراض کریں نہ تو ان پر ملامت و سرزنش کریں اور نہ شگفتہ تعلقات ان سے رکھیں، کیونکہ ملامت سے تو کوئی فائدہ نہیں، جب ان کے دل میں ایمان ہی نہیں اور اس کی طلب بھی نہیں تو ملامت کرنے سے کیا ہوگا، فضول اپنا وقت ضائع کیوں کیا جائے۔

96

يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا۟ عَنْهُمْ ۖ فَإِن تَرْضَوْا۟ عَنْهُمْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہو جاؤ لیکن اگر تم اُن سے خوش ہو جاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا

تیسرا حکم تیسری آیت میں یہ ہے کہ یہ لوگ قسمیں کھا کر آپ کو اور مسلمانوں کو راضی کرنا چاہیں گے اس کے متعلق حق تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمادی کہ ان کی یہ خواہش پوری نہ کی جائے، آپ ان سے راضی نہ ہوں، اور یہ بھی فرمادیا کہ بالفرض اگر آپ راضی بھی ہوگئے تو ان کو کوئی فائدہ اس لئے نہیں پہنچے گا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں ہے اور اللہ کیسے راضی ہو جبکہ یہ اپنے کفر و منافقت پر قائم ہیں۔

97

ٱلْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًۭا وَنِفَاقًۭا وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا۟ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

خلاصہ تفسیر - (ان منافقین میں جو) دیہاتی ( ہیں وہ) لوگ ( بوجہ سخت مزاجی کے) کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں اور ( بوجہ بعد علماء و عقلاء کے) ان کو ایسا ہونا ہی چاہئے کہ ان کو ان احکام کا علم نہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائے ہیں ( کیونکہ جب جاننے والوں سے دور دور رہیں گے تو ان کا جاہل رہنا تو اس کا لازمی نتیجہ ہے، اور اسی وجہ سے مزاج میں سختی اور مجموعہ سے کفر و نفاق میں شدت ہوگی) اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں، وہ ان سب امور پر مطلع ہیں اور حکمت سے مناسب سزا دیں گے) اور ان ( مذکورہ منافقیں) دیہاتیوں میں سے بعض ایسا ہے کہ ( کفر و نفاق و جہل کے علاوہ بخل و عداوت کے ساتھ بھی موصوف ہے، حتی کہ) جو کچھ ( جہاد و زکوٰة وغیرہ کے مواقع میں مسلمانوں کی شرما شرمی) خرچ کرتا ہے اس کو ( مثل) جرمانہ سمجہتا ہے ( یہ تو بخل ہوا) اور ( عداوت یہ ہے کہ) تم مسلمانوں کے واسطے ( زمانہ کی) گردشوں کا منتظر رہتا ہے ( کہ کہیں ان پر کوئی حادثہ پڑجائے تو ان کا خاتمہ ہو سو) برا وقت انہی ( منافقین) پر پڑنے والا ہے ( چناچہ فتوحات کی وسعت ہوئی، کفار ذلیل ہوئے ان کی ساری حسرتیں دل ہی میں رہ گئیں، اور تمام عمر رنج اور خوف میں کٹی) اور اللہ تعالیٰ ( ان کے کفر و نفاق کی باتیں) سنتے ہیں ( اور ان کے دلی خیالات اتخاذ مغرم و تربص دوائر کو) جانتے ہیں ( پس ان سب کی سزا دیں گے) اور بعضے اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ( پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں، اور جو کچھ ( نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں اس کو عند اللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا ( لینے) کا ذریعہ بناتے ہیں ( کیونکہ آپ کی عادت شریفہ تھی کہ ایسے موقع پر خرچ کرنے والے کو دعا دیتے تھے جیسا کہ احادیث میں ہے) یاد رکھو کہ ان کا یہ خرچ کرنا بیشک ان لوگوں کے لئے موجب قربت ( عند اللہ) ہے ( اور دعا کا ہونا تو یہ خود دیکھ سن لیتے ہیں، اس کی خبر دینے کی ضرورت نہ تھی اور وہ قرب یہ ہے کہ) ضرور ان کو اللہ تعالیٰ اپنی ( خاص) رحمت میں داخل کرلیں گے ( کیونکہ) اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے رحمت والے ہیں ( پس ان کی لغزشیں معاف کرکے اپنی رحمت میں لے لیں گے) ۔- معارف و مسائل - آیات سابقہ میں منافقین مدینہ کا ذکر تھا ان آیات میں ان منافقین کا ذکر ہے جو مدینہ کے مضافات و دیہات کے رہنے والے تھے۔- اعراب یہ لفظ عرب کی جمع نہیں، بلکہ اسم جمع ہے جو دیہات کے باشندوں کے لئے بولا جاتا ہے، اس کا مفرد بنانا ہوتا ہے تو اعرابی کہتے ہیں، جیسے انصار کا مفرد انصاری آتا ہے۔- ان کا حال آیت مذکورہ میں یہ بتلایا کہ یہ کفر و نفاق میں شہر والوں سے بھی زیادہ ہیں، جس کی وجہ یہ بتلائی کہ یہ لوگ علم اور علماء سے دور رہنے کے سبب عموماً جہالت اور قساوت میں مبتلا ہوتے ہیں، سخت دل ہوتے ہیں ( اَجْدَرُ اَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ) یعنی ان لوگوں کا ماحول ہی ایسا ہے کہ وہ اللہ کی نازل کی ہوئی حدود سے بیخبر رہیں، کیونکہ نہ قرآن ان کے سامنے آتا ہے، نہ اس کے معانی و مطالب اور احکام سے ان کو واقفیت ہوتی ہے۔

98

وَمِنَ ٱلْأَعْرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغْرَمًۭا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ ٱلدَّوَآئِرَ ۚ عَلَيْهِمْ دَآئِرَةُ ٱلسَّوْءِ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ ان ہی پر بری مصیبت (واقع) ہو۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

دوسری آیت میں بھی انہی اعراب کا ایک حال یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ جو زکوٰة وغیرہ میں خرچ کرتے ہیں اس کو ایک تاوان سمجھ کردیتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ دل میں ایمان تو ہے نہیں محض اپنے کفر کو چھپانے کے لئے نماز بھی پڑھ لیتے ہیں، اور زکوٰة فرض بھی دیدیتے ہیں، مگر دل میں گڑہتے ہیں کہ یہ مال فضول گیا، اسی لئے اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں پر کوئی مصیبت پڑے اور ان کو شکست ہوجائے تو اس تاوان سے ہماری نجات ہو الدَّوَاۗىِٕرَ دائرہ کی جمع ہے، عر بی نعت کے اعتبار سے دائرہ اس بدلی ہوئی حالت کو کہتے ہیں جو پہلی اچھی حالت کے بعد بری ہوجائے، اسی لئے قرآن کریم نے ان کے جواب میں فرمایا (آیت) عَلَيْهِمْ دَاۗىِٕرَةُ السَّوْءِ ، یعنی انہی پر بری حالت آنے والی ہے، اور یہ اپنے ان افعال و اقوال کی بناء پر اور زیادہ ذلیل ہوں گے۔

99

وَمِنَ ٱلْأَعْرَابِ مَن يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَٰتٍ عِندَ ٱللَّهِ وَصَلَوَٰتِ ٱلرَّسُولِ ۚ أَلَآ إِنَّهَا قُرْبَةٌۭ لَّهُمْ ۚ سَيُدْخِلُهُمُ ٱللَّهُ فِى رَحْمَتِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قُربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دیکھو وہ بےشبہ ان کے لیے (موجب) قربت ہے خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

دیہاتی منافقین کے حالات کا ذکر کرنے کے بعد قرآنی اسلوب کے مطابق تیسری آیت میں ان دیہاتیوں کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھا گیا جو سچے اور پکے مسلمان ہیں، تاکہ معلوم ہوجائے کہ دیہات کے باشندے بھی سب ایک سے نہیں ہوتے، ان میں مخلص مسلمان اور سمجھ دار لوگ بھی ہوتے ہیں، ان کا حال یہ ہے کہ وہ جو زکوٰة و صدقات دیتے ہیں تو اس کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاؤں کی امید پر دیتے ہیں۔- صدقات کا اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہونا تو ظاہر ہی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاؤں کی امید اس بناء پر ہے کہ قرآن حکیم نے جہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسلمانوں سے اموال زکوٰة وصول کرنے کا حکم دیا ہے وہیں یہ بھی ہدایت فرمائی ہے کہ زکوٰة ادا کرنے والوں کے لئے آپ دعا بھی کیا کریں جیسے آگے آنے والی آیت میں ارشاد ہے (آیت) خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً تُطَهِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ، اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صدقات وصول کرنے کے ساتھ یہ حکم بھی دیا ہے کہ ان کے لئے دعا کیا کریں، یہ حکم لفظ صلوۃ کے ساتھ آیا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ، اسی لئے مذکورہ آیت میں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاؤں کو لفظ صلوات سے تعبیر کیا ہے۔

100

وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلْأَوَّلُونَ مِنَ ٱلْمُهَٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحْسَٰنٍۢ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى تَحْتَهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

خلاصہ تفسیر - اور جو مہاجرین اور انصار ( ایمان لانے میں سب امت سے) سابق اور مقدم ہیں اور ( بقیہ امت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ( ایمان لانے میں) ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا ( کہ ان کا ایمان قبول فرمایا جس پر ان کو جزا ملے گی) اور وہ سب اللہ سے راضی ہوئے ( کہ اطاعت اختیار کی جس کی جزاء سے یہ رضا اور زیادہ ہوگی) اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ( اور) یہ بڑی کامیابی ہے۔- معارف و مسائل - اس سے پہلی آیت میں دیہاتی مؤمنین مخلصین کا ذکر تھا، اس آیت میں تمام مؤمنین مخلصین کا ذکر ہے، جن میں ان کے درجات فضیلت کا بھی بیان ہے۔- (آیت) وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ ، اس جملہ میں اکثر حضرات مفسرین نے حرف من کو تبعیض کے لئے قرار دے کر مہاجرین و انصار، صحابہ کرام کے دو طبقے قائم کئے ہیں، ایک سابقین اولین کا دوسرا دوسرے درجے کے حضرات صحابہ کرام کا۔- پھر اس میں اقوال مختلفہ ہیں، بعض حضرات نے صحابہ کرام میں سے سابقین اولین ان کو قرار دیا ہے جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے، یعنی تحویل قبلہ سے پہلے جو مسلمان ہوچکے تھے وہ سابقین اولین ہیں، یہ قول سعید بن مسیب اور قتادہ کا ہے، حضرت عطاء بن ابی رباح نے فرمایا کہ سابقین اولین وہ صحابہ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے، اور شبعی نے فرمایا کہ جو صحابہ حدیبیہ کی بیعت رضوان میں شریک ہوئے وہ سابقین اولین ہیں، اور ہر قول کے مطابق باقی صحابہ کرام مہاجر ہوں یا انصار سابقین اولین کے بعد دوسرے درجے میں ہیں ( مظہری۔ قرطبی ) ۔- اور تفسیر مظہری میں ایک قول یہ بھی نقل کیا ہے کہ حرف من کو اس آیت میں تبعیض کے لئے نہ لیا جائے بلکہ بیان کے معنی میں ہو تو مفہوم اس جملے کا یہ ہوگا کہ تمام صحابہ کرام بہ نسبت باقی امت کے سابقین اولین ہیں، اور مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ اس کا بیان ہے، بیان القرآن کا خلاصہ تفسیر جو اوپر نقل کیا گیا اس میں اسی تفسیر کو اختیار کیا گیا ہے۔- پہلی تفسیر کے مطابق صحابہ کرام میں دو طبقے ہوجاتے ہیں، ایک سابقین اولین کا، دوسرا وہ جو تحویل قبلہ یا غزوہ بدر یا بیعت رضوان کے بعد مسلمان ہوئے، اور آخری تفسیر کا حاصل یہ ہوا کہ صحابہ کرام سب کے سب سابقین اولین ہی ہیں کیونکہ ان کا ایمان باقی امت سے اول اور سابق ہے۔- (آیت) وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ، یعنی جن لوگوں نے اعمال و اخلاق میں سابقین اولین کا اتباع مکمل طریقہ پر کیا، پہلے جملے کی پہلی تفسیر کے مطابق ان لوگوں میں درجہ اول ان مہاجرین و انصار صحابہ کا ہے جو تحویل قبلہ یا غزوہ بدر یا بیعت حدیبیہ کے بعد مسلمان ہو کر صحابہ کرام میں داخل ہوئے، دوسرا درجہ ان کے بعد کے سب مسلمانوں کا ہے، جو قیامت تک ایمان اور اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ میں صحابہ کرام کے اسوہ پر چلے، اور ان کا مکمل اتباع کیا۔- اور دوسری تفسیر کے مطابق الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا میں صحابہ کرام کے بعد کے حضرات داخل ہیں جن کو اصطلاح میں تابعی کہا جاتا ہے، پھر ان اصطلاحی تابعین کے بعد قیامت تک آنے والے وہ سب مسلمان بھی اس میں شامل ہیں جو ایمان و عمل صالح میں صحابہ کرام کا مکمل اتباع کریں۔- صحابہ کرام سب کے سب بلا استثناء جنتی اور اللہ تعالیٰ کی رضاء سے مشرف ہیں :- محمد بن کعب قرظی سے کسی نے دریافت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں، انھوں نے کہا کہ صحابہ کرام سب کے سب جنت میں ہیں اگرچہ وہ لوگ ہوں جن سے دنیا میں غلطیاں اور گناہ بھی ہوئے ہیں، اس شخص نے دریا فت کیا کہ یہ بات آپ نے کہاں سے کہی، ( اس کی کیا دلیل ہے) انہوں نے فرمایا کہ قرآن کریم کی یہ آیت پڑھو : السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ اس میں تمام صحابہ کرام …

At-Tawba 9:100Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.