Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 81–90 of 129

81

فَرِحَ ٱلْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَٰفَ رَسُولِ ٱللَّهِ وَكَرِهُوٓا۟ أَن يُجَٰهِدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَالُوا۟ لَا تَنفِرُوا۟ فِى ٱلْحَرِّ ۗ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّۭا ۚ لَّوْ كَانُوا۟ يَفْقَهُونَ

جو لوگ (غزوہٴ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلاف بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا۔ (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات) کو سمجھتے

خلاصہ تفسیر - یہ پیچھے رہ جانے والے خوش ہوگئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ( جانے کے) بعد اپنے بیٹھے رہنے پر اور ان کو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنا ناگوار ہوا ( دو وجہ سے اول کفر دوسرے آرام طلبی) اور ( دوسروں کو بھی) کہنے لگے کہ تم ( ایسی تیز) گرمی میں ( گھر سے) مت نکلو آپ ( جواب میں) کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ ( اس سے بھی) زیادہ ( تیز اور) گرم ہے ( سو تعجب ہے کہ اس گرمی سے تو بچتے ہو اور جہنم میں جانے کا خود سامان کر رہے ہو، کہ کفر و مخالفت کو نہیں چھوڑتے) کیا خوب ہوتا اگر وہ سمجہتے، سو ( ان امور مذکورہ کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں ( تھوڑے دنوں ہنس ( کھیل) لیں اور ( پھر آخرت میں) بہت دنوں ( یعنی ہمیشہ) روتے رہیں ( یعنی ہنسنا تھوڑے دنوں کا ہے پھر رونا ہمیشہ ہمیشہ کا) ان کاموں کے بدلہ میں جو کچھ ( کفر و نفاق و خلاف وغیرہ) کیا کرتے تھے ( جب ان کا حال معلوم ہوگیا) تو اگر خدا تعالیٰ آپ کو ( اس سفر سے مدینہ کو صحیح وسالم) ان کے کسی گروہ کی طرف واپس لائے ( گروہ اس لئے کہا کہ ممکن ہے کہ بعض اسوقت تک مر جائیں، یا کوئی کہیں چلا جائے اور) پھر یہ لوگ ( براہ خوشامد و دفع الزام سابق کسی جہاد میں آپ کے ساتھ) چلنے کی اجازت مانگیں ( اور دل میں اس وقت بھی یہی ہوگا کہ عین وقت پر کچھ بہانہ کرسکیں گے) تو آپ یوں کہہ دیجئے کہ ( اگرچہ اس وقت دنیا سازی کے طور پر باتیں بنا رہے ہو، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارا مافی الضمیر بتلا دیا ہے، اس لئے نہایت وثوق سے کہتا ہوں کہ) تم کبھی بھی میرے ساتھ ( جہاد میں) نہ چلو گے اور نہ میرے ہمراہ ہو کر کسی دشمن ( دین) سے لڑو گے ( جو کہ اصلی مقصود ہے چلنے سے کیونکہ) تم نے پہلے بھی بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا ( اور اب بھی عزم وہی ہے) تو ( خواہ مخواہ جھوٹی باتیں کیوں بناتے ہو، بلکہ مثل سابق اب بھی) ان لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہو ( جو واقعی) پیچھے رہ جانے کے لائق ہی ہیں ( بوجہ عذر کے جیسے بوڑھے اور بچے اور عورتیں ) ۔- معارف و مسائل - اوپر سے سلسلہ منافقین کے حالات کا چل رہا ہے، جو غزوہ تبوک میں حکم عام کے باوجود شریک نہیں ہوئے، مذکور الصدر آیات میں بھی انہی کا ایک حال اور پھر اس کی سزائے آخرت کی وعید اور دنیا میں آئندہ کے لئے ان کا نام مجاہدین اسلام کی فہرست سے خارج کردینا اور آئندہ ان کو کسی جہاد میں شرکت کی اجا زت نہ ہونا مذکور ہے۔- مُخَلَّفُوْنَ ، مخلف کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں متروک، یعنی جس کو چھوڑ دیا گیا ہو، اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ لوگ تو یہ سمجھ کر خوش ہو رہے ہیں کہ ہم نے اپنی جان کو مصیبت میں ڈالنے سے بچایا، اور جہاد میں شرکت نہیں کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قابل نہیں سمجھا کہ وہ اس فضیلت کو پاسکیں، اس لئے وہ تارک جہاد نہیں، بلکہ متروک ہیں کہ اللہ و رسول نے ہی ان کو چھوڑ دینے کے قابل سمجھا۔- خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ ، لفظ خلاف کے معنی یہاں " پیچھے " اور " بعد " کے بھی ہوسکتے ہیں، ابو عبید نے یہی معنی لئے ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جہاد پر چلے جانے کے بعد آپ کے پیچھے رہ جانے پر خوش ہو رہے ہیں، جو درحقیقت خوشی کی چیز نہیں، بِمَقْعَدِهِمْ ، یہ لفظ یہاں مصدری معنی میں بمعنے قعود ہے۔- دوسرے معنی خلاف کے اس جگہ مخالفت کے بھی ہوسکتے ہیں، کہ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی مخالفت کرکے گھر میں بیٹھے رہے، اور صرف خود ہی نہیں بیٹھے بلکہ دوسروں کو بھی یہ تلقین کی کہ لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ ، یعنی گرمی کے زمانہ میں جہاد کے لئے نہ نکلو۔- یہ پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ غزوہ تبوک کا حکم اس وقت ہوا تھا جب کہ گرمی سخت پڑ رہی تھی حق تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب یہ دیا قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا، یعنی یہ بد نصیب …

82

فَلْيَضْحَكُوا۟ قَلِيلًۭا وَلْيَبْكُوا۟ كَثِيرًۭا جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

یہ (دنیا میں) تھوڑا سا ہنس لیں اور (آخرت میں) ان کو ان اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں بہت سا رونا ہوگا

(آیت) فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلًا، جس کے لفظی معنی یہ ہیں کہ ہنسو تھوڑا روؤ زیادہ، یہ لفظ اگرچہ بصیغہ امر لایا گیا مگر حضرات مفسرین نے اس کو خبر کے معنی میں قرار دیا ہے، اور بصیغہ امر ذکر کرنے کی یہ حکمت بیان کی ہے کہ ایسا ہونا حتمی اور یقینی ہے، یعنی یہ بات یقینی طور پر ہونے والی ہے کہ ان لوگوں کی یہ خوشی و ہنسی صرف چند روز کی ہے، اس کے بعد آخرت میں ہمیشہ کے لئے رونا ہی رونا ہوگا، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے : - الدنیا قلیل فلیضحکوا فیھا ماشاؤ ا فاذا انقطعت الدنیا وصاروا الی اللہ فلیستانفوا البکاء بکاء لا ینقطع ابدا دنیا چند روز ہے اس میں جتنا چاہو ہنس لو، پھر جب دنیا ختم ہوگی اور اللہ کے پاس حاضر ہوگے تو رونا شر وع ہوگا جو کبھی ختم نہ ہوگا “۔- ( مظہری )

83

فَإِن رَّجَعَكَ ٱللَّهُ إِلَىٰ طَآئِفَةٍۢ مِّنْهُمْ فَٱسْتَـْٔذَنُوكَ لِلْخُرُوجِ فَقُل لَّن تَخْرُجُوا۟ مَعِىَ أَبَدًۭا وَلَن تُقَٰتِلُوا۟ مَعِىَ عَدُوًّا ۖ إِنَّكُمْ رَضِيتُم بِٱلْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ فَٱقْعُدُوا۟ مَعَ ٱلْخَٰلِفِينَ

پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہوکر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو

دوسری آیت میں لّنْ تَخْرُجُوْا کا ارشاد ہے، اس کا مفہوم مذکور الصدر خلاصہ تفسیر میں تو یہ لیا گیا ہے کہ یہ لوگ اگر آئندہ کسی جہاد میں شرکت کا ارادہ بھی کریں تو چونکہ ان کے دلوں میں ایمان نہیں وہ ارادہ بھی اخلاص سے نہ ہوگا جب نکلنے کا وقت آئے گا اسوقت پہلے کی طرح حیلے بہانے کرکے ٹل جائیں گے، اس لئے آپ کو حکم ہوا کہ جب وہ کسی جہاد میں شریک ہونے کو خود بھی کہیں تو آپ یہ حقیقت حال ان کو بتلا دیں کہ تمہارے کسی قول و فعل پر اعتماد نہیں، تم نہ جہاد کو نکلو گے نہ کسی دشمن اسلام سے میرے ساتھ قتال کرو گے۔- اکثر حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ حکم ان کے لئے بطور دنیاوی سزا کے نافذ کیا گیا کہ اگر وہ سچ سچ کسی جہاد میں شرکت کو کہیں تو بھی انھیں شریک نہ کیا جائے۔

84

وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٍۢ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًۭا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِۦٓ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ فَٰسِقُونَ

اور (اے پیغمبر) ان میں سے کوئی مر جائے تو کبھی اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر (جا کر) کھڑے ہونا۔ یہ خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی نافرمان (ہی مرے)

خلاصہ تفسیر - اور ان میں کوئی مرجاوے تو اس ( کے جنازہ) پر کبھی نماز نہ پڑہئے اور نہ ( دفن وغیرہ کے واسطے) اس کی قبر پر کھڑے ہوجئے ( کیونکہ) انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے، اور وہ حا لت کفر ہی میں مرے ہیں۔- معارف و مسائل - احادیث صحیحہ سے باتفاق امت ثابت ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی منافق کی موت اور اس پر نماز جنازہ کے متعلق نازل ہوئی، اور صحیحین کی روایت سے ثابت ہے کہ اس کے جنازہ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی، پڑھنے کے بعد یہ آیت نازل ہوئی، اور اس کے بعد آپ نے کبھی کسی منافق کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی۔- صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت سے واقعہ نزول کی یہ تفصیل بیان کی گئی ہے کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول مرگیا تو اس کے صاجزادے عبداللہ جو مخلص مسلمان اور صحابہ تھے وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور درخواست کی کہ آپ اپنا قمیص عطا فرمائیں تاکہ میں اپنے باپ کو اس کا کفن پہناؤ ں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا قمیص مبارک عطا فرما دیا، پھر حضرت عبداللہ نے یہ بھی درخواست کی کہ آپ اس کے جنازے کی نماز بھی پڑھائیں، آپ نے قبول فرما لیا، اور نماز جنازہ کے لئے کھڑے ہوگئے تو حضرت عمر بن خطاب نے آپ کا کپڑا پکڑ کر عرض کیا کہ آپ اس منافق کی نماز جنازہ پڑہتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی نماز جنازہ سے منع فرمادیا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے کہ میں دعا مغفرت کروں یا نہ کروں، اور آیت میں جو ستر ٧٠ مرتبہ استغفار پر بھی مغفرت نہ ہونے کا ذکر ہے تو میں ستر ٧٠ مرتبہ سے زیادہ استغفار کرسکتا ہوں، آیت سے مراد سورة توبہ کی وہی آیت ہے جو ابھی گذر چکی ہے، یعنی (آیت) اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۭاِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی، نماز کے بعد ہی یہ آیت نازل ہوئی، (آیت) لَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ ، الخ ( چناچہ اس کے بعد آپ نے کبھی کسی منافق کے جنازے کی نماز نہیں پڑھی ) ۔- واقعہ مذکور پر چند اشکالات اور ان کے جواب :- یہاں ایک سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ عبداللہ بن ابی ایک ایسا منافق تھا جس کا نفاق مخلتف اوقات میں ظاہر بھی ہوچکا تھا اور سب منافقوں کا سردار مانا جاتا تھا، اس کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ امتیازی سلوک کیسے ہوا کہ اس کے کفن کے لئے اپنا قمیص مبارک عطا فرمایا ؟- اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے دو سببب ہوسکتے ہیں۔ اول اس کے صاجزادے جو مخلص صحابی تھے ان کی درخواست کہ محض ان کی دلجوئی کے لئے ایسا کیا گیا، دوسرا سبب ایک اور بھی ہوسکتا ہے جو بخاری کی حدیث میں بروایت حضرت جابر منقول ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر جب کچھ قریشی سردار گرفتار کئے گئے، تو ان میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا عباس بھی تھے، آپ نے دیکھا کہ ان کے بدن پر کرتہ نہیں، تو صحابہ سے ارشاد فرمایا کہ ان کو قمیص پہنا دیا جائے، حضرت عباس دراز قد تھے، عبداللہ بن ابی کے سوا کسی کا قمیص ان کے بدن پر درست نہ آیا، تو عبداللہ بن ابی کا قمیص لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چچا عباس کو پہنا دیا تھا، اس کے اسی احسان کا بدلہ ادا کرنے کے لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا قمیص ان کو عطا فرمادیا ( قرطبی ) ۔- دوسرا سوال : یہاں یہ ہے کہ فاروق اعظم نے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافق کے جنازہ کی نماز سے منع فرمایا ہے، یہ کس بناء پر کہا، کیونکہ اس سے پہلے کسی آیت میں صراحة آپ کو منافق کی نماز جنازہ سے منع نہیں فرمایا گیا، اس …

85

وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَٰلُهُمْ وَأَوْلَٰدُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِى ٱلدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَٰفِرُونَ

ان کے اولاد اور مال سے تعجب نہ کرنا۔ ان چیزوں سے خدا یہ چاہتا ہے کہ ان کو دنیا میں عذاب کرے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) یہ کافر ہی ہوں

خلاصہ تفسیر - اور ان کے اموال اور اولاد آپ کو ( اس) تعجب میں نہ ڈالیں ( کہ ایسے مبغوضین پر یہ نعمتیں کیسے ہوئیں، سو یہ واقع میں ان کے لئے نعمتیں نہیں بلکہ آلات عذاب ہیں کیونکہ) اللہ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان ( مذکورہ) چیزوں کی وجہ سے دنیا میں ( بھی) ان کو گرفتار عذاب رکھے اور ان کا دم حالت کفر ہی میں نکل جائے ( جس سے آخرت میں بھی مبتلائے عذاب رہیں) اور جب کبھی کوئی ٹکڑا قرآن کا اس مضمون میں نازل کیا جاتا ہے کہ تم ( خلوص دل سے) اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ ہو کر جہاد کرو تو ان میں کے مقدور والے آپ سے رخصت مانگتے ہیں اور ( رخصت کا یہ مضمون ہوتا ہے کہ) کہتے ہیں کہ ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم بھی یہاں ٹھہرنے والوں کے ساتھ رہ جائیں ( البتہ ایمان و اخلاص کے دعوے میں کچھ کرنا نہیں پڑتا اس کو کہہ دیا کہ ہم تو مخلص ہیں) وہ لوگ ( غایت بےحمیتی سے) خانہ نشین عورتوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے، اور انکے دلوں پر مہر لگ گئی جس سے وہ ( حمیت و بےحمیتی کو) سمجہتے ہی نہیں ہاں لیکن رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی ہمراہی میں جو مسلمان ہیں انہوں نے ( البتہ اس حکم کو مانا اور) اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے جہاد کیا اور انہی کے لئے ساری خوبیاں ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں، ( اور وہ خوبی اور کامیابی یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں ( اور) وہ ان میں ہمیشہ کو رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔- معارف و مسائل - آیات مذکورہ میں بھی انہی منافقین کا حال بیان کیا گیا جو غزوہ تبوک میں شریک ہونے سے حیلے بہانے کرکے رک گئے تھے، ان منافقین میں بعض مال دار خوش حال لوگ بھی تھے، ان کے حال سے مسلمانوں کو یہ خیال ہوسکتا تھا کہ جب یہ لوگ اللہ کے نزدیک مردود و نامقبول ہیں تو ان کو دنیا میں ایسی نعمتیں کیوں ملیں۔- اس کے جواب میں پہلی آیت میں فرمایا کہ اگر غور کرو گے تو ان کے اموال و اولاد ان کے لئے رحمت و نعمت نہیں بلکہ دنیا میں بھی عذاب ہی ہیں، آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہے، دنیا میں عذاب ہونا اس طرح ہے کہ مال کی محبت، اس کی حفاظت کی اور پھر اس کے بڑھانے کی فکریں ان کو ایسی لگی رہتی ہیں کہ کسی وقت کسی حال چین نہیں لینے دیتیں، ساز و سامان راحت کا ان کے پاس کتنا ہی ہو مگر راحت نہیں ہوتی، جو قلب کے سکون و اطمینان کا نام ہے، اس کے علاوہ یہ دنیا کا مال و متاع چونکہ ان کو آخرت سے غافل کرکے کفر و معاصی میں انہماک کا سبب بھی بن رہا ہے اس لئے سبب عذاب ہونے کی وجہ سے بھی اس کو عذاب کہا سکتا ہے، اسی لئے الفاظ قرآن میں لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان اموال ہی کے ذریعہ ان کو سزا دینا چاہتا ہے۔

86

وَإِذَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَجَٰهِدُوا۟ مَعَ رَسُولِهِ ٱسْتَـْٔذَنَكَ أُو۟لُوا۟ ٱلطَّوْلِ مِنْهُمْ وَقَالُوا۟ ذَرْنَا نَكُن مَّعَ ٱلْقَٰعِدِينَ

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ ہو کر لڑائی کرو تو جو ان میں دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجیئے کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی ان کے ساتھ رہیں

اُولُوا الطَّوْلِ کا لفظ تخصیص کے لئے نہیں بلکہ اس سے غیر اولی الطول یعنی غیر مستطیع لوگوں کا حال بدرجہ اولی معلوم ہوگیا کہ ان کے پاس تو ایک ظاہری عذر بھی تھا۔

87

رَضُوا۟ بِأَن يَكُونُوا۟ مَعَ ٱلْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں۔ (گھروں میں بیٹھ) رہیں ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے تو یہ سمجھتے ہی نہیں

Explained together with ayah 86

88

لَٰكِنِ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ جَٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلْخَيْرَٰتُ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے۔ انہیں لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں۔ اور یہی مراد پانے والے ہیں

Explained together with ayah 86

89

أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

خدا نے ان کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہی گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

Explained together with ayah 86

90

وَجَآءَ ٱلْمُعَذِّرُونَ مِنَ ٱلْأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ ٱلَّذِينَ كَذَبُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ ۚ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے ہیں ان کو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا

خلاصہ تفسیر - اور کچھ بہانہ باز لوگ دیہاتیوں میں سے آئے تاکہ ان کو ( گھر رہنے کی) اجازت مل جائے اور ( ان دیہاتیوں میں سے) جنہوں نے خدا سے اور اس کے رسول سے ( دعوائی ایمان میں) بالکل ہی جھوٹ بولا تھا وہ بالکل ہی بیٹھ رہے ، ( جھوٹے عذر کرنے بھی نہ آئے) ان میں جو ( آخر تک) کافر رہیں گے ان کو ( آخرت میں) دردناک عذاب ہوگا ( اور جو توبہ کرلیں تو عذاب سے بچ جائیں گے ) ۔- معارف و مسائل - اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ان دیہاتیوں میں دو قسم کے لوگ تھے، ایک تو وہ جو حیلے بہانے پیش کرنے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ان کو جہاد میں چلنے سے رخصت دے دیجائے، اور کچھ ایسے سرکش بھی تھے جنہوں نے اس کی بھی پروا نہیں کی کہ رخصت لے لیں وہ از خود ہی اپنے گھروں میں بیٹھ رہے۔- حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جد بن قیس کو جہاد میں نہ جانے کی اجازت دے دیتو چند منافقین بھی خدمت میں حاضر خدمت ہوئے، اور کچھ حیلے بہانے پیش کرکے ترک جہاد کی اجازت مانگی، آپ نے اجازت تو دیدی، مگر یہ سمجھ لیا کہ یہ جھوٹے عذر کر رہے ہیں، اس لئے ان سے اعراض فرمایا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس نے بتلا دیا کہ ان کا عذر قابل قبول نہیں، اس لئے ان کو عذاب الیم کی وعید سنائی گئی، البتہ اس کے ساتھ (آیت) الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ فرماکر اشارہ کردیا کہ ان میں سے بعض کا عذر کفر و نفاق کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ طبعی سستی کے سبب تھا وہ ان کفار کے عذاب میں شامل نہیں۔

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.