Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 71–80 of 129

71

وَٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍۢ ۚ يَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

خلاصہ تفسیر - اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے ( دینی) رفیق ہیں، نیک باتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانتے ہیں ان لوگوں پر ضرور اللہ تعالیٰ رحمت کرے گا) جسکی تفصیل وَعَدَ اللّٰهُ میں عنقریب آتی ہے) بلا شبہ اللہ تعالیٰ قادر ( مطلق) ہے ( جزائے تام دے سکتا ہے) حکمت والا ہے ( جزائے مناسب دیتا ہے، اب اس رحمت کا بیان ہوتا ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور نفیس مکانوں کا ( وعدہ کر رکھا ہے) جو کہ ان ہمیشگی کے باغوں میں ہوں گے اور ( ان سب نعمتوں کے ساتھ) اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ( جو اہل جنت سے ہمیشہ ہمیشہ رہے گی، ان) سب ( نعمتوں) سے بڑی چیز ہے یہ ( جزائے مذکورہ) بڑی کامیابی ہے اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار ( سے بالسنان) اور منافقین سے ( باللسان) جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے ( دنیا میں تو یہ اس کے مستحق ہیں) اور ( آخرت میں) انکا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔- معارف ومسائل - سابقہ آیات میں منافقین کے حالات، ان کی سازشوں اور ایذاؤں اور ان کے عذاب کا بیان تھا، قرآنی اسلوب کے مطابق مناسب تھا کہ اس جگہ مومنین مخلصین کے حالات اور ان کے ثواب اور درجات کا بھی بیان آجائے، آیات مذکورہ میں اسی کا بیان ہے۔- یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ اس موقع پر منافقین اور مومنین مخلصین کے حالات کا تقابل ذکر کیا گیا مگر ایک جگہ منافقین کے بارے میں تو یہ فرمایا کہ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ، اور اس کے مقابل مومنین کا ذکر آیا تو اس میں فرمایا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ، اس میں اشارہ ہے کہ منافقین کے باہمی تعلقات اور روابط تو محض خاندانی اشتراک یا اغراض پر مبنی ہوتے ہیں نہ ان کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور نہ ان پر وہ ثمرات مرتب ہوتے ہیں جو دلی دوستی اور قلبی ہمدردی کے تعلق پر مرتب ہوتے ہیں، بخلاف مومنین کے کہ وہ ایک دوسرے کے مخلص دوست اور سچی ہمدرد ہوتے ہیں۔ ( قرطبی) - اور چونکہ دوستی اور ہمدردی خالص اللہ کے لئے ہوتی ہے وہ ظاہراً و باطناً اور حاضر و غائب یکساں ہوتی ہے، ہمیشہ پا ئیدار رہتی ہے، مومن مخلص کی یہی علامت ہے، ایمان اور عمل صالح کا خاصہ ہے یہ کہ باہم دوستی اور محبت پیدا کرتا ہے، قرآن کریم کا ارشاد اسی کے متعلق ہے (آیت) سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا، یعنی جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کے پابند ہوئے اللہ تعالیٰ ان کے آپس میں قلبی اور گہری دوستی پیدا فرما دیتے ہیں، آجکل ہمارے ایمان و عمل صالح ہی کی کوتاہی ہے کہ مسلمانوں کے باہم تعلقات کبھی ایسے نظر نہیں آتے، بلکہ اغراض کے تابع ہیں۔

72

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةًۭ فِى جَنَّٰتِ عَدْنٍۢ ۚ وَرِضْوَٰنٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ أَكْبَرُ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے

Explained together with ayah 71

73

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ جَٰهِدِ ٱلْكُفَّارَ وَٱلْمُنَٰفِقِينَ وَٱغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۚ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو۔ اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانہ دورخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

(آیت) جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ، اس آیت میں کفار اور منافقین دونوں سے جہاد اور ان کے معاملہ میں شدت اختیار کرنے کا حکم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا ہے، ظاہری کفار سے جہاد کا معاملہ تو واضح ہے، لیکن منافقین سے جہاد کا مطلب خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تعامل سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے ساتھ جہاد سے مراد بزانی جہاد ہے کہ ان کو اسلام کی حقانیت سمجہنے کی طرف دعوت دیں تاکہ وہ اپنے دعوی اسلام میں مخلص ہوجائیں ( قرطبی و مظہری) - (آیت) وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ لفظ غلظ کے اصلی معنی یہ ہیں کہ مخاطب جس طرز عمل کا مستحق ہے اس میں کوئی رعایت اور نرمی نہ برتی جائے، یہ لفظ رافت کے مقابل استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی رحمت اور نرم دلی کے ہیں۔- امام قرطبی نے فرمایا کہ اس جگہ غلظت استعمال کرنے سے عملی غلظت مراد ہے کہ ان پر احکام شرعیہ جاری کرنے میں کوئی رعایت اور نرمی نہ برتی جائے، زبان اور کلام میں غلظت اختیار کرنا مراد نہیں، کیونکہ وہ سنت انبیاء کے خلاف ہے، وہ کسی سے سخت کلامی اور سب و شتم نہیں کرتے ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :- " اذا زنت امة احدکم فلیجلدھا الحد ولا یثرب علیہا " اگر تمہاری کوئی کنیز زنا کی مرتکب ہو تو اس کی سزا حد شرعی اس پر جاری کردو مگر زبانی ملامت اور طعن وتشنیع نہ کرو “ (قرطبی)- اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حال میں خود حق تعالیٰ نے فرمایا (آیت) وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ ، یعنی اگر آپ سخت کلام سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے بھاگ جاتے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تعامل میں بھی کہیں یہ ثابت نہیں کہ کفار و منافقین سے گفتگو اور خطاب میں کبھی غلظت اختیار فرمائی ہو۔- تنبیہ : افسوس کہ خطاب اور کلام میں غلظت جسکو کفار کے مقابلہ میں بھی اسلام نے اختیار نہیں کیا آجکل کے مسلمان دوسرے مسلمانوں کے بارے میں بیدھڑک استعمال کرتے ہیں اور بہت سے لوگ تو اس کو دین کی خدمت سمجھ کر خوش ہوتے ہیں۔ انا اللہ۔

74

يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ مَا قَالُوا۟ وَلَقَدْ قَالُوا۟ كَلِمَةَ ٱلْكُفْرِ وَكَفَرُوا۟ بَعْدَ إِسْلَٰمِهِمْ وَهَمُّوا۟ بِمَا لَمْ يَنَالُوا۟ ۚ وَمَا نَقَمُوٓا۟ إِلَّآ أَنْ أَغْنَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ مِن فَضْلِهِۦ ۚ فَإِن يَتُوبُوا۟ يَكُ خَيْرًۭا لَّهُمْ ۖ وَإِن يَتَوَلَّوْا۟ يُعَذِّبْهُمُ ٱللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًۭا فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۚ وَمَا لَهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍۢ

یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پاسکے۔ اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کون سا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولت مند کر دیا ہے۔ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور اگر منہ پھیر لیں تو ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دے گا اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا

خلاصہ تفسیر - وہ لوگ قسمیں کھا جاتے ہیں کہ ہم نے فلانی بات ( مثلاً یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کردیں) نہیں کہی حالانکہ یقناً انہوں نے کفر کی بات کہی تھی، ( کیونکہ آپ کے قتل کے بارے میں گفتگو کرنے کا کفر ہونا ظاہر ہے) اور ( وہ بات کہہ کر) اپنے اسلام ( ظاہری) کے بعد ( ظاہر میں بھی) کافر ہوگئے ( گو اپنے ہی مجمع میں سہی جس کی خبر مسلمانوں کو بھی ہوگئی اور اس سے عام طور پر کفر کھل گیا) اور انہوں نے ایسی بات کا ارادہ کیا تھا جو ان کے ہاتھ نہ لگی ( کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنا مگر ناکام رہے اور یہ انہوں نے صرف اس بات کا بدلہ دیا ہے کہ ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے رزق خداوندی سے مال دار کردیا ( اس احسان کا بدلہ ان کے نزدیک یہی ہوگا کہ برائی کریں) سو اگر ( اس کے بعد بھی) توبہ کریں تو ان کے لئے ( دونوں جہان میں) بہتر ( اور نافع) ہوگا ( چناچہ جلاس کو توبہ کی توفیق ہوگئی) اور اگر ( توبہ سے) روگردانی کی ( اور کفر و نفاق ہی پر جمے رہے) تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ) میں دردناک سزا دے گا ( چناچہ عمر بھر بدنام اور پریشان اور خائف رہنا اور مرتے وقت مصیبت کا مشاہدہ کرنا یہ دنیوی عذاب ہے اور آخرت میں دوزخ میں جانا ظاہر ہی ہے) اور ان کا دنیا میں نہ کوئی یار ہے اور نہ مددگار ( کہ عذاب سے بچالے اور جب دنیا ہی میں کوئی یار مددگار نہیں جہاں اکثر مدد ہوجاتی ہے تو آخرت میں تو بدرجہ اولی منفی ہوگا اور ان ( منافقین) میں بعضے آدمی ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے عہد کرتے ہیں ( کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عہد کرنا اور خدا سے عہد کرنا برابر ہے، اور وہ عہد یہ تھا کہ) اگر اللہ تعالیٰ ہم کو اپنے فضل سے ( بہت سا مال) عطا فرما دے تو ہم ( اس میں سے) خوب خیرات کریں اور ہم ( اس کے ذریعہ سے) خوب نیک نیک کام کیا کریں، سو جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے ( بہت سا) دے دیاتو اس میں بخل کرنے لگے، ( کہ زکوٰة نہ دی) اور ( اطاعت سے) روگردانی کرنے لگے اور وہ تو روگردانی کے ( پہلے ہی سے) عادی ہیں سو اللہ تعالیٰ نے ان ( کے اس فعل) کی سزا میں ان کے دلوں میں نفاق ( قائم) کردیا، جو خدا کے پاس جانے کے دن تک ( یعنی دم مرگ تک) رہے گا اس سبب سے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے اپنے وعدہ میں خلاف کیا اور اس سبب سے کہ وہ ( اس وعدہ میں شروع ہی میں) جھوٹ بولتے تھے ( یعنی نیت ایفاء کی اس وقت بھی نہ تھی پس نفاق تو اس وقت بھی دل میں تھا جس کی فرع یہ کذب و اخلاف ہے، پھر اس کذب و اخلاف کے وقوع سے اور زیادہ مستحق غضب ہوئے، اور اس زیادہ غضب کا اثر یہ ہوا کہ وہ نفاق سابق اب دائمی اور غیر زائل ہوگیا کہ توبہ بھی نصیب نہ ہوگی، اسی حالت پر مر کر ابدالاباد جہنم میں رہنا نصیب ہوگا، اور باوجود کفر مضمر کے جو اسلام اور اطاعت کا اظہار کرتے ہیں تو) کیا اس ( منافقین کو یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے دل کا راز اور ان کی سرگوشی سب معلوم ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام غیب کی باتوں کو خوب جانتے ہیں ( اور اس لئے وہ ظاہری اسلام اور اطاعت ان کے کام نہیں آسکتے بالخصوص آخرت میں، پس سزائے جہنم ضروری ہے۔- معارف و مسائل - آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت يَحْلِفُوْنَ باللّٰهِ میں پھر منافقین کا تذکرہ ہے کہ وہ اپنی مجلسوں میں کلمات کفر کہتے رہتے ہیں، پھر اگر مسلمانوں کو اطلاع ہوگئی تو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنی براءت ثابت کرتے ہیں، اس آیت کے شان نزول میں بغوی نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے موقع پر ایک خطبہ دیا، جس میں منافقین کی بدحالی اور انجام بد کا ذکر فرمایا، حاظرین میں ایک منافق جلاس بھی موجود تھا، اس نے اپنی مجلس میں جا کر کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ کہتے ہیں اگر وہ سچ ہے تو ہم گدھوں سے بھی زیادہ …

75

۞ وَمِنْهُم مَّنْ عَٰهَدَ ٱللَّهَ لَئِنْ ءَاتَىٰنَا مِن فَضْلِهِۦ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے

دوسری آیت وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ ، بھی ایک خاص واقعہ سے متعلق ہے، جو ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، طبرانی اور بیہقی نے حضرت ابو امامہ باہلی کی روایت سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص ثعلبہ ابن حاطب انصاری نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ درخواست کی کہ آپ دعاء کریں کہ میں مالدار ہوجاؤ ں، آپ نے فرمایا کہ کیا تم کو میرا طریقہ پسند نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر میں چاہتا تو مدینہ کے پہاڑ سونا بن کر میرے ساتھ پھرا کرتے، مگر مجھے ایسی مال داری پسند نہیں، یہ شخص چلا گیا، مگر دوبارہ پھر آیا اور پھر یہی درخواست اس معاہدہ کے ساتھ پیش کی کہ اگر مجھے مال مل گیا تو میں ہر حق والے کو اس کا حق پہنچاؤں گا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعاء کردی جس کا اثر یہ ظاہر ہوا کہ اس کی بکریوں میں بےپناہ زیادتی شروع ہوئی، یہاں تک کہ مدینہ کی جگہ اس پر تنگ ہوگئی، تو باہر چلا گیا، اور ظہر عصر کی دو نمازیں مدینہ میں آکر آپ کے ساتھ پڑہتا تھا، باقی نماز میں بھی جنگل میں جہاں اس کا یہ مال تھا وہیں ادا کرتا تھا۔- پھر انہی بکریوں میں اور زیادتی اتنی ہوگئی کہ یہ جگہ بھی تنگ ہوگئی، اور شہر مدینہ سے دور جا کر کوئی جگہ لی، وہاں سے صرف جمعہ کی نماز کے لئے مدینہ میں آتا اور پنجگانہ نمازیں وہیں پڑھنے لگا، پھر اس مال کی فراوانی اور بڑھی تو یہ جگہ بھی چھوڑنا پڑی، اور مدینہ سے بہت دور چلا گیا، جہاں جمعہ اور جماعت سب سے محروم ہوگیا۔- کچھ عرصہ کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے اس کا حال دریافت کیا تو لوگوں نے بتلایا کہ اس کا مال اتنا زیادہ ہوگیا کہ شہر کے قریب میں اس کی گنجائش ہی نہیں، اس لئے کسی دور جگہ پر جا کر اس نے قیام کیا ہے، اور اب یہاں نظر نہیں پڑتا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سن کر تین مرتبہ فرمایا ویح ثعلبۃ، یعنی ثعلبہ پر افسوس ہے ثعلبہ پر افسوس ہے، ثعلبہ پر افسوس ہے، اتفاق سے اسی زمانہ میں آیت صدقات نازل ہوگئی، جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدقات کا مکمل قانون لکھوا کردو شحصوں کو عامل صدقہ کی حیثیت سے مسلمانوں کے مویشی کے صدقات وصول کرنے کے لئے بھیج دیا، اور ان کو حکم دیا کہ ثعلبہ بن حاطب کے پاس بھی پہونچیں، اور بنی سلیم کے ایک اور شخص کے پاس جانے کا بھی حکم دیا۔- یہ دونوں جب ثعلبہ کے پاس پہنچنے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان دکھایا، تو ثعلبہ کہنے لگا کہ یہ تو جزیہ ہوگیا، جو غیر مسلموں سے لیا جاتا ہے، اور پھر کہا کہ اچھا اب تو آپ جائیں جب واپس ہوں تو یہاں آجائیں، یہ دونوں چلے گئے۔- اور دوسرے شخص سلیمی نے جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان سنا تو اپنے مویشی اونٹ اور بکریوں میں جو سب سے بہتر جانور تھے، نصاب صدقہ کے مطابق وہ جانور لے کر خود ان دونوں قاصدان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کہا کہ ہمیں تو حکم یہ ہے کہ جانوروں میں اعلیٰ چھانٹ کر نہ لیں، بلکہ متوسط وصول کریں، اس لئے ہم تو یہ نہیں لے سکتے، سلیمی نے اصرار کیا کہ میں اپنی خوشی سے یہی پیش کرنا چاہتا ہوں، یہی جانور قبول کرلیجئے۔- پھر یہ دونوں حضرات دوسرے مسلمانوں سے صدقات وصول کرتے ہوئے واپس آئے تو پھر ثعلبہ کے پاس پہونچے، تو اس نے کہا کہ لاؤ وہ قانون صدقات مجھے دکھلاؤ پھر اس کو دیکھ کر یہی کہنے لگا کہ یہ تو ایک قسم کا جزیہ ہوگیا، جو مسلمانوں سے نہیں لینا چاہئے، اچھا اب تو آپ جائیں میں غور کروں گا پھر کوئی فیصلہ کرونگا۔- جب یہ دونوں حضرات واپس مدینہ طیبہ پہنچنے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے حالات پوچھنے سے پہلے ہی پھر وہ کلمہ دہرایا جو پہلے فرمایا تھا یا ویح ثعلبہ یا ویح ثعلبہ یا ویح ثعلبہ، …

76

فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُم مِّن فَضْلِهِۦ بَخِلُوا۟ بِهِۦ وَتَوَلَّوا۟ وَّهُم مُّعْرِضُونَ

لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور (اپنے عہد سے) روگردانی کرکے پھر بیٹھے

Explained together with ayah 75

77

فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًۭا فِى قُلُوبِهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ يَلْقَوْنَهُۥ بِمَآ أَخْلَفُوا۟ ٱللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا۟ يَكْذِبُونَ

تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لیے جس میں وہ خدا کے روبرو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لیے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے

(آیت) فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بد عملی اور بد عہدی کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں نفاق کو اور پختہ کردیا، کہ اب ان کو توبہ کی توفیق ہی نہ ہوگی۔- فائدہ :۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض اعمال بد کی نحوست ایسی ہوتی ہے کہ توبہ کی توفیق سلب ہوجاتی ہے، نعوذ با للہ منہ - ابن جریر نے حضرت ابو امامہ کی تفصیلی روایت جو ابھی ذکر کی گئی ہے اس کے آخر میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ثعلبہ کے لئے یا ویح ثعلبہ تین مرتبہ فرمایا تو اس مجلس میں ثعلبہ کے کچھ عزیز و اقارب بھی موجود تھے، یہ سن کر ان میں سے ایک آدمی فورًا سفر کر کے ثعلبہ کے پاس پہونچا، اور اس کو ملامت کی اور بتلایا کہ تمہارے بارے میں قرآن کی آیت نازل ہوگئی ہے، یہ سن کر ثعلبہ گھبرایا، اور مدینہ حاضر ہو کر درخواست کی کہ میرے صدقہ قبول کرلیا جائے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے حق تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے، یہ سن کر ثعلبہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا۔- رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ تو تمہارا اپنا عمل ہے، میں نے تمہیں حکم دیا تم نے اطاعت نہ کی، اب تمہارا صدقہ قبول نہیں ہوسکتا، ثعلبہ ناکام واپس ہوگیا، اور اس کے کچھ دن بعد ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی، اور صدیق اکبر خلیفہ ہوئے تو ثعلبہ صدیق اکبر کی خدمت میں حاضر ہوا، اور کہا کہ میرا صدقہ قبول کرلیجئے، صدیق اکبر نے فرمایا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبول نہیں کیا تو میں کیسے قبول کرسکتا ہوں۔- پھر صدیق اکبر کی وفات کے بعد ثعلبہ فاروق اعظم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور وہی درخواست کی اور وہی جواب ملا جو صدیق اکبر نے دیا تھا، پھر حضرت عثمان غنی کے زمانہ خلافت میں ان سے درخواست کی انہوں نے بھی انکار کردیا، اور خلافت عثمان کے زمانہ میں ثعلبہ مرگیا، ( نعوذ باللہ من سیئات الاعمال) ( مظہری)- مسئلہ : یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ثعلبہ تائب ہو کر حاضر ہوگیا تو اس کی توبہ کیوں قبول نہ کی گئی، وجہ ظاہر ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ اب بھی اخلاص کے ساتھ توبہ نہیں کر رہا ہے، اس کے دل میں نفاق موجود ہے، محض وقتی مصلحت سے مسلمانوں کو دھوکہ دے کر راضی کرنا چاہتا ہے، اس لئے قبول نہیں، اور جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو منافق قرار دے دیاتو بعد کے خلفاء کو اس کا صدقہ قبول کرنے کا حق نہیں رہا، کیونکہ زکوٰة کے لئے مسلمان ہونا شرط ہے، البتہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد چونکہ کسی شخص کے دل کا نفاق قطعی طور پر کسی کو معلوم نہیں ہوسکتا، اس لئے آئندہ کا حکم یہی ہے کہ جو شخص توبہ کرلے اور اسلام و ایمان کا اعتراف کرلے اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کیا جائے خواہ اس کے دل میں کچھ بھی ہو ( بیان القرآن) ۔

78

أَلَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَىٰهُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ عَلَّٰمُ ٱلْغُيُوبِ

کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ان کے بھیدوں اور مشوروں تک سے واقف ہے اور یہ کہ وہ غیب کی باتیں جاننے والا ہے

Explained together with ayah 77

79

ٱلَّذِينَ يَلْمِزُونَ ٱلْمُطَّوِّعِينَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ فِى ٱلصَّدَقَٰتِ وَٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ ۙ سَخِرَ ٱللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور جو (بےچارے غریب صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے (اور تھوڑی سی کمائی میں سے خرچ بھی کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ خدا ان پر ہنستا ہے اور ان کے لیے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے

خلاصہ تفسیر - یہ ( منافقین) ایسے ہیں کہ نفل صدقہ دینے والے مسلمانوں پر صدقات کے بارے میں ( تھوڑا ہونے پر) طعن کرتے ہیں اور ( بالخصوص) ان لوگوں پر ( اور زیادہ) جن کو بجز محنت مزدوری ( کی آمدنی) کے اور کچھ میسر نہیں ہوتا ( اور وہ بیچارے اسی مزدوری میں سے ہمت کر کے کچھ صدقہ نکال دیتے ہیں) یعنی ان سے تمسخر کرتے ہیں ( یعنی مطلق طعن تو سب ہی پر کرتے ہیں کہ کیا تھوڑی سی چیز صدقہ میں لائے، اور ان محنت کش غریبوں سے تمسخر بھی کرتے ہیں کہ لو یہ بھی صدقہ دینے کے قابل ہوگئے) اللہ تعالیٰ ان کو تمسخر کا ( تو خاص) بدلہ دے گا اور ( ویسے مطلق طعن کا یہ بدلہ ملے گا کہ) ان کے لئے ( آخرت میں) دردناک سزا ہوگی، آپ خواہ ان منافقین کے لئے استغفار کریں، یا ان کے لئے استغفار نہ کریں ( دونوں حال برابر ہیں کہ ان کو اس سے کوئی نفع نہیں ہوگا، انکی مغفرت نہیں کی جائے گی) اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ ( یعنی بکثرت) بھی استغفار کریں گے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو نہ بخشے گا، یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ تعالیٰ ایسے سرکش لوگوں کو ( جو کبھی ایمان اور حق کی طلب ہی نہ کریں) ہدایت نہیں کیا کرتا ( اس وجہ سے یہ عمر پھر کفر ہی پر قائم رہے، اسی پر مر گئے ) ۔- معارف و مسائل - پہلی آیت میں نفلی صدقات دینے والے مسلمانوں پر منافقین کے طعن وتشنیع کا ذکر ہے، صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابو مسعود نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں صدقہ کا حکم دیا گیا، اور ہمارا حال یہ تھا کہ ہم محنت مزدوری کرتے تھے ( کوئی مال ہمارے پاس نہ تھا، اسی مزدوری سے جو کچھ ہمیں ملتا تھا اسی میں سے صدقہ بھی نکالتے تھے) چناچہ ابو عقیل نے آدھا صاع ( تقریباً پونے دو سیر) صدقہ پیش کیا، دوسرا آدمی آیا اس نے اس سے کچھ زیادہ صدقہ کیا، منافقین ان پر طعن وتشنیع کرنے لگے کہ کیا حقیر اور ذرا سی چیز صدقہ میں لائے، اللہ تعالیٰ کو ایسی چیز کی ضرورت نہیں، اور جس نے کچھ زیادہ صدقہ کیا اس پر یہ الزام لگایا کہ اس نے ریاءً لوگوں کو دکھلانے کے لئے صدقہ کیا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔- سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ میں جزاء تمسخر کو تمسخر سے تعبیر کیا گیا ہے۔- دوسری آیت میں جو منافقین کے بارے میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرمایا گیا کہ آپ ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں برابر ہے، اور کتنا ہی استغفار کریں ان کی مغفرت نہیں ہوگی، اس کا پورا بیان آگے آنے والی آیت لَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ کے تحت آئے گا۔

80

ٱسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةًۭ فَلَن يَغْفِرَ ٱللَّهُ لَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَٰسِقِينَ

تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو۔ (بات ایک ہے) ۔ اگر ان کے لیے ستّر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

Explained together with ayah 79

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.