Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 51–60 of 129

51

قُل لَّن يُصِيبَنَآ إِلَّا مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَىٰنَا ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اس کے جو خدا نے ہمارے لیے لکھ دی ہو وہی ہمارا کارساز ہے۔ اور مومنوں کو خدا ہی کا بھروسہ رکھنا چاہیئے

آٹھویں آیت میں حق تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو منافقین کے مذکورہ اقوال سے متاثر نہ ہونے اور اصل حقیقت کو ہمیشہ سامنے رکھنے کی ہدایت ان الفاظ میں دی : (آیت) قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَآ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا ۚ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤ ْمِنُوْنَ ، یعنی آپ ان مادی اسباب کی پرستش کرنے والوں کو بتلا دیجیئے کہ تم دھوکہ میں ہو یہ مادی اسباب محض ایک پردہ ہیں، ان کے اندر کام کرنے والی قوت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، ہمیں جو حال پیش آتا ہے وہ سب وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے، اور وہی ہمارا مولیٰ اور مددگار ہے، اور مسلمانوں کو چاہئے کہ اسی پر اصل بھروسہ رکھیں، مادی اسباب کو صرف اسباب و علامات ہی کی حیثیت سے دیکھیں، ان پر کسی بھلائی یا برائی کا مدار نہ جانیں۔- اعتقاد تقدیر استعمال تدبیر کے ساتھ ہونا چاہئے بےتدبیری کا نام توکل رکھنا غلط ہے :- اس آیت نے مسئلہ توکل کی اصل حقیقت بھی واضح کردی، کہ تقدیر و توکل پر یقین رکھنے کا یہ حاصل نہ ہونا چاہئے، کہ آدمی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے، اور یہ کہے کہ جو کچھ قسمت میں ہوگا وہ ہوجائے گا بلکہ ہونا یہ چاہئے کہ اسباب اختیاریہ کے لئے اپنی پوری توانائی اور ہمت صرف کی جائے اور سجد قدرت اسباب جمع کرنے کے بعد معاملہ کو تقدیر و توکل کے حوالہ کریں، نظر صرف اللہ تعالیٰ پر رکھیں کہ نتائج ہر کام کے اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔- مسئلہ تقدیر و توکل میں عام دنیا کے لوگ بڑی افراتفری میں پائے جاتے ہیں، کچھ بےدین لوگ تو وہ ہیں جو سرے سے تقدیر و توکل کے قائل ہی نہیں انہوں نے مادی اسباب ہی کو خدا بنایا ہوا ہے، اور کچھ ناواقف ایسے بھی ہیں جنہوں نے تقدیر و توکل کو اپنی کم ہمتی اور بیکاری کا بہانہ بنا لیا ہے، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جہاد کے لئے پوری پوری تیاری اور اس کے بعد اس آیت کے نزول نے اس افراط وتفریط کو ختم کرکے صحیح راہ دکھلا دی " بر توکل زانوئے اشتر بہ بند "۔ یعنی اسباب اختیاریہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی دی ہوئی نعمت ہیں، ان سے فائدہ نہ اٹھانا ناشکری اور بیوقوفی ہے، البتہ اسباب کو اساب کے درجہ سے آگے نہ بڑھاؤ اور عقیدہ یہ رکھو کہ نتائج وثمرات ان اسباب کے تابع نہیں، بلکہ فرمان حق جل شانہ کے تابع ہیں۔

52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَآ إِلَّآ إِحْدَى ٱلْحُسْنَيَيْنِ ۖ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَن يُصِيبَكُمُ ٱللَّهُ بِعَذَابٍۢ مِّنْ عِندِهِۦٓ أَوْ بِأَيْدِينَا ۖ فَتَرَبَّصُوٓا۟ إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ

کہہ دو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا (یا تو) اپنے پاس سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں سے (عذاب دلوائے) تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں

نویں آیت نے مرد مومن کی ایک البیلی شان کا ذکر کرکے ان کی مصیبت پر خوش ہو نیوالے منافقین کو یہ جواب دے دیا کہ تم جس چیز کو ہمارے لئے مصیبت سمجھ کر خوش ہوتے ہو ہمارے نزدیک وہ مصیبت بھی مصیبت نہیں، بلکہ راحت و کامیابی ہی کی ایک دوسری صورت ہے، کیونکہ مرد مومن اپنے عزم میں ناکام ہو کر بھی کامیاب رہتا ہے، اور بگڑنے میں بھی بنتا ہے۔- نہ شوخی چل سکی باد صبا کی بگڑنے میں بھی زلف اس کی نبا کی - مذکورہ آیت میں (آیت) هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ، کا یہی مطلب ہے اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ کفار کا حال اس کے بالکل بر عکس ہے کہ ان کو کسی حال عذاب و مصیبت سے چھٹکارا نہیں، یا تو دنیا ہی میں مسلمانوں کے ہاتھوں ان پر خدا کا عذاب آجائیگا، اور اس طرح دنیا و آخرت دونوں میں وہ عذاب چھکیں گے، اور اگر دنیا میں کسی طرح اس سے بچ گئے تو آخرت کے عذاب سے خلاصی کا کوئی امکان نہیں۔

53

قُلْ أَنفِقُوا۟ طَوْعًا أَوْ كَرْهًۭا لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمْ ۖ إِنَّكُمْ كُنتُمْ قَوْمًۭا فَٰسِقِينَ

کہہ دو کہ تم (مال) خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا تم نافرمان لوگ ہو

خلاصہ تفسیر - آپ ( ان منافقین سے) فرما دیجئے کہ تم ( جہاد وغیرہ میں) خواہ خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے کسی طرح ( خدا کے نزدیک) مقبول نہیں ( کیونکہ) بلاشبہ تم نافرمانی کرنے والے لوگ ہو، ( مراد اس سے کفر ہے جیسا کہ آگے آتا ہے) اور ان کی خیرات قبول ہونے سے اس کے سوا کوئی مانع نہیں کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ( اسی کو اوپر نافرمان کہا تھا اور کافر کا کوئی عمل مقبول نہیں) اور ( اس کفر باطنی کی علامت ظاہر میں یہ ہے کہ) وہ لوگ نماز نہیں پڑھتے مگر ہارے جی سے اور ( نیک کام میں) خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری کے ساتھ ( کیونکہ دل میں ایمان تو ہے نہیں جس سے امید ثواب ہو اور اس امید سے رغبت ہو محض بدنامی سے بچنے کے ہی کرتے ہیں جو کچھ کرتے ہیں اور جب وہ ایسے مردود ہیں تو ان کے اموال اور اولاد آپ کو ( اس) تعجب میں نہ ڈالیں ( کہ ایسے غیر مقبول مردود لوگوں کو اتنے انعامات کس طرح عطا ہوئے، کیونکہ واقع میں ان کے لئے نعمت نہیں ایک قسم کا عذاب ہی ہے کیونکہ اللہ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان چیزوں کی وجہ سے دنیوی زندگی میں ( بھی) ان کو گرفتار عذاب رکھے اور ان کی جان کفر ہی کی حالت میں نکل جاوے ( جس سے آخرت میں بھی گرفتار عذاب ہوں تو جس مال و اولاد کا یہ انجام ہو اس کو انعام سمجہنا ہی غلطی ہے) اور یہ ( منافق ہیں) وہ تم میں سے نہیں، لیکن ( بات یہ ہے کہ) وہ ڈرپوک لوگ ہیں ( ڈر کے مارے جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے کفر کو چھپاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ دوسرے کفار کا سا معاملہ مسلمانوں کی طرف سے نہ ہونے لگے، اور کسی دوسری جگہ ان کا ٹھکانا نہیں جہان آزادی سے جا رہیں ورنہ) ان لوگوں کو اگر کوئی پناہ کی جگہ مل جاتی یا ( کہیں پہاڑ وغیرہ میں) غار ( مل جاتے) یا کوئی گھس بیٹھنے کی ذرا جگہ ( مل جاتی) تو یہ ضرور منہ اٹھا کر ادھر ہی چل دیتے ( مگر یہ صورت ہی نہیں اس لئے جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے آپ کو مسلمان بتاتے ہیں) اور ان میں بعض لوگ وہ ہیں جو صدقات ( تقسیم کرنے) کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں ( اس تقسیم میں نعوذ بااللہ انصاف نہیں کیا گیا) تو اگر صدقات میں سے ان کو ( اپنی خواہش کے مطابق) نہیں ملتا تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں (جس سے معلوم ہوا کہ ان کے اعتراض کا منشاء دراصل کوئی اصول نہیں، بلکہ حرص دنیا اور خود غرضی ہے) اور ان کے لئے بہتر ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی رہتے جو کچھ اللہ نے ان کو ( دلوایا تھا) اور اس کے رسول نے دیا تھا اور ( اس کے متعلق) یوں کہتے کہ ہم کو اللہ ( کا دیا) کافی ہے ( ہم کو اتنا ہی قاعدہ سے مل سکتا تھا اسی میں خیر و برکت ہوگی، اور پھر اگر حاجت پیش آئے گی اور مصلحت ہوگی تو) آئندہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہم کو اور دے گا، اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیں گے ہم ( دل سے) اللہ ہی کی طرف راغب ہیں ( اسی سے سب امیدیں رکھتے ہیں ) ۔

54

وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَٰتُهُمْ إِلَّآ أَنَّهُمْ كَفَرُوا۟ بِٱللَّهِ وَبِرَسُولِهِۦ وَلَا يَأْتُونَ ٱلصَّلَوٰةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَىٰ وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَٰرِهُونَ

اور ان کے خرچ (موال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست کاہل ہوکر اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے

معارف و مسائل - سابقہ آیات میں منافقین کی بداخلاقی اور بد اعمالی کا ذکر تھا، مذکورہ تمام آیات میں بھی یہی مضمون ہے : (آیت) اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا، میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ منافقین کے مال و اولاد ان کے لئے نعمت نہیں عذاب ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کی محنت میں انہماک انسان کیلئے اس دنیا ہی میں ایک عذاب و مصیبت بن جاتا ہے، اول مال دنیا کے حاصل کرنے کی تمناؤں اور پھر تدبیروں میں کیسی کیسی محنت، مشقت اور کوفت جسمانی اور روحانی اٹھانی پڑتی ہے، نہ دن کا چین نہ رات کی نیند، نہ اپنے تن بدن کی خبر، نہ اہل و عیال ہی میں دل بہلانے کی فرصت، پھر اگر ذرا سا نقصان ہوگیا یا کوئی بیماری پیش آگئی تو غمون کا پہاڑ آپڑا، اور اگر ساری چیزیں اتفاق سے طبیعت اور خواہش کے مطابق حاصل بھی ہوجائیں تو اس کے گھٹ جانے کا اندیشہ اور بڑھاتے چلے جانے کی فکر کسی وقت چین نہیں لینے دیتی۔- پھر جب آخرکار یہ چیزیں موت کے وقت یا پہلے ہی اس کے ہاتھ سے جاتی ہیں تو اس پر حسرت و یاس مسلط ہوجاتی ہے یہ سب عذاب ہی عذاب ہے جس کو بیوقوف انسان جس نے سامان راحت کا نام راحت رکھ لیا ہے، اور حقیقی راحت ہی کو راحت سمجھ کر اس پر مگن رہتا ہے، جو حقیقت میں اس کیلئے دنیا کے چین و آرام کا بھی دشمن ہے اور آخرت کے عذاب کا مقدمہ بھی۔- کیا صدقات کا مال کافر کو دیا جاسکتا ہے : - آخری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اموال صدقات میں سے منافقین کو بھی حصہ ملا کرتا تھا، مگر وہ خواہش کے مطابق نہ ملنے پر ناراض ہوجاتے اور طعن وتشنیع کرنے لگتے تھے، یہاں اگر صدقات سے مراد عام معنی لئے جائیں جس میں صدقات واجبہ اور نافلہ سب شامل ہیں، تو کوئی اشکال ہی نہیں کیونکہ نفلی صدقات میں سے غیر مسلموں کو دینا باتفاق امت جائز اور سنت سے ثابت ہے، اور اگر صدقات سے مراد اس جگہ صدقات فرض، زکوٰة عشر وغیرہ ہی ہوں، تو منافقین کو اس میں سے حصہ دینا اس بناء پر تھا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے، اور ظاہری کوئی حجت ان کے کفر پر قائم نہ ہوئی تھی، اور اللہ تعالیٰ نے بمصلحت حکم یہی دے رکھا تھا کہ منافقین کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو مسلمانوں کے ساتھ کیا جاتا تھا ‘ ( بیان القرآن ملخصاً ) - (آیت) لَا يَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمْ كُسَالٰى، اس آیت میں منافقین کی دو علامتیں بتلائی گئی میں، ایک یہ کہ نماز کو آویں تو سستی کاہلی اور ہارے جی سے آویں دوسرے اللہ کی راہ میں خرچ کریں تو ناگواری کے ساتھ خرچ کریں۔- اس میں مسلمانوں کو بھی اس پر تنبیہ ہے کہ نماز میں سستی کاہلی اور زکوٰة صدقات سے دلی ناگواری پیدا ہونا علامت نفاق ہے، مسلمانوں کو کوشش کرکے ان علامات سے بچنا چاہئے۔

55

فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَٰدُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَٰفِرُونَ

تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں

Explained together with ayah 54

56

وَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنكُمْ وَمَا هُم مِّنكُمْ وَلَٰكِنَّهُمْ قَوْمٌۭ يَفْرَقُونَ

اور خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم ہی میں سے ہیں حالانکہ ہو تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں

Explained together with ayah 54

57

لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَـًٔا أَوْ مَغَٰرَٰتٍ أَوْ مُدَّخَلًۭا لَّوَلَّوْا۟ إِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُونَ

اگر ان کی کوئی بچاؤ کی جگہ (جیسے قلعہ) یا غار ومغاک یا (زمین کے اندر) گھسنے کی جگہ مل جائے تو اسی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں

Explained together with ayah 54

58

وَمِنْهُم مَّن يَلْمِزُكَ فِى ٱلصَّدَقَٰتِ فَإِنْ أُعْطُوا۟ مِنْهَا رَضُوا۟ وَإِن لَّمْ يُعْطَوْا۟ مِنْهَآ إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ

اور ان میں سے بعض اسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر ان کو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں

Explained together with ayah 54

59

وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا۟ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَقَالُوا۟ حَسْبُنَا ٱللَّهُ سَيُؤْتِينَا ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ وَرَسُولُهُۥٓ إِنَّآ إِلَى ٱللَّهِ رَٰغِبُونَ

اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اس کے رسول نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیں گے۔ اور ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)

Explained together with ayah 54

60

۞ إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْعَٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَٱلْغَٰرِمِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

صدقات (یعنی زکوٰة وخیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

خلاصہ تفسیر - (فرض) صدقات تو صرف حق ہے غریبوں کا اور محتاجوں کا اور جو کارکن ان صدقات ( کی تحصیل وصول کرنے) پر متعین ہیں اور جن کی دلجوئی کرنا ( منظور) ہے اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں ( صرف کیا جائے) اور قرض داروں کے قرضہ ( ادا کرنے) میں اور جہاد والوں کے سامان) میں اور مسافروں کی ( امداد) میں یہ حکم اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں۔- معارف و مسائل - مصارف الصدقات : - اس سے پہلی آیتوں میں صدقات کے بارے میں رسول کریم کا ذکر تھا، جس میں منافقین نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ الزام لگایا تھا آپ ( معاذ اللہ) صدقات کی تقسیم میں انصاف نہیں کرتے، جس کو چاہتے ہیں جو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں۔- اس آیت میں حق تعالیٰ نے مصارف صدقات کو متعین فرما کر ان کی اس غلط فہمی کو دور کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات خود متعین فرما دی ہے کہ صدقات کن لوگوں کو دینے چاہئیں، اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تقسیم صدقات میں اسی ارشاد ربانی کی تعمیل فرماتے ہیں، اپنی رائے سے کچھ نہیں کرتے۔- اس کی تصدیق اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو ابوداؤد اور دار قطنی نے حضرت زیاد بن حارث صدائی کی روایت سے نقل کی ہے، یہ فرماتے ہیں کہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، تو معلوم ہوا کہ آپ ان کی قوم کے مقابلہ کے لئے ایک لشکر مسلمانوں کا روانہ فرما رہے ہیں، میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ لشکر نہ بھیجیں، میں اس کا ذمہ لیتا ہوں کہ وہ سب مطیع و فرمانبردار ہو کر آجائیں گے، پھر میں نے اپنی قوم کو خط لکھا تو سب کے سب مسلمان ہوگئے، اس پر آپ نے فرمایا : یا اخا صداء المطاع فی قومہ، جس میں گویا ان کو یہ خطاب دیا گیا کہ یہ اپنی قوم کے محبوب اور مقتدا ہیں میں نے عرض کیا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں، اللہ تعالیٰ کے کرم سے ان کو ہدایت ہوگئی اور وہ مسلمان ہوگئے، یہ فرماتے ہیں کہ میں ابھی اس مجلس میں حاضر تھا کہ ایک شخص آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کچھ سوال کرنے کے لئے حاضر ہوا، آپ نے اس کو یہ جواب دیا کہ :- صدقات کی تقسیم کو اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا غیر نبی کے بھی حوالہ نہیں کیا، بلکہ خود ہی اس کے آٹھ مصرف متعین فرما دیئے، اگر تم ان آٹھ میں داخل ہو تو تمہیں دے سکتا ہوں، انتہٰی۔ ( تفسیر قرطبی، ص ١٦٨ ج ٨) - آیت کا شان نزول معلوم کرنے کے بعد آیت کی مکمل تفسیر اور تشریح سننے سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ اللہ جل شانہ نے تمام مخلوقات انسان و حیوان وغیرہ کو رزق دینے کا وعدہ فرمایا ہے، (آیت) وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا، اور ساتھ ہی اپنی حکمت بالغہ سے ایسا نہیں کیا کہ سب کو رزق میں برابر کردیتے، غنی و فقیر کا فرق نہ رہتا، اس میں انسان کی اخلاقی تربیت اور نظام عالم سے متعلق سینکڑوں حکمتیں ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں غریب فقیر کا حصہ لگا دیا، ارشاد فرمایا (آیت) وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ ، جس میں بتلا دیا کہ مالداروں کے مال میں اللہ تعالیٰ نے ایک معین مقدار کا حصہ فقراء کے لئے رکھ دیا ہے، جو ان فقراء کا حق ہے۔- اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ مال داروں کے مال میں سے جو صدقہ نکالنے کا حکم دیا گیا ہے یہ کوئی ان کا احسان نہیں، بلکہ فقراء کا ایک حق ہے، جس کی ادائیگی ان کے ذمہ ضروری ہے، دوسرے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ حق اللہ تعالیٰ کے نزدیک متعین ہے، یہ نہیں کہ جس کا جی چاہے جب چاہے اس میں کمی بیشی کردے، اللہ تعالیٰ نے اس معین حق کی مقدار بھی بتلانے کا کام رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سپرد فرمایا، اور اسی لئے آپ نے اس کا اس قدر اہتمام فرمایا کہ صحابہ کرام کو صرف زبانی بتلا دینے پر کفایت نہیں فرمائی، بلکہ اس معاملہ کے متعلق مفصل فرمان لکھوا کر …

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.