Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 41–50 of 129

41

ٱنفِرُوا۟ خِفَافًۭا وَثِقَالًۭا وَجَٰهِدُوا۟ بِأَمْوَٰلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

تم سبکبار ہو یا گراں بار (یعنی مال و اسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بہت، گھروں سے) نکل آؤ۔ اور خدا کے رستے میں مال اور جان سے لڑو۔ یہی تمہارے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو

چوتھی آیت میں پھر تاکید کے طور پر اس حکم کا اعادہ فرمایا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم لوگوں کو جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دے دیاتو تم پر نکلنا ہر حال میں فرض ہوگیا، اور اس حکم کی تعمیل ہی میں تمہاری ہر بھلائی کا انحصار ہے۔

42

لَوْ كَانَ عَرَضًۭا قَرِيبًۭا وَسَفَرًۭا قَاصِدًۭا لَّٱتَّبَعُوكَ وَلَٰكِنۢ بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ ٱلشُّقَّةُ ۚ وَسَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَوِ ٱسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ يُهْلِكُونَ أَنفُسَهُمْ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ

اگر مالِ غنیمت سہل الحصول اور سفر بھی ہلکا سا ہوتا تو تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے۔ لیکن مسافت ان کو دور (دراز) نظر آئی (تو عذر کریں گے) ۔ اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل کھڑے ہوتے یہ (ایسے عذروں سے) اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ جھوٹے ہیں

پانچویں آیت میں جہاد میں بوجہ غفلت و سستی شریک نہ ہونے والوں کے ایک عذر کا بیان کرکے اس کی تردید کی گئی ہے کہ یہ عذر قابل قبول نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو اختیار اور قدرت عطا فرمائی تھی انہوں نے اس کو اللہ کی راہ میں مقدور بھر استعمال نہیں کیا، اس لئے عدم استطاعت کا عذر صحیح نہیں۔

43

عَفَا ٱللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُوا۟ وَتَعْلَمَ ٱلْكَٰذِبِينَ

خدا تمہیں معاف کرے۔ تم نے پیشتر اس کے کہ تم پر وہ لوگ بھی ظاہر ہو جاتے ہیں جو سچے ہیں اور وہ بھی تمہیں معلوم ہو جاتے جو جھوٹے ہیں اُن کو اجازت کیوں دی

خلاصہ تفسیر - اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف ( تو) کردیا ( لیکن) آپ نے ان کو ( ایسی جلدی) اجازت کیوں دے دیتھی جب تک کہ آپ کے سامنے سچے لوگ ظاہر نہ ہوجاتے، اور ( جب تک کہ) جھوٹوں کو معلوم نہ کرلیتے ( تاکہ وہ خوش تو نہ ہونے پا تے، کہ ہم نے آپ کو دھوکہ دے دیا ( اور) جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے کے بارے میں ( اس میں شریک نہ ہونے کی کبھی) آپ سے رخصت نہ مانگیں گے ( بلکہ وہ حکم کے ساتھ دوڑ پڑیں گے) اور اللہ تعالیٰ ان متقیوں کو خوب جانتا ہے ( ان کو اجر وثواب دے گا) البتہ وہ لوگ ( جہاد میں نہ جانے کی) آپ سے رخصت مانگتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل ( اسلام سے) شک میں پڑے ہیں سو وہ اپنے شکوک میں پڑے ہوئے، حیران ہیں ( کبھی موافقت کا خیال ہوتا ہے کبھی مخالفت کا) اور اگر وہ لوگ ( غزوہ میں) چلنے کا ارادہ کرتے ( جیسا کہ وہ اپنے عذر کے وقت ظاہر کرتے ہیں کہ چلنے کا تو ارادہ تھا، لیکن کیا کیا جائے فلاں ضرورت پیش آگئی سو اگر ایسا ہوتا) تو اس ( چلنے) کا کچھ سامان تو درست کرتے ( جیسا کہ سفر کے لوازم عادیہ سے ہے) لیکن ( انہوں نے تو شروع سے ارادہ ہی نہیں کیا اور اس میں خیر ہوئی جیسا آگے آنا ہے لَوْ خَرَجُوْا فِيْكُمْ اور اس کے خیر ہونے کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ نے ان کے جانے کو پسند نہیں کیا اس لئے ان کو توفیق نہیں دی اور ( بحکم تکوینی) یوں کہہ دیا گیا کہ اپاہج لوگوں کے ساتھ تم بھی یہاں ہی دھرے رہو ( اور ان کے جانے میں خیر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ) اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ شامل ہوجاتے تو سوا اس کے کہ اور دونا فساد کرتے اور کیا ہوتا ( وہ فساد یہ ہوتا کہ) تمہارے درمیان فتنہ پردازی کی فکر میں دوڑے دوڑے پھرتے ( یعنی لگائی بجھائی کرکے آپس میں تفریق ڈلواتے، اور جھوٹی خبریں اڑا کر پریشان کرتے، دشمن کا رعب تمہارے قلوب میں ڈالنے کی کوشش کرتے، اس لئے ان کا نہ جانا ہی اچھا ہوا) اور ( اب بھی) تم میں ان کے کچھ جاسوس موجود ہیں ( جن کو اس سے زیادہ فساد کی تدبیر میں مہارت نہیں) اور اس ظالموں کو اللہ خوب سمجھے گا ( اور ان لوگوں کی مفسدہ سازی و فتنہ پردازی کچھ آج نئی نہیں) انہوں نے تو پہلے ( جنگ احد وغیرہ میں) بھی فتنہ پردازی کی فکر کی تھی ( کہ ساتھ ہو کر ہٹ گئے کہ مسلمان دل شکستہ ہوجائیں) اور ( اس کے علاوہ بھی) آپ کی ( ضرر رسانی کے) لئے کارروائیوں کی الٹ پھیر کرتے ہی رہے، یہاں تک کہ سچا وعدہ آگیا اور ( اس کا آنا یہ ہے کہ) اللہ کا حکم غالب رہا اور ان کو ناگوار ہی گذرتا رہا ( اسی طرح آئندہ بھی بالکل تسلی رکھئے کچھ فکر نہ کیجئے) اور ان ( منافقین متخلفین) میں بعض شخص وہ ہے جو ( آپ سے) کہتا ہے کہ مجھ کو ( غزوہ میں نہ جانے کی اور گھر رہنے کی) اجازت دیدیجئے، اور مجھ کو خرابی میں نہ ڈالئے، خوب سمجھ لو کہ یہ لوگ خرابی میں تو پڑ ہی چکے ہیں ( کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی اور کفر سے بڑھ کر اور کونسی خرابی ہوگی) اور یقینا دوزخ ( آخرت میں) ان کافروں کو گھیرے گی اگر آپ کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو وہ ان کے لئے موجب غم ہوتی ہے، اور اگر آپ پر کوئی حادثہ آپڑتا ہے تو ( خوش ہوکر) کہتے ہیں کہ ہم نے تو ( اسی واسطے) پہلے سے اپنا احتیاط کا پہلو اختیار کرلیا تھا، ( کہ ان کے ساتھ لڑائی وغیرہ میں نہیں گئے تھے) اور ( یہ کہہ کر) وہ خوش ہوتے ہوئے چلے جاتے ہیں آپ ( جواب میں ان سے دو باتیں) فرما دیجئے ( ایک تو یہ کہ) ہم پر کوئی حادثہ نہیں پڑ سکتا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقدر فرمایا ہے وہ ہمارا مالک ہے ( پس مالک حقیقی جو تجویز کرے مملوک کو اس پر راضی رہنا واجب ہے) اور ( کیا تخصیص ہے) اللہ کے تو سب مسلمانوں کو اپنے سب کام سپرد رکھنے چاہئیں ( دوسری بات یہ) فرما دیجئے کہ ( ہمارے لئے جیسی اچھی حالت …

44

لَا يَسْتَـْٔذِنُكَ ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ أَن يُجَٰهِدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلْمُتَّقِينَ

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو تم سے اجازت نہیں مانگتے (کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور خدا ڈرنے والوں سے واقف ہے

دوسری اور تیسری آیت میں مومنین اور منافقین کا یہ فرق بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ پر صحیح ایمان رکھنے والے ایسے موقع پر کبھی اپنی جان و مال کی محبت میں جہاد سے جان چرانے کے لئے آپ سے رخصت نہیں مانگا کرتے، بلکہ یہ کام صرف انہی لوگوں کا ہے جن کا اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان صحیح نہیں، اور اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو خوب جانتے ہیں۔

45

إِنَّمَا يَسْتَـْٔذِنُكَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَٱرْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِى رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ

اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو خدا پر اور پچھلے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ سو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں

Explained together with ayah 44

46

۞ وَلَوْ أَرَادُوا۟ ٱلْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا۟ لَهُۥ عُدَّةًۭ وَلَٰكِن كَرِهَ ٱللَّهُ ٱنۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيلَ ٱقْعُدُوا۟ مَعَ ٱلْقَٰعِدِينَ

اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے لیے سامان تیار کرتے لیکن خدا نے ان کا اُٹھنا (اور نکلنا) پسند نہ کیا تو ان کو ہلنے جلنے ہی نہ دیا اور (ان سے) کہہ دیا گیا کہ جہاں (معذور) بیٹھے ہیں تم بھی ان کے ساتھ بیٹھے رہو

چوتھی آیت میں ان کا عذر غلط ہونے کا ایک قرینہ یہ بتلایا گیا ہے کہ (آیت) وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً یعنی اگر واقعی یہ لوگ جہاد کے لئے نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لئے ضروری تھا کہ کچھ تیاری بھی تو کرتے، لیکن انہوں نے کوئی تیاری نہیں کی، جس سے معلوم ہوا کہ عذر کا بہانہ غلط تھا، درحقیقت ان کا ارادہ ہی جہاد کے لئے نکلنے کا نہیں تھا۔- عذر معقول اور نامعقول میں امتیاز :- اس آیت سے ایک اہم اصول مستفاد ہوا، جس سے معقول اور نامعقول عذر میں امتیاز کیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ عذر انہی لوگوں کا قابل قبول ہوسکتا ہے جو تعمیل حکم کے لئے تیار ہوں، پھر کسی اتفاقی حادثہ کے سبب معذور ہوگئے، معذوروں کے تمام معاملات کا یہی حکم ہے جس نے تعمیل حکم کے لئے کوئی تیاری ہی نہیں کی اور ارادہ ہی نہیں کیا، پھر کوئی عذر بھی پیش آگیا تو یہ عذر گناہ بدتر از گناہ کی ایک مثال ہوگی، صحیح عذر نہ سمجھا جائے گا، جو شخص نماز جمعہ کی حاضری کے لئے تیاری مکمل کرچکا ہے اور جانے کا ارادہ کر رہا ہے کہ دفعة کوئی ایسا عذر پیش آگیا جس کی وجہ سے نہ جاسکا تو اس کا عذر معقول ہے، اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اس کی عبادت کا پورا اجر عطا فرماتے ہیں، اور جس نے کوئی تیاری کی ہی نہیں، پھر اتفاقاً کوئی عذر بھی سامنے آگیا تو وہ محض ایک بہانہ ہے۔- صبح کو سویرے نماز کے لئے اٹھنے کی تیاری پوری پوری کی، گھڑی میں الارم لگایا، یا کسی کو مقرر کیا جو وقت پر جگائے، پھر اتفاق سے یہ تدبیریں غلط ہوگئیں جس کی وجہ سے نماز قضا ہوگئی، جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لیلة التعریس میں پیش آیا، کہ وقت پر جاگنے کے لئے یہ انتظام فرمایا کہ حضرت بلال کو بٹھا دیا کہ وہ صبح ہوتے ہی سب کو جگادیں، مگر اتفاق سے ان پر بھی نیند غالب آگئی، اور آفتاب نکل آنے کے بعد سب کی آنکھ کھلی، تو یہ عذر صحیح اور معقول ہے، جس کی بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : لا تفریط فی النوم انما التفریط فی الیقظۃ، یعنی نیند میں آدمی معذور ہے، کوتاہی وہ ہے جو جاگتے ہوئے کوتاہی کرے “ وجہ یہ تھی کہ اپنی طرف سے وقت پر جاگنے کا انتظام مکمل کرلیا گیا تھا۔ - خلا صہ یہ ہے کہ تعمیل حکم کے لئے تیاری کرنے یا نہ کرنے ہی سے کسی عذر کے معقول یا نامعقول ہونے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے، محض زبانی جمع خرچ سے کچھ نہیں ہوتا۔

47

لَوْ خَرَجُوا۟ فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًۭا وَلَأَوْضَعُوا۟ خِلَٰلَكُمْ يَبْغُونَكُمُ ٱلْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّٰعُونَ لَهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ

اگر وہ تم میں (شامل ہوکر) نکل بھی کھڑے ہوتے تو تمہارے حق میں شرارت کرتے اور تم میں فساد ڈلوانے کی غرض سے دوڑے دوڑے پھرتے اور تم میں ان کے جاسوس بھی ہیں اور خدا ظالموں کو خوب جانتا ہے

پانچویں آیت میں دھوکہ سے اجازت لینے والے منافقین کا یہ حال بھی بتلا دیا گیا کہ ان کا جہاد میں نہ جانا ہی بہتر تھا، اگر یہ جاتے تو سازشوں اور جھوٹی خبروں سے فساد ہی پھیلاتے (آیت) وَفِيْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ یعنی تم میں کچھ بھولے بھالے مسلمان ایسے بھی ہیں جو ان کی جھوٹی افواہوں سے متاثر ہو سکتے تھے “

48

لَقَدِ ٱبْتَغَوُا۟ ٱلْفِتْنَةَ مِن قَبْلُ وَقَلَّبُوا۟ لَكَ ٱلْأُمُورَ حَتَّىٰ جَآءَ ٱلْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ ٱللَّهِ وَهُمْ كَٰرِهُونَ

یہ پہلے بھی طالب فساد رہے ہیں اور بہت سی باتوں میں تمہارے لیے الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حق آپہنچا اور خدا کا حکم غالب ہوا اور وہ برا مانتے ہی رہ گئے

(آیت) لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ یعنی یہ لوگ اس سے پہلے بھی ایسا فتنہ و فساد پھیلا چکے ہیں جیسے غزوہ احد میں پیش آیا تھا، وَظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَهُمْ كٰرِهُوْنَ ، یعنی غالب آیا حکم اللہ کا حالانکہ منافقین اس سے بہت پیچ و تاب میں تھے، اس سے اشارہ فرما دیا کہ غلبہ اور فتح حق تعالیٰ کے قبضہ میں ہے، جیسا پہلے واقعات میں آپ کو فتح دی گئی، اس جہاد میں بھی ایسا ہی ہوگا اور منافقین کی سب چالیں ناکام ہوجائیں گی۔

49

وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ ٱئْذَن لِّى وَلَا تَفْتِنِّىٓ ۚ أَلَا فِى ٱلْفِتْنَةِ سَقَطُوا۟ ۗ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌۢ بِٱلْكَٰفِرِينَ

اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تو اجازت ہی دیجئے اور آفت میں نہ ڈالئے۔ دیکھو یہ آفت میں پڑگئے ہیں اور دوزخ سب کافروں کو گھیرے ہوئے ہے

چھٹی آیت میں ایک خاص منافق جد بن قیس کا ایک خا ص بہانہ ذکر کر کے اس کی گمراہی بیان فرمائی، اس نے جہاد میں جانے سے یہ عذر پیش کیا تھا کہ میں نوجوان آدمی ہوں، رومیوں کے مقابلہ پر جاؤں گا تو ان کی حسین عورتوں کے فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہے، قرآن کریم نے اس کے جواب میں فرمایا اَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا، کہ یہ بیوقوف ایک موہوم فتنہ کا بہانہ کرکے ایک یقینی فتنہ یعنی امر رسول کی خلاف ورزی اور ترک جہاد کے گناہ میں فی الحال مبتلا ہوگئے۔- (آیت) ۭوَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ ، یعنی جہنم ان سب کافروں کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے جس سے نکل نہیں سکتے، اس کی مراد یا تو یہ ہے کہ آخرت میں جہنم ان کو گھیرے میں لے لی گی اور یا یہ کہ جہنم میں پہنچنے کے اسباب جو اس وقت ان کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہیں، انہی کو جہنم سے تعبیر فرما دیا، اس معنی کے اعتبار سے گویا فی الحال بھی یہ لوگ جہنم ہی کے دائرہ میں ہیں۔

50

إِن تُصِبْكَ حَسَنَةٌۭ تَسُؤْهُمْ ۖ وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌۭ يَقُولُوا۟ قَدْ أَخَذْنَآ أَمْرَنَا مِن قَبْلُ وَيَتَوَلَّوا۟ وَّهُمْ فَرِحُونَ

(اے پیغمبر) اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے۔ اور کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہیں (درست) کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں

ساتویں آیت میں ان کی ایک اور کم ظرفی کا بیان ہے، کہ یہ لوگ اگرچہ ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ ملے رہتے ہیں، لیکن حال یہ ہے کہ (آیت) اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤ ْهُمْ ، یعنی اگر آپ کو کوئی فتح اور کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو سخت ناگوار ہوتا ہے، (آیت) وَاِنْ تُصِبْكَ مُصِيْبَةٌ يَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَيَتَوَلَّوْا وَّهُمْ فَرِحُوْنَ ، یعنی اگر آپ کو کوئی مصیبت پہونچتی ہے تو یہ لوگ کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال رہے ہیں، اسی لئے ہم نے اپنی مصلحت کو اختیار کیا، ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے اور یہ کہہ کر وہ خوشی خوشی واپس ہوجاتے ہیں۔

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.