ٱتَّخَذُوٓا۟ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَٰنَهُمْ أَرْبَابًۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلْمَسِيحَ ٱبْنَ مَرْيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوٓا۟ إِلَٰهًۭا وَٰحِدًۭا ۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ عَمَّا يُشْرِكُونَ
انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے
خلاصہ تفسیر - ( آگے افعال کفریہ کا بیان ہے کہ) انہوں نے ( یعنی یہود و نصاری نے) خدا ( کی توحید فی الطاعۃ) کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو ( باعتبار اطاعت کے) رب بنا رکھا ہے ( کہ ان کی اطاعت تحلیل اور تحریم میں مثل اطاعت خدا کے کرتے ہیں کہ نص پر ان کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے پس اس حساب سے وہ ان کی عبادت کرتے ہیں) اور مسیح بن مریم ( علیہ السلام) کو بھی ( ایک اعتبار سے رب بنا رکھا ہے کہ ان کو ابن اللہ کہتے ہیں کہ الوہیت اس کے لوازم سے ہے) حالانکہ ان کو ( کتب الہیہ میں) صرف یہ حکم کیا گیا ہے کہ فقط ایک معبود ( برحق) کی عبادت کریں جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ ان کے شرک سے پاک ہے ( اور یہ تو بیان تھا اتباع باطل کا آگے بیان ہے اس کا کہ وہ دین حق کو رد کرتے ہیں کہ یہ بھی کفر ہے یعنی) وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور ( یعنی دین اسلام) کو اپنے منہ سے ( پھونک مار مار کر) بجھا دیں ( یعنی منہ سے رد و اعتراض کی باتیں اس غرض سے کرتے ہیں کہ دین حق کو فروغ نہ ہو) حالانکہ اللہ تعالیٰ بدون اس کے کہ اپنے نور ( مذکور) کو کمال تک پہنچا دے مانے گا نہیں، گو کافر لوگ ( جن میں یہ بھی آگئے) کیسے ہی ناخوش ہوں، (چنانچہ) وہ اللہ ایسا ہے کہ ( اسی اتمام نور کے لئے) اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت ( کا سامان یعنی قرآن) اور سچا دین ( یعنی اسلام) دے کر ( دنیا میں) بھیجا ہے تاکہ اس ( دین) کو ( کہ وہی نور مذکور ہے) تمام (بقیہ) دینوں پر غالب کردے ( کہ یہی اتمام ہے) گو مشرک (جن میں یہ بھی داخل ہوگئے) کیسے ہی ناخوش ہوں، اے ایمان والو اکثر احبارو رہبان ( یعنی یہود و نصارٰی کے علماء و مشائخ عوام) لوگوں کے مال نامشروع طریقہ سے کھاتے۔ ( اڑاتے) ہیں ( یعنی احکام حقہ کو پوشیدہ رکھ کر موافق مرضی عوام کے فتوے دے کر ان سے نذرانے لیتے ہیں) اور ( اس کی وجہ سے وہ) اللہ کی راہ ( یعنی دین اسلام) سے ( لوگوں کو) باز رکھتے ہیں ( کیونکہ ان کے جھوٹے فتو وں کے دھوکہ میں آکر گمراہی میں پھنسے رہتے ہیں اور حق کو قبول بلکہ طلب بھی نہیں کرتے) اور ( غایت حرص سے مال بھی جمع کرتے ہیں جسکی نسبت یہ وعید ہے کہ) جو لوگ سونا چاندی جمع کر کر رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ( یعنی زکوٰة نہیں نکالتے) سو آپ ان کو ایک بڑی درد ناک سزا کی خبر سنا دیجئے، جو کہ اس روز واقع ہوگی کہ ان کو دوزخ کی آگ میں ( اول) تپایا جائے گا، پھر ان سے لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور ان کی پشتوں کو داغ دیا جائے گا، ( اور یہ جتلایا جا ئیگا کہ) یہ وہ ہے جسکو تم نے اپنے واسطے جمع کر کر کے رکھا تھا، سو اب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو “۔- معارف و مسائل - ان چاروں آیتوں میں یہود و نصارٰی کے علماء اور عباد و زہاد کی گمراہی اور ان کے کفریات قولی و عملی کا ذکر ہے احبار حبر کی جمع ہے اور رہبان راہب کی جمع ہے، حبر یہود و نصارٰی کے عام کو اور راہب عابد و زاہد کو کہا جاتا ہے۔- پہلی آیت میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے علماء اور عبادت گذاروں کو اللہ کے سوا اپنا رب اور معبود بنا رکھا ہے، اسی طرح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو اپنا رب بنا لیا ہے، حضرت عیسیٰ السلام کو رب و معبود بنانا تو اس لئے ظاہر ہے کہ وہ ان کو خدا تعالیٰ کا بیٹا مانتے ہیں اور کہتے تھے، اور علماء و عباد کو معبود بنانے کا جو الزام ان پر عائد کیا گیا ہے اگرچہ وہ صراحتہ ان کو اپنا رب نہ کہتے تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اطاعت مطلقہ جو خالص اللہ جل شانہ کا حق ہے اس حق کو ان کے حوالے کردیا تھا، کہ حال میں ان کے کہنے کی پیروی کرتے تھے، اگرچہ انکا قول اللہ اور رسول کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، تو یہ ظاہر ہے کہ کسی کی ایسی اطاعت کرنا کہ اللہ و رسول کے فرمان کے خلاف بھی کہے تو اس کی اطاعت نہ چھوڑے یہ ایسا ہی ہے جیسے …