Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 21–30 of 129

21

يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍۢ مِّنْهُ وَرِضْوَٰنٍۢ وَجَنَّٰتٍۢ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌۭ مُّقِيمٌ

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے

اکیسویں اور بائیسویں آیتوں میں ان کامیاب لوگوں کے اجر عظیم اور درجات آخرت کا بیان ہے (آیت) يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمْ فِيْهَا نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ 21 ۝ ۙخٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭاِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ، یعنی ان لوگوں کو ان کا پروردگار خوش خبری سناتا ہے اپنی رحمت اور رضا کی اور ایسی جنتوں کی جن میں ان کے لئے ہمشہ قائم رہنے والی نعمیتیں ہوں گی اور یہ لوگ بھی ان نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے، ان کو یہاں سے کبھی نہ نکالا جائے، بیشک اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے “۔

22

خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجْرٌ عَظِيمٌۭ

(اور وہ) ان میں ابدالاآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے

Explained together with ayah 21

23

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوٓا۟ ءَابَآءَكُمْ وَإِخْوَٰنَكُمْ أَوْلِيَآءَ إِنِ ٱسْتَحَبُّوا۟ ٱلْكُفْرَ عَلَى ٱلْإِيمَٰنِ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

اے اہل ایمان! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن) بھائی ایمان کے مقابل کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں

آیات مذکورہ میں ہجرت اور جہاد کے فضائل کا بیان آیا ہے، جن میں وطن اور اعزاء و اقارب اور احباب و اصحاب اور اموال و املاک سب کو چھوڑنا پڑتا ہے اور ظاہر ہے کہ انسان کی طبیعت پر یہ کام سب سے زیادہ شاق اور دشوار ہیں، اس لئے اگلی آیت میں ان چیزوں کے ساتھ حد سے زیادہ تعلق اور محبت کی مذمت فرما کر مسلمانوں کے ذہنوں کو ہجرت و جہاد کے لئے آمادہ کیا گیا ہے، ارشاد فرمایا (آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ، “ یعنی اے ایمان والو تم اپنے باپ دادا اور بھائیوں کو رفیق مت بناؤ اگر وہ لوگ کفر کو بمقابلہ ایمان کے عزیز رکھیں اور تم میں سے جو شخص ان کے ساتھ باوجود ان کے کفر کے رفاقت رکھے گا سو ایسے لوگ بڑے نافرمان ہیں “۔- ماں باپ بھائی بہن اور تمام رشتہ داروں سے تعلق کو مضبوط رکھنے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی ہدایات سے سارا قرآن بھرا ہوا ہے، مگر اس آیت میں یہ بتلادیا کہ ہر تعلق کی ایک حد ہے، ان میں سے ہر تعلق خواہ ماں باپ اور اولاد کا ہو، یا حقیقی بھائی بہن کا، اللہ اور اس کے رسول کے تعلق کے مقابلہ میں نظر انداز کرنے کے قابل ہے، جس موقع پر یہ دونوں رشتے ٹکرا جائیں، تو پھر رشتہ وتعلق اللہ و رسول کا ہی قائم رکھنا ہے، اس کے مقابلہ میں سارے تعلقات سے قطع نظر کرنا ہے۔- آیات مذکورہ کے متعلق چند فوائد اور مسائل : - مذکورہ پانچ آیتوں سے چند فوائد اور مسائل حاصل ہوئے : - اول یہ کہ ایمان روح عمل ہے، اس کے بغیر کیسا ہی اچھا عمل ہو وہ صرف صورت بےجان اور ناقابل قبول ہے، نجات آخرت میں اس کی کوئی قیمت نہیں، ہاں اللہ تعالیٰ کے یہاں بےانصافی نہیں کافروں کے ایسے بےروح اعمال حسنہ بھی بالکل ضائع نہیں کئے جاتے، ان کا بدلہ ان کو دنیا ہی میں آرام و عیش اور دولت ور احت دے کر بیباق کردیا جاتا ہے، جس کا بیان قرآن کریم کی متعدد آیات میں آیا ہے۔- دوسرا فائدہ ان آیات سے یہ حاصل ہوا کہ معصیت و نافرمانی سے انسان کی عقل بھی خراب ہوجاتی ہے اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے۔ انیسویں آیت کے آخر میں (آیت) وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا ہے جیسا کہ اس کے بالمقابل ایک آیت میں (آیت) اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا فرما کر اس طرف اشارہ کردیا ہے کہ اطاعت وتقوی سے انسان کی عقل کو جلا ہوتی ہے، سلامت فکر نصیب ہوتی ہے، وہ اچھے برے کی تمیز میں غلطی نہیں کرتا۔- تیسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ نیک اعمال میں بھی باہمی تفاضل ہے اور اسی کی مناسبت سے عمل کرنے والوں کے درجات میں تفاضل قائم ہوتا ہے، سب عمل کرنے والے ایک درجہ میں نہیں رکھے جاسکتے اور مدار کثرت عمل پر نہیں بلکہ حسن عمل پر ہے، سورة ملک میں آیا ہے : (آیت) لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا، یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کریں گے کہ کون زیادہ اچھا عمل کرنیوالا ہے۔- چوتھا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ راحت و نعمت کے دائمی رہنے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ وہ نعمتیں کسی وقت ختم نہ ہوجائیں، دوسرے یہ کہ کسی وقت ان لوگوں کو ان نعمتوں سے جدا نہ کیا جائے، اس لئے اللہ کے مقبول بندوں کے لئے دونوں چیزوں کی ضمانت دے دیگئی نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ فرما کر نعمتوں کا دائمی ہونا بیان فرمایا اور خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا فرما کر ان لوگوں کو کبھی ان نعمتوں سے الگ نہ کرنے کا اطمینان دلا دیا۔- اصل رشتہ اسلام و ایمان کا رشتہ ہے نسبی و وطنی تعلقات سب اس پر قربان کرتے ہیں :- پانچواں مسئلہ ایک بنیادی مسئلہ ہے کہ رشتہ داری اور دوستی کے سارے تعلقات پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تعلق مقدم ہے، جو …

24

قُلْ إِن كَانَ ءَابَآؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَٰنُكُمْ وَأَزْوَٰجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَٰلٌ ٱقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَٰرَةٌۭ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَجِهَادٍۢ فِى سَبِيلِهِۦ فَتَرَبَّصُوا۟ حَتَّىٰ يَأْتِىَ ٱللَّهُ بِأَمْرِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَٰسِقِينَ

کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

خلاصہ تفسیر - ( آگے اسی مضمون کی زیادہ تفصیل ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ( ان سے) کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہا ری بیبیاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس میں نکاسی نہ ہونے کا تم کو اندیشہ ہو اور وہ گھر جن میں ( رہنے) کو تم پسند کرتے ہو ( اگر یہ چیزیں) تم کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیاری ہوں تو تم منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم ( سزائے ترک ہجرت کا) بھیج دیں ( جیسا دوسری آیت میں ہے (آیت) ان الذین تو فھم الملئکہ الی قولہ فاولئک ماوھم جھنم) اور اللہ تعالیٰ بےحکمی کرنے والے لوگوں کو ان کے مقصود تک نہیں پہنچاتا ( یعنی ان کا مقصود تھا ان چیزوں سے تمتع وہ بہت جلد خلاف ان کی توقع کے موت سے منقطع ہوجاتا ہے ) ۔- معارف و مسائل - سورة توبہ کی یہ آیت دراصل ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے مکہ سے ہجرت فرض ہونے کے وقت ہجرت نہیں کی، ماں باپ، بھائی، بہن، اولاد اور بیوی اور مال و جائیداد کی محبت نے ان کو فریضہ ہجرت ادا کرنے سے روک دیا، ان کے بارے میں حق تعالیٰ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا کہ آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ : - " اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیبیاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس میں نکاسی نہ ہونے کا تم کو اندیشہ ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو تم کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہوں تو تم منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دیں، اور اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو ان کے مقصود تک نہیں پہونچاتا "- اس آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دیں “۔- امام تفسیر مجاہد نے فرمایا کہ حکم سے مراد جہاد و قتال اور فتح مکہ کا حکم ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اس وقت دنیاوی تعلقات پر اللہ و رسول کے تعلقات کے قربان کرنے والوں کا انجام بد عنقریب سامنے آنے والا ہے جبکہ مکہ فتح ہوگا اور نافرمانی کرنے والے ذلیل و خوار ہوں گے اور ان کے یہ تعلقات اس وقت ان کے کام نہ آئیں گے۔- اور حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اس جگہ حکم سے مراد حکم عذاب ہے کہ دنیوی تعلقات پر اخروی تعلقات کو قربان کرکے ہجرت نہ کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا حکم عذاب عنقریب آنے والا ہے یا تو دنیا ہی میں ان پر عذاب آئے گا ورنہ آخرت کا عذاب تو یقینی ہے، آیت میں اس جگہ مقصود تو ترک ہجرت پر وعید ہے مگر ذکر بجائے ہجرت کے جہاد کیا گیا، جو ہجرت کے بعد کا اگلا قدم ہے، اس میں اشارہ کردیا گیا کہ ابھی تو صرف ہجرت اور ترک وطن ہی کا حکم ہوا ہے، اس میں کچھ لوگ ہمت ہار بیٹھے، آگے جہاد کا حکم آنے والا ہے، جس میں اللہ اور رسول کی محبت پر ساری محبتوں کو اور خود اپنی جان کو قربان کرنا پڑتا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس جگہ ہجرت ہی کو جہاد سے تعبیر کردیا ہو کیونکہ وہ بھی حقیقت میں جہاد ہی کا ایک شعبہ ہے۔- اور آخر آیت میں (آیت) وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ، فرما کر یہ بھی بتلا دیا کہ جو لوگ حکم ہجرت کے باوجود اپنے دنیوی تعلقات کو ترجیح دے کر اپنے خویش و عزیز اور مال و مکان سے چمٹے رہے، ان کا یہ عمل دنیا میں بھی ان کے لئے مفید نہیں ہوگا، اور ان کا یہ مقصد حاصل نہیں ہوگا کہ ہمیشہ اپنے اہل و عیال اور مال و مکان میں امن و چین سے بیٹھیں رہیں، بلکہ حکم جہاد شروع ہوتے ہی یہ سب چیزیں ان کے لئے وبال جان بن جائیں گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو ان کے مقصود تک نہیں پہونچاتے۔- مسائل متعلقہ ہجرت : - اول : جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرض کردی گئی تو وہ صرف ایک فرض ہی نہیں بلکہ مسلمان ہونے کی …

25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ فِى مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍۢ ۙ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْـًۭٔا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ

خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے اور (جنگ) حنین کے دن۔ جب تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرّہ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر پھر گئے

خلاصہ تفسیر - تم کو خدا تعالیٰ نے ( لڑائی کے) بہت موقعوں میں ( کفار پر) غلبہ دیا ( جیسے بدر وغیرہ) اور حنین کے دن بھی ( جس کا قصہ عجیب و غریب ہے تم کو غلبہ دیا) جبکہ ( یہ واقعہ ہوا تھا کہ) تم کو اپنے مجمع کی کثرت سے غرہ ہوگیا تھا، پھر وہ کثرت تمہارے کچھ کارآمد نہ ہوئی اور ( کفار کے تیر برسانے سے ایسی پریشانی ہوئی کہ) تم پر زمین باوجود اپنی ( اس) فراخی کے تنگی کرنے لگی پھر ( آخر) تم) بیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ( کے قلب) پر اور دوسرے مومنین ( کے قلوب) پر اپنی ( طرف سے) تسلی نازل فرمائی، اور ( مدد کے لئے) ایسے لشکر ( آسمان سے) نازل فرمائے جن کو تم نے نہیں دیکھا ( مراد فرشتے ہیں جس کے بعد تم پھر مستعد قتال ہوئے اور غالب آئے) اور ( اللہ تعالیٰ نے) کافروں کو سزا دی ( کہ ان پر ہزیمت اور قتل و قید واقع ہوئی) اور یہ کافروں کی ( دنیا میں) سزا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ( ان کافروں میں سے) جسکو چاہیں توبہ نصیب کردیں (چنانچہ بہت سے مسلمان ہوگئے) اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والے بڑی رحمت کرنیوالے ہیں، (کہ جو شخص ان میں مسلمان ہو اس کے سب پچھلے گناہ معاف کرکے مستحق جنت کا بنادیا ) ۔- معارف و مسائل - آیات مذکورہ میں غزوہ حنین کے واقعات شکست و فتح کا اور ان کے ضمن میں بہت سے اصولی اور فروعی مسائل اور فوائد کا بیان ہے، جیسا کہ اس سے پہلی سورت میں فتح مکہ اور اس کے متعلقات کا ذکر تھا، شروع آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے اس انعام و احسان کا ذکر فرمایا ہے، جو مسلمانوں پر ہر موقع اور ہر حالت میں مبذول رہا ہے، ارشاد فرمایا :- (آیت) لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی بہت سے مقامات میں “ اور اس تمہید کے بعد خصوصیت کے ساتھ فرمایا وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ” یعنی غزوہ حنین کے دن بھی اللہ تعالیٰ کی مدد پہنچی “- غزوہ حنین کی خصوصیت اس وجہ سے فرمائی ہے کہ اس میں بہت سے واقعات اور حالات خلاف توقع عجیب انداز سے ظاہر ہوئے جن میں غور کرنے سے انسان کے ایمان میں قوت اور عمل میں ہمت پیدا ہوتی ہے، اس لئے آیات مذکورہ کی لفظی تفسیر سے پہلے اس غزوہ کے ضروری واقعات جو حدیث و تاریخ کی مستند کتابوں میں مذکورہ ہیں کسی قدر تفصیل سے بیان کردینا مناسب ہے تاکہ آیات مذکورہ کے سمجھنے میں آسانی ہو اور جن فوائد کے لئے یہ واقعات بیان فرمائے گئے ہیں وہ سامنے آجائیں، ان واقعات کا بیشتر حصہ تفسیر مظہری سے لیا گیا ہے، جس میں بحوالہ کتب حدیث و تاریخ واقعات کا ذکر ہے۔- حنین، مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ایک مقام کا نام ہے، جو مکہ مکرمہ سے دس میل سے کچھ زیادہ فاصلہ پر واقع ہے، رمضان ٨ ہجری میں جب مکہ مکرمہ فتح ہوا اور قریش مکہ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے، تو عرب کا ایک بہت بڑا مشہور بہادر جنگجو اور مالدار قبیلہ ہوازن جس کی ایک شاخ طائف کے رہنے والے بنو ثقیف بھی تھے، ان میں ہلچل مچ گئی، انہوں نے جمع ہو کر یہ کہنا شروع کیا کہ مکہ فتح ہوجانے کے بعد مسلمانوں کو کافی قوت حاصل ہوگئی ہے، اس سے فارغ ہونے کے بعد لازمی ہے کہ ان کا رخ ہماری طرف ہوگا، اس لئے دانشمندی کی بات یہ ہے کہ ان کے حملہ آور ہونے سے پہلے ہم خود ان پر حملہ کردیں، اس کام کے لئے قبیلہ ہوازن نے اپنی سب شاخوں کو جو مکہ سے طائف تک پھیلی ہوئی تھیں جمع کرلیا، اس قبیلہ کے سب بڑے چھوٹے بجز معدودے چند افراد کے جن کی تعداسو (١٠٠) سے بھی کم تھی، سب ہی جمع ہوگئے۔- اس تحریک کے لیڈر مالک بن عوف تھے جو بعد میں مسلمان ہوگئے اور اسلام کے بڑے علمبردار ثابت نے ان کی رائے سے اتفاق کر کے جنگ کی تیاریاں شروع کردیں، اس قبیلہ کی چھوٹی چھوٹی دو شاخیں بنو کعب اور بنو کلاب اس رائے سے متفق نہیں ہوئی، اللہ تعالیٰ نے ان کو کچھ بصیرت دے دیتھی، انہوں نے …

26

ثُمَّ أَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودًۭا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْكَٰفِرِينَ

پھر خدا نے اپنے پیغمبر پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی (اور تمہاری مدد کو فرشتوں کے) لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے (آسمان سے) اُتارے اور کافروں کو عذاب دیا۔ اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤ ْمِنِيْنَ ، یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور سب مسلمانوں پر اپنی تسلی نازل فرمادی “۔- معنی اس کے یہ ہیں کہ غزوہ حنین کے ابتدائی ہلہ میں جن صحابہ کرام کے پاؤں اکھڑ گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب پر اپنی تسلی نازل فرمادی، جس سے ان کے اکھڑے ہوئے قدم جم گئے اور بھاگنے والے پھر لوٹ آئے، اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور ان صحابہ پر جو مضبوطی کے ساتھ محاذ پر جمے رہے تسلی نازل فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اپنی فتح قریب نظر آنے لگی، اور چونکہ تسلی کی یہ دو قسمیں تھیں ایک بھاگنے والوں کے لئے دوسری رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جمے رہنے والوں کے لئے، اسی طرف اشارہ کرنے کے لئے عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤ ْمِنِيْنَ کو علیحدہ علیحدہ تکرار عَلٰي کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔- اس کے بعد فرمایا (آیت) وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا یعنی ایسے لشکر نازل فرما دیئے جن کو تم نے نہیں دیکھا، اس سے مراد عام طور پر لوگوں کا نہ دیکھنا ہے، احاد و افراد سے جو بعض روایتوں میں اس لشکر کا دیکھنا منقول ہے وہ اس کے منافی نہیں۔- پھر فرمایا (آیت) وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭوَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ ، یعنی کافروں کو اللہ تعالیٰ نے سزا دیدی، اور کافروں کی یہی سزا ہے۔ اس سزا سے مراد ان کا مسلمانوں کے ہاتھوں مفتوح اور مغلوب ہونا ہے، جو واضح طور پر مشاہدہ میں آیا، مطلب یہ ہے کہ یہ دنیاوی سزا تھی، جو فوری طور پر مل گئی، آگے آخرت کے معاملہ کا ذکر بعد کی آیت میں اس طرح آیا ہے :

27

ثُمَّ يَتُوبُ ٱللَّهُ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

پھر خدا اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(آیت) ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، یعنی پھر خدا تعالیٰ جس کو چاہیں توبہ نصیب کردیں، اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والے بڑی رحمت کرنیوالے ہیں “۔ - اس میں اشارہ ہے کہ اس جہاد میں جن لوگوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب اور مفتوح ہونے کی سزا مل چکی ہے، اور ابھی تک وہ اپنے کفر پر قائم ہیں، ان میں سے بھی کچھ لوگوں کو توفیق ایمان نصیب ہوگی، چناچہ ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس کی تفصیل یہ ہے :- حنین کی فتح اور ہوازن و ثقیف کے سرداروں کا مسلمان ہو کر حاضر ہونا قیدیوں کی واپسی :- حنین میں قبیلہ ہوازن و ثقیف کے کچھ سردار مارے گئے، کچھ بھاگ کھڑے ہوئے ان کے ساتھ جو ان کے اہل و عیال اور اموال تھے وہ مسلمانوں کے قیدی اور مال غینمت بن کر مسلمانوں کے ہاتھ آئے جس میں چھ ہزار قیدی، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار سے زائد بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی تھی، جس کے تقریباً چار من ہوتے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو سفیان بن حرب کو اموال غنیمت کا نگران مقرر فرمایا۔- پھر شکست خوردہ ہوازن اور ثقیف نے مختلف مقامات پر مسلمانوں کے خلاف اجتماع کیا مگر ہر مقام پر ان کو شکست ہوتی گئی، وہ سخت مرعوب ہو کر طائف کے نہایت مستحکم قلعہ میں قلعہ بند ہوگئے، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پندرہ بیس روز اس قلعہ کا محاصرہ کیا، یہ قلعہ بند دشمن اندر ہی سے تیر برساتے رہے، سامنے آنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ان لوگوں کے لئے بد دعا فرمائیے، مگر آپ نے ان کے لئے ہدایت کی دعا فرمائی اور با لآخر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے مشورہ فرما کر واپسی کا قصد فرمایا، اور مقام جعرانہ پر پہنچ کر ارادہ فرمایا کہ پہلے مکہ معظمہ جا کر عمرہ ادا کریں پھر مدینہ طیبہ کو واپسی ہو، مکہ والوں کی بڑی تعداد جو تماشائی بن کر مسلمانوں کی فتح و شکست کا امتحان کرنے آئی تھی، اس جگہ پہنچ کر ان میں سے بہت لوگوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔- اسی مقام پر پہنچ کر مال غنیمت کی تقسیم کا انتظام کیا گیا تھا، ابھی اموال غنیمت تقسیم ہو ہی رہے تھے کہ دفعۃً ہوازن کے چودہ سرداروں کا ایک وفد زہیر بن صرد کی قیادت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جن میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رضاعی چچا ابو یرقان بھی تھے، انہوں نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ ہم مسلمان ہوچکے ہیں، اور یہ درخواست کی کہ ہمارے اہل و عیال اور اموال ہمیں واپس دیدئیے جائیں، اس درخواست میں عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ہم بلسلہ رضاعت آپ کے خویش و عزیز ہیں، اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہم پر احسان فرمائیں، رئیس وفد ایک شاعر آدمی تھا، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ اگر ہم بادشاہ روم یا شاہ عراق سے اپنی ایسی مصیبت کے پیش نظر کوئی درخواست کرتے تو ہمارا خیال یہ ہے کہ وہ بھی ہماری درخواست کو رد نہ کرتے اور آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے اخلاق فاضلہ میں سب سے زیادہ ممتاز فرمایا ہے آپ سے ہم بڑی امید لے کر آئے ہیں۔- رحمہ للعالمین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے یہ موقع دوہری مشکل کا تھا کہ ایک طرف ان لوگوں پر رحم و کرم کا تقاضا یہ کہ ان کے سب قیدی اور اموال ان کو واپس کردیئے جائیں، دوسری طرف یہ کہ اموال غنیمت میں تمام مجاہدین کا حق ہوتا ہے، ان سب کو ان کے حق سے محروم کردینا ازروئے انصاف درست نہیں، اس لئے صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے جواب میں فرمایا :- میرے ساتھ کس قدر مسلمانوں کا لشکر ہے جو ان اموال کے حق دار ہیں، میں سچی اور صاف بات کو پسند کرتا ہوں، اس لئے آپ لوگوں کو اختیار دیتا ہوں کہ یا تو اپنے قیدی واپس لے لو یا اموال غنیمت ان دونوں میں جس کو تم …

28

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْمُشْرِكُونَ نَجَسٌۭ فَلَا يَقْرَبُوا۟ ٱلْمَسْجِدَ ٱلْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَٰذَا ۚ وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةًۭ فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦٓ إِن شَآءَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

مومنو! مشرک تو پلید ہیں تو اس برس کے بعد وہ خانہٴ کعبہ کا پاس نہ جانے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ بےشک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو مشرک لوگ ( بوجہ عقائد خبیثہ کے) نرے ناپاک ہیں سو ( اس ناپاکی پر جو احکام متفرع ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ) یہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام ( یعنی حرم) کے پاس ( بھی) نہ آنے پائیں ( یعنی حرم کے اندر داخل نہ ہوں) اور اگر تم کو ( اس حکم کے جاری کرنے سے بدیں وجہ) مفلسی کا اندیشہ ہو ( کہ لین دین انہی سے زیادہ متعلق ہے جب یہ نہ رہیں گے تو کام کیسے چلے گا) تو ( تم خدا پر توکل رکھو) خدا تم کو اپنے فضل سے اگر چاہے گا ( ان کا) متحاج نہ رکھے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ( احکام کی مصلحتوں کو) خوب جاننے والا ہے ( اور ان مصلحتوں کی تکمیل کے باب میں) بڑا حکمت والا ہے ( اس لئے یہ حکم مقرر کیا اور تمہارے افلاس کے انسداد کا سامان بھی کردے گا ) ۔- معارف و مسائل - سورة توبہ کے شروع میں کفار و مشرکین سے اعلان براءت کیا گیا تھا، مذکورۃ الصدر آیت میں اس اعلان براءت سے متعلقہ احکام کا ذکر ہے، اعلان براءت کا حاصل یہ تھا کہ سال بھر کے عرصہ میں تمام کفار کے معاہدایت ختم یا پورے کردیئے جائیں، اور اعلان کے ایک سال بعد کوئی مشرک حدود حرم میں نہ رہنے پائے۔- اس آیت میں اسی کا بیان ایک خاص انداز میں کیا گیا جس میں اس حکم کی حکمت و مصلحت بھی بتلا دی اور اس کی تعمیل میں جو بعض مسلمانوں کو خطرات تھے ان کا بھی جواب دیدیا، اس میں لفظ نجس بفح جیم استعمال فرمایا ہے جو نجاست کے معنی میں ہے، اور نجاست کہا جاتا ہے ہر گندگی کو جس سے انسان کی طبیعت نفرت کرے، امام راغب اصفہانی نے فرمایا کہ اس میں وہ نجاست بھی داخل ہے جو آنکھ ناک یا ہاتھ وغیرہ سے محسوس ہو، اور وہ بھی جو علم و عقل کے ذریعہ معلوم ہو، اس لئے لفظ نجس اس غلاظت اور گندگی کو بھی شامل ہے جو ظاہری طور پر سب محسوس کرتے ہیں، اور اس معنوی نجاست کو بھی جس کی بنا پر شرعاً وضو یا غسل واجب ہوتا ہے، جیسے جنابت یا حیض و نفاس کے ختم ہونے کے بعد کی حالت، اور وہ باطنی نجاست بھی جس کا تعلق انسان کے قلب سے ہے جیسے عقائد فاسدہ اور اخلاق رذیلہ۔- آیت مذکورہ میں کلمہ اِنَّمَا لایا گیا ہے جو حصر کے لئے استعمال ہوتا ہے اس لئے اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ کے معنی یہ ہوگئے کہ مشرکین نری نجاست ہی ہیں، اور صحیح بات یہ ہے کہ عام طور پر مشرکین میں تینوں قسم کی نجاستیں ہوتی ہیں، کیونکہ بہت سی ظاہری ناپاک چیزوں کو وہ ناپاک نہیں سمجھتے اس لئے ان ظاہری نجاستوں سے بھی نہیں بچتے جیسے شراب اور اس سے بنی ہوئی چیزیں، اور معنوی نجاست سے غسل جنابت وغیرہ کے تو وہ معتقد ہی نہیں، اسی طرح عقائد فاسدہ اور اخلاق رذیلہ کو بھی وہ کچھ نہیں سمجھتے۔- اسی لئے آیت مذکورہ میں مشرکین کو نری نجاست قرار دے کر یہ حکم دیا گیا (آیت) فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا یعنی ایسا کرنا چاہئے کہ اس سال کے بعد یہ مشرکین مسجد حرام کے پاس نہ جاسکیں “۔- مسجد حرام کا لفظ عام طور پر تو اس جگہ کے لئے بولا جاتا ہے جو بیت اللہ کے گرد چہار دیواری سے گھری ہوئی ہے، لیکن قرآن و حدیث میں بعض اوقات یہ لفظ پورے حرم مکہ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے، جو کئی میل مربع کا رقبہ اور چاروں طرف حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کی قائم کردہ حدود سے گھرا ہوا ہے، جیسا کہ واقعہ معراج میں مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سے باتفاق یہی معنی مراد لئے گئے ہیں، کیونکہ واقعہ معراج معروف مسجد حرام کے اندر سے نہیں بلکہ حضرت ام ہانی کے مکان سے ہوا ہے، اسی طرح آیت کر یمہ (آیت) اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، میں مسجد حرام سے پورا حرم ہی مراد ہے، کیونکہ جس واقعہ صلح کا اس میں ذکر ہے وہ مقام حدیبیہ پر ہوا ہے، جو حدود حرم سے باہر اس کے متصل واقع ہے ( جصاص) - اس لئے معنے آیت کے یہ ہوگئے کہ اس سال کے بعد مشرکین کا داخلہ حدود حرم میں …

29

قَٰتِلُوا۟ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ ٱلْحَقِّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ حَتَّىٰ يُعْطُوا۟ ٱلْجِزْيَةَ عَن يَدٍۢ وَهُمْ صَٰغِرُونَ

جو اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں

خلاصہ تفسیر - اہل کتاب جو کہ نہ خدا پر ( پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پر ( پورا ایمان رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اور اس کے رسول ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام بتلایا ہے اور نہ سچے دین ( اسلام) کو قبول کرتے ہیں ان سے یہاں تک لڑو کہ وہ ماتحت ہو کر اور رعیت بن کر جزیہ دینا منظور کریں، اور یہود ( میں سے بعض) نے کہا کہ ( نعوذ باللہ) عزیر ( علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں اور نصاری ( میں سے اکثر) نے کہا کہ میسح ( علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں، یہ ان کا قول ہے ان کے منہ سے کہنے کا ( جس کا واقع میں کہیں نام و نشان نہیں) یہ بھی ان لوگوں کی سی باتیں کرنے لگے جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں ( مراد مشرکین عرب جو ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے، مطلب یہ کہ ان کو تو یہ بھی کافر سمجھتے ہیں، پھر انہی کی سی کفریات بکتے ہیں، اور پہلے ہونا اس معنی پر ہے کہ مشرکین کی گمراہی قدیم تھی) خدا ان کو غارت کرے یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں ( کہ خدا پر ایسے افتراء باندہتے ہیں یہ تو ان کے اقوال کفریہ تھے ) ۔- معارف و مسائل - آیات مذکورہ سے پہلی آیت میں مشرکین مکہ سے جہاد و قتال کا ذکر تھا، ان آیات میں اہل کتاب سے جہاد کا بیان ہے، یہ گویا غزوہ تبوک کی تمہید ہے جو اہل کتاب کے مقابلہ میں پیش آیا ہے، تفسیر درمنثور میں مفسر القرآن حضرت مجاہد سے نقل کیا گیا ہے کہ یہ آیات غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، اور لفظ اہل کتاب اگرچہ اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے ہر اس کافر جماعت پر حاوی ہے جو کسی آسمانی کتاب پر ایمان رکھتی ہو، لیکن قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ لفظ صرف یہود و نصاری کے لئے استعمال ہوا ہے، کیونکہ عرب کے قرب و جوار میں یہی دو فرقے اہل کتاب کے معروف تھے، اسی لئے قرآن کریم نے مشرکین عرب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ ۔- اور جہاد و قتال کا جو حکم اس آیت میں بمقابلہ اہل کتاب دیا گیا ہے وہ درحقیقت اہل کتاب کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام طوائف کفار کا یہی حکم ہے، کیونکہ اس آیت میں حکم قتال کی جو وجوہ آگے بیان کی گئی ہیں وہ سب کفار میں مشترک ہیں، تو حکم بھی مشترک ہونا چاہئے، مگر ذکر میں اہل کتاب کی خصوصیت اس لئے کی گئی کہ یہ ممکن تھا کہ مسلمانوں کو ان کے مقابلہ میں جہاد و قتال کرنے سے اس بناء پر جھجک ہو کہ یہ لوگ کسی درجہ میں ایمان رکھتے ہیں، تورات و انجیل اور حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) پر ان کا ایمان ہے تو ممکن تھا کہ انبیاء سابقین اور ان کی کتابوں کے ساتھ ان کا منسوب ہونا مسلمانوں کے لئے جہاد سے رکاوٹ کا سبب بن جائے، اس لئے بالتخصیص ان کے ساتھ قتال کا ذکر کردیا گیا۔- دوسرے اس جگہ ذکر میں اہل کتاب کے ساتھ تخصیص کرنے سے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ ایک حیثیت سے یہ لوگ زیادہ سزا کے مستحق ہیں، کیونکہ یہ اہل علم تھے، ان کے پاس توریت و انجیل کا علم تھا جن میں خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر مبارک اور حلیہ تک تفصیل سے مذکور ہے، اس علم کے باوجود ان کا کفر و انکار اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں تو ایک حیثیت سے ان کا جرم زیادہ شدید ہوگیا، اس لئے خصوصی طور پر ان سے جنگ کا ذکر کیا گیا۔- جنگ کے حکم کی چار وجوہ اس آیت میں بتلائی گئی ہیں، اول لَا يُؤ ْمِنُوْنَ باللّٰهِ ، یعنی وہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، دوسرے وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ، یعنی آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، تیسرے لَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ یعنی ان چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے جن کو اللہ نے حرام بتلایا ہے، چوتھے لَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ یعنی سچے دین کو قبول نہیں کرتے۔- یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ …

30

وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ عُزَيْرٌ ٱبْنُ ٱللَّهِ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَى ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ ٱللَّهِ ۖ ذَٰلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَٰهِهِمْ ۖ يُضَٰهِـُٔونَ قَوْلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَبْلُ ۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ

اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں

دوسری آیت میں اسی مضمون کی مزید تفصیل ہے، جس کا ذکر پہلی آیت میں اجمالا آیا ہے کہ یہ اہل کتاب اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، اس دوسری آیت میں فرمایا کہ یہود تو عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور نصارٰی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو، اس لئے ان کا دعوٰی توحید اور ایمان کا غلط ہوا۔ پھر فرمایا (آیت) ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ ، یعنی یہ ان کا قول ہے ان کے منہ سے، اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ صاف طور پر اپنی زبانوں سے اس کا اقرار کرتے ہیں کوئی مخفی چیز نہیں، اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ کلمہ کفر صرف ان کی زبانوں پر ہے نہ اس کی کوئی وجہ بتاسکتے ہیں نہ دلیل۔- پھر ارشاد فرمایا (آیت) يُضَاهِــــُٔـوْنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ۭ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّٰى يُؤ ْفَكُوْنَ یعنی یہ ان لوگوں کی سی باتیں کرنے لگے جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں، خدا ان کو غارت کرے یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں۔ انبیاء کو خدا کا بیٹا کہنے میں ایسے ہی ہوگئے جیسے پچھلے کفار و مشرکین تھے کہ فرشتوں کو اور لات و منات کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.