Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 11–20 of 129

11

فَإِن تَابُوا۟ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِى ٱلدِّينِ ۗ وَنُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ اور سمجھنے والے لوگوں کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

آخر آیت میں معاہدین اور تائبین سے متعلقہ احکام مذکورہ کی پابندی کی تاکید کرنے کیلئے ارشاد فرمایا (آیت) وَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ ، یعنی ہم سمجہدار لوگوں کے لئے احکام کو خوب تفصیل سے بیان کرتے ہیں “۔

12

وَإِن نَّكَثُوٓا۟ أَيْمَٰنَهُم مِّنۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا۟ فِى دِينِكُمْ فَقَٰتِلُوٓا۟ أَئِمَّةَ ٱلْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَآ أَيْمَٰنَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ

اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں

خلاصہ تفسیر - اور اگر وہ لوگ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں ( عہدوں) کو توڑ ڈالیں ( جیسا کہ انکی حالت سے غالب ہے اور ( عہد توڑ کر ایمان بھی نہ لائیں بلکہ اپنے کفر پر قائم رہیں جسکا ایک اثر یہ ہے کہ) تمہارے دین ( اسلام) پر طعن ( و اعتراض) کریں تو ( اس حالت میں) تم لوگ اس قصد سے کہ یہ ( اپنے کفر سے) باز آجائیں، ان پیشوایان کفر سے ( خوب) لڑو ( کیونکہ اس صوت میں) انکی قسمیں ( باقی) نہیں رہیں ( یہاں تک قبل نقض پیشینگوئی ہوچکی، آگے بعد وقوع نقض کے قتال کی ترغیب ہے کہ) تم ایسے لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا ( اور بنی بکر کی بمقابلہ خزاعہ کے مدد کی) اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جلا وطن کردینے کی تجویز کی، اور انہوں نے تم سے خود پہلے چھیڑ نکالی ( کہ تمہاری طرف سے وفائے عہد میں کوئی کمی نہیں ہوئی انہوں نے بیٹھے بٹھائے خود ایک شوشہ چھوڑا، پس ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو) کیا ان سے ( لڑنے میں) ڈرتے ہو ( کہ ان کے پاس جمعیت زیادہ ہے سو ( اگر یہ بات ہے تو ہرگز ان سے مت ڈرو کیونکہ) اللہ تعالیٰ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ تم ان سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو ( اور ان سے ڈرنے کا یہ مقتضا ہے کہ ان کے حکم کے خلاف مت کرو اور وہ حکم دیتے ہیں قتال کا پس) ان سے لڑو اللہ تعالیٰ ( کا وعدہ ہے کہ) ان کو تمہارے ہاتھوں سزا دے گا اور ان کو ذلیل ( و خوار) کرے گا اور تم کو ان پر غالب کرے گا اور ( ان کی اس تعذیب اور تمہاری نصرت سے) بہت سے ( ایسے) مسلمانوں کے قلوب کو شفاء دے گا اور ان کے قلوب کے غیظ ( و غضب) دور کردے گا ( جو خود تاب مقابلہ کی نہیں رکھتے اور ان کی حرکات کو دیکھ کر دل ہی دل میں گھٹتے ہیں) اور ( ان ہی کفار میں سے) جس پر ( توجہ و فضل کرنا) منظور ہوگا اللہ تعالیٰ توجہ ( بھی) فرمائے گا ( یعنی مسلمان ہونے کی توفیق دے گا، چناچہ فتح مکہ میں بعضے لڑے اور ذلیل و مقتول ہوئے اور بعضے مسلمان ہوگئے) اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں ( کہ علم سے ہر ایک کا انجام کہ اسلام ہے یا کفر جانتے ہیں، اور اسی لئے اپنی حکمت سے احکام مناسبہ مقرر فرماتے ہیں اور تم جو لڑنے سے جی چراتے ہو گو بعضے ہی سہی تو) کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم یوں ہی ( اسی حالت پر) چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے ( ظاہری طور پر) ان لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے ( ایسے موقع پر) جہاد کیا ہو اور اللہ و رسول اور مؤمنین کے سوا کسی کو خصوصیت کا دوست نہ بنایا ہو ( جس کے ظاہر ہونے کا اچھا ذریعہ ایسے موقع کا جہاد ہے جہاں مقابلہ اعزہ و اقاب سے ہو کہ پورا امتحان ہوجاتا ہے کہ کون اللہ کو چاہتا ہے اور کون برادری کو) اور اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے تمہارے سب کاموں کی ( پس اگر جہاد میں چستی کرو گے یا سستی کرو گے اسی کے موافق تم کو جزا دے گا۔- معارف و مسائل - قریش مکہ جن سے ٦ ہجری میں بمقام حدیبیہ ایک معاہدہ التواء جنگ کا ہوا تھا ان کے متعلق سورة توبہ کی ابتدائی آیتوں میں بطور پیشگوئی کے یہ اطلاع دے دیگئی تھی کہ یہ لوگ اپنے معاہدہ پر قائم نہ رہیں گے جس کا ذکر سورة توبہ کی ساتویں آیت میں (آیت) كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ کے الفاظ میں گزر چکا ہے، اور پھر آٹھویں نویں دسویں آیتوں میں ان کی عہد شکنی کے اسباب کا بیان ہوا، گیارہویں آیت میں اس کا بیان آیا کہ عہد شکنی کے اس جرم عظیم کے بعد بھی اگر یہ لوگو مسلمان ہوجائیں اور اپنے اسلام کا اظہار نماز و روزہ کے ذریعہ کرنے لگیں تو پھر مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان کے پچھلے جرائم کا کوئی اثر اپنے معاملات میں با قی نہ رکھیں، بلکہ ان کو اپنا دینی بھائی سمجھیں اور برادرانہ معاملات کریں، مذکورہ بارہویں آیت میں اس کا بیان ہے کہ پیشنگوئی کے مطابق جب یہ لوگ عہد شکنی کر ہی ڈالیں تو پھر ان کے ساتھ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔- …

13

أَلَا تُقَٰتِلُونَ قَوْمًۭا نَّكَثُوٓا۟ أَيْمَٰنَهُمْ وَهَمُّوا۟ بِإِخْرَاجِ ٱلرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ أَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (خدا) کے جلا وطن کرنے کا عزم مصمم کر لیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتدا کی۔ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ ڈرنے کے لائق خدا ہے بشرطیکہ ایمان رکھتے ہو

اس کے بعد تیرہویں آیت میں مسلمانوں کو جہاد و قتال کی ترغیب کے لئے فرمایا کہ تم ایسی قوم کے ساتھ جنگ کے لئے کیوں تیار نہ ہوگے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینہ سے نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا، اور کہا تھا (آیت) لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ، یعنی ایسا ضرور ہوگا کہ عزت و قوت والا کمزور ذلیل کو مدینہ سے نکال دے گا۔ ان کے نزدیک عزت والے وہ لوگ تھے اور مسلمانوں کو کمزور و ذلیل سمجھتے تھے، جس کے جواب میں حق تعالیٰ نے ان کے ہی قول کو اس طرح پورا کر دکھایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام نے ان کو مدینہ سے نکال کر یہ ثابت کردیا کہ عزت والے مسلمان ہی ہیں اور کمزور ذلیل یہود تھے۔- دوسری وجہ ان سے جنگ کرنے کی یہ ارشاد فرمائی : (آیت) وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ، یعنی جنگ و قتال کی پہل انہی لوگوں کی طرف سے ہوئی، اب تو صرف مدافعانہ کارروائی ہے جو ہر فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے۔- پھر مسلمانوں کے دلوں سے ان لوگوں کا رعب دور کرنے کے لئے فرمایا (آیت) اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ ، یعنی کیا تم لوگ ان سے خوف کھاتے ہو، حالانکہ خوف اور ڈرنا صرف اللہ تعالیٰ سے چاہئے۔ جس کے عذاب کو کوئی طاقت ٹلا نہیں سکتی، آخر میں (آیت) اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ فرما کر بتلا دیا کہ غیر اللہ سے ایسا خوف کھانا جو احکام شرعیہ کی ادائیگی میں حائل ہوسکے کسی مومن مسلمان کا کام نہیں۔

14

قَٰتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ ٱللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍۢ مُّؤْمِنِينَ

ان سے (خوب) لڑو۔ خدا ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا

چودھویں اور پندرہویں آیت میں بھی مسلمانوں کو جنگ و جہاد کی ترغیب ایک دوسرے عنوان سے دی گئی ہے، جس میں چند چیزیں بتلائی گئیں۔- اول یہ کہ اگر تم ان سے جنگ کے لئے تیار ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کی مدد تھمارے شامل حال ہوگی، اور یہ قوم اپنے اعمال بد کی وجہ سے اللہ کے عذاب کی مستحق تو ہو ہی چکی ہے، مگر ان پر اللہ کا عذاب پچھلی قوموں کی طرح آسمان یا زمین سے نہیں آئے گا، بلکہ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ یعنی ان کو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سے عذاب دیں گے۔- دوسری یہ کہ اس جنگ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دلوں کو اس رنج و غم سے شفا عطا فرمائیں گے جو کفار کی طرف سے ان کو مسلسل پہونچتا رہا ہے۔- تیسرے یہ کہ ان کی غداری اور عہد شکنی کے سبب جو غیظ و غضب مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوا تھا، انہی کے ہاتھوں ان کو عذاب دے کر ان کے غیظ کو دور فرمادیں گے۔- پچھلی آیت میں لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ فرما کر مسلمانوں کو اس کی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کسی قوم سے اپنا غصہ اتارنے کے لئے نہ لڑیں، بلکہ ان کی اصلاح و ہدایت کو مقصد بنائیں، اس آیت میں یہ بتلا دیا کہ جب وہ اپنی نیت کو اللہ کے لئے صاف کرلیں اور محض اللہ کے لئے لڑیں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسی صورتیں بھی پیدا فرما دیں گے کہ ان کے غم و غصہ کا انتقام بھی خود بخود ہوجائے۔

15

وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ ۗ وَيَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کرے گا۔ اور خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

چوتھی چیز یہ ارشاد فرمائی (آیت) وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ، یعنی ان میں سے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا اس کی توبہ قبول فرمالیں گے “۔- جس سے معلوم ہوا کہ اس جہاد کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ دشمن کی جماعت میں سے بہت سے لوگوں کو اسلام کی توفیق ہوجائے گی، وہ مسلمان ہوجائیں گے، چناچہ فتح مکہ میں بہت سے سرکش ذلیل و خوار ہوئے اور بہت سے لوگ مشرف باسلام ہوگئے۔- ان آیات میں جن حالات و واقعات کی خبر بطور پشیگوئی دی گئی ہے تاریخ شاہد ہے کہ وہ سب ایک ایک کرکے اسی طرح مشاہدہ میں آئے جس طرح قرآن حکیم نے خبر دی تھی، اس لئے یہ آیات بہت سے معجزات پر مشتمل ہیں۔

16

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تُتْرَكُوا۟ وَلَمَّا يَعْلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُوا۟ مِنكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَا رَسُولِهِۦ وَلَا ٱلْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

Explained together with ayah 15

17

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا۟ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ شَٰهِدِينَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم بِٱلْكُفْرِ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ وَفِى ٱلنَّارِ هُمْ خَٰلِدُونَ

مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بےکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

خلاصہ تفسیر - مشرکین کی یہ لیاقت ہی نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو ( جن میں مسجد حرام بھی آگئی) آباد کریں جس حالت میں وہ خود اپنے کفر ( کی باتوں) کا اقرار کر رہے ہیں) (چنانچہ وہ خود اپنا مشرب بتلانے کے وقت ایسے عقائد کا اقرار کرتے تھے جو واقع میں کفر ہیں، مطلب یہ کہ عمارت مساجد گو عمل محمود ہے لیکن باوجود شرک کے کہ اس کے منافی ہے اس عمل کی اہلیت ہی مفقود ہے اور اس لئے وہ محض غیر معتدبہ ہے، پھر فخر کی کیا گنجائش ہے) ان لوگوں کے ( جو مشرک ہیں) سب اعمال ( نیک مثل عمارت مسجد وغیرہ) اکارت ( اور ضائع) ہیں ( بوجہ اس کے کہ ان کی قبولیت کی شرط نہیں پائی جاتی اور ضائع عمل پر فخر ہی کیا) اور دوزخ میں وہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ( کیونکہ وہ عمل جو کہ اسباب نجات سے ہے وہ تو ضائع ہی ہوگیا تھا) ہاں اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا ان لوگوں کا کام ہے ( یعنی علی وجہ الکمال ان سے مقبول ہوتا ہے) جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ( دل سے) ایمان لائیں ( اور جوارح سے اس کا اظہار بھی کریں مثلاً اس طرح کہ) نماز کی پابندی کریں اور زکوٰة دیں اور ( اللہ پر ایسا توکل رکھتے ہوں کہ) بجز اللہ کے کسی سے نہ ڈریں سو ایسے لوگوں کی نسبت توقع ( یعنی وعدہ) ہے کہ اپنے مقصود ( یعنی جنت و نجات) تک پہنچ جائیں گے ( کیونکہ ان کے اعمال بوجہ ایمان کے مقبول ہوں گے، اس لئے آخرت میں نفع ہوگا اور مشرکین اس شرط سے محروم ہیں، اور عمل بےثمر پر فخر لاحاصل ) ۔- معارف و مسائل - پچھلی آیات میں مشرکین مکہ کی کج روی، عہد شکنی اور اپنے دین باطل کے لئے ہر طرح کی کوشش کا اور اس کے مقابلہ پر مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب کا بیان آیا تھا، آیات مذکورہ میں مسلمانوں کو جہاد کی تاکید کے ساتھ یہ بتلایا گیا ہے کہ جنگ و جہاد ہی وہ چیز ہے جس میں مسلمان کا امتحان ہوتا ہے مخلص مسلمان اور منافق یا ضعیف الایمان کا امتیاز ہوتا ہے، اور یہ امتحان ضروری ہے۔- سولہویں آیت میں ارشاد فرمایا کہ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم صرف کلمہ اسلام زبان سے کہہ لینے اور اسلام کا دعوٰی کرلینے پر آزاد چھوڑ دیئے جاؤ گے، جب تک اللہ تعالیٰ ظاہری طور پر بھی ان سچے اور پکے مسلمانوں کو نہ دیکھ لیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں، اور جو اللہ و رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو اپنا رازدار دوست نہیں بناتے۔- اسی آیت میں ان عام لوگوں کو خطاب ہے جو مسلمان سمجھے جاتے تھے، اگرچہ ان میں سے بعض منافق بھی تھے اور بعض ضعیف الایمان اور مذبذب تھے، ایسے ہی لوگوں کا یہ حال تھا کہ اپنے غیر مسلم دوستوں کو مسلمانوں کے راز اور اسرار پر مطلع کردیا کرتے تھے، اس لئے اس آیت میں مخلص مسلمان کی دو علامتیں بتلادی گئیں۔- مخلص مسلمان کی دو ٢ علامتیں : - اول یہ کہ اللہ کے واسطے کفار سے جہاد کریں، دوسرے یہ کہ کسی غیر مسلم کو اپنا رازدار، دوست نہ بنائیں آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ یعنی تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہیں، ان کے آگے کسی کا حیلہ و تاویل نہیں چل سکتی۔- یہی مضمون قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے : (آیت) اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ ، یعنی کیا لوگوں نے یوں سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف زبانی اپنے آپ کو مومن کہنے پر آزاد چھوڑ دیئے جائیں گے، او ان کا کوئی امتحان نہ لیا جائے گا “۔- کسی غیر مسلم کو ہمراز دوست بنانا درست نہیں :- آیت مذکورہ میں جو لفظ وَلِيْجَةً آیا ہے اس کے معنی دخیل اور بھیدی کے ہیں، اور ایک دوسری آیت میں اسی معنی کے لئے لفظ بطانہ استعمال کیا گیا ہے بطانہ کے اصل معنی اس کپڑے کے ہیں جو دوسرے کپڑوں کے نیچے بطن اور بدن کے ساتھ متصل ہو، مراد اس سے ایسا آدمی ہے جو اندر کے رازوں سے واقف ہو، اس آیت کے الفاظ یہ ہیں : - (آیت) يٰٓاَيُّھَا …

18

إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا ٱللَّهَ ۖ فَعَسَىٰٓ أُو۟لَٰٓئِكَ أَن يَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُهْتَدِينَ

خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکواة دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں

اس آیت میں عمارت مسجد کا منفی پہلو بیان کیا گیا تھا کہ مشرکین اس کے اہل نہیں ہیں۔- دوسری آیت میں عمارت مسجد کا مثبت پہلو اس طرح ارشاد فرمایا : (آیت) اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَام الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ ، یعنی مسجدوں کو آباد کرنا انہی لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاویں اور نماز کی پابندی کریں اور زکوٰة دیں اور بجز اللہ تعالیٰ کے کسی سے نہ ڈریں سو ایسے لوگوں کے متعلق توقع ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے “۔- مطلب یہ ہے کہ مساجد کی اصلی عمارت صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے احکام الہٰی کے پابند ہوں، اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور نماز زکوٰة کے پابند ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، اس جگہ صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا ذکر کیا گیا رسول پر ایمان کے ذکر کرنے کی اس لئے ضرورت نہ سمجھی گئی کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی کوئی صورت بجز اس کے ہو ہی نہیں سکتی کہ رسول پر ایمان لائے، اور اس کے ذریعہ جو احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئیں ان کو دل سے قبول کرے، اس لئے ایمان بااللہ میں ایمان بالرسول فطری طور پر داخل ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ صحابہ کرام سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان کیا چیز ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان یہ ہے کہ آدمی دل سے اس کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اس حدیث نے بتلایا کہ رسول پر ایمان لانا اللہ پر ایمان لانے میں داخل اور شامل ہے ( مظہری بحوالہ صحیحین) ۔- اور یہ جو ارشاد فرمایا کہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے، اس کے معنی یہ ہیں کہ دین کے معاملہ میں کسی کے خوف سے اللہ کے حکم کو ترک نہ کر ے، ورنہ خوف کی چیزوں سے ڈرنا اور دہشت کھانا تو تقاضائے عقل و فطرت ہے، درندے اور زہریلے جا نوروں سے چور ڈاکو سے طبعی طور پر ڈرنا اس کے خلاف نہیں، یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے جب جادوگروں نے رسیوں کے سانپ بنا کر دکھلائے تو وہ ڈر گئے، (آیت) فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى، اس لئے ایذاء اور نقصان پہونچانے والوں سے طبعی خوف نہ حکم قرآن کے خلاف ہے نہ رسالت اور ولایت کے، ہاں اس خوف سے مغلوب ہو کر کہ اللہ تعالیٰ کے احکام میں خلل ڈالنا یا ان کو ترک کردینا یہ مومن کی شان نہیں، یہی اس جگہ مراد ہے۔- بعض مسائل متعلقہ آیت : - اور عمارت مسجد جس کے متعلق ان آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ مشرک کافر نہیں کرسکتے بلکہ وہ صرف نیک صالح مسلمان ہی کا کام ہے، اس سے مراد مساجد کی تولیت اور انتظامی ذمہ داری ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی کافر کو کسی اسلامی وقف کا متولی اور منتظم بنانا جائز نہیں، باقی رہا ظاہری در و دیوار وغیرہ کی تعمیر، سو اس میں کسی غیر مسلم سے بھی کام لیا جائے تو مضائقہ نہیں ( تفسیر مراغی) اس طرح اگر کوئی غیر مسلم ثواب سمجھ کر مسجد بنا دے یا مسجد بنانے کے لئے مسلمانوں کو چندہ دیدے تو اس کا قبول کرلینا بھی اس شرط سے جائز ہے کہ اس سے کسی دینی یا دنیوی نقصان یا الزام کا یا آئندہ اس پر قبضہ کرلینے کا یا احسان جتلانے کا خطرہ نہ ہو ( در المختار، شامی، مراغی) - اور اس آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ مساجد کی عمارت اور آبادی صرف نیک مسلمان ہی کا کام ہے، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو شخص مساجد کی حفاظت، صفائی اور دوسری ضروریات کا انتظام کرتا ہے، اور جو عبادت اور ذکر اللہ کے لئے یا علم دین اور قرآن پڑھنے پڑھانے کے لئے مسجد میں آتا جاتا ہے اس کے یہ اعمال اس کے مومن کامل ہونے کی شہادت …

19

۞ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ ٱلْحَآجِّ وَعِمَارَةَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ كَمَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَجَٰهَدَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ لَا يَسْتَوُۥنَ عِندَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم یعنی (خانہٴ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

خلاصہ تفسیر - کیا تم لوگوں نے حجاج کے پانی پلانے کو اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص ( کے عمل) کی برابر قرار دے لیا جو کہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہو، اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو ( وہ عمل ایمان اور جہاد ہے، یعنی یہ عمل برابر نہیں اور جب اعمال برابر نہیں تو) یہ ( عامل) لوگ ( بھی باہم) برابر نہیں اللہ کے نزدیک ( غرض عمل عمل باہم اور عامل عامل باہم برابر نہیں مقصود بقرینہ سیاق یہ ہے کہ ایمان اور جہاد میں سے ہر واحد افضل ہے، سقایہ اور عمارت کے ہر واحد سے یعنی ایمان بھی دونوں سے افضل ہے، اور اس سے جواب ہوگیا مشرکین کا کہ ان میں ایمان نہ تھا، اور جہاد بھی دونوں سے افضل ہے، اس سے جواب ہوگیا بعض مومنین کا جو کہ بعد ایمان کے سقایہ اور عمارت کو جہاد پر تفضیل دیتے تھے) اور ( یہ امر مذکور بہت ہی ظاہر ہے لیکن) جو لوگ بےانصاف ہیں ( مراد مشرک ہیں) اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ نہیں دیتا ( اس لئے وہ نہیں مانتے بخلاف اہل ایمان کے کہ وہ اس تحقیق کو فوراً مان گئے، آگے اس مضمون کی تصریح ہے جو اوپر لایستون سے مقصود تھا یعنی) جو لوگ ایمان لائے اور ( اللہ کے واسطے) انہوں نے ترک وطن کیا اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کیا وہ درجہ میں اللہ کے نزدیک ( بمقابلہ اہل سقایہ و اہل عمارت کے) بہت بڑے ہیں ( کیونکہ اگر اہل سقایہ و اہل عمارت میں ایمان نہ ہو تب تو یہ بڑائی انہی مومنین مہاجرین مجاہدین میں منحصر ہے اور اگر ان میں ایمان ہو تو گو وہ بھی بڑے ہیں مگر یہ زیادہ بڑے ہیں) اور یہی لوگ پورے کامیاب ہیں ( کیونکہ اگر ان کے مقابلین میں ایمان نہ ہو تب تو کامیابی کا حصر انہی میں ہے، اور اگر ایمان ہو تو کامیابی مشترک ہے لیکن ان کی کامیابی ان سے اعلی ہے، آگے اس درجہ اور فوز کا بیان ہے کہ) ان کا رب ان کو بشارت دیتا ہے اپنی طرف سے بڑی رحمت اور بڑی رضامندی اور ( جنت کے) ایسے باغوں کی ان کے لئے کہ ان ( باغوں) میں دائمی نعمت ہوگی ( اور) ان میں یہ ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے بلاشبہ اللہ کے پاس بڑا اجر ہے، ( اس میں سے ان کو دیا جائے گا) اے ایمان والو اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو ( اپنا) رفیق مت بناؤ اگر وہ لوگ کفر کو بمقابلہ ایمان کے ( ایسا) عزیز رکھیں ( کہ ان کے ایمان لانے کی امید نہ رہے) اور جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ رفاقت رکھے گا سو ایسے لوگ بڑے نافرمان ہیں ( مطلب یہ کہ بڑا مانع ہجرت سے ان لوگوں کا تعلق ہے اور خود وہی جائز نہیں پھر ہجرت میں کیا دشواری ہے ) ۔- معارف و مسائل - شروع کی چار آیتیں ١٩ سے ٢٢ تک ایک خاص واقعہ سے متعلق ہیں وہ یہ کہ بہت سے مشرکین مکہ مسلمانوں کے مقابلہ میں اس پر فخر کیا کرتے تھے کہ ہم مسجد حرام کی آبادی اور حجاج کو پانی پلانے کا انتظام کرتے ہیں، اس سے بڑھ کر کسی کا کوئی عمل نہیں ہوسکتا، اسلام لانے سے پہلے جب حضرت عباس غزوہ بدر میں گرفتار ہو کر مسلمانوں کی قید میں آئے اور ان کے مسلم عزیزوں نے ان کو اس پر ملامت کی کہ آپ نعمت ایمان سے محروم ہیں تو انہوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آپ لوگ ایمان و ہجرت کو اپنا بڑا سرمایہ فضیلت سمجھتے ہیں مگر ہم بھی تو مسجد حرام کی عمارت اور حجاج کو پانی پلانے کی اہم خدمات کے متولی ہیں جن کی برابر کسی کا عمل نہیں ہو سکتا، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ( ابن کثیر بروایت علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس) - اور مسند عبدالرزاق کی بعض روایات میں ہے کہ حضرت عباس کے مسلمان ہوجانے کے بعد طلحہ بن شیبہ اور حضرت عباس اور علی کرم اللہ وجہہ کے آپس میں گفتگو ہو رہی تھی، طلحہ نے کہا کہ مجھے وہ فضیلت حاصل ہے جو تم میں سے کسی کو حاصل نہیں کہ بیت اللہ کی چابی میرے ہاتھ میں ہے میں اگر چاہوں تو بیت اللہ کے اند جاکر رات گذار سکتا ہوں، حضرت عباس نے فرمایا کہ میں حجاج کو پانی پلانے کا متولی اور منتظم ہوں اور مسجد حرام میں میرے …

20

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ ٱللَّهِ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَآئِزُونَ

جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں

بیسویں آیت میں اس مضمون کی تفصیل ہے جو پہلی آیت میں لَا يَسْتَوٗنَ کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے یعنی ایمان لانے والے مجاہد اور صرف عمارت مسجد اور سقایہ حجاج کرنے والے اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں، اس میں ارشاد فرمایا : (آیت) اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ ، یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہ اللہ کے نزدیک درجہ میں بڑے ہیں، اور پورے کامیاب یہی لوگ ہیں “- کیونکہ ان کے مقابلہ میں جو مشرک ہیں ان کو تو کامیابی کا کوئی درجہ ہی حاصل نہیں اور جو مسلمان ہیں اگرچہ نفس کامیابی میں وہ بھی شریک ہیں مگر ان کی کامیابی ان سے بڑھی ہوئی ہے اس لئے پورے کا میاب یہی لوگ ہیں۔

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.