Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 121–129 of 129

121

وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةًۭ صَغِيرَةًۭ وَلَا كَبِيرَةًۭ وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ ٱللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور (اسی طرح) جو وہ خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے (اعمال صالحہ) میں لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے

Explained together with ayah 120

At-Tawba 9:121Listen in Qur'an →
122

۞ وَمَا كَانَ ٱلْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا۟ كَآفَّةًۭ ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍۢ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌۭ لِّيَتَفَقَّهُوا۟ فِى ٱلدِّينِ وَلِيُنذِرُوا۟ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوٓا۟ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ

اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا (علم سیکھتے اور اس) میں سمجھ پیدا کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ حذر کرتے

خلاصہ تفسیر - اور (ہمیشہ کیلئے) مسلمانوں کو یہ ( بھی) نہ چاہئے کہ ( جہاد کے واسطے) سب کے سب ( ہی) نکل کھڑے ہوں ( کہ اس میں دوسری اسلامی ضروریات معطل ہوتی ہیں) سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر ہر بڑی جماعت میں سے ایک ایک چھوٹی جماعت ( جہاد میں) جایا کرے ( اور کچھ اپنے وطن میں رہ جایا کریں) تاکہ باقی ماندہ لوگ ( رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وقت میں آپ سے اور آپ کے بعد علماء شہر سے) دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو ( جو کہ جہاد میں گئے ہوئے ہیں) جبکہ وہ ان کے پاس آویں ( دین کی باتیں سنا کر خدا کی نافرمانی سے) ڈراویں تاکہ وہ ( ان سے دین کی باتیں سن کر برے کاموں سے) احتیاط رکھیں۔- معارف و مسائل - سورة توبہ میں بڑی اہمیت کے ساتھ غزوہ تبوک کا ذکر مسلسل چلا آیا ہے، جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے نفیر عام کا اعلان کیا گیا تھا کہ سب مسلمان اس میں شریک ہوں، اس حکم کی خلاف ورزی بلا عذر صحیح جائز نہ تھی، جو لوگ خلاف ورزی میں مبتلا ہوئے ان میں زیادہ تو منافقین تھے جن کا ذکر بہت سی آیات میں اوپر آیا ہے، کچھ مخلص مومن بھی تھے جو وقتی کاہلی اور سستی کے سبب رہ گئے تھے، ان کی توبہ حق تعالیٰ نے قبول فرمالی، ان سب واقعات سے بظاہر یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ ہر جہاد اور غزوہ میں سب ہی مسلمانون کو نکلتا فرض اور تخلف حرام ہے، حالانکہ حکم شرعی یہ نہیں، بلکہ جہاد عام حالات میں فرض کفایہ ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ مسلمانوں کی کچھ جماعت جو جہاد کے لئے کافی ہو جہاد میں مشغول رہے تو باقی مسلمان بھی فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں، ہاں اگر جہاد میں شریک ہونے والی جماعت کافی نہ ہو وہ مغلوب ہونے لگے تو آس پاس کے مسلمانوں پر ان کی تقویت کیلئے نکلنا اور جہاد میں شریک ہونا فرض ہوجاتا ہے وہ بھی کافی نہ ہو تو ان کے قریب کے لوگوں پر اور وہ بھی کافی نہ ہوں تو ان کے متصل جو مسلمان ہیں ان پر یہاں تک کہ سارے عالم کے مسلمانوں کا امیر ضرورت سمجھ کر نفیر عام کرے اور سب مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دے، تو اس وقت بھی جہاد کی شرکت فرض اور تخلف حرام ہوجاتا ہے جیسا واقعہ غزوہ تبوک میں نفیر عام کی وجہ سے پیش آیا، مذکور الصدر آیت میں اسی حکم کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ غزوہ تبوک میں نفیر عام کی وجہ سے خصوصی حکم تھا، عام حالات میں جہاد فرض عین نہیں کہ سب مسلمانوں پر جہاد میں جانا فرض ہو کیونکہ جہاد کی طرح اسلام اور مسلمانوں کے اجتماعی مسائل اور مہمات بھی ہیں جو جہاد ہی کی طرح فرض کفایہ ہیں ان کے لئے بھی مسلمانوں کی مختلف جماعتوں کو تقسیم کار کے اصول پر کام کرنا ہے اس لئے سب مسلمانوں کو ہر جہاد میں نکلنا نہیں چاہئے، اسی مضمون سے فرض کفایہ کی حقیقت بھی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جو کام شخصی نہیں اجتماعی ہیں اور سب مسلمانوں پر ان کے پورا کرنے کی ذمہ داری ہے ان کو شریعت میں فرض کفایہ قرار دیا گیا ہے، تاکہ تقسیم کار کے اصول پر سب کام اپنی اپنی جگہ چلتے رہیں اور یہ اجتماعی فرائض سب ادا ہوتے رہیں، مسلمان مردوں پر نماز جنازہ اور اس کی تکفین مساجد کی تعمیر و نگرانی، جہاد، اسلامی سرحدوں کی حفاظت یہ سب اسی فرض کفایہ کے افراد ہیں کہ ان کی ذمہ داری تو پورے عالم کے مسلمانوں پر ہے مگر بقدر کفایت کچھ لوگ کرلیں تو دوسرے مسلمان بھی فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں، اسی فرض کفایہ کے سلسلہ کا ایک اہم کام دینی تعلیم ہے اس آیت میں خصوصیت سے اس کے فرض ہونے کا اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ جہاد جیسے اہم فرض میں بھی اس فرض کو چھوڑنا نہیں جس کی صورت یہ ہے کہ ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جہاد کیلئے نکلے اور باقی لوگ علم دین حاصل کرنے میں لگیں، پھر یہ علم دین حاصل کرکے جہاد میں جانے والے مسلمانوں کو اور دوسرے لوگوں کو علم دین سکھائیں۔- طلب علم دین کا فرض ہونا اور اس کے آداب و فرائض :- امام …

At-Tawba 9:122Listen in Qur'an →
123

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَٰتِلُوا۟ ٱلَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ ٱلْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا۟ فِيكُمْ غِلْظَةًۭ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ

اے اہلِ ایمان! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے

خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ( رہتے) ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہئے ( یعنی جہاد کے وقت بھی مضبوط رہنا چاہئے اور ویسے بھی غیر زمانہ صلح میں ان سے ڈھیلا پن نہ برتنا چاہیے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ ( کی امداد) متقی لوگوں کے ساتھ ہے ( پس ان سے ڈرو دبو مت) اور جب کوئی سورت ( جدید) نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین ( غربا مسلمین سے بطور تمسخر) کہتے ہیں کہ ( کہو) اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان میں ترقی دی ( آگے حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ تم جواب چاہتے ہو) سو ( سنو) جو لوگ ایماندار ہیں اس سورت نے ان کے ( تو) ایمان میں ترقی دی ہے اور وہ ( اس ترقی کے ادراک سے) خوش ہو رہے ہیں ( مگر چونکہ وہ امر قلبی ہے اور تم کو نصیب نہیں اس لئے اس کا ادراک بھی نصیب نہیں اور تمسخر کرتے ہو) اور جن لوگوں کے دلوں میں ( نفاق کا) آزاد ہے اس سورت نے ان میں ان کی ( پہلی) گندگی کے ساتھ اور ( نئی) گندگی بڑھا دی ( کیونکہ پہلے ایک حصہ قرآن کا انکار تھا اب اس جدید حصہ کا انکار مزید ہوا) اور وہ حالت کفر ہی میں مرگئے ( یعنی جو ان میں مرچکے ہیں وہ کافر مرے اور جو اسی اصرار پر رہیں گے وہ کافر مریں گے، حاصل جواب یہ ہوا کہ قرآن میں ایمان کو ترقی دینے کی بیشک خاصیت ہے لیکن محل میں قابلیت بھی تو ہو اور اگر پہلے سے خباثت مستحکمہ ہے تو اور بھی اس کو استحکام ہوجائے گا " در باغ لالہ روید و در شورہ بوم خس " ) اور کیا ان کو نہیں دکھائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال میں ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں ( مگر) پھر بھی ( اپنی حرکات شنیعہ سے) باز نہیں آتے اور نہ وہ کچھ سمجھتے ہیں ( جس سے باز آنے کی آئندہ امید ہو، یعنی ان حوادث سے ان کو عبرت پکڑنا اور عبرت پکڑ کر اپنی اصلاح کرلینا چاہئے تھا، یہ تو ان کے تمسخر کا بیان ہوا جو اپنی مجالس میں کرتے تھے، آگے تنفر کا بیان ہے جو مجلس نبوی صلی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ان سے صادر ہوتا تھا، چناچہ ارشاد ہے اور جب کوئی سورت ( جدید) نازل کی جاتی ہے تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں ( اور اشارہ سے باتیں کرتے ہیں) کہ تم کو کوئی ( مسلمان) دیکھتا تو نہیں ( کہ اٹھتا ہوا دیکھ لے اور حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جا لگائے) پھر ( اشاروں ہی اشاروں میں باتیں کر کے وہاں سے اٹھ کر) چل دیتے ہیں ( یہ لوگ مسجد نبوی سے کیا پھرے) خدا تعالیٰ نے ان کا دل ( ہی ایمان سے) پھیر دیا ہے اس وجہ سے کہ وہ محض بےسمجھ لوگ ہیں ( کہ اپنے نفع سے بھاگتے ہیں ) ۔- معارف و مسائل - سابقہ آیات میں جہاد کی ترغیب تھی، آیت مذکورہ بالا (آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا، الایہ میں یہ تفصیل بتلائی گئی ہے کہ کفار تو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ان سے جہاد و قتال میں ترتیب کیا ہونا چاہئے، اس آیت میں ارشاد یہ ہے کہ کفار میں سے جو لوگ تم سے قریب ہوں پہلے جہاد ان سے کیا جائے قریب ہونا مقام کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے کہ جائے سکونت سے جو قریب رہنے والے کفار ہیں وہ جہاد میں مقدم کئے جاویں اور رشتہ، نسب اور تعلقات کے اعتبار سے بھی جو قریب ہوں وہ دوسروں سے مقدم کئے جاویں کیونکہ اسلامی جہاد درحقیقت انہیں کی خیر خواہی کے تقاضہ سے ہے، اور خیر خواہی و ہمدردی میں رشتہ دار و تعلقات والے مقدم ہیں، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا ہے (آیت) وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ، یعنی اپنے قریبی عزیزوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ چناچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تعمیل فرمائی اور سب سے پہلے اپنے خاندان کے لوگوں کو جمع کرکے کلمہ حق پہونچایا، اسی طرح مقامی قرب و بعد کا اعتبار کرکے مدینہ کے قرب و جوار کے کفار بنو قریظہ، بنو نضیر، اہل خیبر کو دوسروں پر مقدم کیا گیا، اس کے بعد باقی عرب سے …

At-Tawba 9:123Listen in Qur'an →
124

وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌۭ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَٰذِهِۦٓ إِيمَٰنًۭا ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَزَادَتْهُمْ إِيمَٰنًۭا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق (استہزاء کرتے اور) پوچھتے کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے۔ سو جو ایمان والے ہیں ان کا ایمان تو زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں

Explained together with ayah 123

At-Tawba 9:124Listen in Qur'an →
125

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ كَٰفِرُونَ

اور جن کے دلوں میں مرض ہے، ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا اور وہ مرے بھی تو کافر کے کافر

Explained together with ayah 123

At-Tawba 9:125Listen in Qur'an →
126

أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِى كُلِّ عَامٍۢ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ

کیا یہ دیکھتے نہیں کہ یہ ہر سال ایک یا دو بار بلا میں پھنسا دیئے جاتے ہیں پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں

(آیت) يُفْتَنُوْنَ فِيْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ ، اس میں منافقین کو اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اپنے نفاق اور عہد شکنی وغیرہ معاصی کی وجہ سے ہر سال مختلف قسم کی مصیبتوں میں کبھی ایک بار کبھی دو بار مبتلا ہوتے رہتے ہیں، کبھی ان کے دوست کفار مکہ مغلوب ہوگئے، کبھی ان کے نفاق کی باتیں کھل گئیں، اس سے پریشانی میں مبتلا رہے، یہاں ایک دو کا عدد خاص مراد نہیں، بلکہ یہ بتلانا ہے کہ اس کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، کیا ان چیزوں کو دیکھ کر بھی انہیں عبرت نہیں ہوتی۔

At-Tawba 9:126Listen in Qur'an →
127

وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌۭ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ هَلْ يَرَىٰكُم مِّنْ أَحَدٍۢ ثُمَّ ٱنصَرَفُوا۟ ۚ صَرَفَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُم بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگتے ہیں (اور پوچھتے ہیں کہ) بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے پھر پھر جاتے ہیں۔ خدا نے ان کے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے

Explained together with ayah 126

At-Tawba 9:127Listen in Qur'an →
128

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌۭ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ

(لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہیں

خلاصہ تفسیر - ( اے لوگو) تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس ( بشر) سے ہیں (کہ تم کو نفع حاصل کرنا آسان ہو) جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گذرتی ہے ( چاہتے ہیں کہ تم کو کوئی ضرر نہ پہنچنے) جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ( یہ حالت تو سب کے ساتھ ہے پھر بالخصوص) ایمانداروں کے ساتھ ( تو) بڑے ہی شفیق ( اور) مہربان ہیں ( ایسے رسول سے مستفید نہ ہونا بڑی محرومی ہے) پھر اگر ( اس پر بھی آپ کو رسول ماننے سے اور آپ کے اتباع کرنے سے) روگردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے ( میرا کیا نقصان ہے) میرے لئے ( تو) اللہ تعالیٰ ( حافظ و ناصر) کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں ( پس معبودیت اس کے ساتھ مختص ہے تو لامحالہ سارے کمالات علم وقدرت اس میں بےمثل ہوں گے، پھر مجھ کو کسی کی مخالفت سے کیا اندیشہ) میں نے اسی پر بھروسہ کرلیا اور وہ بڑے بھاری عرش کا مالک ہے ( تو اور چیزیں تو بدرجہ اولی اس کی مملوک ہوں گی، پس اس پر بھروسہ کرنے کے بعد مجھ کو کوئی اندیشہ نہیں البتہ تم اپنی فکر کرلو، حق کا انکار کرکے کہاں رہو گے ) ۔- معارف رمسائل - یہ سورة توبہ کی آخری آیتیں ہیں جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پوری خلق خدا پر خصوصاً مسلمانوں پر بےحد مہربان اور شفیق و ہمدرد ہونا بیان فرمایا ہے اور آخری آیت میں آپ کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ آپ کی ساری کوششوں کے باوجود اگر پھر بھی کچھ لوگ ایمان نہ لائیں تو آپ صبر کریں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کریں۔- سورة توبہ کے آخر میں یہ مضمون اس لئے لانا مناسب ہوا کہ اس پوری سورت میں کفار سے براءت قطع تعلق قتال و جہاد کا ذکر تھا جو دعوت الی اللہ کی آخری صورت ہے، جبکہ زبانی دعوت و تبلیغ سے اصلاح کی توقع نہ رہے، لیکن اصل کام انبیاء (علیہم السلام) کا یہی ہے کہ شفقت و رحمت اور ہمدردی و خیر خواہی کے جذبے سے خلق خدا کو خدا کی طرف آنے کی دعوت دیں، اور ان کی طرف سے اعراض یا کوئی تکلیف پیش آئے تو اس کو اللہ کے سپرد کردیں اس پر توکل کریں، کیونکہ وہ رب العرش العظیم ہے، یہاں عرش عظیم کا رب کہہ کر یہ بتلانا منظور ہے کہ وہ کل کائنات عالم پر محیط ہے۔

At-Tawba 9:128Listen in Qur'an →
129

فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُلْ حَسْبِىَ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ

پھر اگر یہ لوگ پھر جائیں (اور نہ مانیں) تو کہہ دو کہ خدا مجھے کفایت کرتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

آخری دو آیتیں حضرت ابی بن کعب کے قول کے مطابق قرآن مجید کی آخری آیتیں ہیں ان کے بعد کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی، یہی قول حضرت ابن عباس کا ہے۔ ( قرطبی )- ان دو آیتوں کے بڑے فضائل حدیث میں مذکور ہیں، حضرت ابوالدرداء فرماتے ہیں کہ جو شخص صبح و شام یہ آیتیں سات مرتبہ پڑھ لیا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام کام آسان فرما دیتے ہیں (قرطبی) واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم - ربنا تقبل منا انک انت السمیع العیلم، اللھم وفقنی لتکمیلہ کما تحب وترضی والطف بنا فی تیسیر کل عسیر فان تیسیر کل عسیر علیک یسیر - ( سورة توبہ تمام شد )

At-Tawba 9:129Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.