خلاصہ تفسیر - اور (ہمیشہ کیلئے) مسلمانوں کو یہ ( بھی) نہ چاہئے کہ ( جہاد کے واسطے) سب کے سب ( ہی) نکل کھڑے ہوں ( کہ اس میں دوسری اسلامی ضروریات معطل ہوتی ہیں) سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر ہر بڑی جماعت میں سے ایک ایک چھوٹی جماعت ( جہاد میں) جایا کرے ( اور کچھ اپنے وطن میں رہ جایا کریں) تاکہ باقی ماندہ لوگ ( رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وقت میں آپ سے اور آپ کے بعد علماء شہر سے) دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو ( جو کہ جہاد میں گئے ہوئے ہیں) جبکہ وہ ان کے پاس آویں ( دین کی باتیں سنا کر خدا کی نافرمانی سے) ڈراویں تاکہ وہ ( ان سے دین کی باتیں سن کر برے کاموں سے) احتیاط رکھیں۔- معارف و مسائل - سورة توبہ میں بڑی اہمیت کے ساتھ غزوہ تبوک کا ذکر مسلسل چلا آیا ہے، جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے نفیر عام کا اعلان کیا گیا تھا کہ سب مسلمان اس میں شریک ہوں، اس حکم کی خلاف ورزی بلا عذر صحیح جائز نہ تھی، جو لوگ خلاف ورزی میں مبتلا ہوئے ان میں زیادہ تو منافقین تھے جن کا ذکر بہت سی آیات میں اوپر آیا ہے، کچھ مخلص مومن بھی تھے جو وقتی کاہلی اور سستی کے سبب رہ گئے تھے، ان کی توبہ حق تعالیٰ نے قبول فرمالی، ان سب واقعات سے بظاہر یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ ہر جہاد اور غزوہ میں سب ہی مسلمانون کو نکلتا فرض اور تخلف حرام ہے، حالانکہ حکم شرعی یہ نہیں، بلکہ جہاد عام حالات میں فرض کفایہ ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ مسلمانوں کی کچھ جماعت جو جہاد کے لئے کافی ہو جہاد میں مشغول رہے تو باقی مسلمان بھی فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں، ہاں اگر جہاد میں شریک ہونے والی جماعت کافی نہ ہو وہ مغلوب ہونے لگے تو آس پاس کے مسلمانوں پر ان کی تقویت کیلئے نکلنا اور جہاد میں شریک ہونا فرض ہوجاتا ہے وہ بھی کافی نہ ہو تو ان کے قریب کے لوگوں پر اور وہ بھی کافی نہ ہوں تو ان کے متصل جو مسلمان ہیں ان پر یہاں تک کہ سارے عالم کے مسلمانوں کا امیر ضرورت سمجھ کر نفیر عام کرے اور سب مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دے، تو اس وقت بھی جہاد کی شرکت فرض اور تخلف حرام ہوجاتا ہے جیسا واقعہ غزوہ تبوک میں نفیر عام کی وجہ سے پیش آیا، مذکور الصدر آیت میں اسی حکم کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ غزوہ تبوک میں نفیر عام کی وجہ سے خصوصی حکم تھا، عام حالات میں جہاد فرض عین نہیں کہ سب مسلمانوں پر جہاد میں جانا فرض ہو کیونکہ جہاد کی طرح اسلام اور مسلمانوں کے اجتماعی مسائل اور مہمات بھی ہیں جو جہاد ہی کی طرح فرض کفایہ ہیں ان کے لئے بھی مسلمانوں کی مختلف جماعتوں کو تقسیم کار کے اصول پر کام کرنا ہے اس لئے سب مسلمانوں کو ہر جہاد میں نکلنا نہیں چاہئے، اسی مضمون سے فرض کفایہ کی حقیقت بھی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جو کام شخصی نہیں اجتماعی ہیں اور سب مسلمانوں پر ان کے پورا کرنے کی ذمہ داری ہے ان کو شریعت میں فرض کفایہ قرار دیا گیا ہے، تاکہ تقسیم کار کے اصول پر سب کام اپنی اپنی جگہ چلتے رہیں اور یہ اجتماعی فرائض سب ادا ہوتے رہیں، مسلمان مردوں پر نماز جنازہ اور اس کی تکفین مساجد کی تعمیر و نگرانی، جہاد، اسلامی سرحدوں کی حفاظت یہ سب اسی فرض کفایہ کے افراد ہیں کہ ان کی ذمہ داری تو پورے عالم کے مسلمانوں پر ہے مگر بقدر کفایت کچھ لوگ کرلیں تو دوسرے مسلمان بھی فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں، اسی فرض کفایہ کے سلسلہ کا ایک اہم کام دینی تعلیم ہے اس آیت میں خصوصیت سے اس کے فرض ہونے کا اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ جہاد جیسے اہم فرض میں بھی اس فرض کو چھوڑنا نہیں جس کی صورت یہ ہے کہ ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جہاد کیلئے نکلے اور باقی لوگ علم دین حاصل کرنے میں لگیں، پھر یہ علم دین حاصل کرکے جہاد میں جانے والے مسلمانوں کو اور دوسرے لوگوں کو علم دین سکھائیں۔- طلب علم دین کا فرض ہونا اور اس کے آداب و فرائض :- امام …