وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ ٱلْأَعْرَابِ مُنَٰفِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ ٱلْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا۟ عَلَى ٱلنِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍۢ
اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے
خلاصہ تفسیر - اور کچھ تمہارے گرد و پیش والوں میں اور کچھ مدینہ والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق کی حد کمال پر ( ایسے) پہنچنے ہوئے ہیں ( کہ) آپ ( بھی) ان کو نہیں جانتے ( کہ یہ منافق ہیں بس) ان کو ہم ہی جانتے ہیں ہم ان کو ( دوسرے منافقین کی نسبت آخرت سے پہلے بھی) دوہری سزا دیں گے ( ایک نفاق کی دوسرے کمال نفاق کی اور) پھر ( آخرت میں بھی) وہ بڑے بھاری عذاب ( یعنی جہنم مع خلو و دائمی) کی طرف بھیجے جاویں گے۔- معارف و مسائل - سابقہ بہت سی آیات میں ان منافقین کا ذکر آیا ہے جن کا نفاق ان کے اقوال و افعال سے ظاہر ہوچکا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہچانتے تھے کہ یہ منافق ہیں، اس آیت میں ایسے منافقین کا ذکر ہے جن کا نفاق انتہائی کمال پر ہونے کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اب تک مخفی رہا، اس آیت میں ایسے شدید منافقین پر آخرت سے پہلے ہی دو عذاب ہونے کا ذکر آیا ہے، ایک دنیا ہی میں کہ ہر وقت اپنے نفاق کو چھپانے کی فکر اور ظاہر ہونے کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں، اور اسلام اور مسلمانوں سے انتہائی بغض و عداوت رکھنے کے باوجود ظاہر میں ان کی تعظیم و تکریم اور ان کے اتباع پر مجبور ہونا بھی کچھ کم عذاب نہیں، اور دوسرا عذاب قبر و برزخ کا عذاب ہے، جو قیامت و آخرت سے پہلے ہی ان کو پہنچنے گا۔