Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 101–110 of 129

101

وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ ٱلْأَعْرَابِ مُنَٰفِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ ٱلْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا۟ عَلَى ٱلنِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍۢ

اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے

خلاصہ تفسیر - اور کچھ تمہارے گرد و پیش والوں میں اور کچھ مدینہ والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق کی حد کمال پر ( ایسے) پہنچنے ہوئے ہیں ( کہ) آپ ( بھی) ان کو نہیں جانتے ( کہ یہ منافق ہیں بس) ان کو ہم ہی جانتے ہیں ہم ان کو ( دوسرے منافقین کی نسبت آخرت سے پہلے بھی) دوہری سزا دیں گے ( ایک نفاق کی دوسرے کمال نفاق کی اور) پھر ( آخرت میں بھی) وہ بڑے بھاری عذاب ( یعنی جہنم مع خلو و دائمی) کی طرف بھیجے جاویں گے۔- معارف و مسائل - سابقہ بہت سی آیات میں ان منافقین کا ذکر آیا ہے جن کا نفاق ان کے اقوال و افعال سے ظاہر ہوچکا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہچانتے تھے کہ یہ منافق ہیں، اس آیت میں ایسے منافقین کا ذکر ہے جن کا نفاق انتہائی کمال پر ہونے کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اب تک مخفی رہا، اس آیت میں ایسے شدید منافقین پر آخرت سے پہلے ہی دو عذاب ہونے کا ذکر آیا ہے، ایک دنیا ہی میں کہ ہر وقت اپنے نفاق کو چھپانے کی فکر اور ظاہر ہونے کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں، اور اسلام اور مسلمانوں سے انتہائی بغض و عداوت رکھنے کے باوجود ظاہر میں ان کی تعظیم و تکریم اور ان کے اتباع پر مجبور ہونا بھی کچھ کم عذاب نہیں، اور دوسرا عذاب قبر و برزخ کا عذاب ہے، جو قیامت و آخرت سے پہلے ہی ان کو پہنچنے گا۔

At-Tawba 9:101Listen in Qur'an →
102

وَءَاخَرُونَ ٱعْتَرَفُوا۟ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا۟ عَمَلًۭا صَٰلِحًۭا وَءَاخَرَ سَيِّئًا عَسَى ٱللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌ

اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں انہوں نے اچھے برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

خلاصہ تفسیر - اور کچھ اور لوگ ہیں جو اپنی خطا کے مقر ہوگئے جنہوں نے ملے جلے عمل کئے تھے کچھ بھلے ( جیسے اعتراف جس کا منشاء ندامت ہے اور یہی توبہ ہے، اور جیسے اور غزوات جو پہلے ہوچکے ہیں، غرض یہ کام تو اچھے کئے) اور کچھ برے ( کئے جیسے تخلف بلا عذر سو) اللہ سے امید ( یعنی انکا وعدہ) ہے کہ ان ( کے حال) پر ( رحمت کے ساتھ) توجہ فرماویں ( یعنی توبہ قبول کرلیں) بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں ( جب اس آیت سے توبہ قبول ہوچکی اور وہ حضرات ستونوں سے کھل چکے تو اپنا مال آپ کی خدمت میں لے کر آئے اور درخواست کی کہ اس کو اللہ کی راہ میں صرف کیا جائے تو ارشاد ہوا کہ) آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ ( جس کو یہ لائے ہیں) لے لیجئے جس کے ( لینے کے) ذریعہ سے آپ ان کو ( گناہ کے آثار سے) پاک صاف کردیں گے اور ( جب آپ لیں تو) ان کے لئے دعا کیجئے، بلا شبہ آپ کی دعا ان کے لئے موجب اطمینان ( قلب) ہے اور اللہ تعالیٰ ( ان کے اعتراف کو) خوب سنتے ہیں ( اور ان کی ندامت کو) خوب جانتے ہیں ( اس لئے ان کے اخلاص کو دیکھ کر آپ کو یہ احکام دیئے گئے، ان اعمال صالحہ کو مذکورہ یعنی توبہ و ندامت و انفاق فی الخیر کی تر غیب اور اعمال سیہ مثل تخلف وغیرہ سے آئندہ کے لئے ترہیب ہے، پس اول ترغیب ہے یعنی) کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول فرماتا ہے اور ( کیا ان کو) یہ ( خبر نہیں) کہ اللہ ہی ( اس) توبہ قبول کرنے ( کی صفت) میں اور رحمت کرنے ( کی صفت) میں کامل ہے ( اسی لئے ان کی توبہ قبول کی، اور اپنی رحمت سے مال قبول کرنے کا حکم اور ان کے لئے دعا کرنے کا حکم فرمایا، پس آئندہ بھی خطایا وذنوب کے صدور پر توبہ کرلیا کریں، اور اگر توفیق ہو تو خیر خیرات کیا کریں) اور ( ترغیب کے بعد آگے ترہیب ہے ( یعنی) آپ ( ان سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ ( جو چاہو) عمل کئے جاؤ سو ( اول تو دنیا ہی میں) ابھی دیکھے لیتا ہے تمہارے عمل کو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اور اہل ایمان ( پس برے عمل پر دنیا ہی میں ذلت اور خواری ہوجاتی ہے) اور ( پھر آخرت میں) ضرور تم کو ایسے (اللہ) کے پاس جانا ہے جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں کا جاننے والا ہے، سو وہ تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتلادے گا ( پس برے عمل سے مثل تخلف وغیرہ کے آئندہ سے احتیاط رکھو، یہ قسم اول کا بیان تھا، آگے قسم دوم کا ذکر ہے) اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ خدا کے حکم آنے تک ملتوی ہے کہ ( عدم اخلاص توبہ کی وجہ سے) ان کو سزا دے گا یا ( اخلاص کی وجہ سے) ان کی توبہ قبول کرے گا اور اللہ تعالیٰ ( خلوص و عدم خلوص کا حال) خوب جا ننے والا ہے ( اور) بڑا حکمت والا ہے ( پس بمقتضائے حکمت خلوص کی توبہ کو قبول کرتا ہے، اور بغیر خلوص کے قبول نہیں کرتا اور اگر کبھی بلا توبہ معاف کرنے میں حکمت ہو تو ایسا بھی کردیتا ہے ) ۔- معارف و مسائل - غزوہ تبوک کے لئے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اعلان عام اور سب مسلمانوں کو چلنے کا حکم ہوا تو زمانہ سخت گرمی کا تھا، مسافت دور دراز کی تھی، اور ایک باقاعدہ بڑی حکومت کی تربیت یافتہ فوج سے مقابلہ تھا، جو اسلام کی تاریخ میں پہلا ہی واقعہ تھا، یہ اسباب تھے جن کی وجہ سے اس حکم کے متعلق لوگوں کے حالات مختلف ہوگئے، اور ان کی جماعتوں کی کئی قسمیں ہوگئیں۔- ایک قسم ان حضرات مخلصین کی تھی جو اول حکم سنتے ہی بلا تردد جہاد کے لئے تیار ہوگئے، دوسری قسم وہ لوگ تھے جو ابتداء کچھ تردد میں رہے پھر ساتھ ہولئے، (آیت) الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ، میں انہی حضرات کا ذکر ہے۔- تیسری قسم ان حضرات کی ہے جو واقعی طور پر معذور تھے، اس لئے نہ جاسکے، ان کا ذکر (آیت) لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ میں آیا ہے، چوتھی قسم …

At-Tawba 9:102Listen in Qur'an →
103

خُذْ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ صَدَقَةًۭ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٌۭ لَّهُمْ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

ان کے مال میں سے زکوٰة قبول کر لو کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں بھی) پاک اور (باطن میں بھی) پاکیزہ کرتے ہو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے

(آیت) خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً ، واقعہ اس آیت کا یہ ہے کہ جن حضرات کا اوپر ذکر ہوا کہ بلا عذر غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، پھر نادم ہو کر اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ لیا پھر آیت مذکورہ سابقہ میں ان کی توبہ کی قبولیت نازل ہوئی اور قید سے کھولے گئے تو ان حضرات نے بطور شکرانہ اپنا سارا مال صدقہ کرنے کے لئے پیش کردیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبول کرنے سے انکار فرمایا کہ مجھے مال لینے کا حکم نہیں ہے، اس پر یہ آیت مذکورہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ نازل ہوئی، اور آپ نے پورے مال کے بجائے ایک تہائی مال کا صدقہ کرنا قبول فرمالیا کیونکہ آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ پورا مال نہ لیا جائے بلکہ اس کا کوئی حصہ لیا جائے، حرف من اس پر شاہد ہے۔- مسلمانوں کے صدقات زکوٰة وغیرہ وصول کرنا اور ان کے مصرف پر خرچ کرنا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے :- اس آیت میں اگرچہ شان نزول کے اعتبار سے ایک خاص جماعت سے صدقہ وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن وہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام ہے۔- تفسیر قرطبی، احکام القرآن، جصاص، مظہری وغیرہ میں اسی کو ترجیح دی گئی ہے، اور قرطبی اور جصاص نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اگر اس آیت میں شان نزول وہی خاص واقعہ قرار دیا جائے جس کا ذکر اوپر آیا ہے تو پھر بھی اصول قرآنی کی رو سے یہ حکم عام ہی رہے گا، اور قیامت تک کے مسلمانوں پر حاوی ہوگا، کیونکہ قرآن کریم کے بیشتر احکام خاص خاص واقعات میں نازل ہوئے، مگر ان کا دائرہ عمل کسی کے نزدیک اس خاص واقعہ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ جب تک کوئی دلیل تخصیص کی نہ ہو یہ حکم تمام مسلمانوں کے لئے عام اور شامل ہی قرار دیا جاتا ہے۔- یہاں تک کہ پوری امت محمدیہ کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ اس آیت میں اگرچہ خطاب خاص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے مگر یہ حکم نہ آپ کے ساتھ مخصوص ہے اور نہ آپ کے زمانہ تک محدود بلکہ ہر وہ شخص جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قائم مقام مسلمانوں کا امیر ہوگا وہ اس حکم کا مخاطب اور مامور ہوگا، اس کے فرائض میں داخل ہوگا کہ مسلمانوں کی زکوٰة صدقات کے وصول کرنے اور مصرف پر خرچ کرنے کا انتظام کرے۔- صدیق اکبر کی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں جو مانعین زکوٰة پر جہاد کرنے کا واقعہ پیش آیا اس میں بھی زکوٰة نہ دینے والے کچھ تو وہ لوگ تھے جو کھلم کھلا اسلام سے باغی اور مرتد ہوگئے تھے، اور کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے تھے مگر زکوٰة نہ دینے کا یہ بہانہ کرتے تھے کہ اس آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہم سے زکوٰة و صدقات وصول کرنے کا حکم آپ کی حیات تک تھا، ہم نے اس کی تعمیل کی آپ کی وفات کے بعد ابوبکر کو کیا حق ہے کہ ہم سے زکوٰة و صدقات طلب کریں، اور شروع شروع میں حضرت عمر کو ان پر جہاد کرنے سے اسی لئے تردد پیش آیا کہ یہ مسلمان ہیں ایک آیت کی آڑ لے کر زکوٰة سے بچنا چاہتے ہیں، اس لئے ان کے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے جو عام مرتدین کے ساتھ کیا جاتا ہے، مگر صدیق اکبر نے پورے عزم اور جزم کے ساتھ فرمایا کہ جو شخص نماز اور زکوٰة میں فرق کرے گا اس پر جہاد کریں گے۔- اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ جو لوگ حکم زکوٰة کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص کرنے اور آپ کے بعد اس کے ساقط ہوجانے کے قائل ہوئے وہ کل کو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ نماز بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص تھی، کیونکہ قرآن کریم میں یہ آیت بھی آئی ہے : (آیت) اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ ، جس میں اقامت صلوٰة کے مخاطب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص ہونے کی غلط تاویل کرنے والوں کو کفر سے نہیں بچا سکتی، اسی طرح آیت خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ میں یہ تاویل انکو کفر و ارتداد سے نہیں بچائے گی، اس پر فاروق اعظم کو بھی اطمینان ہوگیا اور باجماع …

At-Tawba 9:103Listen in Qur'an →
104

أَلَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ ٱلتَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِۦ وَيَأْخُذُ ٱلصَّدَقَٰتِ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ خدا ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات (وخیرات) لیتا ہے اور بےشک خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

Explained together with ayah 103

At-Tawba 9:104Listen in Qur'an →
105

وَقُلِ ٱعْمَلُوا۟ فَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُۥ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

اور ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔ اور تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تم کو بتا دے گا

Explained together with ayah 103

At-Tawba 9:105Listen in Qur'an →
106

وَءَاخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ ٱللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا کام خدا کے حکم پر موقوف ہے۔ چاہے ان کو عذاب دے اور چاہے ان کو معاف کر دے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

(آیت) وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ دس حضرات مؤمنین جو بلا عذر کے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے سات نے تو اپنی ندامت و افسوس کا پورا اظہار اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ کر کردیا تھا ان کا حکم پہلی آیت میں آچکا، وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا اس آیت سے باقی وہ تین حضرات مراد ہیں جنہوں نے یہ عمل مسجد میں قید ہونے کا نہیں کیا تھا، اور اس طرح کھلے طور پر اعتراف نہیں کیا، ان کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو حکم دے دیا کہ مسلمان ان کا مقاطعہ کریں، ان سے سلام کلام بند کردیں، یہ معاملہ ہونے کے بعد ان کی حالت درست ہوگئی، اور اخلاص کے ساتھ اعتراف جرم کرکے تائب ہوگئے، تو ان کے لئے بھی معافی کے احکام دے دیے گئے ( صحیح بخاری و مسلم ) ۔

At-Tawba 9:106Listen in Qur'an →
107

وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مَسْجِدًۭا ضِرَارًۭا وَكُفْرًۭا وَتَفْرِيقًۢا بَيْنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًۭا لِّمَنْ حَارَبَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ مِن قَبْلُ ۚ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَآ إِلَّا ٱلْحُسْنَىٰ ۖ وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ

اور (ان میں سے ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنوائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لیے گھات کی جگہ بنائیں۔ اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی۔ مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں

خلاصہ تفسیر - اور بعضے ایسے ہیں جنہوں نے ان اغراض کے لئے مسجد بنائی ہے کہ ( اسلام کو) ضرر پہنچاویں اور ( اس میں بیٹھ بیٹھ کر) کفر ( یعنی عداوت رسول) کی باتیں کریں اور ( اس کی وجہ سے) ایمانداروں ( کے مجمع) میں تفریق ڈالیں ( کیونکہ جب دوسری مسجد بنائی جائے اور ظاہر کیا جائے کہ خوش نیتی سے بنی ہے تو ضرور ہے کہ پہلی مسجد کا مجمع کچھ نہ کچھ منتشر ہو ہی جاتا ہے) اور ( یہ بھی غرض ہے کہ) اس شخص کے قیام کا سامان کریں جو اس ( مسجد بنانے) کے قبل سے خدا و رسول کا مخالف ہے ( مراد ابو عامر راہب ہے) اور ( پوچھو تو) قسمیں کھاویں گے (جیسا ایک دفعہ پہلے بھی پوچھنے پر کھاچکے ہیں) کہ بجز بھلائی کے اور ہماری کچھ نیت نہیں ( بھلائی سے مراد آسائش اور گنجائش ہے) اور اللہ گواہ ہے کہ وہ ( اس دعوے میں) بالکل جھوٹے ہیں ( جب اس مسجد کی یہ حالت ہے کہ وہ واقع میں مسجد ہی نہیں بلکہ مضر اسلام ہے تو) آپ اس میں کبھی ( نماز کے لئے) کھڑے نہ ہوں، البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے ( یعنی روز تجویز سے) تقویٰ ( اور اخلاص) پر رکھی گئی ہے ( مراد مسجد قبا ہے) وہ ( واقعی) اس لائق ہے کہ آپ اس میں ( نماز کے لئے) کھڑے ہوں ( چناچہ گاہ بگاہ آپ وہاں تشریف لے جاتے اور نماز پڑہتے) اس ( مسجد قبا) میں ایسے ( اچھے) آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے ( جب دونوں مسجدوں کے بانیوں کا حال معلوم ہوگیا تو) پھر ( سمجھ لو) آیا ایسا شخص ( بہتر ہوگا) جس نے اپنی عمارت ( یعنی مسجد) کی بنیاد کسی گھاٹی ( یعنی غار) کے کنارہ پر جو کہ گرنے ہی کو ( ہو) رکھی ہو ( مراد اس سے اغراض باطلہ کفریہ ہیں ناپائیداری میں اس کے ساتھ تشبیہ دی گئی) پھر وہ ( عمارت) اس ( بانی کو لے کر آتش دوزخ میں گر پڑے ( یعنی وہ عمارت تو گری بوجہ اس کے کہ کنارہ پر ہے، جب وہ کنارہ پانی سے کٹ کر گرے گا وہ عمارت بھی گرے گی، اور بانی گرا اس لئے کہ اس عمارت میں رہتا تھا اور چونکہ مراد اس سے اغراض کفریہ ہیں جو موصل الی النار ہیں اس لئے یہ فرمایا کہ وہ اس کو لے کر جہنم میں جا گری) اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ( دین کی) سمجھ ہی نہیں دیتا، ( کہ بنائی تو مسجد کے نام سے جو کہ دین کے شعائر میں سے ہے، اور غرضیں اس میں کیسی کیسی فاسد کرلیں) ان کی یہ عمارت ( یعنی مسجد) جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں ( کانٹا سا) کھٹکتی رہے گی، ( کیونکہ جس غرض سے بنائی تھی وہ پوری نہ ہوئی اور قلعی کھل گئی سو الگ، اور پھر اوپر سے منہدم کردی گئی، غرض کوئی ارمان نہ نکلا، اس لئے ساری عمر اس کا افسوس اور ارمان باقی رہے گا) ہاں مگر ان کے ( وہ) دل ہی ( جن میں وہ ارمان ہے) فنا ہوجاویں تو خیر ( وہ ارمان بھی اس وقت ختم ہوجاوے) اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں ( ان کی حالت کو جانتے ہیں اور اسی کے مناسب سزادیں گے ) ۔- معارف و مسائل - منافقین کے حالات اور خلاف اسلام ان کی حرکتوں کا ذکر اوپر بہت سی آیات میں آچکا ہے، مذکور الصدر آیات میں بھی ان کی ایک سازش کا ذکر ہے جس کا واقعہ یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک شخص ابو عامر نامی زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگیا تھا، اور ابو عامر راہب کے نام سے مشہور تھا یہ وہی شخص ہے جن کے لڑکے حنظلہ (رض) مشہور صحابی ہیں جن کی لاش کو فرشتوں نے غسل دیا اس لئے غسیل ملا کہ کے نام سے معروف ہوئے، مگر باپ اپنی گمراہی اور نصرانیت پر قائم رہا۔- جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ طیبہ تشریف لائے تو ابو عامر راہب حاضر خدمت ہوا اور اسلام پر اعتراضات کئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جواب پر بھی اس بد نصیب کا اطمینان نہ ہوا، بلکہ یہ کہا کہ آپ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہو وہ مردود اور احباب و اقارب سے دور ہو کر مسافرت میں مرے، اور کہا کہ آپ کے مقابلہ میں جو بھی دشمن آئے گا میں …

At-Tawba 9:107Listen in Qur'an →
108

لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًۭا ۚ لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى ٱلتَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌۭ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا۟ ۚ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُطَّهِّرِينَ

تم اس (مسجد) میں کبھی (جاکر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو کہ پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے

اس مسجد ضرار کے متعلق دوسری آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا گیا ہے (آیت) لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا، اس میں قیام سے مراد نماز کے لئے قیام ہے، مطلب یہ ہے یہ کہ آپ اس نام کی مسجد میں ہرگز نماز نہ پڑھیں۔- مسئلہ : اس سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ آج بھی اگر کوئی نئی مسجد پہلی مسجد کے متصل بلا کسی ضرورت کے محض ریاء و نمود کے لئے یا ضد وعناد کی وجہ سے بنائی جائے تو اس میں نماز پڑھنا بہتر نہیں، اگرچہ نماز ہوجاتی ہے۔- اسی آیت میں آپ کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ آپ کا نماز پڑھنا اسی مسجد میں درست ہے جس کی بنیاد اول سے تقوٰی پر رکھی گئی ہے، اور اس میں ایسے لوگ نماز پڑھتے ہیں جن کو پاکی اور طہارت میں پوری احتیاط محبوب ہے، اور اللہ بھی ایسے مطہرین کو پسند کرتا ہے۔- سیاق آیت سے ظاہر یہ ہے کہ مراد اس سے مسجد قباء ہے جس میں اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھا کرتے تھے، اور بعض روایات حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، ( کما رواہ ابن مردویہ عن ابن عباس وعمرو بن شیبة عن سہل الانصاری وابن خزیمة فی صحیحہ عن عویمر بن ساعدہ، از مظہری ) ۔- اور بعض روایات میں جو یہ آیا ہے کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہے وہ اس کے منافی نہیں، کیونکہ مسجد نبوی جس کی بنیاد وحی کے مطابق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دست مبارک سے رکھی ظاہر ہے کہ اس کی بنیاد تقوٰی پر ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ مطہر کون ہوسکتا ہے، اس لئے وہ بھی اس کی مصداق ضرور ہے، (کما رواہ الترمذی و صحیحہ عن ابی سعید الخدری مرفوعاً ، از قرطبی)- (آیت) فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا، آیت مذکورہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کے لئے اس مسجد کو احق قرار دیا، جسکی بنیاد اول سے تقوٰی پر رکھی گئی جس کے مفہوم میں مسجد قباء اور مسجد نبوی دونوں داخل ہیں اس مسجد کی ایک فضیلت یہ بھی بتلائی گئی کہ اس مسجد کے نمازی ایسے لوگ ہیں جو طہارت کا بہت زیادہ خیال اور اہتمام کرتے ہیں، طہارت کے مفہوم میں اس جگہ عام نجاسات اور گندگیوں سے پاکی بھی داخل ہے، اور معاصی اور اخلاق رذیلہ سے پاکی بھی، مسجد قباء اور مسجد نبوی کے نمازی عموماً ان سب اوصاف کے ساتھ متصف تھے۔- فائدہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی مسجد کی فضیلت کا اصل مدار تو اس پر ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے بنائی گئی ہو، اس میں کسی ریاء اور نام و نمود کا یا کسی اور غرض فاسد کا کوئی دخل نہ ہو، یہ بھی معلوم ہوا کہ نمازیوں کے نیک صالح، عالم، عابد ہونے سے بھی مسجد کی فضیلت بڑھ جاتی ہے، جس مسجد کے نمازی عام طور پر علماء، تقوٰی شعار ہوں اس میں نماز ادا کرنے کی فضیلت زیادہ ہے۔

At-Tawba 9:108Listen in Qur'an →
109

أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَٰنَهُۥ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَٰنَهُۥ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍۢ فَٱنْهَارَ بِهِۦ فِى نَارِ جَهَنَّمَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری اور خدا ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا

تیسری اور چوتھی آیت میں اس مسجد مقبول کے مقابلہ میں منافقین کی بنائی ہوئی مسجد ضرار کی مذمت بیان کی گئی ہے کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے دریا کے کنارے بعض اوقات پانی زمین کے حصہ کو اندر سے کھا لیتا ہے اور اوپر زمین کی سطح ہموار نظر آتی ہے، اس پر اگر کوئی تعمیر کرے تو ظاہر ہے کہ وہ فوراً گر جائے گی، اسی طرح اس مسجد ضرار کی بنیاد ناپائدار تھی، اس کا انجام یہ ہوا کہ وہ گر پڑی، اور جہنم کی آگ میں گئی، جہنم کی آگ میں جانا مجازی معنی کے لئے بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے بنانے والوں کے لئے اس نے جہنم کا راستہ ہموار کردیا، اور بعض حضرات نے اس کو حقیقت پر بھی محمول کیا ہے کہ حقیقۃً جب یہ مسجد گرائی گئی ہے تو جہنم میں گئی۔ واللہ اعلم۔

At-Tawba 9:109Listen in Qur'an →
110

لَا يَزَالُ بُنْيَٰنُهُمُ ٱلَّذِى بَنَوْا۟ رِيبَةًۭ فِى قُلُوبِهِمْ إِلَّآ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ ان کے دل پاش پاش ہو جائیں اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

آگے فرمایا کہ ان کی یہ تعمیر ہمیشہ ان کے شک اور نفاق کو بڑھاتی ہی رہے گی، جب تک کہ انکے قلوب قطع نہ ہوجائیں یعنی جب تک انکی زندگی ختم نہ ہوجائے ان کا شک و نفاق اور حسد و غیظ بڑہتا ہی رہے گا۔

At-Tawba 9:110Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.