وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ
اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں
Explained together with ayah 17
سُورَةُ الأَعۡرَافِ
Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr
Ayahs 21–30 of 206
وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ
اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں
Explained together with ayah 17
فَدَلَّىٰهُمَا بِغُرُورٍۢ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا ٱلشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ ٱلْجَنَّةِ ۖ وَنَادَىٰهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا ٱلشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَآ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ
غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے
Explained together with ayah 17
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ
دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے
Explained together with ayah 17
قَالَ ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۭ ۖ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّۭ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ
(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے
Explained together with ayah 17
قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ
(یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے
Explained together with ayah 17
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًۭا يُوَٰرِى سَوْءَٰتِكُمْ وَرِيشًۭا ۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں
لباس کی حقیقت - قول باری ہے یا بنی ادم قدانزلنا علیکم لباساً یواری سواتکم وریشاً ولباس التقوی ذلک خیر۔ اے اولاد آدم ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور نیت کا ذریعہ بھی ہو اور بہترین لباس تقوی ٰ کا لباس ہے) یہ انسانوں میں سے تمام مکلفین کے لئے خطاب عام ہے جس طرح یہ قول باری یایھا الناس اتقواربکم۔ اے لوگو اپنے رب سے ڈرو) ان تمام مکلفین کے لئے خطاب ہے جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں موجود تھے اور جو اس زمانے کے بعد کے زمانوں میں آنے والے تھے۔ البتہ جو لوگ اس وقت موجود نہیں تھے ان کے لئے یہ خطاب وجود میں آجانے اور کمال عقل کو پہنچنے کی شرط کے ساتھ مشروط تھا۔ قول باری قد انزلنا علیکم لباساً یواری سواتکم) نیز قول باری (وطفقا یغصفان علیھا من ورق الجنۃ۔ اور وہ اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے) ستر عورت کی فرضیت پر دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اس نے ہم پر لباس نازل کیا تاکہ ہم اس کے ذریعے اپنے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانک لیں۔- نزول لباس کی کیفیت - اللہ تعالیٰ نے (انزلنا) فرمایا اس لئے کہ لباس یا تو زمین کی پیداوار یعنی روئی وغیرہ سے تیار ہوتا ہے یا جانوروں کی کھالوں اور اون سے بنایا جاتا ہے۔ ان سب کی بنیاد بارش ہے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ ایک قول کے مطابق لباس کو آسمان سے نازل کرنے کی بات اس لئے کہی گئی کہ تمام برکتوں کی نسبت آسمان سے اترنے کی طرف کی جاتی ہے جس طرح یہ قول باری ہے وانزلنا الحدید فیہ باس شدید و منافع للناس اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں زبردست طاقت ہے اور لوگوں کے لئے اس میں بڑے بڑے فائدے ہیں) ۔ قول باری ریشاً کے بارے میں ایک قول ہے کہ اس سے گھریلو سامان مراد ہے مثلاً بستر چادریں وغیرہ ایک قول کے مطابق اس سے مراد وہ لباس ہے جو زینت کا ذریعہ بنتا ہے اسی بنا پر پرندے کے پروں کو ریش کہا جاتا ہے۔- لباس التقوی کیا ہے ؟- قول باری (ولباس التقویٰ ) کے متعلق حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اس سے عمل صالح مراد ہے۔ اسے لباس کے نام سے اس لئے موسوم کی گیا کہ عمل صالح کے ذریعے انسان اللہ کے عذاب سے بچ جاتا ہے جس طرح لباس کے ذریعے گرمی سردی سے بچتا ہے۔ قتادہ اور سدی کے قول کے مطابق اس سے ایمان مراد ہے۔ جن کا قول ہے کہ اس سے حیا مراد ہے جس کے نتیجے میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ اس سے ادنیٰ لباس نیز ایسا موٹا لباس مراد ہے جو تواضع کے طور پر نیز عبادت میں زہد و ریاضت کی بنا پر پہنا جاتا ہے۔ آیت ستر عورت کی فرضیت کے لزوم پر دلالت کرتی ہے اس پر تمام امت کا اتفاق ہے۔ اس بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایات بھی منقول ہیں۔- تنہائی میں برہنگی - بہزبن حکیم نے اپنے والد سے انہوں بہز کے دادا سے روایت کی ہے۔ انہوں نے پوچھا تھا “۔ اللہ کے رسول ہم اپنی شرمگاہوں کے سلسلے میں کیا کریں اور کیا نہ کریں ؟ “ آپ نے جواب میں فرمایا ” اپنی بیوی یا لونڈی کے سوا اپنی شرمگاہ کو ہر ایک سے بچا کے رکھو “۔ میں نے عرض کیا ” اگر ہم میں سے کوئی شخص تنہا ہو تو کیا وہ اپنی شرمگاہ برہنہ کرسکتا ہے ؟ “ آپ نے فرمایا ” اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات کی زیادہ حق دار ہے کہ اس سے شرم کی جائے “۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کوئی مرد کسی مرد کی شرمگاہ پر اور کوئی عورت کسی عورت کی شرمگاہ پر نظر نہ ڈالے “۔- نگاہ کی حفاظت - ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا ” وہ شخص ملعون ہے جو اپنے بھائی کی شرمگاہ پر نظر ڈالتا ہے “۔ قول باری ہے قل للمومنین یغضوا من ابصارھم۔ اہل ایمان سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں) نیز فرمایا وقل للمومنت یغضضن من البصار ھن۔ مومن خواتین سے کہہ دو کہ وہ …
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ كَمَآ أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَٰتِهِمَآ ۗ إِنَّهُۥ يَرَىٰكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُۥ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ
اے نبی آدم (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر) بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق کار بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے
قول باری ہے یا بنی ادم لایفتنتکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنۃ۔ اے بنی آدم ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا) فتنہ کے متعلق ایک قول ہے کہ اس سے مراد وہ ابتلا ہے جس میں شہوت یا شبہ کی جہت سے معصیت کی طرف دعوت کی بنا پر کوئی پھنس جائے۔ خطاب میں انسان کو شیطان کے فتنے میں مبتلا ہونے سے روکا گیا ہے لیکن اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو شیطان کے فتنے میں پڑنے سے ڈرایا گیا ہے اور اس پر اس سے اپنا پہلو بچانا لازم کردیا گیا ہے۔ قول باری کما اخرج ابویکم من الجنۃ) میں جنت سے آدم (علیہ السلام) و حوا کے اخراج کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان نے انہیں بہکایا تھا جس کے نتیجے میں وہ ایسی حرکت کر بیٹھے جو ان کے جنت سے اخراج پر منتج ہوئی جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرعون کی نسبت بیان فرمایا یذبح ابناء ھم و ان کے بیٹوں کو ذبح کردیا تھا) جبکہ فرعون نے انہیں ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا وہ خود یہ کام نہیں کرتا تھا۔ اسی مفہوم پر اللہ نے آدم (علیہ السلام) و حوا کے لباس اتروانے کی نسبت بھی شیطان کی طرف کردی فرمایا ینزع عنھما لبا سھما۔ اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیئے تھے) اگر کوئی شخص اپنی قمیض نہ سینے اور اپنے غلام کی پٹائی نہ کرنے کی قسم کھالے جبکہ وہ خود یہ کام نہ کرتا ہو تو کسی اور سے یہ کام کروانے پر وہ حانث ہوجائے گا۔ اس مسئلے میں درج بالا آیت سے استدلال کیا گیا ہے۔ اسی طرح اگر اس نے گھر نہ بنانے کی قسم کھائی ہو اور پھر کسی اور کے ذریعے بنوالے تو حانث ہوجائے گا۔- لباس آدم کی کیفیت - ایک قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہ السلام) کے جسم پر جو لباس تھا وہ جنت کے کپڑے کا بنا ہوا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ ان کا لباس ظفر (ایک قسم کی نباتات کا تھا۔ وہب بن منبہ کا قول ہے کہ ا ن کا لباس نور کا تھا۔
وَإِذَا فَعَلُوا۟ فَٰحِشَةًۭ قَالُوا۟ وَجَدْنَا عَلَيْهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں
Explained together with ayah 27
قُلْ أَمَرَ رَبِّى بِٱلْقِسْطِ ۖ وَأَقِيمُوا۟ وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَٱدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے
نماز با جماعت - قول باری ہے واقیمواوجوھکم عند کل مسجد۔ اور ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو) مجاہد اور سدی سے مروی ہے کہ ” نماز میں مسجد کے قبلے کی طرف اپنا رخ ٹھیک رکھو “۔ ربیع بن انس کا قول ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف اپنا رخ کرلو، نہ کسی بت کی طرف اور نہ کسی اور چیز کی طرف “۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں آیت میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ قبلے کی طرف اس طرح رخ ٹھیک رکھنا کہ اس کی سمت رخ ہٹا ہوا نہ ہو۔ دوم یہ کہ مسجد میں جا کر نماز ادا کرنا۔ یہ بات مسجد میں جماعت کے ساتھ فرض نمازوں کی ادائیگی کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے کہ مساجد جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جماعت کے ساتھ نماز ادا نہ کرنے والے کے لئے وعید کی روایتیں منقول ہیں۔ ایسی روایتیں بھی منقول ہیں جن میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔- ترک جماعت پر وعید - ترک جماعت کی نہی کی مقتضی روایات میں سے چند یہ ہیں۔ آپ کا ارشاد ہے من سمع النداء فلم یجب فلا صلاۃ لہ۔ جس شخص نے اذان کی آواز سن لی اور پھر وہ نماز کے لئے مسجد میں نہیں گیا اس کی کوئی نماز نہیں) حضرت عبداللہ بن ام مکتوم نے عرض کیا کہ میرا گھر مسجد سے دور ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا ۔” اذان کی آواز سنتے ہو ؟ “ انہوں میں اثبات میں جواب دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا لااجدلک عذراً ۔ پھر تو مجھے تمہارے لئے کوئی عذر نظر نہیں آتا) آپ کا ارشاد ہے لقد ھممت ان امور جلایصلی بالناس ثم امر بحطب فیحرق علی المتخلفین عن المجاعۃ بیوتھم۔ میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ کسی شخص کو جماعت کرانے کے لئے کہوں اور خود لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں اور پھر جماعت سے پیچھے رہ جانے والوں کے گھروں کو آگ لگا دوں) اسی مضمون کی دیگر روایتیں بھی موجود ہیں۔ جماعت سے نماز ادا کرنے کی ترغیب کے سلسلے میں ایک روایت ہے کہ جماعت کے ساتھ ادا کی جانیوالی نماز تنہا پڑھی جانے والی نماز سے پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے “۔ نیز یہ کہ فرشتے پہلی صف میں نماز ادا کرنے والوں کے لئے رحمت کی دعائیں مانگتے ہیں “ نیز آپ ؐ کا ارشاد ہے بشرالمشائین فی ظلال اللیل الی اسماجد بالنور التام یوم القیامۃ۔ رات کی تاریکی میں مساجد کی طرف چل کر آنے والوں کو قیامت کے دن کامل روشنی کی بشارت سنا دو ) ہمارے شیخ ابوالحسن کرخی فرمایا کرتے تھے کہ میرے نزدیک نماز باجماعت فرض کفایہ ہے۔ جس طرح مردوں کا غسل، ان کی تدفین اور ان کی نماز جنازہ فرض کفایہ ہے کہ جب کچھ لوگ اس کی ادائیگی کرلیں تو باقی ماندہ لوگوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت نماز کے اندر ستر عورت کی فرضیت پر دلالت کرتی ہے۔ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، زفر، امام محمد اور حسن بن زیاد کا قول ہے کہ ستر عورت نماز میں فرض ہے اگر کوئی شخص امکان کے باوجود اس کا تارک ہوگا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ امام شافعی کا بھی یہی قول ہے امام مالک اور لیث بن سعد کا قول ہے کہ کشف عورت کے ساتھ نماز جائز ہوتی جاتی ہے۔ تاہم وقت کے اندر اس کا اعادہ واجب ہوگا ان دونوں حضرات کے نزدیک وقت کے اندر نماز کا اعادہ استجباب کے طور پر ہوگا۔ نماز میں ستر عورت کی فرضیت پر اس آیت کی کئی وجوہ سے دلالت ہو رہی ہے ایک تو یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا خذواذینتکم عندکل مسجد۔ ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ ہو) اور اپنے حکم کو مسجد کے ساتھ معلق کردیا تو اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ اس سے نماز کے لئے ستر عورت مراد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو مسجد کے ذکر کا کوئی فائدہ نہ ہوتا اس طرح مفہوم کے لحاظ سے عبارت یہ ہوگئی خذوازینتکم فی الصلوۃ (نماز کے اندر اپنا لباس پہن لو) اگر لوگوں کی نظروں سے اس کا چھپانا مراد ہوتا تو خصوصیت …
فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلضَّلَٰلَةُ ۗ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ
ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں
Explained together with ayah 29
Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.