Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 141–150 of 206

141

وَإِذْ أَنجَيْنَٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۖ يُقَتِّلُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ

(اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی

Explained together with ayah 55

Al-A'raaf 7:141Listen in Qur'an →
142

۞ وَوَٰعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَٰثِينَ لَيْلَةًۭ وَأَتْمَمْنَٰهَا بِعَشْرٍۢ فَتَمَّ مِيقَٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةًۭ ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَٰرُونَ ٱخْلُفْنِى فِى قَوْمِى وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ ٱلْمُفْسِدِينَ

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور اس دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلّہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہِٰ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا ٹھیک اور شریروں کے رستے نہ چلنا

قول باری ہے ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ واتممنھا بعشر فتم میقات ربہ اربعین لیلۃ۔ ہم نے موسیٰ کو تیس شب و روز کے لئے (کوہ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کردیا۔ اس طرح اس کے رب کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہوگئی) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فتم میقات ربہ اربعین لیلۃ) اس لئے فرمایا کہ جب یہ ارشاد ہوا کہ ثلثین لیلۃ واتمماھا بعشر) تو سننے والوں کے لئے اس وہم کی گنجائش پیدا ہوگئی تھی کہ شاید پہلے بیس راتیں تھیں اور پھر اس تعداد میں دس کا اضافہ ہوا اور اس طرح تیس راتیں ہوگئیں اللہ تعالیٰ نے اس وہم اور گنجائش کو زائل کردیا اور یہ بتادیا کہ اس نے تیس راتوں میں مزید دس راتوں کا اضافہ کر کے چالیس کی تعداد پوری کردی۔

Al-A'raaf 7:142Listen in Qur'an →
143

وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِىٓ أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِى وَلَٰكِنِ ٱنظُرْ إِلَى ٱلْجَبَلِ فَإِنِ ٱسْتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوْفَ تَرَىٰنِى ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكًّۭا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًۭا ۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَٰنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں

التجائے موسیٰ- قول باری ہے قال رب ارنی انظر الیک۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے التجا کی کہ ” اے میرے رب مجھے یا رائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں) ایک قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے روایت باری کی اس وجہ سے التجا کی تھی کہ اپنی قوم کے اس مطالبہ کا انہیں جواب دے سکیں کہ ” ہم تمہاری بات پر اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک ہم اللہ کو کھلم کھلا نہ دیکھ لیں “۔ اس پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے اتھلکنا بما فعل الشفھاء منا۔ کیا آپ اس قصور میں ہم سب کو ہلاک کردیں گے جس کا ارتکاب ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا) ایک قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس رویت کی التجا کی تھی جو علم ضرورت کہلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر واضح کردیا کہ دنیا میں یہ رویت ہو نہیں سکتی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے رویت باری کی التجاء کیوں جائز ہوگئی جبکہ اللہ جل شانہ کی ذات کی رویت کا کوئی جواز نہیں ہے پھر آیا اس بنا پر اللہ تعالیٰ سے ایسی چیز کی التجا بھی درست ہوگی جس کا اس کی ذات کے لئے کوئی جواز نہیں مثلاً ظلم کی التجا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ظلم کے فعل کے متعلق کوئی شبہ نہیں کہ وہ نقص کی صفت ہے اور قابل مذمت ہے اس لئے اس قسم کے فعل کی اس سے التجا اور درخواست جائز نہیں ہوگی تاہم وہ چیز اس کے مشابہ نہیں جس میں شبہ موجود ہو اور جس کا حکم دلالت کے بغیر معلوم نہ ہوتا ہو۔ یہ اعتراض اس صورت میں ہوگا جب یہ تسلیم کرلیا جائے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسی رویت کی التجا کی تھی جو کسی شبہ یعنی صورت اور شکل کے بغیر ہوتی جیسا کہ حسن بصری، ربیع بن انس اور سدی سے مروی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ آپ نے اس رویت کی التجا کی تھی جسے علم ضرورت کے نام سے پکارا جاتا ہے یا اپنی قوم کے لئے جواب معلوم کرنے کی غرض سے کی تھی تو اس صورت میں یہ اعتراض ساقط ہوجاتا ہے۔ ایک قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے توبہ کا اظہار اس لئے ہوا تھا کہ آپ نے رب سے اجازت حاصل کئے بغیر رویت باری کی التجا اور درخواست کردی تھی۔ یہ بھی احتمال ہے کہ تو یہ کا ذکر تسبیح کے طور پر ہوا ہے جیسا کہ اہل اسلام کی عادت ہے کہ جب نشانیوں کی صورت میں ایسے دلائل ظاہر ہوجائیں جو اللہ کی عظمت اور اس کی شان کی بلندی کی نشاندہی کرتے ہوں تو اس وقت اہل ایمان توبہ کے ذریعے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ قول باری ہے فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ دکا وخرموسی صعقد۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ غش کھا کر گرپڑے) تجلی کی دو صورتیں ہوتی ہیں، رویت کی شکل میں ظہور یا دلالت کی شکل میں ظہور۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کی رویت تو امر محال ہے اس لئے آیت میں مذکور تجلی کو ان نشانیوں کے ظہور پر محمول کیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر موجود لوگوں کے سامنے قائم کی تھیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ملکوت کی ایسی جلوہ نمائی کی جس کی تاب نہ لا کر پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا۔ اس لئے کہ حکم الٰہی میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ ملکوت سماوی میں سے اگر کوئی چیز ظاہر ہوجائے تو دنیا اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی جس طرح مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھینگلیا یعنی سب سے چھوٹی انگلی کی مقدار عرش کا حصہ ظاہر کردیا تھا۔ قول باری ہے وامرقومک یاخذواباحسنھا اور اپنی قوم کو حکم دو کہ ان کے بہتر مفہوہم کی پیروی کریں) ایک قول ہے کہ ان کی لکھی ہوئی باتوں میں سے بہترین پر عمل کریں یعنی فرائض اور نوافل پر، مباحات پر نہیں) اس لئے کہ مباح پر عمل کی صورت میں ایک شخص نہ کسی تعریف کا مستحق ہے اور نہ کسی ثواب کا۔ اسی طرح یہ قول باری ہے فبشرعبادالذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ۔ پس بشارت د ے دو میرے ان بندوں کو جو بات غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین مفہوم کی پیروی کرتے ہیں) بعض اہل علم کا قول ہے کہ احسنھا سے ناسخ مراد ہے …

Al-A'raaf 7:143Listen in Qur'an →
144

قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّى ٱصْطَفَيْتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَٰلَٰتِى وَبِكَلَٰمِى فَخُذْ مَآ ءَاتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ

Explained together with ayah 143

Al-A'raaf 7:144Listen in Qur'an →
145

وَكَتَبْنَا لَهُۥ فِى ٱلْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْعِظَةًۭ وَتَفْصِيلًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍۢ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا۟ بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُو۟رِيكُمْ دَارَ ٱلْفَٰسِقِينَ

اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا

Explained together with ayah 143

Al-A'raaf 7:145Listen in Qur'an →
146

سَأَصْرِفُ عَنْ ءَايَٰتِىَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍۢ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلْغَىِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ

جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے

متکبہ لو گ حق سے محروم ہیں - قول باری ہے ساصرف عن ایاتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق۔ میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کی نگاہیں پھیردوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں پڑے بنتے ہیں) ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں۔ میرے عزوشرف کی وہ نشانیاں جو دلالت کے ذریعے معلوم کی جاتی ہیں اور ان کا علم دنیا اور آخرت دونوں میں ترقی درجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ انہیں میری آیات کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے سے روک دیا جائے گا یعنی یہ لوگ ان آیات کو جھٹلا نہیں سکیں گے اور نہ ہی لوگوں کے سامنے انہیں ظاہر ہونے سے روک سکیں گے۔ آیت کا یہ مفہوم لینا درست نہیں کہ میں انہیں ان آیات پر ایمان لانے سے روک دوں گا۔ اس لئے کہ یہ بات نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایمان لانے کا حکم دے اور پھر انہیں اس سے روک بھی دے ایسا اقدام تو نادانی اور مذاق کی نشاندہی کرتا ہے جس سے اللہ کی ذات مبرا اور پاک ہے۔

Al-A'raaf 7:146Listen in Qur'an →
147

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلْءَاخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا

Explained together with ayah 146

Al-A'raaf 7:147Listen in Qur'an →
148

وَٱتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًۭا جَسَدًۭا لَّهُۥ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُوا۟ ظَٰلِمِينَ

اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا

Explained together with ayah 146

Al-A'raaf 7:148Listen in Qur'an →
149

وَلَمَّا سُقِطَ فِىٓ أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا۟ أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا۟ قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے

Explained together with ayah 146

Al-A'raaf 7:149Listen in Qur'an →
150

وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَٰنَ أَسِفًۭا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِى مِنۢ بَعْدِىٓ ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى ٱلْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ٱبْنَ أُمَّ إِنَّ ٱلْقَوْمَ ٱسْتَضْعَفُونِى وَكَادُوا۟ يَقْتُلُونَنِى فَلَا تُشْمِتْ بِىَ ٱلْأَعْدَآءَ وَلَا تَجْعَلْنِى مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) جلد چاہا (یہ کہا) اور (شدت غضب سے تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایئے

عجلت اور سرعت کا فرق - قول باری ہے اعجلتم امرربکم۔ کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے) عجلت کسی کام کو اس کے وقت سے پہلے کرلینے کا نام ہے جب کہ سرعت کام کو اس کے اول وقت میں کرلینے کو کہتے ہیں۔ اس لئے عجلت قابل مذمت چیز بن گئی۔ بعض دفعہ وقت کے اندر ایک کام کی انجام دہی میں جلد بازی دکھائی جاتی ہے جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ سردیوں میں ظہر کی نماز تعجیل کے ساتھ ادا کرتے تھے اور گرمیوں میں سے ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ قول باری ہے واخذبراس اخیہ یجرہ الیہ۔ اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضی کے اظہار کے طور پر ایسا کیا تھا ۔ تذلیل اور اہانت کے طور پر یہ نہیں کیا تھا۔ نیز ایسے اقدامات کی حیثیتیں عادات اور رسم و رواج کی بنا پر مختلف زبانوں میں مختلف ہوتی ہیں ہوسکتا ہے کہ سر کے بال پکڑ کر کھینچنا اس زمانے میں تذلیل اور اہانت کی بنا پر نہ ہوتا ہو اور نہ ہی کوئی اسے اہانت سمجھتا ہو۔ ایک قول ہے کہ اس کی حیثیت وہی ہے جس طرح کوئی شخص غصے میں آکر اپنی داڑھی کے بالوں کو مٹھی میں لے لیتا ہے یا اپنے ہونٹ یا انگوٹھا چبانے لگ جاتا ہے۔

Al-A'raaf 7:150Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.