Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 71–80 of 206

71

قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌۭ وَغَضَبٌ ۖ أَتُجَٰدِلُونَنِى فِىٓ أَسْمَآءٍۢ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّا نَزَّلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَٰنٍۢ ۚ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ

ہود نے کہا تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا (نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

Explained together with ayah 69

Al-A'raaf 7:71Listen in Qur'an →
72

فَأَنجَيْنَٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا ۖ وَمَا كَانُوا۟ مُؤْمِنِينَ

پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے ان کو نجات بخشی اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں

Explained together with ayah 69

Al-A'raaf 7:72Listen in Qur'an →
73

وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَٰلِحًۭا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمْ ءَايَةًۭ ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِىٓ أَرْضِ ٱللَّهِ ۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍۢ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ (تو) صالح نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آ چکا ہے۔ (یعنی) یہی خدا کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ ورنہ عذابِ الیم میں تمہیں پکڑ لے گا

39: ثمود بھی قوم عاد ہی کی نسل سے پیدا ہوئی تھی اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھی جو عذاب سے بچ گئے تھے یہ ان کی اولاد تھی اور ثمود ان کے دادا کا نام تھا، اسی لئے ان کو عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے، یہ قوم عرب اور شام کے درمیان اس علاقے میں آباد تھی جس کو اس وقت حجر کہا جاتا تھا اور آج کل اسے مدائن صالح کہتے ہیں، اور آج بھی ان کے گھروں اور محلات کے کھنڈر موجود ہیں اور پہاڑوں سے تراشی ہوئی عمارتوں کے آثار جن کا ذکر آیت ٧٤ میں ہے آج بھی وہاں دیکھے جاسکتے ہیں، عرب مشرکین جب تجارتی سفر پر شام جاتے تو یہ کھنڈر ایک نشان عبرت کے طور پر ان کے راستے میں پڑتے تھے اور قرآن کریم نے کئی مقامات پر انہیں اس کی طرف توجہ دلائی ہے، اس قوم میں بھی رفتہ رفتہ بت پرستی کی بیماری پیدا ہوگئی تھی، اور اس کے نتیجے میں بہت سی عملی خرابیاں پھیل گئی تھیں، حضرت صالح (علیہ السلام) اسی قوم کے ایک فرد تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کو راہ راست دکھانے کے لئے پیغمبر بناکر بھیجا، لیکن یہاں بھی وہی صورت پیش آئی کہ قوم کی اکثریت نے ان کی بات نہیں مانی، حضرت صالح (علیہ السلام) نے جوانی سے بڑھاپے تک مسلسل ان کو تبلیغ جاری رکھی، آخر کا ان لوگوں نے یہ مطالبہ کیا کہ اگر آپ ہمارے سامنے کے پہاڑ سے کوئی اونٹنی نکال کر دکھادیں گے تو ہم ایمان لے آئیں گے، حضرت صالح (علیہ السلام) نے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے پہاڑ سے اونٹنی بھی نکال کر دکھادی، اس پر کچھ لوگ تو ایمان لے آئے، مگر بڑے بڑے سردار اپنے عہدسے پھر گئے اور نہ صرف یہ کہ اپنی ضد پر اڑے رہے ؛ بلکہ جو دوسرے لوگ ایمان لانے کا ارادہ کررہے تھے انہیں بھی روک دیا، حضرت صالح (علیہ السلام) کو اندیشہ ہوا کہ ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب آجائے گا، اس لئے انہوں نے فرمایا کے کم از کم اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی اس اونٹنی کو تم آزاد چھوڑے رکھو، اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ، اور اونٹنی کو چونکہ پورے کنویں کا پانی درکار ہوتا تھا، اس لئے اس کی باری مقرر کردی کہ ایک دن اونٹنی کنویں کا پانی پیئے گی اور دوسرے دن آبادی کے لوگ پانی لیں گے، لیکن ہوا یہ کہ قوم کے کچھ لوگوں نے اونٹنی کو مارڈالنے کا ارادہ کیا اور آخر کار ایک شخص نے جس کا نام قذار تھا اس کو قتل کرڈالا، اس موقع پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں متنبہ کیا کہ اب ان کی زندگی کے صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں، جس کے بعد وہ عذاب سے ہلاک کردئے جائیں گے، بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے یہ بھی بتادیا تھا کہ ان تین دنوں میں سے ہر دن ان کے چہروں کا رنگ بدل جائے گا یعنی پہلے دن رنگ پیلا، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن کالا ہوجائے گا، اس کے باوجود اس ضدی قوم نے توبہ اور استغفار کرنے کے بجائے خود حضرت صالح (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کا ذکر قرآن کریم نے سورۃ نمل میں فرمایا ہے ؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں راستے ہی میں ہلاک کردیا اور ان کا منصوبہ دھرہ رہ گیا، آخر کار تین دن اسی طرح گزرے جیسے حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تھا اسی حالت میں شدید زلزلہ آیا اور آسمان سے ایک ہیبت ناک چیخ کی آواز نے ان سب کو ہلاک کرڈالا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تفصیلی ذکر سورۃ ہود (61:11) سورۃ شعراء (141:126) سورۃ نمل (45:27) اور سورۃ قمر (23:54) میں آیا ہے۔ نیز سورۃ حجر، سورۃ ذاریات، سورۃ نجم سورۃ الحاقہ اور سورۃ شمس میں بھی ان کے مختصر حوالے آئے ہیں۔

Al-A'raaf 7:73Listen in Qur'an →
74

وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ عَادٍۢ وَبَوَّأَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًۭا وَتَنْحِتُونَ ٱلْجِبَالَ بُيُوتًۭا ۖ فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو

Explained together with ayah 73

Al-A'raaf 7:74Listen in Qur'an →
75

قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لِلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِمَنْ ءَامَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَٰلِحًۭا مُّرْسَلٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۚ قَالُوٓا۟ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلَ بِهِۦ مُؤْمِنُونَ

تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے تھے غریب لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز دے کر وہ بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں

Explained together with ayah 73

Al-A'raaf 7:75Listen in Qur'an →
76

قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا بِٱلَّذِىٓ ءَامَنتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ

تو (سرداران) مغرور کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے

Explained together with ayah 73

Al-A'raaf 7:76Listen in Qur'an →
77

فَعَقَرُوا۟ ٱلنَّاقَةَ وَعَتَوْا۟ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا۟ يَٰصَٰلِحُ ٱئْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ

آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ

Explained together with ayah 73

Al-A'raaf 7:77Listen in Qur'an →
78

فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ

تو ان کو بھونچال نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

Explained together with ayah 73

Al-A'raaf 7:78Listen in Qur'an →
79

فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ ٱلنَّٰصِحِينَ

پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا کہ میری قوم! میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے

Explained together with ayah 73

Al-A'raaf 7:79Listen in Qur'an →
80

وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَتَأْتُونَ ٱلْفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍۢ مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور اسی طرح جب ہم نے لوط کو (پیغمبر بنا کر بھیجا تو) اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا

40: حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے، جو اپنے مقدس چچا کی طرح عراق میں پیدا ہوئے تھے، اور جب انہوں نے وہاں سے ہجرت کی تو حضرت لوط علیہ السلام بھی ان کے ساتھ وطن سے نکل آئے، بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین کے علاقے میں آباد ہوئے، اور حضرت لوط علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے اردن کے شہرسدوم ( ) میں پیغمبر بناکر بھیجا۔ سدوم ایک مرکزی شہر تھا، اور اس کے مضافات میں عمورہ وغیرہ کئی بستیاں آباد تھیں۔ کفر وشرک کے علاوہ ان بستیوں کی شرمناک بدعملی یہ تھی کہ وہ ہم جنسی ( ) کی لعنت میں گرفتار تھے جس کا ارتکاب قرآنِ کریم کی تصریح کے مطابق ان سے پہلے دُنیا کے کسی فرد نے نہیں کیا تھا، حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں اﷲ تعالیٰ کے احکام پہنچائے، اور عذاب سے بھی ڈرایا، لیکن جب یہ لوگ اپنی خباثت سے باز نہ آئے توان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی، اور ان تمام بستیوں کو الٹ دیا گیا، آج بحر میت ( ) کے نام سے جو سمندر ہے، کہتے ہیں کہ یہ بستیاں یا تو اس میں ڈوب گئی ہیں، یا اس کے آس پاس تھیں۔ جن کا نشان واضح نہیں رہا۔ حضرت لوط علیہ السلام کا اس قوم کے ساتھ نسبی تعلق نہیں تھا، پھر بھی اس آیت میں اسے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کہا گیا ہے، کیونکہ یہ وہ امت تھی جس کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا۔ان کے واقعے سب سے زیادہ تفصیل سورۂ ہود (69:11 تا 83) میں آئے گی۔ اس کے علاوہ سورۂ حجر (52:15 تا 84)، سورۂ شعراء (160:26 تا 174) اور سورۂ عنکبوت (26:29 تا 35) میں بھی ان کے واقعے کی کچھ تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ نیز سورۂ ذاریات (24:51 تا 37) اور سورۂ تحریم (10:66) میں بھی ان کے مختصر حوالے آئے ہیں۔

Al-A'raaf 7:80Listen in Qur'an →

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.