يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو
1: جنگ بدر کے موقع پر جب دُشمن کو شکست ہوگئی تو صحابہ کرامؓ تین حصوں میں تقسیم ہوگئے تھے، ایک حصہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے آپ کے ساتھ رہا، دوسرا حصہ دُشمن کے تعاقب میں روانہ ہوگیا، اور تیسرا حصہ دُشمن کے چھوڑے ہوئے مالِ غنیمت کو جمع کرنے میں مشغول ہوگیا۔ یہ چونکہ پہلی جنگ تھی، اور مالِ غنیمت کے بارے میں مفصل ہدایات نہیں آئی تھیں، اس لئے اس تیسرے حصے نے یہ سمجھا کہ جو مال انہوں نے اکٹھا کیا ہے، وہ انہی کا ہے۔ (اور شاید زمانہ جاہلیت میں معمول ایسا ہی رہا ہوگا) لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد پہلے دوگروہوں کو یہ خیال ہوا کہ وہ بھی جنگ میں برابر کے شریک تھے، بلکہ مالِ غنیمت اکٹھا ہونے کے وقت زیادہ اہم خدمات انجام دے رہے تھے، اس لئے ان کو بھی اس مال میں حصہ دار ہونا چاہئے۔ یہ ایک فطری تقاضا تھا جس کی بنا پر ان حضرات کے درمیان بحث کی بھی نوبت آئی۔ جب معاملہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو یہ آیات نازل ہوئیں جن میں بتادیا گیا کہ مالِ غنیمت کے بارے میں فیصلے کا مکمل اختیار اللہ اور اس کے رسول کو ہے۔ چنانچہ بعد میں اسی سورت کی آیت نمبر ۴۱ میں مالِ غنیمت کی تقسیم کے بارے میں مفصل احکام آگئے۔ زیر نظر آیت نے ہدایت دی کہ اگر مسلمانوں کے درمیان کوئی رنجش ہوئی ہے تو اس وضاحت کے بعد اسے دور کرکے باہمی تعلقات درست کرلینے چاہئیں۔