28: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب دنوں کا حساب موجودہ سورج کے طلوع و غروب سے نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت کے دن کا شمار بظاہر کسی اور معیار پر کیا گیا ہے۔ جس کی حقیقت اﷲ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اور یوں تو اﷲ تعالیٰ کو یہ بھی قدرت تھی کہ وہ پلک جھپکنے سے بھی پہلے پوری کائنات وجود میں لے آتا، لیکن اس عمل کے ذریعے اِنسان کو بھی جلد بازی کے بجائے اطمینان اور وقار کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
29: ’’استواء‘‘ عربی لفظ ہے جس کے معنیٰ ہیں سیدھا کرنا، قائم ہونا، قابو پانا اور بعض اوقات اس کے معنیٰ بیٹھنے کے بھی ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ چونکہ جسم اور مکان سے پاک ہے، اس لئے اس کے یہ معنیٰ سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ جس طرح کوئی اِنسان تخت پر بیٹھتا ہے، اس طرح (معاذاللہ) اﷲ تعالیٰ بھی عرش پر بیٹھے ہیں۔ استوا اﷲ تعالیٰ کی ایک صفت ہے اور جمہور اہل سنت کے نزدیک اس کی ٹھیک ٹھیک کیفیت اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اسے متشابہات میں شمار کیا گیا ہے، جن کی کھود کرید میں پڑنے کو سورہ آل عمران کے شروع میں خود قرآنِ کریم نے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ اس کا کوئی بھی ترجمہ کرنا مغالطہ پیدا کرسکتا ہے۔ اسی بنا پر ہم نے یہاں اس کا ترجمہ نہیں کیا۔ نہ اس پر کوئی عملی مسئلہ موقوف ہے۔ اتنا ایمان رکھنا کافی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی شان کے مطابق استوا فرمایا جس کی حقیقت ہماری محدودعقل کے ادراک سے باہر ہے۔