16: جس طرح ان عرب قبائل نے طواف کے وقت کپڑے پہننے کو حرام سمجھا ہوا تھا، اسی طرح جاہلیت کے لوگوں نہ بہت سی غذاؤں کو بلا وجہ حرام قرار دیا ہوا تھا، جس کا مفصل تذکرہ سورۂ انعام میں گزرا ہے، نیز حمس کے قبائل نے گوشت کی بعض قسموں کو اپنی امتیازی حیثیت ظاہر کرنے کے لئے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں آیا تھا۔
17:: یہ دراصل کفار مکہ کی ایک بات کا جواب ہے وہ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ہمارا موجودہ طریقہ پسند نہیں ہے تو وہ ہمیں رزق کیوں دے رہا ہے ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس دنیا میں تو اللہ تعالیٰ کے رزق کا دستر خوان ہر شخص کے لئے بچھا ہوا ہے چاہے وہ مومن ہو یا کافر، لیکن آخرت میں یہ نعمتیں صرف مومنوں کے لئے خاص ہیں، اس لئے یہ سمجھنا غلط ہے کہ اگر دنیا میں کسی کو خوشحالی میسر ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی دلیل ہے اور اسے آخرت میں بھی خوشحالی ضرور میسر آئے گی۔