إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ إِذَا مَسَّهُمْ طَٰٓئِفٌۭ مِّنَ ٱلشَّيْطَٰنِ تَذَكَّرُوا۟ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ
جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں
101: گناہ کی خواہش نفس اور شیطان کے اثرات سے بڑے بڑے پرہیزگاروں کو بھی ہوتی ہے، لیکن وہ اس کا علاج اس طرح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا دھیان کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، یعنی ان کو گناہ کی حقیقت نظر آجاتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ گناہ سے بچ جاتے ہیں، اور اگر کبھی غلطی ہو بھی جائے تو توبہ کی توفیق ہوجاتی ہے۔