فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ
تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
48: اس قوم پر جو عذاب آیا اس کے لئے قرآنِ کریم نے یہاں زلزلے کا ذکر فرمایا ہے، سورۂ ہود (۱۱:۹۴) میں اس کو ’’صیحہ‘‘ یعنی ’’چنگھاڑ‘‘ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور سورۂ شعراء میں اسے ’’عذاب یوم الظلہ‘‘ یعنی ’’سائبان کے دن کا عذاب‘‘ فرمایا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے ایک روایت یہ ہے کہ ان لوگوں پر پہلے سخت گرمی پڑی جس سے یہ بلبلا اٹھے پھر شہر سے ایک بادل آیا جس میں ٹھنڈی ہوا تھی۔ یہ لوگ گھروں سے نکل کر اس کے نیچے جمع ہوگئے۔ اس وقت اس بادل سے آگ برسائی گئی، جسے ’’سائبان‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، پھر زلزلہ آیا (روح المعانی) اور زلزلے کے ساتھ عموما آواز بھی ہوتی ہے جسے چنگھاڑ کہا گیا۔