Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 81–90 of 206

81

إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهْوَةًۭ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌۭ مُّسْرِفُونَ

یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو

Explained together with ayah 80

Al-A'raaf 7:81Listen in Qur'an →
82

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌۭ يَتَطَهَّرُونَ

تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ ان لوگوں (یعنی لوط اور اس کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں

Explained together with ayah 80

Al-A'raaf 7:82Listen in Qur'an →
83

فَأَنجَيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا مگر ان کی بی بی (نہ بچی) کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی

Explained together with ayah 80

Al-A'raaf 7:83Listen in Qur'an →
84

وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًۭا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ

اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینھ برسایا۔ سو دیکھ لو کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا

Explained together with ayah 80

Al-A'raaf 7:84Listen in Qur'an →
85

وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًۭا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ فَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَٰحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے

41: مدین ایک قبیلے کا نام ہے اور اسی کے نام پر ایک بستی بھی ہے جس میں حضرت شعیب علیہ السلام کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا، ان کا زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کچھ پہلے کا ہے اور بعض روایات میں ہے کہ وہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خسر تھے، یہ ایک سرسبز وشاداب علاقہ تھا اور یہاں کے لوگ خاصے خوش حال تھے۔ رفتہ رفتہ ان میں کفر وشرک کے علاوہ بہت سی بد عنوانیاں رواج پاگئیں۔ ان کے بہت سے لوگ ناپ تول میں دھوکا دیتے تھے۔ بہت سے زور آور لوگوں نے راستوں پر چوکیاں بنارکھی تھیں، جو گزرنے والوں سے زبردستی کا ٹیکس وصول کرتے تھے، کچھ لوگ ڈاکے بھی ڈالتے تھے۔ نیز جو لوگ حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس جاتے نظر آتے، انہیں روکتے اور تنگ کرتے تھے۔ ان کی بد عنوانیوں کا ذکر اگلی دو آیتوں میں آرہا ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی قوم کے لئے پیغمبر بناکر بھیجا۔ انہوں نے مختلف طریقوں سے اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی۔ اﷲ تعالیٰ نے تقریر اور خطابت کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا، اسی لئے وہ ’’خطیب الانبیاء‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں۔ لیکن ان کی موثر تقریروں کا قوم نے کچھ اثر نہ لیا۔ اور آخر کار وہ اﷲ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنی۔ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کی قوم کے واقعات سب سے زیادہ تفصیل سے سورۂ ہود (۱۱: ۸۴ تا ۹۵) میں آئے ہیں اور اس کے علاوہ کچھ تفصیل سورۂ شعراء (۲۶:۱۷۷) اور سورۂ عنکبوت (۲۹:۳۶) میں آئی ہے، اور سورۂ حجر (۷۸:۵۱) میں مختصر حوالہ آیا ہے۔

42: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم ناپ تول میں کمی کے علاوہ دوسرے طریقوں سے بھی لوگوں کی حق تلفی کیا کرتی تھی۔ اس آیت میں لفظ ’’بخس‘‘ استعمال کیا گیا ہے، جس کے لفظی معنیٰ کمی کرنے کے ہیں، اور یہ لفظ خاص طور پر کسی کا حق مارلینے کے معنیٰ میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ اور قرآنِ کریم میں یہ فقرہ تین جگہ بڑی تاکید کے ساتھ آیا ہے، اور اس میں دوسروں کی ملکیت کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔ اس احترام میں یہ بات بھی داخل ہے کہ کسی کے مال یا جائیداد پر اس کی مرضی کے بغیر قبضہ کرلیا جائے، اور یہ بھی کہ کسی کی کوئی بھی چیز اس کی خوش دلی کے بغیر استعمال کی جائے۔

43: اس کی تشریح کیلئے دیکھئے پیچھے آیت نمبر 56 کا حاشیہ۔

Al-A'raaf 7:85Listen in Qur'an →
86

وَلَا تَقْعُدُوا۟ بِكُلِّ صِرَٰطٍۢ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِهِۦ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًۭا ۚ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ كُنتُمْ قَلِيلًۭا فَكَثَّرَكُمْ ۖ وَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ

اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا

44: اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ اور یہ بھی کہ ان کو خوشحالی زیادہ نصیب ہوئی۔

Al-A'raaf 7:86Listen in Qur'an →
87

وَإِن كَانَ طَآئِفَةٌۭ مِّنكُمْ ءَامَنُوا۟ بِٱلَّذِىٓ أُرْسِلْتُ بِهِۦ وَطَآئِفَةٌۭ لَّمْ يُؤْمِنُوا۟ فَٱصْبِرُوا۟ حَتَّىٰ يَحْكُمَ ٱللَّهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَٰكِمِينَ

اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے۔ اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی۔ تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

45: یہ درحقیقت ان کی ایک بات کا جواب ہے، وہ کہتے تھے کہ ہمیں تو مومنوں اور کافروں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا، جو لوگ ایمان نہیں لائے وہ بھی خوش حالی کی زندگی بسر کررہے ہیں اگر ان کا طریقہ اللہ کو پسند نہ ہوتا تو انہیں یہ خوش حالی کیوں نصیب ہوتی؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس وقت کی خوش حالی سے یہ دھوکا نہ کھانا چاہئے کہ صورت حال ہمیشہ ایسی ہی رہے گی، ابھی اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرو۔

Al-A'raaf 7:87Listen in Qur'an →
88

۞ قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَنُخْرِجَنَّكَ يَٰشُعَيْبُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَٰرِهِينَ

(تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)

Explained together with ayah 87

Al-A'raaf 7:88Listen in Qur'an →
89

قَدِ ٱفْتَرَيْنَا عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِى مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّىٰنَا ٱللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّعُودَ فِيهَآ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا ٱفْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِٱلْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْفَٰتِحِينَ

اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بےشک ہم نے خدا پر جھوٹ افتراء باندھا۔ اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو (ہم مجبور ہیں) ۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمارا خدا ہی پر بھروسہ ہے۔ اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

46: حضرت شعیب (علیہ السلام) کے دوسرے ساتھی توپہلے اپنی قوم کے دین پر تھے، بعد میں ایمان لائے اس لئے ان کے حق میں توپرانے دین کی طرف لوٹنے کا لفظ صحیح ہے ؛ لیکن حضرت شعیب (علیہ السلام) کبھی بھی ان کے دین پر نہیں رہے البتہ ان کی نبوت سے پہلے ان کی قوم کے لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ انہی کے دین پر ہیں، اس لئے انہوں نے آپ کے لئے بھی لوٹنے کا لفظ استعمال کیا تھا، حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جواب بھی انہی کے الفاظ میں دیا۔

47: یہ اعلی درجے کی عبدیت کا فقرہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے پکے عزم سے اللہ تعالیٰ کو کسی بات پر مجبور نہیں کرسکتا، ہم نے اپنی طرف سے تو یہ پکا ارادہ کر رکھا ہے کہ کبھی تمہارا دین اختیار نہیں کریں گے لیکن اپنے اس عزم پر عمل اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے، اور اگر وہ چاہے توہمارے دلوں کو بھی پھیر سکتا ہے یہ اور بات ہے کہ جب کوئی بندہ اخلاص کے ساتھ راہ راست پر رہنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ اس کا دل گمراہی کی طرف نہیں پھیرتا اور ہر شخص کے اخلاص کی کیفیت کا اس کو پورا علم ہے، لہذا اخلاص کے ساتھ کسی بات کا پکا ارادہ کرلینے کے بعد اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہئے کہ وہ اس ارادے کو پورا فرمائے گا، اس طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اس جملے سے یہ عظیم سبق دیا ہے کہ کوئی بھی نیکی کرتے وقت بھروسہ اپنے عزم اور عمل کے بجائے اللہ تعالیٰ پر کرنا چاہئے۔

Al-A'raaf 7:89Listen in Qur'an →
90

وَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَئِنِ ٱتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًۭا لَّخَٰسِرُونَ

اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے

Explained together with ayah 89

Al-A'raaf 7:90Listen in Qur'an →

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.