Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 1–10 of 206

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

2

كِتَٰبٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِى صَدْرِكَ حَرَجٌۭ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

(اے محمدﷺ) یہ کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے تمہیں تنگ دل نہیں ہونا چاہیئے، (یہ نازل) اس لیے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں) کو ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے

سورة اعراف - قول باری ہے فلایکن فی صدرک حرج منہ۔ پس اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو) فقرے کا انداز بیان نہی کی صورت میں ہے اور معنی یہ ہیں کہ مخاطب کو حرج یعنی تنگی سے تعرض کرنے سے روکا گیا ہے جن سے مروی ہے کہ حرج کے معنی تنگی کے ہیں۔ یہی اس کے اصل معنی ہیں۔ پورے فقرے کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارا دل اس خوف سے تگ نہ ہو کہ کہیں تم اس کا حق ادا کرنے سے قاصر نہ رہ جائو۔ بات یہ نہیں ہے بلکہ تمہارے ذمہ تو صرف اس کے ذریعے لوگوں کو خدا کے عذاب اور اس کی نافرمانی کے نتائج سے ڈراتے رہنا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ، مجا، سدی اور قتادہ کا قول ہے کہ حرج سے یہاں شک مراد ہے۔ یعنی تمہیں اس بات میں شک نہیں کرنا چاہیے کہ اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو ڈرانا تم پر لازم ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ” کفار اور مشرکین تمہاری تکذیب کرتے ہیں ان کی تکذیب کی وجہ سے تمہارا دل تنگ نہ ہونا چاہیے “۔ جس طرح یہ قول باری ہے فلعلک باخع نفسک علیٰ اثارھم لم یومنوا بھذا الحدیث اسفاً ۔ اگر یہ لوگ اس کتاب پر ایمان نہ لائے تو کیا تم اس پر افسوس کے مارے ان کے پیچھے اپنی جان دے دو گے) ۔

3

ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَذَكَّرُونَ

(لوگو) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو

پیروی قرآن - قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ کے حکم کی اتباع کا بایں معنی ارادہ کرے کہ وہ اس فعل کی اباحت کا اعتقاد بھی رکھتا ہو اگرچہ اس فعل کو بروئے کار لانا اس سے مطلوب نہیں ہوتا لیکن جو شخص واجب کو ادا کرتا ہے تو وہ وجوہ کی بنا پر وہ اتباع اور پیروی کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ اول یہ کہ وہ اس کے وجوب کا اعتقاد رکھتا ہے۔ دوم یہ کہ وہ اس فعل کو اس طرح بروئے کار لاتا ہے جس طرح اسے حکم دیا جاتا ہے۔ جب اعتقاد کرنے کے لحاظ سے فعل مباح فعل واجب کے مماثل ہوگیا کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے اندر ایک چیز کی اباحت یا ایجاب کے لحاظ سے جو ترتیب اور نظام ہو اس کا اعتقاد کرنا ضروری ہوتا ہے تو قول باری اتبعواما انزل الیکم) کا مباح اور واجب دونوں پر مشتمل ہونا درست ہوگیا۔ درج بالا قول باری ہر احلت میں قرآن کی اتباع کے وجوب کی دلیل ہے۔- خبر واحد بمقابلہ قرآن - نیز یہ کہ خبر آحاد کے ذریعے قرآن کے احکام کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے کہ قرآن کی اتباع کا حکم نص تنزیل کے ذریعے ثابت ہوگیا جبکہ خبر واحد کو قبول کرلینے کا حکم نص تنزیل کے ذریعے ثابت نہیں ہوا اس لئے پہلے حکم کا ترک درست نہیں ہوگا اس لئے کہ قرآن کی اتباع کا لزوم ایسے طریقے سے ثابت ہوگیا جو علم کا موجب ہے جبکہ خبر واحد عمل کا موجب ہے اس لئے قرآن کے حکم کو چھوڑنا درست نہیں ہوگا اور خبر واحد کے ذریعے قرآن کے حکم کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔ یہ بات ہمارے اصحاب کے اس قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اخبار آحاد کی صورت میں خلاف قرآن کوئی بات نقل کرے گا اس کا قول قبول نہیں ہوگا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ماجاء کم منی ناعرضوہ علی کتاب اللہ فما وافق کتاب اللہ فھوعنی وما خالف کتاب اللہ فلیس عنی۔ میری طرف سے روایت کے ذریعے جو بات تم تک پہنچے اسے کتاب اللہ پر پیش کرو یعنی کتاب اللہ کی روشنی میں اسے جانچو، اس کے بعد جو بات کتاب اللہ کے مطابق ہو اسے تو میری طرف سے سمجھ لو اور جو کتاب اللہ کے خلاف ہوا سے میری بات نہ سمجھو) ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ باتیں ہیں جو اخبار آحاد کی صورت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہوئی ہیں۔- خبر متواتر ناسخ قرآن ہوسکتی ہے - لیکن اگر کوئی بات خبر متواتر کے ذریعے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہو تو اس کی بنا پر قرآن کے حکم کی تخصیص بلکہ نسخ بھی درست ہے ارشاد باری ہے مااتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا۔ رسول جو حکم تمہیں دیں اسے قبول کرلو اور جس بات سے تمہیں روکیں اس سے رک جائو) اس لئے جس حکم کے بارے میں ہمیں یہ یقین ہو کہ یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے تو ایجاب حکم کے لحاظ سے اس کی حیثیت قرآن کے حکم کی طرح ہوتی ہے اس لئے اس کے ذریعے قرآن کے حکم کی تخصیص بلکہ اس کا نسخ بھی جائز ہوتا ہے۔

4

وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَٰهَا فَجَآءَهَا بَأْسُنَا بَيَٰتًا أَوْ هُمْ قَآئِلُونَ

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے

Explained together with ayah 3

5

فَمَا كَانَ دَعْوَىٰهُمْ إِذْ جَآءَهُم بَأْسُنَآ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ

تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے

Explained together with ayah 3

6

فَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلْمُرْسَلِينَ

تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے

Explained together with ayah 3

7

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍۢ ۖ وَمَا كُنَّا غَآئِبِينَ

پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے

Explained together with ayah 3

8

وَٱلْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ ٱلْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہوں گے وہ تو نجات پانے والے ہیں

Explained together with ayah 3

9

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَظْلِمُونَ

اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے

Explained together with ayah 3

10

وَلَقَدْ مَكَّنَّٰكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَٰيِشَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَشْكُرُونَ

اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو

Explained together with ayah 3

Al-A'raaf 7:10Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.