Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 31–40 of 206

31

۞ يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ خُذُوا۟ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ

اے نبی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

قول باری ہے خذوازینتکم عند کل مسجد) اس پر دلالت کرتا ہے کہ مسجد میں جانے کے لئے صاف ستھرا کپڑا پہن لینا جو زینت کا باعث بن جائے مستجب ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے جمعہ اور عیدین میں صاف ستھرے کپڑے پہننے کی ترغیت دی ہے جس طرح آپ نے جمعہ اور عیدین میں غسل کرنے اور خوشبو لگانے کا حکم دیا ہے۔- کھانے پینے میں اسراف کی ممانعت - قول باری ہے وکلواواشربوا ولاتسرفوا۔ اور کھائو پیو اور حد سے سے تجاوز نہ کرو) ظاہر آیت اسراف یعنی فضول خرچی کے بغیر کھانے پینے کے ایجاب کا مقتضی ہے لیکن بعض احوال میں اس حکم سے اباحت مراد ہوتی ہے اور بعض میں ایجاب۔ اگر کھانا پینا چھوڑ دینے کی بنا پر ایک شخص کو بایں معنی ضررلاحق ہونے کا اندیشہ پیدا ہوجائے کہ اس کی جان چلی جائے یا کوئی عضو بےکار ہوجائے یا کمزوری کی بنا پر اپنے فرائض ادا کرنے سے قاضر ہوجائے تو ان تمام حالتوں میں اس کے لئے اتنا کھانا پینا واجب ہوگا اس سے ا س ضرر کے لاحق ہونے کا خطرہ ٹل جائے۔ اگر کھانا پینا چھوڑنے کی بنا پر کسی ضرر کے لاحق ہونے کا خطرہ نہ ہو تو اس حالت میں کھانا پینا مباح ہوگا۔- خورونوش میں حد اعتدال - ظاہر آیت تمام ماکولات کے کھانے اور تمام مشروبات کے پینے کے جواز کا مقتضی ہے۔ بشرطیکہ اس میں اسراف نہ ہو نیز ان میں سے کسی چیز کی ممانعت کی کوئی دلیل موجود نہ ہو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اکل و شرب کا اطلاق عدم اسراف کی شرط پر کیا ہے۔ اسراف حد استواء سے تجاوز کرجانے کا نام ہے۔ یہ بعض دفعہ حلال سے حرام کی طرف بڑھ جانے کی صورت میں ہوتا ہے اور بعض دفعہ اخراجات میں حد سے تجاوز کر جانے کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس صورت میں ایسا شخص اس قول باری کے ذیل میں آجاتا ہے ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین۔ تبذیر کرنے والے شیطانوں کے بھائی بند ہیں) اسراف اور اس کی ضد اقتاء یعنی ضرورت سے کم خرچ کرنا اور تنگی اختیار کرنا دونوں قابل مذمت باتیں ہیں۔ اور استواء میانہ روی کا نام ہے۔ اسی بنا پر یہ قول ہے کہ اللہ کا دین کوتاہی کرنے والے اور غلو کرنے والے کے وسط میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذلک قواماً ۔ اور وہ لوگ جب خرچ کرنے لگتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور اس کے درمیان کا خرچ اعتدال پر رہتا ہے) اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا ولاتجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولاتبسطھا کل البسط فتقعد ملوما محسوراً ۔ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ ہی اسے پوری طرح پھیلا دو کہ پھر تم ملازمت زدہ اور تہی دست ہو کر بیٹھ جائو) بعض دفعہ کھانے میں اس طرح اسراف ہوتا ہے کہ ایک انسان اپنی حاجت سے زائد کھا لیتا ہے جس کی وجہ سے اسے ضرر اور تکلیف لاحق ہوجاتی ہے آیت کی رو سے اس طرح کھانے کی بھی ممانعت ہے اور اس طرح کھانا حلال نہیں ہے۔

Al-A'raaf 7:31Listen in Qur'an →
32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِىٓ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِۦ وَٱلطَّيِّبَٰتِ مِنَ ٱلرِّزْقِ ۚ قُلْ هِىَ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا خَالِصَةًۭ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے

زینت اور طیبات کا حکم - قول باری ہے قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ و الطیبات من الرزق۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہو کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کردیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں ؟ ) حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ عرب کے لوگ بحیرہ اور سائبہ (ان جانوروں کی تفصیل سورة انعام میں گزر چکی ہے) وغیرہ جانوروں کو اپنے اوپر حرا م کرلیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی سدی کا قول ہے کہ عرب کے لوگ حالت احرام میں گھی اور دوسرے روغنیات کے استعمال کو حرام سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ا ن کے اس قول کی تردید میں یہ آیت نازل فرمائی۔ اس آیت میں اباحت کے اس حکم کی تاکید ہے جو سابقہ آیت خذوازینتکم عند کل مسجد) میں گزر چکا ہے۔ قول باری والطیبات من الرزق) کی تفسیر میں دو وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ اول اس میں وہ تمام ماکولات و مشروبات شامل ہیں جو انسا ن کو پسند آئیں اور اس کی لذت کام و دہن کا ذریعہ نہیں۔ اس طرح یہ قول باری تمام ماکولات اور مشروبات کی اباحت کا مقتضی ہوگا ان سے صرف وہی چیزیں خارج ہوں گی جن کی تحریم کی دلالت قائم ہوچکی ہو دوم ان سے رزق حلال مراد ہے۔ قول باری ہے قلھی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یو مالقیامۃ۔ کہو یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لئے ہیں اور قیامت کے روز تو خالصۃ انہیں کے لئے ہوں گی) یعنی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے ان چیزوں کو مباح کردیا ہے اور قیامت کے دن یہ چیزیں انہیں تکدرو تفعض کی تمام آلائشوں سے پاک صاف ملیں گی۔ ایک قول یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ چیزیں خالصۃ ان ہی کے لئے ہوں گے مشرکین کو ان میں سے کوئی چیز نہیں ملے گی۔

Al-A'raaf 7:32Listen in Qur'an →
33

قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلْإِثْمَ وَٱلْبَغْىَ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا۟ بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَٰنًۭا وَأَن تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں

فواحش سے مراد - قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھا وما بطن ولاثم والبغی بغیر الحق۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں، بےشرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی) مجاہد کا قول ہے کہ فواحش سے زنا مراد ہے یہ سری خواحش ہے اور برہنہ حالت میں طواف کرنا جہری فواحش ہے۔ ایک قول ہے کہ بےشرمی کے تمام کام فواحش ہیں۔ شروع میں اجمالاً ان کا ذکر کیا پھر ان کی مختلف صورتوں کی تفصیل بیان کردی اور یہ فرمایا کہ گناہ حق کے خلاف زیادتی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا فواحش کی صورتیں ہیں۔ یعنی لوگوں پر ناحق اور بزور قوت غلبہ جمانے اور بالادستی قائم کرنے کا نام ہے۔ قول باری ولاثم کا ذکر شراب اور جوئے کے سلسلے میں ایک اور مقام پر بھی کیا گیا ہے چناچہ ارفاد ہے یسئلونک عن الخمرو المیسرقل فیھما اثم کبیر۔ لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دو کہ ان دونوں چیزوں میں بھاری گنا ہ ہے) شراب اور جوئے کو گناہ کی صفت سے موصوف کرنا شراب اور جوئے کی تحریم کا مقتضی ہے۔

Al-A'raaf 7:33Listen in Qur'an →
34

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌۭ ۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

اور ہر ایک فرقے کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ آ جاتا ہے تو نہ تو ایک گھڑی دیر کرسکتے ہیں نہ جلدی

Explained together with ayah 33

Al-A'raaf 7:34Listen in Qur'an →
35

يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌۭ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِى ۙ فَمَنِ ٱتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

اے نبی آدم! (ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو ان پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (ان پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

Explained together with ayah 33

Al-A'raaf 7:35Listen in Qur'an →
36

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

Explained together with ayah 33

Al-A'raaf 7:36Listen in Qur'an →
37

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُم مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوٓا۟ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالُوا۟ ضَلُّوا۟ عَنَّا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰفِرِينَ

تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا ہی رہے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ (اب) کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے (معلوم نہیں) کہ وہ ہم سے (کہاں) غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بےشک وہ کافر تھے

Explained together with ayah 33

Al-A'raaf 7:37Listen in Qur'an →
38

قَالَ ٱدْخُلُوا۟ فِىٓ أُمَمٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ فِى ٱلنَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌۭ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُوا۟ فِيهَا جَمِيعًۭا قَالَتْ أُخْرَىٰهُمْ لِأُولَىٰهُمْ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمْ عَذَابًۭا ضِعْفًۭا مِّنَ ٱلنَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّۢ ضِعْفٌۭ وَلَٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ

تو خدا فرمائے گا کہ جنّوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی داخل جہنم ہو جاؤ۔ جب ایک جماعت (وہاں) جا داخل ہو گئی تو اپنی (مذہبی) بہن (یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت) پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ (تم) سب کو دگنا (عذاب دیا جائے گا) مگر تم نہیں جانتے

Explained together with ayah 33

Al-A'raaf 7:38Listen in Qur'an →
39

وَقَالَتْ أُولَىٰهُمْ لِأُخْرَىٰهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍۢ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ

اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضیلت نہ ہوئی تو جو (عمل) تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چکھو

Explained together with ayah 33

Al-A'raaf 7:39Listen in Qur'an →
40

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَٰبُ ٱلسَّمَآءِ وَلَا يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلْجَمَلُ فِى سَمِّ ٱلْخِيَاطِ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُجْرِمِينَ

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

Explained together with ayah 33

Al-A'raaf 7:40Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.