وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ
اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں
Explained together with ayah 20
سُورَةُ الأَعۡرَافِ
Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani
Ayahs 21–30 of 206
وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ
اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں
Explained together with ayah 20
فَدَلَّىٰهُمَا بِغُرُورٍۢ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا ٱلشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ ٱلْجَنَّةِ ۖ وَنَادَىٰهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا ٱلشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَآ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ
غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے
8: نیچے اتارنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ طاعت کے جس بلند مقام پر تھے، اس سے نیچے اتار لیا، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جنت سے دُنیا میں اتار لیا۔
9: اس سے معلوم ہوا کہ عریانی سے حفاظت اِنسان کی فطرت میں داخل ہے اسی لئے جونہی دونوں کا لباس اترا انہوں نے ہر ممکن طریقے سے اپنا ستر چھپانے کی کوشش کی۔
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ
دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے
10: یہ استغفار کے وہی الفاظ ہیں جن کے بارے میں سورۂ بقرہ (٢: ٣٧) میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ الفاظ سکھائے تھے، کیونکہ اس وقت تک انہیں توبہ کا طریقہ بھی معلوم نہیں تھا، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کرنے کے لئے یہ الفاظ نہایت مناسب ہیں اور ان کے ذریعے توبہ قبول ہونے کی زیادہ امید ہے، کیونکہ یہ خود اللہ تعالیٰ ہی کے سکھائے ہوئے ہیں، اس طرح اللہ تعالیٰ نے اگر ایک طرف شیطان کو مہلت دے کر اسے انسان کو بہکانے کی صلاحیت دی جو انسان کے لئے زہر جیسی تھی تو دوسری طرف انسان کو توبہ اور استغفار کا تریاق بھی عطا فرمادیا کہ اگر شیطان کے بہکائے میں آکر وہ کبھی کوئی گناہ کر گزرے تو اسے فوراً توبہ کرنی چاہئے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہو، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اس طرح شیطان کا چڑھایا ہوا زہر اترجائے گا۔
قَالَ ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۭ ۖ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّۭ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ
(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے
Explained together with ayah 23
قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ
(یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے
Explained together with ayah 23
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًۭا يُوَٰرِى سَوْءَٰتِكُمْ وَرِيشًۭا ۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں
11: آیات ۲۶ تا ۳۲ اہل عرب کی ایک عجیب وغریب رسم کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ مکہ مکرَّمہ کے قریب رہنے والے کچھ قبیلے مثلا قریش، ’’حمس‘‘ کہلاتے تھے۔ عرب کے دوسرے تمام قبیلے حرم کی پاسبانی کی وجہ سے ان لوگوں کی بڑی عزت کرتے تھے۔ اسی کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ عربوں کے عقیدے کے مطابق کپڑے پہن کر طواف کرنا صرف انہی کا حق تھا۔ دوسرے لوگ کہتے تھے کہ جن کپڑوں میں ہم نے گناہ کئے ہیں، ان کے ساتھ ہم بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتے۔ چنانچہ یہ لوگ جب طواف کے لئے آتے تو ’’حمس‘‘ کے کسی آدمی سے کپڑے مانگتے، اگر اس کے کپڑے مل جاتے تو انہیں پہن کر طواف کرلیتے، لیکن اگر کسی کو ’’حمس‘‘ میں سے کسی کے کپڑے نہ ملتے تو وہ بالکل عریاں ہو کر طواف کرتے تھے۔ یہ آیتیں اس بے ہودہ رسم کی تردید کے لئے نازل ہوئی ہیں، اور ان میں اِنسان کے لئے لباس کی اہمیت بھی بیان فرمائی گئی ہے، اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لباس کا اصل مقصد جسم کا پردہ ہے، اور ساتھ ہی لباس اِنسان کے لئے زینت اور خوشنمائی کا بھی ذریعہ ہے۔ ایک اچھے لباس کی صفت یہ ہونی چاہئے کہ وہ یہ دونوں مقصد پورے کرے۔ اور جس لباس سے پردے کا مقصد حاصل نہ ہو وہ اِنسانی فطرت کے خلاف ہے۔
12: لباس کا ذکر آیا تو یہ حقیقت بھی واضح فرمادی گئی کہ جس طرح لباس اِنسان کے ظاہری جسم کی پردہ داری کرتا ہے، اسی طرح تقویٰ اِنسان کو گناہوں سے پاک رکھتا ہے، اور اس کے ظاہر اور باطن دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اور اس لحاظ سے تقویٰ کا لباس بہترین لباس ہے۔ لہٰذا ظاہری لباس پہننے کے ساتھ ساتھ اِنسان کو یہ فکر بھی رکھنی چاہئے کہ وہ تقویٰ کے لباس سے آراستہ ہو۔
13: یعنی لباس کا پیدا کرنا اﷲ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی نشانیوں میں سے ایک ہے
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ كَمَآ أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَٰتِهِمَآ ۗ إِنَّهُۥ يَرَىٰكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُۥ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ
اے نبی آدم (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر) بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق کار بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے
Explained together with ayah 26
وَإِذَا فَعَلُوا۟ فَٰحِشَةًۭ قَالُوا۟ وَجَدْنَا عَلَيْهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں
14: اس سے اسی رسم کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ عریاں ہو کر طواف کرتے تھے چونکہ یہ رسم برسوں سے چلی آتی تھی اس لئے ان کی دلیل یہ تھی کہ ہمارے باپ دادا ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہوگا۔
قُلْ أَمَرَ رَبِّى بِٱلْقِسْطِ ۖ وَأَقِيمُوا۟ وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَٱدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے
15: شاید مذکورہ بالا سیاق و سباق میں انصاف کا ذکر اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ ’’ حمس‘‘ کے لوگوں نے اپنی جو امتیازی خصوصیات طے کر رکھی تھیں، ان میں سے بعض انصاف کے تقاضوں کے بھی خلاف تھیں۔ مثلاً یہ بات کہ صرف وہی کپڑے پہن کر طواف کرسکتے ہیں، دوسرے لوگ نہیں، حالانکہ اگر دوسرے لوگ گناہ کرسکتے تھے تو یہ لوگ بھی گناہوں سے پاک تو نہیں تھے ۔
فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلضَّلَٰلَةُ ۗ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ
ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں
Explained together with ayah 29
Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.