امام کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے قرات کرنا - قول باری ہے واذاقری القران فاستمعوالہ وانصتوالعلکم ترحمون۔ اور جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں قرات کی اور آپ کی اقتداء میں پڑھنے والے حضرات نے بھی قرات کی جس کی وجہ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرات گڈ مڈ ہوگئی۔ اس پر درج بالا آیت کا نزول ہوا ثابت بن عجلان نے سعید بن جیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے درج بالا آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ مومن کے لئے قرآن توجہ سے سننے کے حکم میں گنجائش موجود ہے البتہ اگر فرض نماز یا جمعہ کی نماز یا عیدین کی نمازیں ہوں (تو پھر توجہ سے سننا ضروری ہوگا) اور مخلدالمہاجر نے ابوالعالیہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز پڑھانے کے دوران قرات کرتے تو آپ کے پیچھے کھڑے تمام لوگ بھی قرات کرتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس کے بعد صحابہ کرام خاموش رہتے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرات کرتے۔ شعبی اور عطا نے روایت کی ہے کہ آیت میں مذکورہ قرات سے نماز کی قرات مراد ہے۔ ابراہیم بن ابی حرہ نے مجاہد سے اسی قسم کی روایت کی ہے۔ ابن ابی بخیح نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک انصاری جو ان کی نماز کے اندر قرات سنی، اس پر درج بالا آیت نازل ہوئی۔ سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ اس نے نماز کے اندر قرات کی تھی۔ مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے نماز اور خطبہ کے دوران قرات مراد ہے لیکن یہاں خطبہ کا ذکر ایک بےمعنی بات ہے۔ اس لئے کہ خطبہ کے دوران قرات کو توجہ سے سننا اور خاموش رہنا اسی طرح واجب ہے جس طرح خطبہ کے علاوہ دوسری صورتوں میں واجب ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ لوگ نماز کے اندر باتیں کرتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ لیکن یہ بھی بعید ازفہم تاویل ہے جو آیت کے مفہوم سے بالکل میل نہیں رکھتی۔ اس لئے آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ صرف کسی کی قرات کو غور سے سننے اور خاموش رہنے کے حکم کی بات ہے اس لئے کہ یہ محال ہے کہ ایک شخص کو اپنی قرات غور سے سننے اور خاموش رہنے کا حکم دیا جائے۔ البتہ اگر حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت کے یہ معنی لئے جائیں کہ لو گ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے دوران آپس میں باتیں کرتے تھے اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی تو روایت کی یہ تاویل درست ہوگی۔ اگر بات اس طرح ہوجائے تو پھر یہ تاویل امام کے پیچھے قرات نہ کرنے کے سلسلے میں دوسرے حضرات کی تاویل کے مطابق ہوجائے گی۔ اس طرح سب کا اس پر اتفاق ہوجائے گا کہ آیت میں امام کے پیچھے قرات نہ کرنا بلکہ اس کی قرات کو غور سے سننا اور خاموش رہنا مرا د ہے۔ اگر امام کے پیچھے قرات نہ کرنے کے وجوب کے سلسلے میں آیت کے نزول پر سلف کے اتفاق کی روایت موجود نہ بھی ہوتی تو تنہا آیت ہی اپنے معنی کے ظہور اور اپنے الفاظ کے عموم کی بنا پر امام کی قرات خاموشی سے سننے کے وجوب پر واضح طور سے دلالت کے لئے کافی ہوتی۔ اس لئے کہ قول باری واذاقری القران فاستمعوالہ وانصتوا) یہ حکم نماز اور غیر نماز کے اندر قرات قرآن کو غور سے سننے اور خاموش رہنے کے وجوب کا مقتضی ہے۔ پھر جب غیر نماز کے اندر قرآن کی قرات کو غور سے سننے اور خاموش نہ رہنے کے جواز پر دلالت قائم ہوجائے تو اس سے نماز کے اندر قرات کو غور سے سننے اور خاموش رہنے کے ایجاب پر آیت کی دلالت کا حکم ختم نہیں ہوگا۔ نیز آیت جس طرح جہری نماز میں امام کے پیچھے قرات کرنے کی نہی پر دلالت کرتی ہے اسی طرح سری نماز کے اندر بھی امام کے پیچھے قرات کرنے کی نہی پر آیت کی دلالت ہوگی اس لئے کہ آیت نے قرات قرآن کے دوران قرات کو غور سے سننا اور خاموش رہنا واجب کردیا …