وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ
اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا رستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
Explained together with ayah 172
سُورَةُ الأَعۡرَافِ
Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr
Ayahs 181–190 of 206
وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ
اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا رستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
Explained together with ayah 172
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا
Explained together with ayah 172
وَأُمْلِى لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے
Explained together with ayah 172
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ ۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد (ﷺ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ وہ تو ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں
Explained together with ayah 172
أَوَلَمْ يَنظُرُوا۟ فِى مَلَكُوتِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍۢ وَأَنْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ
کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر (خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے
کائنات پر دعوت فکر - قول باری ہے اولم ینظروا فی ملکوت السموت والارض وما خلق اللہ من شئی ۔ کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا) آیت میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کائنات اس کی کاریگری اور حسن انتظام پر غور کرنے، اس کی ذات پر استدلال کرنے اور اس معاملے پر تدبر و تفکر سے کام لینے پر ابھارا گیا ہے اس لئے کہ یہ تمام باتیں اللہ کی ذات، اس کی حکمت، اس کی مہارت اور اس کے عدل پر دلالت کرتی ہے۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس کی پیدا کی ہوئی تمام چیزوں میں اس کی ذات کی نشاندہی موجود ہے اور یہ تمام چیزیں اس کی ذات کی طرف انسانوں کے فہم و شعور کو دعوت فکر دیتی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر لوگوں نے کائنات پر غور و فکر کے ذریعے اس کی ذات کی معرفت میں کوتاہی کی حتی کہ موت کا وقت آگیا اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی واحدانیت کی معرفت پر کائنات سے استدلال کا موقع ہاتھ سے نکل گیا تو یہ موقعہ پھر کبھی ہاتھ نہیں آئے گا۔ اسی بنا پر ارشاد ہوا وان عسی ان یکون قد اقترب اجلھم فبای حدیث بعدہ یومنون۔ اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید ان کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آلگا ہو پھر آخر پیغمبر کی اس تنبیہ کے بعد اور کون سی بات ایسی ہوسکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں ؟ )
مَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَا هَادِىَ لَهُۥ ۚ وَيَذَرُهُمْ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ
جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں
Explained together with ayah 185
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّى ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةًۭ ۗ يَسْـَٔلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِىٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے
قیامت کب آئے گی ؟- قول باری ہے یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔ یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی ؟ ) تاآخر آیت ۔ قتادہ اور سدی کا قول ہے کہ مرسھا کے معنی قیام قیامت ہے۔ ایان، متی کے معنوں میں ہے۔ اس سوال میں اس وقت کے بارے میں دریافت کیا گیا تھا جو قیامت کے وقوع پذیر ہونے کے لئے ظرف بننے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قیامت کے وقت کے متعلق کوئی بات نہیں بتائی تاکہ اس کے بندے قیامت کے وقت سے ہمیشہ ڈرتے رہیں اور یہ بات طاعت کی طرف زیادہ راغب کر دے اور معصیت سے انہیں زیادہ بازرکھے ۔ موسیٰ کسی بھاری چیز کی جائے استقرار کو کہتے ہیں۔ اسی سے الجبال الرسیات، ہے یعنی گڑے ہوئے مضبوط پہاڑ جب کشتی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوجائے تو کہا جاتا ہے ” رسبت السفینۃ “ جب کوئی شخص اسے لنگر انداز کرلے تو کہا جاتا ہے ” ارسا ھا غیرھا “۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ یہود کے ایک گروہ نے قیامت کے متعلق سوال کیا تھا حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ قریش نے یہ سوال کیا تھا۔ قول باری ہے لاتاتیکم الابغتۃ۔ وہ تم پر اچانک آجائے گی) قتادہ کا قول ہے کہ بغتۃ کے معنی غفلۃ کے ہیں۔ یہ شدید ترین صورت ہے۔ قول باری ہے ثقلت فی السموت والارض۔ آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا) سدی اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ اس وقت کا علم آسمانوں اور زمین والوں پر بڑا بھاری ہوگا وہ اس کے ادراک کی طاقت نہیں رکھتے حسن کا قول ہے قیامت کی کیفیت کا بیان اہل زمین وآسمان کے لئے بڑا سخت ہوگا اس لئے کہ اس گھڑی ستارے بکھر جائیں گے آسمانوں کے روشن اجرام بےنور ہوجائیں گے اور پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور اڑتے پھریں گے۔ قتادہ کا قول ہے کہ قیامت کی گھڑی آسمانوں پر بڑی سخت ہوگی اور اس کی شدت کی بنا پر آسمان اس کی برداشت کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ قول باری ہے یسئلونک کانک حفتی عنھا۔ یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں کہ گویا تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو) مجاہد ضحاک اور معمر کے قول کے مطابق گویا تمہیں اس کا علم ہے “ حضرت ابن عباس (رض) حسن قتادہ اور سدی کا قول ہے کہ آیت کی عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل ترتیب یہ ہوگی یسئلونک عنھا کانک حفی بھم۔ یہ لوگ تم سے قیامت کے متعلق اس طرح پوچھتے ہیں گویا تم ان کے ساتھ کوئی نیکی کر کے مہربانی کرنا چاہتے ہو۔ اسی معنی میں یہ قول باری ہے انہ کان بی حفیاً ۔ یقینا وہ مجھ پر بہت مہربان ہے) ایک قول ہے کہ حفا کے اصل معنی کسی معاملے کے پیچھے پڑجانے اور اس کی کھوج میں لگ جانے کے ہیں۔ جب کوئی شخص کی کھوج میں لگ جائے تو کہا جاتا ہے احفی فلان فلاناً ۔ اسی طرح جب کوئی شخص مسلسل سوال کرتا رہے تو کہا جاتا ہے ” احفی السئوال “ اسی سے ہے ” احفی الشارب “ (فلاں شخص نے اپنی مونچھیں پوری طرح صاف کردیں) اسی سے لفظ الحفا ہے جس کے معنی مسلسل ننگے پائوں چلنے کی بنا پر قدموں کا چھل جانا ہے۔ حفی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو تمہارے ساتھ نیکی کر کے تم پر مہربانی کرتا ہے۔ مہربانی کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ نیکی کرنے کے درپے ہوتا ہے۔ قول باری حفی عنھا یعنی اس کا علم رکھنے والا۔ اس لئے کہ اس کا علم رکھنے والے نے اس کے متعلق علم حاصل کرنے میں مسلسل تگ و دو کی ہے۔ آیت میں اس شخص کے قول کے بطلان پر دلیل موجود ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے دنیا کی باقی ماندہ مدت کا علم ہے۔ وہ استدلال کے طور پر ایک روایت پیش کرتا ہے جس میں ذکر ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار برس ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد سے اس کی عمر صرف پانچ سو برس رہ گئی ہے۔ اگر اس شخص کی بات درست ہوتی تو پھر قیامت کے وقت کا سب کو علم ہوتا جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ قیامت کا علم صرف اس کی ذات کو ہے اسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا۔ نیز اس کی آمد اچانک ہوگی۔ اس کی آمد کا پہلے سے کسی کو علم نہ ہوسکے گا۔ اس …
قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ لَٱسْتَكْثَرْتُ مِنَ ٱلْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِىَ ٱلسُّوٓءُ ۚ إِنْ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌۭ وَبَشِيرٌۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ
کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں
Explained together with ayah 187
۞ هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّىٰهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًۭا فَمَرَّتْ بِهِۦ ۖ فَلَمَّآ أَثْقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ ءَاتَيْتَنَا صَٰلِحًۭا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ
وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے
تخلیق انسانی - قول باری ہے ھوالذی خالقکم من نفس واحدۃ وجعل منھا زوجھا۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا) ایک قول ہے کہ ہر جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ گویا یوں فرمایا ” جان سے اس کا جوڑا بنایا “۔ اور اس سے جنس مراد لیا۔ آیت کی عبارت میں لفظ جنس پوشیدہ ہے۔ ایک قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ قول باری ہے لئن اتیتنا صالحاً ۔ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا) حسن کا قول ہے ” ایک صحیح و سالم بچہ “ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے ” ایک سالم انسان “ اس لئے کہ ماں باپ کو یہ خوف کھائے جاتا تھا کہ کہیں چوپائے کی شکل کی کوئی مخلوق نہ آجائے۔ قول باری ہے فلما اتاھما صالحاً جعل لہ شرکاء فیما اتاھما۔ مگر جب اللہ نے ان کو صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی اس بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے) حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ فعل ” جعلا “ میں ضمیر جان اور اس کے جوڑے کی طرف راجع ہے آدم و حوا کی طرف راجع نہیں ہے دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ضمیر ولد صالح کی طرف بایں معنی راجع ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ جسمانی طور پر صحیح و سالم تھا۔ یہ صحت و سلامتی اس کی خلقت کے لحاظ سے تھی، دین کے لحاظ سے نہیں تھی۔ تثنیہ کی ضمیر کے مرجع کی یہ توجیہہ ہے کہ حضرت حوا کے ہاں ہر دفعہ دو بچے پیدا ہوتے تھے ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔
فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُمَا صَٰلِحًۭا جَعَلَا لَهُۥ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَىٰهُمَا ۚ فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔ جو وہ شرک کرتے ہیں (خدا کا رتبہ) اس سے بلند ہے
Explained together with ayah 189
Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.