89: عام طور سے مفسرین نے اس آیت کے بارے میں یہ کہا ہے کہ اس میں بلعام بن باعور کی طرف اشار ہے۔ فلسطین کے علاقے مو آب میں یہ ایک عابد و زاہد شخص تھا، اور اس کے بارے میں یہ بات مشہور تھا کہ اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اس وقت اس علاقے پر بت پرست قوموں کا قبضہ تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل کا لشکر لے کر اس علاقے پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فوجیں مو آب کے دروازے تک پہنچ گئیں تو وہاں کے بادشاہ نے بلعام سے کہا کہ وہ ان کے خلاف بد دعا کرے تاکہ وہ ہلاک ہوجائیں، بلعام نے شروع میں انکار کیا، مگر بادشاہ نے اسے رشوت دی تو وہ بد دعا پر راضی ہوگیا۔ مگر جب دعا کرنی شروع کی تو الفاظ بد دعا کے بجائے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حق میں دعا کے نکلے۔ بعد میں بلعام نے بادشاہ کے لوگوں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اپنی عورتوں کو بنی اسرائیل کے خیموں میں بھیج دیں، تاکہ وہ بدکاری میں مبتلا ہوجائیں، بدکاری کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے قہر کا سبب بنتی ہے۔ اس لئے بنی اسرائیل اپنی بدکاری کی وجہ سے اللہ کی مدد سے محروم ہوجائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ بنی اسرائیل اس فتنے میں مبتلا ہوگئے جس کی وجہ سے ان میں عذاب کے طور پر طاعون کی وبا پھوٹ پڑی۔ یہ قصہ بائبل میں بھی تفصیل کے ساتھ مذکور ہے (دیکھئے، گنتی، باب 22 تا 25، اور 16:31)
قرآنِ کریم نے یہاں اس شخص کا نام نہیں لیا جس کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے اور نہ یہ بیان فرمایا ہے، کہ اس شخص نے اﷲ تعالیٰ کے احکام کو چھوڑ کر کس طرح اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی۔ اور جو قصہ اوپر بیان کیا گیا ہے، وہ بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہے۔ اس لئے یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان آیات میں وہی مراد ہے۔ تاہم قرآنِ کریم کا اصل مقصد اس شخص کی تعیین پر موقوف نہیں ہے۔ سبق یہ دینا مقصود ہے کہ جس شخص کو اﷲ تعالیٰ نے علم اور عبادت کے شرف سے نوازا ہو، اس کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ احتیاط اور تقویٰ سے کام لینا چاہئے۔ اگر ایسا شخص اﷲ تعالیٰ کی آیات کی خلاف ورزی کر کے ناجائز خواہشات کے پیچھے چل پڑے، تو اس کا انجام دُنیا اور آخرت دونوں میں بُرا ہوتا ہے۔