خلف کون ہے ؟- قول باری ہے فخلف من بعد ھم خلف۔ پھر اگلی نسلوں کے بعد ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے) ایک قول کے مطابق لفظ خلف میں لام کلمہ ساکن ہوتا ہے۔ اس صورت میں اس کا اکثر استعمال مذمت کے معنوں میں ہوتا ہے۔ بعید کا مصرعہ ہے۔- وبقیت فی خلف کجلدالاجرب - میں ایسے ناخلف لوگوں میں رہ گیا جو خارشی اونٹ کی کھال کی طرح تھے۔ بعض دفعہ یہ لفظ لام کلمہ کے سکون کے ساتھ مدح کے لئے بھی آتا ہے۔ حضرت حسان (رض) کا شعر ہے۔ لنا القدم العلیا الیک وخلفنا لاولنا فی طاعۃ اللہ تابع۔۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے شاعر کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آنے میں ہمیں اولیت حاصل ہے اور اللہ کی فرمانبرداری کے سلسلے میں ہمارے جانشین اس شخص کے پیچھے ہیں جو ہم میں سب سے اول ہے۔ قول باری ہے یاخذون عرض ھذا الادنیٰ ۔ اس دنیائے دنی کے فائدے سمیٹتے ہیں) ایک قول کے مطابق عرض اس چیز کا نام ہے جس کی بقا بہت کم عرصے کے لئے ہو۔ کہا جاتا ہے عرض ھذا الامرعرضاً (یہ معاملہ عارضی ثابت ہوا ہے) عارض کا لفظ لازم کی ضد ہے۔ قول باری ہے ھذا عارض ممطرنا۔ یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا) عارض سے مراد بادل ہے اس لئے کہ وہ تھوڑے عرصے کے لئے رہتا ہے۔ قول باری ہے عرض ھذا الادنیٰ کے متعلق ایک قول ہے کہ اس سے مراد فیصلوں میں رشوت خوری ہے۔ قول باری ہے وان یاتھم عرض مثلہ یاخذوہ۔ اور اگر وہی متاع دنیا پھر سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اسے لے لیتے ہیں) مجاہد قتادہ اور سدی کا قول ہے کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے گناہوں پر اصرار کرتے ہیں حسن کا قول ہے کہ اس کے معنی ہیں کوئی چیز انہیں سیر نہیں کرتی۔