Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 151–160 of 206

151

قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِأَخِى وَأَدْخِلْنَا فِى رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ

تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

Explained together with ayah 150

Al-A'raaf 7:151Listen in Qur'an →
152

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌۭ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُفْتَرِينَ

(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

Explained together with ayah 150

Al-A'raaf 7:152Listen in Qur'an →
153

وَٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِهَا وَءَامَنُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور جنہوں نے برے کام کیے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دے گا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے

Explained together with ayah 150

Al-A'raaf 7:153Listen in Qur'an →
154

وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى ٱلْغَضَبُ أَخَذَ ٱلْأَلْوَاحَ ۖ وَفِى نُسْخَتِهَا هُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات) کی تختیاں اٹھالیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ ہدایت اور رحمت تھی

Explained together with ayah 150

Al-A'raaf 7:154Listen in Qur'an →
155

وَٱخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُۥ سَبْعِينَ رَجُلًۭا لِّمِيقَٰتِنَا ۖ فَلَمَّآ أَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّٰىَ ۖ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَّآ ۖ إِنْ هِىَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَآءُ وَتَهْدِى مَن تَشَآءُ ۖ أَنتَ وَلِيُّنَا فَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَا ۖ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْغَٰفِرِينَ

اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کرکے کوہ طور پر حاضر) ٹل کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کر دیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کردے گا۔ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے

71: ستر آدمیوں کو کوہ طور پر لے جانے کی کیا وجہ تھی؟ اس کے بارے میں مفسرین نے مختلف رائیں ظاہر کی ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ بچھڑے کی عبادت کا جو عظیم جرم بنی اسرائیل سے سرزد ہوتا تھا، اس پر توبہ کرانے کے لئے انہیں کوہ طور پر بلایا گیا تھا۔ لیکن اگر یہ بات تھی تو ان پر زلزلہ مسلط کرنے کی کوئی معقول توجیہ واضح نہیں ہوتی، اور جو توجیہات بیان کی گئی ہیں، تکلف سے خالی نہیں ہیں۔ لہٰذا زیادہ صحیح بات وہ معلوم ہوتی ہے جو بعض روایات میں آئی ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات لے کر آئے اور بنی اسرائیل کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہمیں اس بات کا یقین کیسے آئے کہ یہ کتاب اﷲ تعالیٰ ہی نے نازل کی ہے۔ اس پر اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ وہ قوم کے ستر نمائندے منتخب کر کے انہیں کوہ طور پر لے آئیں۔ اور بعض روایات میں ہے کہ وہاں ان کو اﷲ تعالیٰ کا کلام سنا دیا گیا۔ لیکن اب انہوں نے اپنے مطالبے کو بڑھا کر یہ کہا کہ ہمیں تو اس وقت تک یقین نہیں آئے گا جب تک ہم اﷲ تعالیٰ کو کھلی آنکھوں نہ دیکھ لیں۔ اس معاندانہ مطالبے کی وجہ سے ان پر بجلی کا کڑکا ہوا جس نے زلزلے کی کیفیت پیدا کردی، اور وہ سب بے ہوش ہوگئے۔ و اقعے کی یہ توجیہ خود قرآنِ کریم کی تصریحات سے مطابقت رکھتی ہے۔ سورۂ بقرہ (55:2و 56) اور سورۂ نسا (153:4) میں بنی اسرائیل کا یہ مطالبہ بیان فرمایا گیا ہے کہ ہمیں کھلی آنکھوں اﷲ تعالیٰ کا دیدار کراؤ اور یہ کہ ہم اس وقت تک تورات کو نہیں مانیں گے جب تک اﷲ تعالیٰ کو خود نہ دیکھ لیں۔ اور یہ بات بھی ان دونوں آیتوں میں مذکور ہے کہ ان کے اس مطالبے پر انہیں ایک کڑکے نے آ پکڑا تھا۔ غالبا اسی کڑکے کے نتیجے میں وہ زلزلہ آیا جس کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے، یہاں یہ واضح رہے کہ سورۃ نسا (153:4) میں کڑکے کے ذکر کے بعد جو یہ فرمایا گیا کہ ہے کہ ’’ثم اتخذوا العجل‘‘، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کڑکا بچھڑے کے واقعے سے پہلے پیش آ چکا تھا، کیونکہ وہاں اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی متعدد بد اعمالیا بیان فرمائی ہیں، ان میں زمانی ترتیب ہونا ضروری نہیں ہے۔ اور ’’ثم‘‘ کا لفظ عربی زبان میں ’’اس سے بھی بڑھ کر‘‘ کے معنیٰ میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے۔

72: جیسا کہ سورۃ بقرہ (56:2) میں گذر چکا ہے اس زلزلے کے نتیجے میں ان ستر آدمیوں پر موت جیسی حالت طاری ہوگئی تھی کم از کم دیکھنے والا یہی سمجھتا تھا کہ یہ سب مر چکے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی خدا داد بصیرت سے سمجھ گئے کہ بظاہر اﷲ تعالیٰ کو ان کا اس وقت ہلاک کرنا منظور نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے اﷲ تعالیٰ سے عرض کیا کہ آپ کی قدرت میں تو یہ بھی تھا کہ انہیں، بلکہ مجھے بھی، پہلے ہی اس وقت ہلاک کردیتے جب ان کی متعدد نا فرمانیاں سامنے آئی تھیں۔ نیز یہ بھی آپ کی رحمت اور حکمت سے بعید ہے کہ چند بے وقوفوں کی حرکت پر ہم سب کو ہلاک کر ڈالیں۔ اور اس وقت اگر یہ ستر آدمی واقعی ہمیشہ کے لئے مر گئے تو میری اور میرے مخلص ساتھیوں کی بھی ہلاکت تقریبا یقینی ہے ۔کیونکہ میری قوم کے لوگ مجھے ان ستر آدمیوں کا قاتل قرار دے کر مجھے بھی ہلاک کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان سب باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کا مقصد اس وقت ان کو ہلاک کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک امتحان ہے جس سے لوگوں کو آزمانا مقصود ہے کہ وہ دوبارہ زندگی پا کر شکر بجالاتے ہیں، یا بدستور ناشکری کر کے اﷲ تعالیٰ کا شکوہ کرنے لگتے ہیں۔

Al-A'raaf 7:155Listen in Qur'an →
156

۞ وَٱكْتُبْ لَنَا فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ إِنَّا هُدْنَآ إِلَيْكَ ۚ قَالَ عَذَابِىٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنْ أَشَآءُ ۖ وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍۢ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِنَا يُؤْمِنُونَ

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

73: مطلب یہ ہے کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے، دنیا کا عذاب میں ہر نافرمان کو نہیں دیتا ؛ بلکہ اپنی حکمت اور علم سے جس کو چاہتا ہوں اسے دیتا ہوں، آخرت میں بھی ہر گناہ پر میرا عذاب دینا ضروری نہیں ؛ بلکہ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں ان کے بہت سے گناہ میں معاف کرتا رہتا ہوں ؛ البتہ جن لوگوں کی سرکشی کفر وشرک کی صورت میں حد سے بڑھ جاتی ہے ان کو اپنی مشیت اور حکمت کے تحت عذاب دیتا ہوں، اسکے برخلاف دنیا میں میری رحمت ہر مومن اور کافر، نیک اور بد سب پر چھائی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں رزق اور صحت وعافیت کی نعمتیں ملتی رہتی ہیں اور آخرت میں بھی کفر وشرک کے علاوہ دوسرے گناہوں کو اسی رحمت سے معاف کیا جائے گا۔

74: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت کے لئے جو دعا مانگی تھی کہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کو بھلائی نصیب ہو، یہ اس کا جواب ہے اور مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو میری رحمت سے سب کو رزق وغیرہ مل رہا ہے، لیکن جن لوگوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں میری رحمت حاصل ہوگی وہ صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقوی کی صفات کے حامل ہوں اور جنہیں مال کی محبت زکوٰۃ جیسے فریضے کی ادائیگی سے نہ روکے، چنانچہ اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ کی امت کے جو لوگ ان صفات کے حامل ہوں گے ان کو ضرور میری یہ رحمت پہنچے گی کہ دنیا اور آخرت دونوں میں انہیں بھلائی نصیب ہوگی۔

Al-A'raaf 7:156Listen in Qur'an →
157

ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَٱلْأَغْلَٰلَ ٱلَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُوا۟ ٱلنُّورَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں

75:: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کو ان کی وفات کے بعد بھی صدیوں تک باقی رہنا تھا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دُنیا اور آخرت کی بھلائی کی جو دعا کی تھی، وہ بنی اسرائیل کی اگلی نسلوں کے لئے بھی تھی، اس لئے اﷲ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کرتے وقت یہ بھی واضح فرمادیا کہ بنی اسرائیل کے جو لوگ نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود ہوں گے، ان کو دُنیا اور آخرت کی بھلائی اسی صورت میں مل سکے گی جب وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لاکر ان کی پیروی کریں۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر فرماتے ہوئے اﷲ تعالیٰ نے آپ کی کچھ صفات بھی بیان فرمائیں، جن میں سے پہلی صفت یہ ہے کہ آپ نبی ہونے کے ساتھ رسول بھی ہوں گے۔ عام طور سے رسول کا لفظ ایسے پیغمبر کے لئے بولا جاتا ہے جو نئی شریعت لے کر آئے، لہٰذا اس لفظ سے اشارہ کردیا گیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نئی شریعت لے کر آئیں گے، جس میں کچھ فروعی احکام تورات کے احکام سے مختلف بھی ہوسکتے ہیں، اور بنی اسرائیل کو اس وقت یہ نہ کہنا چاہئے کہ یہ توہماری شریعت سے مختلف احکام بیان کررہے ہیں، اس لئے ہم ان پر کیسے ایمان لائیں ؟ چنانچہ پہلے سے بتایا جارہا ہے کہ ہر دور کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں، اور جو رسول نئی شریعت لے کر آتے ہیں، ان کے فروعی احکام پہلے احکام سے مختلف ہوسکتے ہیں۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ آپ اُمّی ہوں گے، یعنی لکھتے پڑھتے نہیں ہوں گے۔ عام طور سے بنی اسرائیل اُمّی نہیں تھے، بلکہ نسلی عربوں کو اُمّی کہا جاتا تھا، (۲: ۷۸۔ ۳: ۲۰۔ ۶۲: ۲) اور خود یہودی یہ لفظ عرب نسل کے لوگوں کے لئے کسی قدر حقارت کے پیرائے میں استعمال کرتے تھے، (دیکھئے سورۂ آل عمران ۳: ۷۵) اس لئے اس لفظ سے یہ اشارہ بھی دے دیا گیا کہ وہ بنی اسرائیل کے بجائے عربوں کی نسل سے مبعوث ہوں گے۔ آپ کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ آپ کا ذکر مبارک تورات اور انجیل دونوں میں موجود ہوگا، اس سے ان بشارتوں کی طرف اشارہ ہے جو آپ کی تشریف آوری سے متعلق ان مقدس کتابوں میں دی گئی تھیں۔ آج بھی بہت سی تحریفات کے باوجود بائبل میں متعدد بشارتیں موجود ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمۃ اﷲ علیہ کی کتاب ’’اظہار الحق‘‘ کا اردو ترجمہ ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ مرتبہ راقم الحروف۔

76: اس سے اُن سخت اَحکام کی طرف اشارہ ہے جو یہودیوں پر عائد کئے گئے تھے۔ ان میں سے کچھ اَحکام تو خود تورات میں تھے، اور اﷲ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے اُس وقت یہودیوں کو ان کا پابند کیا تھا۔ بعض سخت احکام ان کی نافرمانیوں کی سزا کے طور پر نافذ کئے گئے تھے جس کا ذکر سور نسا (160:4) میں گذرا ہے۔ اور بہت سے احکام یہودی علماء نے اپنی طرف سے گھڑ لئے تھے۔ شاید ’’بوجھ‘‘ سے پہلی اور دوسری قسم کی طرف اور ’’گلے کے طوق‘‘ سے تیسری قسم کے احکام کی طرف اشارہ ہو۔ بتایا جا رہا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ان احکام کو منسوخ کر کے ایک آسان اور معتد شریعت لائیں گے۔

Al-A'raaf 7:157Listen in Qur'an →
158

قُلْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِىِّ ٱلْأُمِّىِّ ٱلَّذِى يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

(اے محمدﷺ) کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول) ہوں۔ (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پیغمبر اُمی پر جو خدا پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ

77: چونکہ پیچھے یہ ذکر آیا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کرتے وقت ان کو یہ بتادیا گیا تھا کہ نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا ان کی آئندہ نسلوں کے لئے ضروری ہوگا، اس لئے اس موقع کی مناسبت سے جملۂ معترضہ کے طور پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت عطا فرمائی کہ وہ بنی اسرائیل سمیت تمام انسانوں کو اپنی نبوت پر ایمان لانے اور اپنی اتباع کی دعوت دیں۔

Al-A'raaf 7:158Listen in Qur'an →
159

وَمِن قَوْمِ مُوسَىٰٓ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ

اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں

78: یہودیوں کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی جو دعوت دی گئی، اور اس سے پہلے ان کی بہت سی بد عنوانیاں بیان ہوئیں، اس سے یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ تمام بنی اسرائیل بد عنوانیوں کے مرتکب ہیں، اس لئے جملہ معترضۂ کے آخر میں اﷲ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرمادی کے سارے بنی اسرائیل ایک جیسے نہیں ہیں، بلکہ اُن میں حق کو ماننے والے، اس پر عمل کرنے والے اور اُس کی طرف لوگوں کو ہدایت دینے والے بھی موجود ہیں، اس میں وہ بنی اسرائیل بھی داخل ہیں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے دین حق پر قائم رہے، اور وہ بھی جو آپ پر ایمان لائے، مثلا حضرت عبداللہ بن سلامؓ وغیرہ۔ اس وضاحت کے بعد آگے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے بنی اسرائیل کا جو واقعہ دور سے چلا آرہا ہے، اس کو دوبارہ شروع کیا جارہا ہے۔

Al-A'raaf 7:159Listen in Qur'an →
160

وَقَطَّعْنَٰهُمُ ٱثْنَتَىْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًۭا ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ إِذِ ٱسْتَسْقَىٰهُ قَوْمُهُۥٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنۢبَجَسَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًۭا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍۢ مَّشْرَبَهُمْ ۚ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْغَمَٰمَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ ۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کرکے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور (ان سے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان کیا اپنا ہی کیا

79: آیت نمبر ١٦٠ تا ١٦٢ میں جن واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ سورۂ بقرہ (٢۔ ٥٧ تا ٦١) میں گزرچکے ہیں، تشریح کیلئے ان آیتوں کے حواشی ملاحظہ فرمائیں۔

Al-A'raaf 7:160Listen in Qur'an →

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.