71: ستر آدمیوں کو کوہ طور پر لے جانے کی کیا وجہ تھی؟ اس کے بارے میں مفسرین نے مختلف رائیں ظاہر کی ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ بچھڑے کی عبادت کا جو عظیم جرم بنی اسرائیل سے سرزد ہوتا تھا، اس پر توبہ کرانے کے لئے انہیں کوہ طور پر بلایا گیا تھا۔ لیکن اگر یہ بات تھی تو ان پر زلزلہ مسلط کرنے کی کوئی معقول توجیہ واضح نہیں ہوتی، اور جو توجیہات بیان کی گئی ہیں، تکلف سے خالی نہیں ہیں۔ لہٰذا زیادہ صحیح بات وہ معلوم ہوتی ہے جو بعض روایات میں آئی ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات لے کر آئے اور بنی اسرائیل کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہمیں اس بات کا یقین کیسے آئے کہ یہ کتاب اﷲ تعالیٰ ہی نے نازل کی ہے۔ اس پر اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ وہ قوم کے ستر نمائندے منتخب کر کے انہیں کوہ طور پر لے آئیں۔ اور بعض روایات میں ہے کہ وہاں ان کو اﷲ تعالیٰ کا کلام سنا دیا گیا۔ لیکن اب انہوں نے اپنے مطالبے کو بڑھا کر یہ کہا کہ ہمیں تو اس وقت تک یقین نہیں آئے گا جب تک ہم اﷲ تعالیٰ کو کھلی آنکھوں نہ دیکھ لیں۔ اس معاندانہ مطالبے کی وجہ سے ان پر بجلی کا کڑکا ہوا جس نے زلزلے کی کیفیت پیدا کردی، اور وہ سب بے ہوش ہوگئے۔ و اقعے کی یہ توجیہ خود قرآنِ کریم کی تصریحات سے مطابقت رکھتی ہے۔ سورۂ بقرہ (55:2و 56) اور سورۂ نسا (153:4) میں بنی اسرائیل کا یہ مطالبہ بیان فرمایا گیا ہے کہ ہمیں کھلی آنکھوں اﷲ تعالیٰ کا دیدار کراؤ اور یہ کہ ہم اس وقت تک تورات کو نہیں مانیں گے جب تک اﷲ تعالیٰ کو خود نہ دیکھ لیں۔ اور یہ بات بھی ان دونوں آیتوں میں مذکور ہے کہ ان کے اس مطالبے پر انہیں ایک کڑکے نے آ پکڑا تھا۔ غالبا اسی کڑکے کے نتیجے میں وہ زلزلہ آیا جس کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے، یہاں یہ واضح رہے کہ سورۃ نسا (153:4) میں کڑکے کے ذکر کے بعد جو یہ فرمایا گیا کہ ہے کہ ’’ثم اتخذوا العجل‘‘، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کڑکا بچھڑے کے واقعے سے پہلے پیش آ چکا تھا، کیونکہ وہاں اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی متعدد بد اعمالیا بیان فرمائی ہیں، ان میں زمانی ترتیب ہونا ضروری نہیں ہے۔ اور ’’ثم‘‘ کا لفظ عربی زبان میں ’’اس سے بھی بڑھ کر‘‘ کے معنیٰ میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے۔
72: جیسا کہ سورۃ بقرہ (56:2) میں گذر چکا ہے اس زلزلے کے نتیجے میں ان ستر آدمیوں پر موت جیسی حالت طاری ہوگئی تھی کم از کم دیکھنے والا یہی سمجھتا تھا کہ یہ سب مر چکے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی خدا داد بصیرت سے سمجھ گئے کہ بظاہر اﷲ تعالیٰ کو ان کا اس وقت ہلاک کرنا منظور نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے اﷲ تعالیٰ سے عرض کیا کہ آپ کی قدرت میں تو یہ بھی تھا کہ انہیں، بلکہ مجھے بھی، پہلے ہی اس وقت ہلاک کردیتے جب ان کی متعدد نا فرمانیاں سامنے آئی تھیں۔ نیز یہ بھی آپ کی رحمت اور حکمت سے بعید ہے کہ چند بے وقوفوں کی حرکت پر ہم سب کو ہلاک کر ڈالیں۔ اور اس وقت اگر یہ ستر آدمی واقعی ہمیشہ کے لئے مر گئے تو میری اور میرے مخلص ساتھیوں کی بھی ہلاکت تقریبا یقینی ہے ۔کیونکہ میری قوم کے لوگ مجھے ان ستر آدمیوں کا قاتل قرار دے کر مجھے بھی ہلاک کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان سب باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کا مقصد اس وقت ان کو ہلاک کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک امتحان ہے جس سے لوگوں کو آزمانا مقصود ہے کہ وہ دوبارہ زندگی پا کر شکر بجالاتے ہیں، یا بدستور ناشکری کر کے اﷲ تعالیٰ کا شکوہ کرنے لگتے ہیں۔