Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 11–20 of 206

11

وَلَقَدْ خَلَقْنَٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِءَادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ

اور ہم ہی نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا

Explained together with ayah 3

Al-A'raaf 7:11Listen in Qur'an →
12

قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا۠ خَيْرٌۭ مِّنْهُ خَلَقْتَنِى مِن نَّارٍۢ وَخَلَقْتَهُۥ مِن طِينٍۢ

(خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے

Explained together with ayah 3

Al-A'raaf 7:12Listen in Qur'an →
13

قَالَ فَٱهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَٱخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّٰغِرِينَ

فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا۔ تو ذلیل ہے

Explained together with ayah 3

Al-A'raaf 7:13Listen in Qur'an →
14

قَالَ أَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ

اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے

Explained together with ayah 3

Al-A'raaf 7:14Listen in Qur'an →
15

قَالَ إِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ

فرمایا (اچھا) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے

Explained together with ayah 3

Al-A'raaf 7:15Listen in Qur'an →
16

قَالَ فَبِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَٰطَكَ ٱلْمُسْتَقِيمَ

(پھر) شیطان نے کہا مجھے تو تُو نے ملعون کیا ہی ہے میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان (کو گمراہ کرنے) کے لیے بیٹھوں گا

Explained together with ayah 3

Al-A'raaf 7:16Listen in Qur'an →
17

ثُمَّ لَءَاتِيَنَّهُم مِّنۢ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَٰنِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَٰكِرِينَ

پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے دائیں سے اور بائیں سے (غرض ہر طرف سے) آؤں گا (اور ان کی راہ ماروں گا) اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا

ابلیس کے وار انسان پر - قول باری ہے ثم لا تینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمائلھم پھر ان کے آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا) حضرت ابن عباس، ابراہیم، قتادہ، الحکم اور سدی سے منقول ہے کہ من بین ایدیھم ومن خلفھم) سے مراد ہے ” ان کی دنیا اور آخرت کی طرف سے، ان کی نیکیوں اور بدیوں کی جہت ہے “ مجاہد کا قول ہے۔” ان کی نظروں کے سامنے ہو کر اور ان کی نظروں سے چھپ کر “ ایک قول ہے ” ہر اس جہت سے جس میں انہیں اپنے پھندے میں پھانسنا ممکن ہوگا “۔ شیطان نے انسانوں کے خلاف اپنی فتنہ سا مانیوں کے لئے ایک جہت کا ذکر نہیں کیا یعنی ” ومن فوقھم “ (اور ان کے اوپر سے) نہیں کہا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ انسانوں پر اللہ کی رحمت اوپر سے نازل ہوتی ہے اس لئے اس جہت کو شیطان سے آزاد رکھا گیا۔ اسی طرح ومن تحت ارجلھم (اور ان کے قدموں کے نیچے سے) نہیں کہا اس لئے اگر اس کے حقیقی معنی مراد لئے جائیں تو اس جہت سے کوئی کارروائی ناممکن اور ممتنع ہوتی ہے۔ قول باری ہے ولاتقرباھذہ الشجرۃ فتکونا من الظالمین۔ مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہو جائو گے) اللہ تعالیٰ نے درخت سے دونوں کے قرب کو مقرون کردیا۔ البتہ یہ بات معلوم ہے کہ اس میں یاد کی شرط لگائی تھی اور جان بوجھ کر اس کا علم رکھتے ہوئے کھانے کی شرط عائد کی تھی۔ اس لئے کہ نسیان اور خطا کی بنا پر کسی کام کے کرلینے میں جس پر کوئی دلیل قاطمع موجود نہ ہو، مواخذہ نہیں ہوتا۔ ان دونوں کا درخت سے کھا لینا معصیت کبیرہ نہیں تھی بلکہ دو وجوہ سے معصیت صغیرہ تھی۔ ایک تو یہ کہ دونوں اس معصیت کی وعید کو بھول گئے تھے اور یہ خیال کر بیٹھے تھے کہ یہ نہی استجباب پر مبنی ہے ایجاب پر مبنی نہیں ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فنسی ولم نجدلہ عزماً ۔ سو ان سے بھول ہوگئی اور ہم نے ان میں پختگی نہیں پائی) دوسری وجہ یہ ہے کہ انہیں ایک متعین درخت کا اشارہ دیا گیا تھا اور انہوں نے اس سے عین درخت مراد سمجھی تھی جبکہ جنس درخت مرا د تھی جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونا اور ریشم ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا تھا ھذان مھلکا امتی۔ یہ دونوں چیزی میری امت کے لئے مہلک ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنس سونا اور جنس ریشم مراد لی تھی، صرف وہی سونا اور ریشم مراد نہیں تھے جنہیں آپ نے ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔

Al-A'raaf 7:17Listen in Qur'an →
18

قَالَ ٱخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًۭا مَّدْحُورًۭا ۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ

(خدا نے) فرمایا، نکل جا۔ یہاں سے پاجی۔ مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں (ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر) تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا

Explained together with ayah 17

Al-A'raaf 7:18Listen in Qur'an →
19

وَيَٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور ہم نے آدم (سے کہا کہ) تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) نوش جان کرو مگر اس درخت کے پاس نہ جاؤ ورنہ گنہگار ہو جاؤ گے

Explained together with ayah 17

Al-A'raaf 7:19Listen in Qur'an →
20

فَوَسْوَسَ لَهُمَا ٱلشَّيْطَٰنُ لِيُبْدِىَ لَهُمَا مَا وُۥرِىَ عَنْهُمَا مِن سَوْءَٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَىٰكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةِ إِلَّآ أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ ٱلْخَٰلِدِينَ

تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کی ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو

Explained together with ayah 17

Al-A'raaf 7:20Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.