52:: یہاں سے آیت نمبر : ١٦٢ تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعے کے کچھ اہم حصے تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، اس سورت میں فرعون کے ساتھ آپ کی گفتگو اور مقابلے اور اس کے غرق ہونے کی تفصیل، نیز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا ہونے کے واقعات آرہے ہیں، آپ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی چوتھی پشت میں آتے ہیں، سورۂ یوسف میں قرآن کریم نے بتایا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) جب مصر کے وزیر خزانہ بن گئے توانہوں نے اپنے والدین اور بھائیوں کو فلسطین سے مصر بلالیا تھا، اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ساری اولاد جو بنو اسرائیل کہلاتی ہے پھر وہیں آباد ہوگئی تھی، اور مصر کے بادشاہ نے ان کو شہری آبادی سے الگ ایک علاقہ دے دیا تھا، مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون کہا جاتا تھا، حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد رفتہ رفتہ مصر کے بادشاہوں نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام سمجھنا شروع کردیا اور دوسری طرف تکبر میں آکر انہی میں کا ایک فرعون (جس کا نام جدید تحقیق کے مطابق منفتاح تھا) خدائی کا دعوے دار بن بیٹھا، ان حالات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر بناکر اس کے پاس بھیجا گیا، ان کے پیدائش، مدین کی طرف ہجرت، اور پھر نبوت عطا ہونے کے واقعات توانشاء اللہ سورۃ طہ (سورہ نمبر : ٢٠) اور سورۃ قصص (سورہ نمبر : ٢٨) میں آئیں گے، اس کے علاوہ مزید ٣٥ سورتوں میں آپ کے واقعات کے مختلف حصے بیان فرمائے ہیں ؛ لیکن فرعون کے ساتھ ان کے جو واقعات پیش آئے ان کا تدکرہ یہاں ہورہا ہے۔