وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا۟ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱلْكَٰفِرِينَ كَانُوا۟ لَكُمْ عَدُوًّۭا مُّبِينًۭا
اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں
سفر میں نماز کا حکم - ارشاد باری ہے (واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان تقصدوا من الصلوٰۃ ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا۔ اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر تمام میں اختصار کر دو ( خصوصاً ) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے) اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکور قصر کو دو باتوں کی بنا پر مباح کردیا ہے۔ ایک تو سفر یعنی زمین میں قدم مارنے ( سفر کرنے ) کی بنا پر اور دوسری خوف کی بنا پر۔ آیت میں مذکور قصر کے مفہوم کے متعلق سلف میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضر کی نماز چار رکعتیں اور سفر کی نماز دو رکعتیں اور خوف کی نماز ایک رکعت تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے فرض کی ہے۔ - یزید الفقیر نے حضرت جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ صلوۃ الخوف ایک ایک رکعت ہے مجاہد سے مروی ہے کہ چار کی تعداد قصر کر کے دو کردی گئی ہے۔ ابن جریج نے طائوس سے، اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نماز میں قصر خوف اور قتال کی صورت میں ہوتی ہے نماز ہر حالت میں پڑھے گا خواہ سوار ہو پیدل۔ رہ گئی یہ بات کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور لوگوں یعنی صحابہ کرام نے سفر میں جو دو رکعتیں پڑھی ہیں تو وہ قصر نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک اور روایت کے مطابق جو اس روایت کے علاوہ ہے جس کا ذکر ہم نے قصر کے سلسلے میں کیا ہے، قصر صرف حدود یعنی صفت صلوۃ میں ہے نیز یہ کہ تم تکبیر کہتے ہوئے اپنا سر ذرا جھکا لو گے اور اشارہ سے کام لو گے۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کی رو سے سب سے اولیٰ اور مناسب تاویل وہ ہے جو حضرت ابن عباس (رض) اور طائوس سے مروی ہے کہ قصر نماز کی صفت یعنی ادائیگی کے طریقے کے اندر ہوتی ہے یعنی رکوع اور سجود ترک کر کے اشارے سے کام لیا جاتا ہے اور قیام ترک کر کے سواری پر سوار ہو کر نماز ادا کی جاتی ہے۔ نماز ک اندر پائوں سے چلنے کو بھی قصر کا نام دینا درست ہے۔ کیونکہ جب خوف کی حالت نہ ہو اس صورت میں نماز کے اندر پائوں سے چلنے کی بنا پر نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) عنہ اور حضرت جابر (رض) سے صلوٰۃ الخوف کے متعلق ایک رکعت کی جو روایت ہے وہ اس پر محمول ہے کہ مقتدی امام کے ساتھ صرف ایک رکعت پڑھے گا کیونکہ امام لوگوں کے دو گروہ بنائے گا جو گروہ امام کے ساتھ ہوگا وہ ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلا جائے گا پھر دوسرا گروہ آ کر امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لے گا۔ اور امام سلام پھیر دے گا اس طرح ہر گروہ امام کے ساتھ ایک ایک رکعت پڑھے گا اور پھر ایک رکعت خود ادا کرے گا۔ - اس طرح حضرت ابن عباس (رض) کی یہ روایت کہ نماز کی صفت میں قصر ہوتی ہے اس روایت کی مخالف نہیں ہوگی کہ صلوٰۃ الخوف ایک رکعت ہوتی ہے کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تواتر کے ساتھ روایتیں ہیں جو صلوۃ الخوف میں آپ کے طریق کار کو بیان کرتی ہے اگرچہ ان روایات میں بیان کردہ صورتوں میں بڑا اختلاف ہے۔ تا ہم یہ تمام رواتیں دو رکعتوں کی موجب ضرور ہیں۔ ان میں سے کوئی روایت ایسی نہیں ہے جس میں یہ بیان ہو کہ آپ نے صلوۃ الخوف ایک رکعت پڑھی ہے۔ البتہ ان روایات میں یہ بات ضرور بیان کی گئی ہے کہ ہر گروہ کے لیے امام کے ساتھ ایک رکعت ہے اور صرف اس ایک رکعت پر انحصار کیے بغیر دوسری رکعت کو خود ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر صلوٰۃ الخوف صرف ایک رکعت ہوتی تو اس کے متعلق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والوں کی نماز کی کیفیتوں میں اختلاف نہ ہوتا۔ - جب حضرت ابن عباس (رض) عنہ اور دیگر صحابہ نے یہ نقل کیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعیتیں ادا کی ہیں تو اس سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ خائف کی نماز کا فرض بھی غیر خائف کی نماز کے فرض کی طرح ہے نیز یہ کہ لوگوں کے لیے ایک ایک رکعت کی روایت اس معنی پر محمول …