Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 91–100 of 176

91

سَتَجِدُونَ ءَاخَرِينَ يُرِيدُونَ أَن يَأْمَنُوكُمْ وَيَأْمَنُوا۟ قَوْمَهُمْ كُلَّ مَا رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱلْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا۟ فِيهَا ۚ فَإِن لَّمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُوٓا۟ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَمَ وَيَكُفُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنًۭا مُّبِينًۭا

تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گر پڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے

قول باری ہے (ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنواقومھم، ایک اور قسم کے لوگ تمہیں ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی۔- مجاہد کا قول ہے یہ آیت مکہ کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جب یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتے تو مسلمان ہوجاتے اور پھر قریش کے پاس واپس جاکربتوں کے سامنے جھک جاتے ، اس سے ان کا مقصد یہ ہوتا کہ یہاں بھی امن میں رہیں اور وہاں بھی ، مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا اگر یہ اس رویے سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں اور اپنی اصلاح نہ کرلیں۔- اسباط نے سدی سے ذکر کیا کہ یہ آیت نعیم بن مسعود اشجعی کے بارے میں نازل ہوئی وہ مسلمانوں اور مشرکین دونوں کے اندر امن میں رہتا اورادھر کی باتیں ادھر اورادھر کی باتیں ادھر پہنچاتا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔- ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے یہ لوگ جب حضور کے پاس آتے تو ایمان کا اظہار کرتے اور جب اپنی قوم میں واپس جاتے تو کفر کا اظہار کرتے کیونکہ قول باری ، مگر جب کبھی فتنہ کا موقع پائیں گے اس میں کود پڑیں گے ) فتنہ سے یہاں مراد شرک ہے اور قول باری (ارکسوافیھا) اس پر دلالت کرتا ہے یہ لوگ اس سے پہلے اسلام کا اظہار کرتے تھے۔- اللہ نے اہل ایمان کو ان لوگوں سے بھی ہاتھ روک لینے کا حکم دیاجب یہ مسلمانوں سے الگ تھلگ رہ کر ان کی طرف صلح وآشنی کا ہاتھ بڑھائیں جس طرح اللہ نے ہمیں ان لوگوں پر بھی ہاتھ اٹھانے سے روک دیاجوایسی قوم سے جاملیں جن کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہوا اور ان لوگوں سے بھی جو لڑائی سے دل برداشتہ ہوکر ہمارے پاس آجائیں۔- جس طرح اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں فرمایا، (لاینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔- نیز ارشاد ہوا (وقاتلوافی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم۔ اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں) اللہ نے صرف ان لوگوں کے خلاف جنگ کرنے کے حکم کو مخصوص کردیاجو ہمارے خلاف جنگ کرتے ہیں ان لوگوں کے خلاف نہیں جو ہمارے خلاف جنگ نہیں کرتے۔- پھر اس حکم کو اپنے اس قول (اقتلوالمشرکین حیث وجدتموھم، مشرکین کو جہاں کہیں بھی پاؤ قتل کرو) سے منسوخ کردیا، جیسا کہ ہم نے حضرت ابن عباس سے اس روایت کا پہلے ذکر کیا ہے۔- بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ آیات منسوخ نہیں ہوئیں اور مسلمانوں کے لیے یہ جائز ہے کہ جو کفار ان کے خلاف جنگ نہ کریں وہ بھی ان کے خلاف ہتھیارنہ اٹھائیں کیونکہ جو لوگ ہم سے الگ تھلگ رہ کر ہمارے خلاف جنگ کرنے سے باز رہیں ان کے خلاف ان آیات میں جنگ کرنے کی نہی کے حکم کے منسوخ ہونے کی بات ثابت نہیں ہوتی۔- جن لوگوں سے جہاد کی فرضیت کے حکم کے باقی نہ رہنے کی روایت منقول ہے ۔ ان میں ابن شبرمہ اور سفیان ثوری شامل ہیں، اس بحث پر ہم اس کے مقام پر پہنچ کر انشاء للہ۔ روشنی ڈالیں، یہاں تو صرف اتنی بات ہے کہ ان آیات میں ان کافروں کے خلاف جنگ کرنی کی ممانعت ہے جو ہمارے خلاف جنگ کرنے سے باز رہیں۔- ہمیں فقہاء میں سے کسی کے متعلق، یہ معلوم نہیں کہ وہ ان مشرکین کے خلاف جنگ کی ممانعت کے قائل ہوں جو ہمارے خلاف جنگ کرنے سے کنارہ کش ہوں۔ اختلاف صرف ان کے خلاف ترک قتال کے جواز کے اندر ہے ممانعت کے اندر نہیں۔- اس لیے سب کا اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف قتال کی ممانعت منسوخ ہوچکی ہے جن کی خصوصیات کا ہم نے اوپرذکر کیا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔

92

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَـًۭٔا ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَـًۭٔا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ مُّؤْمِنَةٍۢ وَدِيَةٌۭ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَصَّدَّقُوا۟ ۚ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّۢ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ مُّؤْمِنَةٍۢ ۖ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌۭ فَدِيَةٌۭ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ مُّؤْمِنَةٍۢ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کردے اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے ہاں اگر وہ معاف کردیں (تو ان کو اختیار ہے) اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھے یہ (کفارہ) خدا کی طرف سے (قبول) توبہ (کے لئے) ہے اور خدا (سب کچھ) جانتا اور بڑی حکمت والا ہے

قتل خطا کا بیان - قول باری ہے (وماکان لمومن ان یقتل مومنا الاخطا، کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے الایہ کہ اس سے چوک ہوجائے) ۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اس مقام میں لفظ کان کے معنی میں اختلا ف ہے ، قتادہ کا قول ہے کہ فقرے کا مفہوم یہ ہے اللہ کے حکم اور اس کے امر میں یہ نہیں تھا، دوسرے حضرات کا قول ہے اس کے لیے قتل کے جواز کا سبب نہیں تھا۔- کچھ اور حضرات کا قول ہے ، ماضی میں بھی اس کے لیے یہ نہیں تھا جیسا کہ اب نہیں ہے ، اسی طرح لفظ، الا، کے معنی کے بارے میں بھی اختلاف ہے کچھ لوگوں کا قول ہے کہ استثنا ، منقطع ہے اور لکن کے معنوں میں ہے مفہوم یہ ہے لیکن ایک مومن دوسرے مومن کو کبھی خطا اور چوک کی بنا پر قتل کردیتا ہے ، اگر ایساواقعہ وہ ہوجائے تو اس کا حکم یہ ہے ، یہاں، الاکاوہی مفہوم ہے جو نابالغہ کے اس شعر میں ہے۔- وقفت فیھا اصیلا لااسائلھا، عیت جوابا ومالربع من احد،۔ میں محبوبہ کے مسکن کے کھنڈر پر دن ڈھلے جاکھڑا ہوا اور بار بار اس سے پوچھتارہا لیکن یہ کھنڈر میرے سوال کا جواب دینے سے عاجز رہا اور اس مسکن میں اب کوئی بھی نہیں تھا۔- الاالاواری لایاماابینھا، والنوی کالحوض بالمضلومۃ الجلد۔ وہاں جانوروں کو باندھنے کی رسیاں تھیں بڑی دیر تک دیکھتے رہنے کے بعد میں انہیں بمشکل پہچان سکا، اس کے علاوہ اس مسکن کے چاروں طرف چوبچہ کھدا ہوادیکھا، جو اس حوض کے مانند تھاج سے کسی سخت اور پتھریلی زمین بڑی مشکل سے کھودا گیا ہو۔- بعض دوسروں کا قول ہے یہ استثناء صحیح ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بعض حالات میں مومن کے لیے دوسرے مومن کو غلطی اور چوک کی بنا پر قتل کردینے کی گنجائش ہے مثلاایک مومن دوسرے مومن کو ایسی حالت میں پاتا ہے کہ اس پر مشرکین کی نشانیاں ارعلامتیں ہوتی ہیں یا وہ اسے مشرکین کے علاقے میں دیکھتا ہے اور اسے بھی مشرک سمجھ بیٹھتا ہے ایسی صورت میں اگر وہ اسے قتل کردیتا ہے تو یہ قتل خطا شمار ہوگا۔- جیسا کہ زہری نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت حذیفہ بن الیمان احد میں حضور کے ہمراہ کافروں سے برسرپیکار تھے مسلمانوں کو ان کے والد کے متعلق غلط فہمی ہوگئی اور انہیں دشمن کا آدمی سمجھ لیا گیا ۔- مسلمانوں نے ان پر تلواروں سے حملہ کردیا حضرت حذیفہ چلاتے رہ گئے کہ یہ میرے والد ہیں لیکن حملہ کرنے والے مسلمان ان کی بات سمجھ نہ سکے اور وہ ان کے ہاتھوں قتل ہوگئے حضرت حذیفہ نے اس موقعہ پر صرف اتنا ہی کہا، اللہ تم لوگوں کو معاف کردے وہ ارحم الراحمین ہے۔ جب حضور کی اس بات کی خبر ہوئی تو آپ کی نظروں میں حضرت حذیفہ کی نیکی کی اور زیادہ قدرومنزلت ہوگئی۔- ایک قول یہ ہے کہ (الاخطا) کے معنی ہیں ، ولاخطا، کیونکہ جنگ اور قتال کی حالت میں ، بھی مومن کا قتل مباح نہیں ہوتا، اس لیے استثناء کو اس کے حقیقی معنوں پر محمول کرنا درست نہیں ہے لیکن اس قول میں کوئی وزن نہیں ہے ، اس کے دو وجوہ ہیں ایک تو یہ عربی زبان کے محاورات میں الاک بھی، ولا، کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔- دوسری وجہ یہ ہے کہ اس قول کے قائل نے جس بات کا انکار کیا ہے یعنی قتل خطا کی اباحت کا امتناع کہ قتل خطا کی اباحت کا وجود ہی نہیں ہے تو اس کا امتناع کیسا، یہ بات قتل خطا کے حظر یعنی ممانعت میں بھی موجود ہے اس لیی کہ اگر ک - خطا یہ فعل واقع ہوگیا تو اس کی اباحت درست نہیں ہوگی کیونکہ قاتل کے نزدیک اس کا قتل خطا ہوناہی مسلم نہیں ہے جب اس کی اباحت درست نہیں ہوگی تو اس کی ممانعت اور اس سے نہی بھی درست نہیں ہوگی، اور اس طرح کا کوئی مفہوم باقی نہیں رہے گا۔- کسی نے آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ قول باری (وماکان لمومن ان یقتل مومنا) قاتل کے لیے سزا کے ایجاب کو متضمن ہے اسلیے کہ فقرے میں نہیں کا اطلاق اس کا تقاضا کرتا ہے نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر قاتل گناہ کا مستحق قرار پائے گا۔- پھر فرمایا …

93

وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًۭا مُّتَعَمِّدًۭا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدًۭا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمًۭا

اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)- اونٹوں کے سوادیت کی ادائیگی - امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ دیت اونٹوں دراہم، ودینار کی صورت میں ادا کی جاسکتی ہے درہموں کی مقدار دس ہزار اوردینار کی ایک ہزرا ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک دیت صرف اونٹوں اور سونے یا چاندی کی صورت میں ادا کی جاسکتی ہے ۔- امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے کہ سونے کی مقدار ایک ہزار دینار ہے اور چاندی کی مقدار بارہ ہزار درہم ہے امام مالک کا قول ہے کہ اہل شام اور اہل مصر سونے والے اور اہل عراق چاندی والے ہیں اور صحراؤں میں رہنے والے اونٹوں والے ہیں۔- امام مالک کا یہی بھی قول ہے کہ دیت میں اونٹوں والوں سے صرف اونٹ ، چاندی والوں سے صرف چاندی اور سونے والوں سے صرف سونا قبول کیا جائے گا، امام ابویوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ چاندی کی صورت میں دی جانے والی دیت کی مقدار دس ہزار درہم سونے کی ایک ایک ہزار دینار اور اونٹوں کی ایک سواونت ہیں جن لوگوں کے پاس گائیں ہوں گی وہ دوسوگائیں جن کے پاس بکریاں ہوں گی وہ دوہزار بکریاں اور جن کے پاس کپڑوں کے جوڑے ہوں گے وہ دوسویمنی جوڑے ادا کریں گے۔- دیت کے اندر بکریوں اور گایوں میں صرف وہی جانور قبول کیے جائیں گے جو ثنی ہوں یعنی گائے دو سال کی اور بکری ایک سال کی ، یا اس سے زائد عمر کے ہوں گے اور کپڑوں کے جوڑوں کی صورت میں صرف یمنی جوڑے قبول کیے جائیں گے جس میں ہرجوڑے کی قیمت پچاس یا اس سے زائد درہم ہوگی۔- ابن ابی لیلی سے مروی ہیے انہوں نے شعبی سے روایت کی ہے انہوں نے عبیدہ سلمانی سے انہوں نے حضرت عمر سے کہ آپ نے سونے والوں پر ہزار دینار ، چاندی والوں پر دس ہزار درہم گائے والوں پر دوسوگائیں بکری والوں پر دوہزار بکریاں کپڑے والوں پر دوسوجوڑے اور اونٹ والوں پر ایک سواونٹ مقرر کیے تھے۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ دیت درحقیقت جان کی قیمت ہے اور تمام کا اس پر اتفاق ہے کہ اس کی ایک متعین مقدار ہے جس پر نہ اضافے کی گنجائش ہے اور نہ ہی کمی کی ، نیز اسے اجتہاد رائے کے حوالے سے نہیں کیا گیا ہے، جس طرح تلف شدہ اشیاء کی قیمتوں اور مہرمثل کی مقدار کے تعین میں اجتہاد رائے سے کام لیا گیا ہے دس ہزار درہم کے اثبات پر سب کا اتفاق ہے اور اس سے زائد میں اختلاف ہے اس لیے دس ہزار سے زائد کا اثبات صرف توقیف کے ذریعے جائز ہوسکتا ہے۔- ہیشم نے یونس سے انہوں نے حسن سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے دیت میں دیے جانے والے سواونٹوں کی قیمت فی اونٹ بارہ سو کے حساب سے بارہ ہزار درہم لگائی تھی جب کہ حضرت عمر سے دیت میں دس ہزار درہم کی روایت موجود ہے یہ ممکن ہے کہ جن لوگوں نے آپ سے بارہ ہزار کی روایت نقل کی ہے انہوں نے دس درہم کو چھ مثقال کے ہم وزن لیا ہے ، جو دس درہم سات مثقال کے ہم وزن ہونے کی صورت میں دس ہزار درہم بن جاتے ہوں۔- حسن نے اس روایت میں ذکر کیا ہے حضرت عمر نے چاندی کی صورت میں دی جانے والی دیت کا مقدار کا حساب اونٹوں کی قیمت سے لگایا ہے لیکن اس بنا پر نہیں کہ دیت میں اونٹ اصل ہوتے ہیں۔- اس روایت کے علاوہ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے دیت کو چاندی کی صورت میں مقرر کیا تھا، یعنی دیت میں چاندی یادرہم ادا کرنے کا حکم دیا تھا، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہ سے دیت کے سلسلے میں دس ہزار درہم کی روایت کی ہے۔- اگر کوئی شخص اس روایت سے استدلال کرے جسے محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے کہ حضور نے فرمایا، دیت کی رقم بارہ ہزار درہم ہے ، یا اس روایت سے جسے ابن ابی نجیح نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے دیت میں بارہ ہزار درہم کا فیصلہ سنایا تھا۔- نافع بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے اور شعبی نے حارث سے اور انہوں نے حضرت علی سے اسی طرح کی روایت کی ہے ان روایات کے سلسلے میں یہ جواب دیاجائے گا، کہ عکرمہ کی حدیث کو ابن عیینہ وغیرہ عمرو بن …

94

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَتَبَيَّنُوا۟ وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَنْ أَلْقَىٰٓ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًۭا تَبْتَغُونَ عَرَضَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا فَعِندَ ٱللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌۭ ۚ كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًۭا

مومنو! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلو کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے نزدیک بہت سے غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے

قول باری ہے (یا ایھالذین آمنوا اذاضربتم فی سبیل اللہ ۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ مغانم کثیرہ۔ اے ایمان لانے والو، جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تودوست دشمن میں تمیز کرو اورجوتمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اسے فورا نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے ، اگر تم دنیوی فائدہ چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بہت سے اموال غنیمت ہیں تاآخر آیت۔- روایت کے مطابق اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ حضور کی طرف سے اک مہم پر بھیجے ہوئے فوجی دستے نے ایک شخص کو دیکھا جس کے ساتھ کچھ بھیڑ بکریاں تھیں، اس شخص نے سلام کرنے سے کے بعد کلمہ طیبہ ، لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ، پڑھا لیکن ایک مسلمان نے اس کا سرتن سے جدا کردیا، جب یہ دستہ واپس آیا تو حضور کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی آپ نے اس شخص سے پوچھا کہ تم نے اسے کیوں قتل کیا جبکہ وہ مسلمان ہوچکا تھا۔- اس نے عرض کیا کہ مقتول نے صرف اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا، اس پر آپ نے فرمایا، تم نے اس کا دل پھاڑ کر کیوں نہیں دیکھ لیا، اسکے بعد آپ نے اس کی دیت اس کے وارثوں کو بھجوادی، اور اس کی بھیڑ بکریاں بھی واپس کردیں، حضرت ابن عمر اور عبداللہ بن ابی حدرد کا قول ہے کہ یہ شخص محلم بن جثامہ تھے جنہوں نے عامر بن اضبط اشجفعی کو قتل کردیا تھا۔- ایک روایت میں ہے کہ قاتل کی چند دنوں بعد موت واقع ہوگئی تھی، جب انہیں دفن کیا گیا تو زمین نے انہیں باہر پھینک دیا تین مرتبہ اسی طرح ہوا، حضور کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا، زمین تو ان لوگوں کو بھی قبول کرلیتی ہے جو اس سے بھی بدتر ہوتے ہیں لیکن اللہ تعایل نے تمہیں یہ دیکھاناچاہا کہ اس کے نزدیک خون کی کس درجہ اہمیت اور قدروقیمت ہے پھر آپ نے حکم دیا کہ لاش پر پتھر ڈال دیے جائیں۔- محلم بن جثامہ کے متعلق یہ واقعہ مشہور ہے کہ ہم نے حضرت اسامہ بن زید سے مروی ہے حدیث کا پچھلے صفحات میں ذکر کیا تھا، جس میں ہے کہ انہوں نے ایک مہم کے دوران ایک شخص کو قتل کردیا تھا، جس نے اپنی زبان سے کلمہ طیبہ ادا کیا تھا، جب حضور کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے فرمایا تھا :- کلمہ طیبہ پڑھ لینے کے بعد تم نے اسے قتل کردیا جب انہوں نے عرض کیا کہ اسنے صرف اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ کا اقرار کیا تھا تو آپ نے فرمایا پھر تم نے اس کا دل پھاڑ کر کیوں نہیں دیکھا، قیامت کے دن اس کے پڑھے ہوئے کلمے کا تمہاری طرف سے کون ذمہ دار ہوگا۔- اسی طرح ہم نے حضرت عقبہ بن مالک لیثی کی روایت کردہ حدیث کا بھی زکر کیا ہے جو اسی مفہوم پر مشتمل ہے مقتول نے کہا تھا کہ میں مسلمان ہوں لیکن اسکے باوجود اسے قتل کردیا گیا، حضور نے اس بات کو انتہائی طور پر ناپسند کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ان اللہ ابی ان اقتل مومنا، اللہ تعالیٰ کو ہرگز یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی مسلمان کی جان لے لوں۔- ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ، انہیں ابوداؤد نے ، انہیں قتبیہ بن سعید نے انہیں لیث نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے عبیداللہ بن عدی بن الخیار سے، انہوں نے حضرت مقداد بن الاسود سے ک ہ انہوں نے حضور سے دریافت کیا کہ حضور اگر کسی کافر سے میری مڈ بھیڑ ہوجائے، اور وہ اپنی تلوار سے میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالے پھر ایک درخت کی آڑ میں میری زد سے نکل جائے اور کہے کہ میں اللہ کے سامنے جھک گیا، کیا اس کے بعد میں اسے قتل کرسکتا ہوں، آپ نے جواب میں فرمایا، اسے قتل نہیں کرسکتے ، میں نے عرض کیا، حضور اس نے میرا ہاتھ کاٹ ڈالا تھا، آپ نے فرمایا، اسے قتل نہ کرو اگر تم اسے قتل کردو گے تو اس صورت میں اقرار اسلام سے پہلے جس مقام پر وہ تھا وہاں تم پہنچ جاؤ گے اور وہ تمہارے مقام پر آجائے گا۔- ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ہے کہ انہیں حارث بن ابی اسامہ نے انہیں ابولنصر ہاشم بن القاسم نے ، انہیں المسعودی نے قتادہ سے ، انہوں نے …

95

لَّا يَسْتَوِى ٱلْقَٰعِدُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُو۟لِى ٱلضَّرَرِ وَٱلْمُجَٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلْمُجَٰهِدِينَ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى ٱلْقَٰعِدِينَ دَرَجَةًۭ ۚ وَكُلًّۭا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلْمُجَٰهِدِينَ عَلَى ٱلْقَٰعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًۭا

جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے

شوق جہا دمیں سرشار ہونے کی فضیلت - قول باری ہے (لایستوی القاعدون من المومنین غیراولی الضرر والمجاھدون فی سبیل اللہ، ماسواے معذوروں کے گھربیٹھ رہنے والے اہل ایمان اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مسلمان یکساں نہیں ہیں) تاآخر آیت۔- اس سے مراد یہ ہے کہ مجاہدین کو قاعدین پر فضیلت حاصل ہے ، اس میں جہاد کی ترغیب وتحریص ہے مجاہدین فی سبیل اللہ کو اجر وثواب کا جو مرتبہ حاصل ہے ، وہ جہاد سے بیٹھ رہنے والوں کو حاصل نہیں ہوگا، اس میں یہ دلالت بھی ہے کہ اجروثواب کی بلندی کا دارومدار عمل کی بلندی پر ہے ۔ آیت کے ابتداء میں یہ بیان فرمایا کہ یہ دونوں گروہ مرتبے میں یکساں نہیں ہیں پھر اس فضیلت کی تفصیل اس ارشاد کے ذریعے واضح کردی کہ (فضل اللہ المجاھدون باموالھم وانفسھم علی القاعدین درجہ، اللہ تعالیٰ نے بیٹھ رہنے والوں کی بہ نسبت جان ومال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑارکھا ہے ) آیت۔- آیت میں لفظ ، غیر، کو مرفوع اور منصوب پڑھا گیا ہے ، مرفوع تو اس بنا پر کہ ، یہ القاعدین کی صفت ہے اور منصوب اس بنا پر یہ حال ہے ایک قول کہ اس میں رفع مختار قرات ہے اس لیے کہ لفظ غیر میں استثناء کے معنی کے مقابلے مین صفت کے معنی زیادہ غالب ہوتے ہیں ، اگرچہ اس میں دونوں صورتیں جائز ہوتی ہیں۔- ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ استثناء کی صورت میں، غیر، کا لفظ کل سے بعض کے اخراج کا موجب ہوتا ہے مثلا ، جانی القوم غیرزید، میرے پاس زید کے سوا ساری قوم آئی، صفت کی صورت میں یہ بات نہیں ہوتی، اس لیے آپ یہ کہتے ہیں ، جاءنی رجل غیر زید، میرے پاس ایک شخص آیاجوزید نہیں تھا۔ اس جملے میں، غیر، صفت واقع ہوا ہے جبکہ پہلے جملے میں یہ استثناء کے معنی دے رہا ہے اگرچہ دونوں صورتوں میں یہ نفی کے معنوں کی تخصیص کررہا ہے۔- قول باری ہے (وکلاوعداللہ الحسنی، اگرچہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے (یعنی ، واللہ اعلم، اہل ایمان میں سے مجاہدین اور قاعدین دونوں کو، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کافروں سے جہاد فرض کفاریہ ہے ہر شخص پر یہ فرض نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قاعدین کے ساتھ بھی بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے جس طرح مجاہدین کے ساتھ اس کا وعدہ کیا ہے اگرچہ مجاہدین کو ملنے والاثواب زیادہ عظیم وجلیل ہے۔- اگر ایک گروہ کی طرف سے فریضہ جہاد ادا کرنے کی صورت میں باقی ماندہ لوگوں کے لیے جہاد سے بیٹھ رہنا مباح نہ ہوتا توقاعدین سے ثواب کا وعدہ نہ ہوتا، اس میں ہماری مذکورہ بات کی دلیل موجود ہے کہ فریضہ جہاد ہر شخص پر ذاتی لحاظ سے متعین نہیں ہے۔- قول باری ہے (وفضل اللہ المجاھدین علی القاعدین اجراعظیما، درجات منہ ، مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھ رہنے والوں سے بہت زیادہ ہے ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں، یہاں اللہ تعالیٰ نے درجات منہ ، فرمایا اور آیت کی ابتداء میں درجۃ فرمایا۔- اس سلسلے میں ابن جریج سے مروی ہے مجاہدین کو اہل الضرر یعنی معذوروں پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے اور غیراہل الضرر پر انہیں کئی درجے فضیلت ہے اور ان کے لیے اجرعظیم بھی ہے ۔ ایک قول ہے کہ پہلے صورت جہاد بالنفس کی ہے کہ اس میں مجاہدین کو ایک درجہ فضیلت حاصل ہوتی ہے اور دوسری صورت جہاد بالنفس والمال کی ہے کہ اس میں کئی درجے فضیلت ہے ، ایک قول یہ بھی ہے کہ پہلی صورت میں مدح، تعظیم، اور دینی لحاظ سے شرف اور بلندی کا درجہ مراد ہے اور دوسری صورت میں جنت کے درجے مراد ہیں۔- اگریہ کہاجائے کہ کیا آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ اہل ضرر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے ہم پلہ ہیں اس لیے کہ آیت میں استثناء کا معنی بھی مووجد ہے تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ آیت میں دونوں گروہوں کی یکسانیت پر کوئی دلالت موجود نہیں ہے۔- کیونکہ استثناء ک اورود اس موقعہ پر ہوا ہے جس میں آیت ک اورود جہاد کی ترغیب وتحریض کے لیے ہوا تھا، …

96

دَرَجَٰتٍۢ مِّنْهُ وَمَغْفِرَةًۭ وَرَحْمَةًۭ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًا

(یعنی) خدا کی طرف سے درجات میں اور بخشش میں اور رحمت میں اور خدا بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہے

Explained together with ayah 95

97

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِىٓ أَنفُسِهِمْ قَالُوا۟ فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا۟ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ قَالُوٓا۟ أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةًۭ فَتُهَاجِرُوا۟ فِيهَا ۚ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًا

اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

اپنے اوپر ظلم کرنے والے - قول باری ہے (ان الذین توفاھم الملائکۃ ظالمی انفسھم قالوافیم کنتم، جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کررہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے) تاآخر آیت۔- ایک قول کے مطابق مفہوم ہے ، ہم موت کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیں گے ، حسن کا قول ہے ہم انہیں جہنم کی طرف اٹھائیں گے ایک قول اس آیت کا نزول منافقین کے ایک گروہ کے بارے میں ہوا جو ڈر کی بنا پر مسلمانوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتا تھا، اور جب اپنی قوم میں پہنچ جاتا تو کفر کا اظہار کرتا، یہ گروہ مدینہ ہجرت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمادیا کہ یہ لوگ اپنے نفاق ، کفر اور مدینہ کی طرف ہجرت کرکے اپنے اوپرظلم کررہے ہیں۔- یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں ہجرت فرض تھی، اگر یہ بات نہ ہوتوترک ہجرت پر ان کی مذمت نہ کی جاتی ، نیز اس سے یہ بھی حاصل ہوتی ہے کہ اہل کفر بھی شرائع اسلام کے مکلف ہیں اور ان کے ترک پر انہیں سزا ملے گی، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت نہ کرنے پر ان منافقین کی مذمت کی ہے۔- یہ اس قول باری کی نظیر ہے (ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی، ویتبع غیرسبیل المومنین نولہ ماتولی ونصلہ جہنم، مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمربستہ ہو اوراہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے درآنحالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا، اور اسے جہنم میں جھونکیں گے ) اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی روش کو ترک کرنے پر ان کی اس طرح مذمت کی جس طرح تک ایما ن پر۔- اس کے ذریعے اجماع کے حجت ہونے کی صحت پر بھی دلالت ہوگئی۔ اس لیے کہ اگر یہ بات لازم نہ ہوتی تو اللہ تعایل اس کے ترک پر ان کی مذمت نہ کرتا، اور اس چیز کو حضور کی مخالفت پر کمربستگی کے ساتھ مقرون نہ کرتا۔ یہ بات مشرکین کے درمیان قیام کرنے کی نہی پر بھی دلالت کرتی ہے کہ کیونکہ قول باری ہے (الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروافیھا، کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے ، یہ بات مشرکین کی سرزمین سے کسی بھی اسلامی سرزمین کی طرف ہجرت کرجانے پر دلالت کرتی ہے۔- حضرت ابن عباس ، قتادہ، ضحاک، اور سدی سے مروی ہے کہ اس آیت کا نزول مکہ کے ایک گروہ کے بارے میں ہوا تھا، جو ہجرت کرنے سے پیچھے رہ گئے تھے اور انہوں نے مشرکین سے اپنی محبت اور لگاؤ کا اظہار کیا تھا، ان میں سے ایک گروہ ظاہرا ارتداد کی بنا پر بدر کے مقام پر قتل ہوگیا تھا۔- پھر اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ان لوگوں کو مستثنی کردیاجوکمزوری اور ضعف کی بنا پر ہجرت نہ کرسکے تھے ، اور مکہ ہی میں بیٹھ رہے تھے، چناچہ ارشاد ہوا، الاالمستضعفین من الرجال والنساء والولدان لایستطیعون حیلۃ۔۔۔ تا۔۔۔۔ عنھم۔ ہاں جو مرد عورتیں اور بچے واقعی بےبس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کردے۔ یعنی انہیں دارل ہجرت مدینے کی طرف نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں ملتا۔- حسن کا قول ہے کہ اللہ کی طرف سے عسی کا مفہوم اس پر دلالت کرتا ہے یہ امرواجب ہے ایک قول ہے کہ عسی کے تحت جو بات کہی جاتی ہے اس کی حیثیت وعدے کی ہوتی ہے کیونکہ شک کی بنیاد پر اس امر کی اللہ تعالیٰ خبر نہیں دیتا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس امر میں شک بندوں کی طرف سے ہوتا ہے اس لیے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ بندو تم اللہ کی ذات سے امیدوار اس کی رحمت کی طمع کرتے رہو۔

98

إِلَّا ٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلْوِلْدَٰنِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةًۭ وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًۭا

ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کر سکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں

Explained together with ayah 97

99

فَأُو۟لَٰٓئِكَ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًۭا

قریب ہے کہ خدا ایسوں کو معاف کردے اور خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

Explained together with ayah 97

100

۞ وَمَن يُهَاجِرْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ يَجِدْ فِى ٱلْأَرْضِ مُرَٰغَمًۭا كَثِيرًۭا وَسَعَةًۭ ۚ وَمَن يَخْرُجْ مِنۢ بَيْتِهِۦ مُهَاجِرًا إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ يُدْرِكْهُ ٱلْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور جو شخص خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے وہ زمین میں بہت سی جگہ اور کشائش پائے گا اور جو شخص خدا اور رسول کی طرف ہجرت کرکے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب خدا کے ذمے ہوچکا اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے

ہجرت کی فضیلت - قول باری ہے (ومن یھاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مراغما کثیرا واسعۃ، جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا، وہ زمین میں پناہ لینے کے لیے بہت جگہ اور بسراوقات کے لیے بڑی گنجائش پائے گا۔- ایک قول ہے کہ مراغم سے اللہ نے ہجرت کے لیے کافی گنجائش اور بہت جگہ مراد لی ہے اس لیے کہ رغم کے اصل معنی ذلت اور عاجزی کے ہیں، آپ کہتے ہیں ، فعلت ذالک علی الرغم من فلاں، یعنی میں نے یہ کام فلاں شخس سے عاجز اور مجبور ہونے کی بنا پر کیا ہے دغام مٹی کو کہتے ہیں کیونکہ مٹی ہراس شخص کو میسر ہوتی ہے جوا سے حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہے خواہ وہ کتنا ہی حقیر کیوں نہ ہو، محاورہ ہے ارغم اللہ انقہ، یعنی اللہ اسے ذلیل کرنے کے طور پر اس کی ناک خاک آلود کردے۔- ارشاد باری ہے (ومن یھاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مراغما کثیر ا وسعۃ) یعنی وہ زمین میں بڑی کشادگی اور سہولت پائے گا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے (ھوالذی جعل لکم الارض ذلولا فامشوا فی مناکبھا وکلوا من رزقہ والیہ النشور۔- اللہ کی ذات وہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیاسوتم اس کے راستوں پرچلو پھرو اور اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے کھاؤ پیو اور اسی کے پاس زندہ ہوکرجانا ہے مراغم اور رذول دونوں الفاظ متقارب المعنی ہیں مراغم کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد وہ اقدام ہے جس کے ذریعے کوئی شخص ہجرت کے راستے میں رکاوٹ بننے والے شخص کو مغلوب کرلے۔- قول باری (سعۃ ) کے متعلق حضرت ابن عباس ، ربیع بن انس، اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے رزق میں کشائش مراد ہے قتادہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد دین کے اظہار میں کشادگی اور گنجائش ہے اس لیے مشرکین کی طرف سے مسلمانوں کے دین کے معاملے میں اس قدر تنگی پیدا کردی گئی تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کو کھلم کھلا اس کے اظہار سے بھی روک دیا تھا۔- قول باری ہے (ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکۃ الموت فقد واقع اجرہ علی اللہ ۔ اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے اور پھر راستے ہی میں اسے موت آجائے اس کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہوگیا، آیت میں اس شخص کے لیے اجر کے واجب ہوجانے کی خبر دی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے خواہ اس کی ہجرت مکمل نہ بھی ہوسکے۔- یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص کسی عبادت اور تقرب الٰہی کے کام کی نیت سے نکلے گا تو خواہ وہ یہ کام سرانجام دینے سے بچھڑ ہی کیوں نہ جائے اللہ تعالیٰ اسے اس کی نیت کوشش کے مطابق ضرور بدلہ دیں گے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے ارادے سے نکلنے والے شخص کے لیے اجر واجب کردیاخواہ س کی ہجرت کی تکمیل نہ بھی ہوسکی ہو۔- اس میں امام ابویوسف اور امام محمد کے قول کی صحت پر دلالت موجود ہے کہ اگر ایک شخص حج کے ارادے سے گھر سے نکل پڑے اور راستے میں اس کی وفات ہوجائے اور اس نے مرنے سے پہلے کسی کو اس کی طرف سے حج کرنے کی وصیت کی ہو تو وہ شخص اس جگہ سے حج کا سفر شروع کرے گا جہاں اس وصیت کرنے والے کی موت واقع ہوئی تھی۔- اسی طرح میت کی طرف سے یا اس شخص کی طرف سے جس پر خود حج کرنا فرض نہ ہو حج کرنے والا اسی جگہ سے حج کا عمل شروع کرے گا جہاں حج کا ارادہ کرنے والے کی موت واقع ہوئی ہوگی، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مرنے والے کے لیے اس کے سفر اور اخراجات کی مقدار جو فرض کردیا۔- اب چونکہ اس اجر کا حساب مرنے والے کے نامہ اعمال میں لکھاجائے گا اس لیے صرف یہ بات ضروری ہوگی کہ اس کے حج کا باقی ماندہ حصہ اس کی طرف سے ادا کردیاجائے گا، اس میں یہ بھی دلالت موجود ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں اگر نماز یا حج کے سوا کسی اور کام کے لیے گھر سے نکلوں تومیراغلام آزاد ہے۔- پھروہ نماز یا حج کے ارادے سے گھر سے نکلے لیکن نہ نماز پڑھے اور نہ ہی حج کرے بلکہ کسی اور کام کی طرف متوجہ ہوجائے تو اس صورت میں وہ اپنی قسم …

An-Nisaa 4:100Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.