Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 81–90 of 176

81

وَيَقُولُونَ طَاعَةٌۭ فَإِذَا بَرَزُوا۟ مِنْ عِندِكَ بَيَّتَ طَآئِفَةٌۭ مِّنْهُمْ غَيْرَ ٱلَّذِى تَقُولُ ۖ وَٱللَّهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ ۖ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا

اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور ہے) لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو اور خدا ہی کافی کارساز ہے

Explained together with ayah 76

82

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُوا۟ فِيهِ ٱخْتِلَٰفًۭا كَثِيرًۭا

بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے

قول باری ہے (الذین امنوایقاتلون فی سبیل اللہ ، جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں) ایک قول کے مطابق (فی سبیل اللہ ) کے معنی ہیں اللہ کی اطاعت میں کیونکہ یہی اطاعت اللہ کی جنت میں جو اس نے اپنے دوستوں کے لیے تیارکررکھی ہے ثواب کا باعث بنے گی۔ ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد اللہ کا دین ہے جو اس نے مقرر کیا ہے ، تاکہ یہ دین انہیں اللہ کے ثواب اور اس کی رحمت تک پہنچادے اس صورت میں عبارت کی ترتیب یوں ہوگی، فی نصرۃ دین اللہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت میں قتال کرتے ہیں۔- طاغوت کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ شیطان ہے یہ قول حسن اور شعبی کا ہے ، ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس سے مراد کاہن ہے یعنی غیب کی باتیں بتلانے والا، ایک قول ہے کہ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ کے سوا پرستش کی جائے۔- قول باری ہے (ان کید الشیطان کان ضعیفا) یقین جانوا کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں) کید اس کوشش اور دوڑ دھوپ کو کہتے ہیں کہ جو صورت حال کو بگاڑنے کے لیے حیلہ سازی کے ذریعے اور نقصان پہنچانے کی غرض سے کی جائے۔- حسن کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (ان کیدالشیطان کان ضعیفا) اس لیے فرمایا کہ شیطان نے ان کافروں سے کہا تھا کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں یہ غالب آئیں گے اس لیے یہ کمزور نصرت کے مقابلے میں اپنے دوستوں کے لیے اس کی نصرت بہت کمزور ہوتی ہے۔

83

وَإِذَا جَآءَهُمْ أَمْرٌۭ مِّنَ ٱلْأَمْنِ أَوِ ٱلْخَوْفِ أَذَاعُوا۟ بِهِۦ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى ٱلرَّسُولِ وَإِلَىٰٓ أُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ ٱلَّذِينَ يَسْتَنۢبِطُونَهُۥ مِنْهُمْ ۗ وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُۥ لَٱتَّبَعْتُمُ ٱلشَّيْطَٰنَ إِلَّا قَلِيلًۭا

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے

قول باری ہے (ولوکان من عندغیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا۔ اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے) اختلاف کی تین صورتیں ہیں تناقض ، کی صورت میں اختلاف جس میں ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے فساد کو لازم کردے۔- تفاوت کی صورت میں اختلاف جس میں ایک حصہ توفصاحت و بلاغت کی بلندیوں کو چھورہا ہو اور دوسرا حصہ انتہائی گھٹیا اور پست ہو۔ اختلاف کی یہ دونوں صورتیں قرآن سے منفی ہیں ، اور یہ چیز اس کے اعجاز کے دلائل سے ایک دلیل ہے۔- کیونکہ جب فصحاء اور بلغاء کا کوئی کلام طویل ہوتاجائے جس طرح قرآن کی طویل سورتیں ہیں تو ایسی صورت میں اس طویل کلام میں فصاحت اور بلاغت کا یکساں معیار برقرار نہیں رہتا، اور اس میں عدم یکسانیت کی بنا پر وہ تفاوت پیدا ہوجاتا ہے جس کا ہم نے ابھی ابھی ذکر کیا ہے تلاوم کی صورت میں اختلاف جس میں پورے کا پورے کلام لفظی اور معنی حسن کے لحاظ سے ایک دوسرے کے متناسب ہو۔- مثلا ق راتوں اور آیات کی مقداروں کے لحاظ سے اختلاف نیز ناسخ اور منسوخ کے احکام میں اختلاف ، اس آیت میں استدلال بالقرآن پر ابھارا گیا ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ اس میں اس حق پر مختلف پیرایوں میں دلائل موجود ہیں جس کا اعتقاد رکھنا اور جس پر عمل کرنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔- مسائل پر اجتہاد واستنباط۔- قول باری ہے (ولوردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم، اگر یہ اس خبر کو رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائیں ، جوان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں) ۔- حسن اور قتادہ اور ابن ابی لیلی کا قول ہے کہ اولوالامر سے مراد اہل علم وفقہ ہیں سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد مراء وعمال ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس سے دونوں مذکورہ بالاگروہ مراد لینا درست ہے کیونکہ اولوالامر کا اسم ان دونوں پر واقع ہوتا ہے۔- اگریہ کہاجائے کہ اولوالامر تو وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں لوگوں کے معاملات کو سنبھالنے اور انہیں درست رکھنے کے اختیارات ہوتے ہیں اہل علم کے ہاتھوں میں اس قسم کے اختیارات نہیں ہوتے تو ان کا شمار اولوالامر میں کیسے ہوسکے گا۔ اس کے جواب میں کہاجائے گا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اولوالامر وہ لوگ ہیں جو لوگوں پر اختیارات رکھنے کی بنا پر ان کے معاملات کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔- فقہاء کو بھی اولوالامر کہا جاسکتا ہے کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کا علم ہوتا ہے اور دوسروں پر ان کے قول کو تسلیم کرنا لازم ہوتا ہے اس بنا پر انہیں اولوالامر کے نام سے موسوم کرنا درست ہے۔- جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے (لیتفقھوا فی الدین ۔۔۔ تا۔۔۔۔ یحذرون۔ تاکہ باقی لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اور تاکہ اپنی قوم والوں کو جب وہ ان کے پاس واپس آئیں ڈراتے رہیں عجیب کیا کہ وہ محتاط رہیں) ۔ اللہ تعالیٰ نے فقہاء کے انذار پر محتاط رویہ اختیار کرنا لازم قرار دیا ہے اور جنہیں انذار کیا جارہا ہے ان پر ان کے قول کو قبول کرنا ضروری قرار دیا اس بنا پر ان حضرات پر اولوالامر کے اسم کا اطلاق درست ہوگیا۔- امراء اور اعیان سلطنت کو بھی اولوالامر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اس لیے کہ یہ ان لوگوں پر اپنے احکامات نافذ کرنے کے اختیارات رکھتے ہیں جن پر انہیں بالادستی اور حکومت حاصل ہوتی ہے۔- قول باری ہے (لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم، استنباط استخراج کو کہتے ہیں ، اسی سے استنباط المیاہ والعیون (پانی نکالنا چشمے کھودنا) ماخوذ ہے اس لیے استنباط کا اسم ہراس چیز پر محمول ہوتا ہے جو کہیں سے اس طرح نکالی جائے کہ آنکھوں سے نظر آجائے یا دلوں میں اس کی معرفت حاصل ہوجائے۔- شریعت میں استنباط استدلال اور استعلام کی نظیر ہے ، اس آیت کے اندر حوادث یعنی پیش آنے والے …

84

فَقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ ۚ وَحَرِّضِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ وَٱللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًۭا وَأَشَدُّ تَنكِيلًۭا

تو (اے محمدﷺ) تم خدا کی راہ میں لڑو تم اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں اور مومنوں کو بھی ترغیب دو قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی کو بند کردے اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے

Explained together with ayah 83

85

مَّن يَشْفَعْ شَفَٰعَةً حَسَنَةًۭ يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٌۭ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَٰعَةًۭ سَيِّئَةًۭ يَكُن لَّهُۥ كِفْلٌۭ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ مُّقِيتًۭا

جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں سے حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے اس کو اس (کے عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

Explained together with ayah 83

86

وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍۢ فَحَيُّوا۟ بِأَحْسَنَ مِنْهَآ أَوْ رُدُّوهَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَسِيبًا

اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو بےشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

سلام اور اس کا جواب۔- قول باری ہے (واذاحییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا اور دوھا، اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب ددو یا کم ازکم اسی طرح) اہل لغت کے نزدیک تحیت کے معنی ملک یعنی سلطنت اور مالک بنانے کے ہیں شاعر کا یہ شعر اس معنی میں ہے۔- اسیر بہ الی النعمان حتی، انیح علی تحیتہ بجند۔ میں اس اونٹ پر بادشاہ نعمان کی طرف جارہا ہوں یہاں تک کہ میں اس کی سلطنت کے اندرجند کے مقام پر اپنااونٹ بٹھاؤں گا یعنی قیام کروں گا۔- شاعر نے ، علی تحتیہ، کہہ کرنعمان کی سلطنت مراد لی ہے اہل عرب کے قول ، حیاک اللہ کے معنی ، ملک اللہ ، اللہ تجھے مالک بنادے ) کے ہیں ، سلام کو بھی تحیت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے کیونکہ عرب کے لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے تھے توحیاک اللہ کہتے تھے پھر اسلام آنے کے بعد اس کی بجائے سلام کا لفظ استعمال ہونے لگا اور سلام کا لفظ حیاک اللہ ، کے قائم مقام ہوگیا۔- حضرت ابوذر کا قول ہے کہ میں پہلا شخص تھا جس نے حضور کو تحیۃ اسلام کے الفاظ میں سلام کیا تھا میں نے آپ سے کہا تھا، السلام علیکم و (رح) ، نابغہ ذیبانی کا ایک مصرعہ ہے، یحیون بالریحان یوم السباسب۔- سیاسب (عیسائیوں کی عید) کے دن انہیں گلدستے پیش کرکے سلام کیا جاتا ہے یعنی انہیں گلدستے پیش کیے جاتے ہیں اور کہاجاتا ہے ، حیاکم اللہ ، اس کے معنی وہ ہیں جو ہم نے بیان کیے ہیں یعنی ملک اللہ۔- اگرہم قول باری (واذاحییتم بتحیہ فحیوا باحسن منھا اور دوھا، کو اس کے حقیقی معنوں پر محمول کریں تو اس سے ایک چیز کو اس وقت تک واپس لے سکتا ہے جب تک بدلے کے طور پر اسے کچھ نہ دے دیاجائے۔- یہ چیز ہمارے اصحاب کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے اگر کوئی شخص کسی کو جو اس کا محرم رشتہ دار نہ ہوبطور ہبہ کوئی چیز دے دے تو اس کا بدلہ ملنے سے پہلے پہلے اسے واپس لے سکتا ہے لیکن اس کے بعد وہ واپس نہیں لے سکتا کیونکہ اس نے ہبہ کرکے دو باتوں میں سے ایک واجب کردی تھی ، ثواب یعنی بدلہ یادی ہوئی چیز کی واپسی۔- حضور سے ہبہ کرکے واپس لے لینے کے متعلق روایت ہے جسے ہمیں محمد بن بکر نے بیان کی ہے ، انہیں ابوداؤد نے، انہیں سلیمان بن داؤد المہری نے ، انہیں ، ابن وہب نے ، انہیں اسامہ بن زید نے ، انہیں عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے انہوں نے عمرو کے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو سے ، انہوں نے حضور سے کہ آپ نے فرمایا :- اس شخص کی مثال جو اپنی ہبہ کی ہوئی چیز واپس مانگ لیتا ہے اس کتے جیسی ہے جو پہلے قے کرتا ہے اور پھر اپنی قے کو چاٹ جاتا ہے اگر ہبہ کرنے والااپنی چیز واپس مانگے تو پہلے اس حرکت کی کراہت سے واقف کر ایاجائے اور اس کے علم میں یہ بات لائی جائے اس کے بعد اس کی دی ہوئی چیز اسے واپس کردی جائے۔- ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کی ہے کہ انہیں وکیع نے ابراہیم بن اسمعیل نے مجمع سے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے کہ حضور نے فرمایا (الرجل احق بھبتہ مالم یثب منھا ، ہبہ کرنے والاہبہ میں دی ہوئی چیز کا سب سے بڑھ کر حق دار ہوتا ہے جب تک اسے اس کا بدلہ نہ مل جائے) ۔- حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر نے روایت کی ہے کہ حضور نے فرمایا، کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ کوئی چیز عطیہ کرے یاہبہ کرے اور واپس لے لے ، البتہ باپ اپنے بیٹے کو دی ہوئی چیز واپس لے سکتا ہے جو شخص عطیہ دے کر واپس لے لیتا ہے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتارہتا ہے یہاں تک کہ جب شکم سیر ہوجاتا ہے توقے کردیتا ہے اور پھر اپنی قے کو چاٹ لیتا ہے) ۔- یہ حدیث دو باتوں پر دلالت کرتی ہے ایک توہبہ کے رجوع کی صحت پر اور دوسری اس حرکت کی کراہت پر نیز اس پر بھی یہ حرکت انتہائی بداخلاقی اور کمینگی کی بات ہے کیو کہ آپ نے اس حرکت کے مرتکب کو اس کتے کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو اپنے قے کو چاٹ جاتا ہے۔- یہ چیز ہماری بیان کردہ بات پر …

87

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ حَدِيثًۭا

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟

Explained together with ayah 86

88

۞ فَمَا لَكُمْ فِى ٱلْمُنَٰفِقِينَ فِئَتَيْنِ وَٱللَّهُ أَرْكَسَهُم بِمَا كَسَبُوٓا۟ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَهْدُوا۟ مَنْ أَضَلَّ ٱللَّهُ ۖ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلًۭا

تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو رستے پر لے آؤ اور جس شخص کو خدا گمراہ کردے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہیں پاؤ گے

منافقین کے بارے میں رویہ - قول باری ہے (فمالکم فی المنافقین فئتین واللہ ارکسھم بماکسبوا، پھر یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے درمیان دورائیں پائی جاتی ہیں ، حالانکہ جو برائیاں انہوں نے کمائی ہیں ان کی بدولت اللہ انہیں الٹا پھیر چکا ہے) ۔- حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس نے مکہ میں اسلام کا اظہار کیا تھا لیکن یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی امدا د کرتے تھے قتادہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے حسن اور مجاہد کا قول ہے کہ ایت کا نزول ایک گروہ کے بارے میں ہوا تھا، جس نے مدینہ منورہ پہنچ کر اسلام کا اظہار کیا تھاپھرم کہ واپس جاکر شرک کا اعلان کردیا تھا۔- زید بن ثابت کا قول ہے یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جو جنگ احد میں حضور کے ساتھ نہیں گئے تھے اور پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے یہ کہا تھا اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ کوئی جنگ ہونے والی ہے توہم تمہارے ساتھ چلتے۔- ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ سلسلہ آیت میں اس آخری تاویل کے خلاف دلالت موجود ہے اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ لوگ مکہ کے رہنے والے تھے کیونکہ قول باری ہے (فلاتتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ ) جب تک یہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ) ۔- قول باری (ارکسھم ) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا قول ہے ، ردھم (اللہ نے انہیں پھیر دیا) قتادہ کا قول ہے کہ اللہ نے انہیں ہلاک کردیا، دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اوندھا یعنی ذلیل کردیا کسائی کا قول ہے ، ارکسھم اور رکسھم دونوں ہم معنی ہیں اور مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے انہیں کفر کے حکم یعنی ذلت و رسوائی کی طرف واپس کردیا۔- ایک قول ہے کہا نہیں گرفتاری اور قتل کی طرف لوٹا دیا کیونکہ انہوں نے نفاق پر رہنے کے بعد ارتداد کا اظہار کیا تھا، اسلام سے ارتداد کے اظہار کے باوجود انہیں نفاق کی صفت سے اس لیے موصوف کیا گیا کہ انہیں دراصل اس بات کی طرف منسوب کیا گیا جس پر وہ پہلے سے قائم تھے یعنی انہوں نے اپنے دلوں میں کفر چھپارکھا تھا، اس تفسیر کی روایت حسن کی گئی ہے نحویوں کا قول ہے کہ ایک چیز کو حرف تعریف یعنی الف اور لام کے ساتھ معرفہ کی صورت میں اس حالت کے ساتھ موصوف کرنا درست ہوتا ہے جس پر چیز کبھی تھی ، مثلا آپ یہ کہتے ہیں کہ ھذہ العجوزھی الشابہ، تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بڑھیا وہ ہے جو کبھی جوان تھی، اس موقعہ پر ھذہ شابہ، کہنا درست نہیں ہوگا۔- اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے گروہ منافقین کے احوال مسلمانوں کے سامنے کھول کر رکھ دیے کہ یہ لوگ تمہارے سامنے تو اسلام کا اظہار کرتے ہیں لیکن جب اپنے لوگوں میں جاتے ہیں تو کفر اور ارتداد کا اعلان کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے متعلق حسن ظن رکھنے اور ان کے دفاع میں، جھگڑنے سے منع کردیا۔

89

وَدُّوا۟ لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا۟ فَتَكُونُونَ سَوَآءًۭ ۖ فَلَا تَتَّخِذُوا۟ مِنْهُمْ أَوْلِيَآءَ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَخُذُوهُمْ وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوا۟ مِنْهُمْ وَلِيًّۭا وَلَا نَصِيرًا

وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ

قول باری ہے (ودوالوتکفرون کماکفروفتکونون سواء۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہوجاؤ تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہوجائیں اس سے گروہ منافقین مراد ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس گروہ کے دلوں میں چھی پوئی خواہشات اور اعتقادات کو واضح کردیاتا کہ مسلمان ان سے حسن ظن نہ رکھیں، کہ ان کی دشمنی پر یقین کریں اور ان سے اپنی برات اور بے زار کا اظہار کریں۔- قول باری ہے (فلاتتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ لہذا ان میں سے کسی کو اپنادوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں) یعنی ۔ واللہ ۔ جب تک وہ مسلمان ہوکر ہجرت نہ کرلیں کیونکہ ہجرت اسلام لانے کے بعد ہی ہوتی ہے یہ لوگ اگرچہ مسلمان ہوجائیں پھر بھی ہمارے اور ان کے درمیان موالات ہجرت کے بعد ہی قائم ہوگی۔- یہ قول باری اس آیت کی طرح ہے (مالکم من ولایتھم من شی حتی یھاجروا ، جب تک یہ ہجرت کرکے نہ آجائیں ، اس وقت تک تمہارے اور ان کے درمیان کوئی موالات نہیں ) یہ صورت اس وقت تک تھی جب تک ہجرت فرض رہی۔- حضور نے یہ فرمایا تھا، (انابری من کل مسلم اقام بین اظھر المشرکین وانابری من کل مسلم اقام مع مشرک۔ میں ہراس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین کے درمیان قیام پذیر ہے۔ میں ہراس مسلم سے بری الذمہ ہوں جو کسی مشرک کے ساتھ اقامت گزریں ہے) ۔ عرض کیا گیا اللہ کے رسول وہ کیوں ؟ آپ نے فرمایا (لاتراء ی ناراھما، مسلمان اور مشرک کے گھروں میں جلنے والی آگ ایک دوسرے کو نظر نہ آئے) یعنی اس صورت میں مسلمان مشرک کے ساتھ اقامت گزیں نہیں کہلائے گا۔ اس طرح ہجرت فرض رہی کہ مکہ فتح ہوگیا پھر اس کی فرضیت کا حکم منسوخ ہوگیا۔- ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ، انہیں ابوداود نے انہیں عثمان بن ابی شیبہ نے، انہیں جریر نے منصور سے ، انہوں نے مجاہد سے انہوں نے طاؤس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس سے حضور نے فتح مکہ کے دن فرمایا، (لاھجرۃ ولکن جھادوا نیہ واذا استنفرتم فانفروا، اب ہجرت نہیں، لیکن جہاد اور ہجرت کی نیت باقی ہے اور جب تمہیں جہاد پر نکلنے کے لیے کہاجائے تونکلی پڑو) ۔- ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ، انہیں ابوداؤد نے انہیں مومل بن الفضل نے ، انہیں ولید نے اوزاعی سے انہوں نے زہری سے ، انہوں نے عطاء بن یزید سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری سے کہ ایک بدو نے حضور سے ہجرت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا۔- اللہ کے بندے ہجرت کی بات تو بڑی زبردست ہے یہ بتاؤ تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، آپ نے پھر پوچھا تم ان اونٹوں کی زکوۃ ادا کرتے ہو ؟ اس نے ، پھر اثبات میں جواب دیا، اس پر آپ نے فرمایا، پھر تم سمندر کے پاررہ کر بھی اعمال کرتے رہو، تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال میں سے کوئی چیز نہیں گھٹائے گا، اس طرح حضور نے ترک ہجرت کی اباحت کردی۔- ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابوداؤد نے ، انہیں مسدد نے ، انہیں یحییٰ نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انہیں عامر نے ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس آکر کہنے لگا کہ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو، حضرت ابن عمرو نے فرمایا، میں نے حضور کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے (المسلم سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمھاجر من ھجر مانھی اللہ عنہ ، مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جس نے اللہ کی منع کی ہوئی باتوں سے کنارہ کشی اختیار کی) ۔- حسن سے مروی ہے کہ آیت کا حکم ہراس شخص کے حق میں ثابت ہے جو دارالحرب میں قیام پذیر ہوحسن کی رائے میں دارلاسلام کی طرف ہجرت کرنے کی فرضٰت بحالہ باقی ہے۔- قول باری ہے (فخذوھم واقتلوھم ، انہیں پکڑ کر قتل کرڈالو) حضرت ابن عباس نے فرمایا، اگر یہ لوگ ہجرت کرنے سے روگردانی کریں توا نہیں پکڑ کر قتل کرڈالو۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان …

90

إِلَّا ٱلَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌ أَوْ جَآءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَن يُقَٰتِلُوكُمْ أَوْ يُقَٰتِلُوا۟ قَوْمَهُمْ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَٰتَلُوكُمْ ۚ فَإِنِ ٱعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَٰتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا۟ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَمَ فَمَا جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًۭا

مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضروری نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی

قول باری ہے (الاالذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق ، البتہ وہ منافق اس حکم سے مستثنی ہیں جو کسی ایسی قوم سے جاملیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے) ۔- ابوعبید کا قول ہے کہ (یصلون ) کے معنی ہیں ، ینتسبون الیھم، ان کی طرف نسبت بیان کرتے ہوں) جیسا کہ اعشی کا شعر ہے۔- اذاتصلت قالت ابوبکر بن وائل، وبکر سب تھا والانوف روغم۔- جب اپنی نسبت بیان کرتی ہے توبکر بن وائل قبیلے کا نام لیتی ہے ، حالانکہ اسی قبیلے نے اسے گرفتار کیا تھا، اور اس کے لوگوں کو ذلت سے دوچار ہوناپڑا۔ زید انجیل کا شعر ہے ۔ اذاتصلت تنادی یال قیس، وخصت بالدعاء بنی کلاب۔ جب اپنی نسبت بیان کرتی ہے توآل قیس کی دہائی دیتی ہے اور بنوکلاب کو خصوصیت کے ساتھ پکارتی ہے۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں انتساب کبھی رشتہ داری کی بنا پر اور کبھی معاہدہ اور رولاء کی بنا پر، اس انتساب میں ایسے شخص کا داخل ہونا بھی درست ہے جو معاہدے میں شریک ہوگیا ہو۔ جیسا کہ حضور اور قریش کے درمیان صلح کے معاہدے کے اندر ہواتھا کہ بنوخزاعہ حضور کے ساتھ اور بنوکنانہ قریش کے ساتھ معاہدے میں داخ (رح) ہوگئے تھے ایک قول ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے۔- ہمیں جعفر بن محمد واسطی نے روایت بیان کی ، انہیں جعفر بن محمد الیمان ، نے انہیں ابوعبید نے ، انہیں حجاج نے ابن جریج اور عثمان بن عطاء خراسانی سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس سے کہ قول باری (الاالذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق) تاقول باری (فماجعل اللہ لکم علیھم سبیلا، لو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے) ۔- نیز قول باری (لاینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیھم، اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا، جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا) پھر ان آیات کو قول باری (براء ۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین، اعلان برات ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کیے تھے) تاقول باری (ونفصل الایات لقوم یعلمون ۔ اور ہم جاننے والوں کے لیے اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں) ۔- سدی کا قول ہے (الالذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق) کا مفہوم ہے مگر وہ لوگ جو ایسی قوم میں جاکرداخل ہوجاتے ہیں کہ ان کے اور تمہارے درمیان امان کا معاہدہ ہوتا ہے اس صورت میں ان لوگوں کو بھی امان حاصل ہوجائے گی۔- حسن کا قول ہے یہ بنومدلج کے لوگ تھے ان کے اور قریش کے درمیان معاہدہ تھا، ادھر حضور اور قریش کے درمیان جب معاہدہ ہوگیا تو اللہ نے مسلمانوں کو بنومدلج کے سلسلے میں ان تمام باتوں سے روک دیا، جو قریش کے سلسلے میں منوع تھیں۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب اما المسلمین کسی کافر قوم کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے گا تولامحالہ اس معاہدے میں وہ تمام لوگ از خود داخل ہوجائیں گے جو اس قوم کے علاقے میں ہوں گے اور اس کے ساتھ رشتہ داری یا معاہدہ یاولاء کی بناپر ان کی نسبت ہوگی اور ان کی طرف سے اسے مدد بھی دی جاتی ہوگی۔- لیکن جن لوگوں کا تعلق کسی دوسری قوم سے ہوگا تو وہ اس معاملے میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے جب تک معاہدے میں اس کی شرط نہیں رکھی جائے گی، اگر معاہدے میں کسی اور قبیلے یا قوم کے داخلے کی شرط رکھی جائے تومعاہدہ طے پاجانے کے بعد وہ قبیلہ بھی اسی میں داخل شمار کیا جائے گا۔ جس طرح قریش کے معاہدے میں بنوکنانہ داخل ہوگئے تھے۔- جولوگ اس حکم کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں ان کی مراد یہ ہے کہ مشرکین سے معاہدہ اور صلح کی بات اب منسوخ ہوچکی ہے کیونکہ قول باری ہے (فاقتلوالمشرکین حیث وجدتموھم ، مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ قتل کردو) اور بات بھی اس طرح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام اور اہل اسلام کو غلبہ عطا کردیا تھ اس لیے انہیں یہ حکم دیا گیا کہ مشرکین عرب سے اسلام یا تلوار …

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.