Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 51–60 of 176

51

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًۭا مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ يُؤْمِنُونَ بِٱلْجِبْتِ وَٱلطَّٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هَٰٓؤُلَآءِ أَهْدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ سَبِيلًا

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں

Explained together with ayah 49

52

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ ۖ وَمَن يَلْعَنِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ نَصِيرًا

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

Explained together with ayah 49

53

أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌۭ مِّنَ ٱلْمُلْكِ فَإِذًۭا لَّا يُؤْتُونَ ٱلنَّاسَ نَقِيرًا

کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے تو لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں گے

Explained together with ayah 49

54

أَمْ يَحْسُدُونَ ٱلنَّاسَ عَلَىٰ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ ۖ فَقَدْ ءَاتَيْنَآ ءَالَ إِبْرَٰهِيمَ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَءَاتَيْنَٰهُم مُّلْكًا عَظِيمًۭا

یا جو خدا نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کا حسد کرتے ہیں تو ہم نے خاندان ابراہیم ؑ کو کتاب اور دانائی عطا فرمائی تھی اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی

قول باری ہے (ام یحسدون الناس علی مااتاھم اللہ من فضلہ) پھر کیا یہ دوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے ) حضرت ابن عباس مجاہد ضحاک سدی اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہاں الناس سے مراد صرف رسول اللہ کی ذات اقدس ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد عرب کے لوگ ہیں کچھ لوگوں کا قول ہے کہ اس سے مراد حضور اور آپ کے صحابہ ہیں یہ تاویل بہتر ہے کیونکہ خطاب کی ابتداء میں یہود کا ذکر ہے اور یہ لوگ اس سے قبل اپنی کتابوں میں حضور کی بعثت آپ کے اوصاف ، اور آپ کی نبوت کے حالات کے متعلق پڑھا کرتے تھے۔- بلکہ یہ لوگ آخری نبی کی بعثت پر عربوں کو قتل کی دھمکی دیتے تھے اس لیی کہ ان کے خیال میں عرب کے لوگ اس نبی کی پیروی پر تیار ہونے والے نہیں تھے نیزان کا یہ بھی گمان تھا کہ اس نبی کی بعثت بنی اسرائیل میں ہوگی، لیکن جب اللہ نے حضور کی بعثت بنواسماعیل میں کردی تو ان لوگوں نے ایک طرف عربوں سے حسدکرناشروع کردیا اور دوسری طرف حضور کی تکذیب پر کمربستہ ہوگئے اور جن حقائق کا انہیں اپنی کتابوں کے ذریعے علم ہوا تھا ان سے صاف مکر گئے۔- چنانچہ ارشاد باری ہے (وکانوا من قبل یستفحوان علی الذین کفروا فلما جاء ھم ماعرفواکفروبہ) ، باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح ونصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے مگر جب وہ چیز آگئی جسے وہ پہچان بھی گئے تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا،۔ نیز ارشاد باری ہے ، (ودکثیر من اھل الکتاب لویردونکم من بعد ایمانکم کفاراحسدا من عند انفسھم، اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں۔ اپنے نفس کے حسد کی کی بنا پر تمہار لیے ان کی یہ خواہش ہے) ۔- عربوں کے ساتھ یہودیوں کی عداوت اور دشمنی حضور کی بعثت کے وقت سے ہی ظاہرہوگئی تھی ، اس دشمنی کی بنیاد پر اس حسد پر تھی کہ حضور کی بعثت عربوں میں کیوں ہوئی بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئی۔ اس تشریح کی روشنی میں آیت کو اس معنی پر محمول کرنا زیادہ واضح ہوگا کہ الناس سے مراد حضور کی ذات اقدس اورآ پ کے صحابہ کرام ہیں اور یہودیوں کو آپ سے اور آپ کے صحابہ کرام سے دوسرے الفاظ میں عربوں سے حسد تھا، حسد اس تمنا کا نام ہے جو کسی شخص سے اس کی نعمت چھن جانے کے لیے کی جائے۔- اسی بنا پر مقولہ ہے ، تم ہر شخص کو راضی کرسکتے ہو لیکن حاسد کو راضی نہیں کرسکتے کیونکہ وہ تو صرف نعمت کے زوال اور اس کے چھن جانے پر ہی راضی ہوسکتا ہے ، حسد کے مقابلے میں غبطہ مذموم نہیں ہے جس میں کسی نعمت کی تمنا کی جائے لیکن دوسرے سے اس نعمت کے چھن جانے کی کو اہش کا پہلوا نہ ہوبل کہ اس کے ہاں اس نعمت کی بقاء پر اس تمنا کرنے والے کو خوشی اور سرور محسوس ہوتا ہو۔

55

فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ بِهِۦ وَمِنْهُم مَّن صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا

پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا تو نہ ماننے والوں (کے جلانے) کو دوزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے

Explained together with ayah 54

56

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًۭا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَٰهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًۭا

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے جب ان کی کھالیں گل (اور جل) جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمیشہ) عذاب (کا مزہ چکھتے) رہیں بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

قول باری ہے (کلمانضجت جلودھم بدلنا ھم جلوداغیرھا، جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے ) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے اللہ تعالیٰ جل جانے والی کھالوں کی جگہ نئی کھالیں پیدا کردے گا، اس تفسیر کے قائلین وہ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ کھال انسان کا حصہ نہیں ہوتی ، بلکہ گوشت اور ہڈیاں بھی انسان کی جز نہیں ہوتیں، انسان اس روح کا نام ہے جس نے اس بدن کو اپنالباس بنارکھا ہے۔- اس کے برعکس جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ کھال انسان کا حصہ ہے اور انسان سر سے پیر تک موجود شخص کا نام ہے اس کے نزدیک آیت زیر بحث کی تفسیر یہ ہے کہ کھالوں کی اس طرح تجدید ہوگی کہ انہیں اس حالت پر لایاجائے گا جس پر جل جانے سے پہلے تھیں جس طرح اگر ایک انگوٹھی کو توڑ کر اس سے دوسری انگوٹھی بنائی جائے توکہاجائے گا یہ انگوٹھی اس پہلی انگوٹھی سے مختلف ہے یا جس طرح کوئی شخص اپنی قمیص کو قطع کرکے قباء کی شکل دے دے توکہاجائے گا کہ یہ لباس اس پہلے لباس کا غیر یعنی مختلف ہے۔- بعض کا قول ہے تبدیلی ان کی کھالوں میں واقع نہیں ہوگی بلکہ ان کرتوں کی ہوگی جو انہوں نے پہن رکھے ہوں گے لیکن یہ بہت ہی بعد تاویل ہے کیونکہ کرتے کھال نہیں کہلاتے ۔ واللہ اعلم۔

57

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ لَّهُمْ فِيهَآ أَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ ۖ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّۭا ظَلِيلًا

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ان کو ہم گھنے سائے میں داخل کریں گے

Explained together with ayah 56

58

۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا۟ ٱلْأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُوا۟ بِٱلْعَدْلِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعًۢا بَصِيرًۭا

خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بےشک خدا سنتا اور دیکھتا ہے

امانتوں کی ادائیگی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے واجب کردہ احکام - قول باری ہے (ان اللہ یامرکم ان تودوالامانات الی اھلھا، اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کردو) مفسرین کا ان لوگوں کے بارے میں اختلاف رائے ہے جنہیں اس آیت میں امانتیں ادا کردینے کا حکم دیا گیا ہے۔- زید بن اسلم، مکحول اور شہر بن حوشب سے مروی ہے ان سے مراد ، ولاۃ الامر، یعنی وہ لوگ ہیں جو صاحب امر ہوں ابن جریج کا قول ہے کہ آیت کا نزول عثمان بن طلحہ کے بارے میں ہوا تھا، اس میں حکم دیا گیا تھا کہ بیت اللہ کی کنجیاں انہیں واپس کردی جائیں، حضرت ابن عباس ، حضرت ابی بن کعب، حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ آیت کا تعلق ہراس شخص سے ہے جسے کسی چیز کا امین مقرر کیا گیاہو، یہ تاویل سب سے بہتر ہے کیونکہ قول باری (ان اللہ یامرکم) میں جو خطاب ہے اس کا عموم تمام مکلفین کا مقتضی ہے اس لیے اسے کسی دلالت کے بغیر صرف بعض افراد تک محدود کردینادرست نہیں ہے میراخیال ہے کہ جن حضرات نے اس کی تاویل ولاۃ الامر ، سے کی ہے ان کا ذہن قول باری (واذاحکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کروتوعدل کے ساتھ کرو) کی طرف گیا ہے چونکہ اس میں ولاۃ الامر یعنی ارباب نسبت وکشاد کو خطاب ہے ، اس لیے اس خطاب کے ابتدائی حصے کا رخ بھی ان ہی لوگوں کی طرف تصور کرلیا گیا ہے۔- لیکن بات ایسی نہیں ہے کیونکہ اس میں وکئی امتناع نہیں کہ خطاب کا ابتدائی حصہ تمام لوگوں کے لیے عام ہو اور اس پر بعد کا جو حصہ معطوف کیا گیا ہے وہ ارباب بست وکشاد کے ساتھ خاص ہو، ہم نے قرآن اور غیر قرآن میں اس کے بہت سے نظائر پہلے ہی بیان کردیے ہیں، ابوبکرجصاص مزید کہتے ہیں جس چیز کا کسی کو امین بنایا گیا ہو وہ امانت کہلاتی ہے اس امین کی ذمہ داری ہے کہ وہ امانت کو اس کے مالک کے حوالے کردے۔ ودیعتیں بھی امانتوں میں داخل ہیں ، اس لیے یہ ودیعتیں جن کے پاس رکھی گئی ہوں ان پر انہیں ان کے مالکوں کو لوٹا دیناواجب ہے ، تاہم فقہاء امصار کے مابین اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اگر ودیعت اس شخص کے پاس ہلاک ہوجائے تو اس پر اس کا تاوان عائد نہیں ہوگا۔ سلف میں سے بعض سے اس سلسلے میں تاوان ادا کرنے کی روایت میں بھی موجود ہے ، شعبی نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے اپناسامان مجھ سے اٹھوایا اس کا یہ سامان میرے کپڑوں کے درمیان سے ضائع ہوگیا حضرت عمر نے مجھ سے اس کا تاوان رکھوالیا۔- ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ہے انہیں حامد بن محمد نے ، انہیں شریح نے انہیں ابن ادریس نے ہشام بن حسان سے ، انہوں نے انس بن سیرین سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک سے کہ میرے پاس چھ ہزار درہم بطور ودیعت رکھے گئے پھر یہ درہم ضائع ہوگئے حضرت عمر نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری بھی کوئی چیز اس رقم کے ساتھ ضائع ہوئی ہے ، میں نے نفی میں جواب دیا اس پر حضرت عمر نے مجھ سے تاوان رکھوالیا۔- حجاج نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے کسی کی کوئی چیز اپنے پاس ودیعت رکھ لی لیکن وہ چیز اس شخص کی دوسری اشیاء کے ساتھ ضائع ہوگئی ، حضرت ابوبکر نے اس شخص سے تاوان نہیں رکھوایا، اور فرمایا کہ یہ امانت تھی ، یعنی اس کا کوئی تاوان نہیں ہے۔- ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی انہیں اسماعیل بن فضل نے ، انہیں قتیبہ نے ، انہیں ابن لہیعہ نے عمرو بن شعیب سے انہوں نے اپنے والد سے اور والد کے واسطے سے اپنے دادا سے کہ حضور نے فرمایا، (من استودع ودیعۃ فلاضمان علیہ، جس شخص نے کوئی ودیعت اپنے پاس رکھ لی تو اس پر کوئی تاوان نہیں ) ۔- ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی انہیں ابراہیم بن ہاشم نے انہیں محمد بن عون نے انہیں عبداللہ بن نافع نے محمد بن نبیہ الحجبی سے انہوں نے عمرو بن شعیب سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور والد کے واسطے سے اپنے دادا سے کہ …

59

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍۢ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے

اولی الامر کی اطاعت کا بیان - ارشاد باری ہے (ایا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم، اے ایمان لانے والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں) ۔- ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اولی الامر کی تاویل میں اختلاف رائے ہے حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس ، ایک روایت کے مطابق) حسن ، عطا، اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو فقہ یعنی دین کی سمجھ اور علم رکھنے والے ہوں۔- حضرت ابن عباس (ایک اور روایت کے مطابق) اور حضڑت ابوہریرہ سے مروی ہے اس سے مراد جہاد پر جانے والے فوجی دستوں کے سالار ہیں یہ بھی درست ہے کہ آیت میں یہ تمام لوگ مراد ہوں کیونکہ اولی الامر کا اسم ان سب کو شامل ہے۔- امرائے جیوش شکروں اور فوجی دستوں اور دشمن سے حرب وضرب کی تدابیر سے تعلق رکھنے والے معاملات کے نگران اور ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ علمائے شرعیت کی حفاظت اور معاملات وامور کے جواز اور عدم جواز کی پاسبانی کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔- اس لیے لوگوں کو امراء اور حکام کی اس وقت تک اطاعت کا حکم دیا گیا اور ان کی بات ماننے کے لیے کہا گیا جب تک وہ عدل وانصاف سے کام لیتے رہیں ، رہ گئے علماء تو وہ عادل ہوتے ہیں ان کی شخصیتیں پسندیدہ ہوتی ہیں اور جو کچھ وہ لوگوں کو بتاتے اور جو کچھ کرتے ہیں اس میں ان کی دین داری اور دیانت داری پر لوگوں کو پورا بھروسا ہوتا ہے۔- یہ بات اس قول باری کی نظیر ہے (فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون) اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھو) ایک قول یہ بھی ہے کہ اس جگہ اولی الامر سے امراء یعنی ارباب بست وکشاد مراد لینازیادہ واضح ہوگا، کیونکہ اس سے پہلے انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کا دن گزرچکا ہے یہ ان لوگوں کو خطاب ہے جو احکام و قوانین کی تنقید کے ذمہ دار ہیں ، یعنی حکام اور قضاۃ اس پر اولوالامر کی اطاعت کے حکم کو عطف کیا گیا ہے۔- اس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ اولوالامر سے مراد وہ ارباب بست کشاد ہیں جو لوگوں پر حکومت کرتے ہیں جب تک یہ انصاف پر قائم رہیں اور لوگوں کی نظروں میں پسندیدہ رہیں۔ ان کی اطاعت ضروری ہے لیکن اس میں کوئی امتناع نہیں کہ اولوالامر کے دونوں طبقوں یعنی فوجی دستوں کے امراء اور علماء کی اطاعت اور فرمانبرداری کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہو۔- کیونکہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کے حکم کا پہلے گزرجانا اس بات کی موجب نہیں ہے کہ اولی الامر کی اطاعت کے حکم کو صرف امراء تک محدود کردیاجائے کسی اور کو اس میں شامل نہ کیا جائے جبکہ حضور سے یہ مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (من اطاع امیری فقد اطاعنی) جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے گویا میری اطاعت کی ٩۔- زہری نے محمد بن جبیر بن مطعم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منی میں خیف کے مقام پر کھڑے ہوکر فرمایا (نضر اللہ عبداسمع مقالتی فوعا ھاثم اداھا الی من لم یسمعھا فرب حامل فقہ لافقہ لہ ورب حامل فقہ الی من ھو افقہ منہ ثلاث لایغل علیھن قلب مومن اخلاص العمل اللہ تعالیٰ ، وقال بعضھم وطاعۃ ذوی الامر ، وقال بعضھم والنصیحۃ لاولی الامر ولزوم جماعۃ المسلمین فان دعوتھم تحیط من وراء ھم۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ اور سرسبز شاداب رکھے جس نے میری بات سنی اور اسے یاد رکھا اور پھر ان لوگوں تک پہنچادیا جوا سے سن نہ سکے تھے کیونکہ بعض دفعہ دین کی ایک بات کو دوسروں تک پہنچانے والاایسا ہوتا ہے جسے خود اس بات کی سمجھ نہیں ہوتی اور بعض دفعہ وہ اس بات کو ای سے انسان تک لے جاتا ہے جو اس سے بڑھ کر سمجھ دار ہوتا ہے۔- تین باتیں ایسی ہیں جن کے متعلق ایمان والے کسی دل میں کوئی کھوٹ اور ملاوٹ نہیں ہوتی ، اول اللہ کے لیے اخلاص دوام اولی الامر خیرخواہی ، سوم مسلمانوں کی جماعت سے وابستگی اس لیے کہ مسلمانوں کی دعا انہیں اپنے حفاظتی …

60

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا۟ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓا۟ إِلَى ٱلطَّٰغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوٓا۟ أَن يَكْفُرُوا۟ بِهِۦ وَيُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًۭا

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے

Explained together with ayah 59

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.