Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 41–50 of 176

41

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍۭ بِشَهِيدٍۢ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ شَهِيدًۭا

بھلا اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتائے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے

Explained together with ayah 39

42

يَوْمَئِذٍۢ يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَعَصَوُا۟ ٱلرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ ٱلْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ ٱللَّهَ حَدِيثًۭا

اس روز کافر اور پیغمبر کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش ان کو زمین میں مدفون کرکے مٹی برابر کردی جاتی اور خدا سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے

قول باری ہے (یومئذ یود الذین کفروا وعصوالرسول لوتسوی بھم الارض ولایکتمون اللہ حدیثا) اس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے تمناکریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اسمیں سماجائیں وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے چھپا نہیں سکیں گے ) ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ وہاں یہ لوگ اپنا کوئی حال اور اپنا کوئی عمل اللہ سے چھپا نہیں سکیں گے کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ اللہ کو ان کے تمام اعمال کی اطلاع ہے اور وہ ان کی تمام پوشیدہ باتوں سے آگاہ ہے اس لیے وہ اپنے ان اعمال کا اعتراف کرلیں گے اور انہیں پوشیدہ نہیں رکھیں گے ایک قول ہے کہ یہ کہنا بھی درست ہے کہ یہ لوگ وہاں اپنی پوشیدہ باتوں پر پردہ نہیں ڈال سکیں گے جس طرح انہوں نے دنیا میں ان پر پردہ ڈال رکھا ہے۔- اگریہ کہاجائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق بتایا ہے وہ یہ کہیں گے ہمیں اللہ اپنے رب کی قسم، ہم مشرک نہیں تھے، تو اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ آخرت کے کئی مراحل ہیں ایک مرحلہ تو وہ ہے جہاں آپ ان کے ہمس یعنی دھیمی آواز کے سوا کچھ نہیں سنیں گے ایک اور مرحلہ وہ ہے جہاں ان لوگوں کو کذب بیانی کا موقعہ مل جائے گا اور وہ کہیں گے ہم توبرے کام نہیں کرتے تھے اللہ ہمارے رب کی قسم ہم تو شرک نہیں کرتے تھے ۔- نیز ایک مرحلہ وہ ہے جہاں یہ لوگ اپنی غلطی کا اعتراف کرلیں گے اور اللہ سے درخواست کریں گے انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیاجائے حسن سے یہ تفسیر مروی ہے حضڑت ابن عباس کا قول ہے کہ قول باری (ولایکتمون اللہ حدیثا) اس تمنا میں داخل ہے جس کا ذکر آیت کی ابتداء میں ہوچکا ہے جب ان نافرمانوں کے اعضاء وجوارح زبان گویائی حاصل کرکے ان کا پول کھول دیں گے تو ان کی یہ تمنا ہوگی۔- ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے کتمان کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی کیونکہ اللہ پر سب کچھ عیاں ہے اور اس کی نظروں س کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے گویا عبارت کی ترتیب یوں ہے، انھم غیر قادرین ھنالک علی الکتمان لان اللہ یظھرہ، یہ لوگ وہاں کتمان پر قادر نہیں ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کردے گا) ۔ ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے کتمان کا ارادہ نہیں کیا کیون کہ انہوں نے یہ بات اپنے توہم کے مطابق کی ہے اور یہ بات انہیں اس سے خارج نہیں کرتی کہ انہوں نے کتمان کیا تھا (واللہ اعلم) ۔

43

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقْرَبُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنتُمْ سُكَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا۟ مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِى سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا۟ ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَآءَ أَحَدٌۭ مِّنكُم مِّنَ ٱلْغَآئِطِ أَوْ لَٰمَسْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوا۟ مَآءًۭ فَتَيَمَّمُوا۟ صَعِيدًۭا طَيِّبًۭا فَٱمْسَحُوا۟ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا

مومنو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے (نہ) لگو نماز کے پاس نہ جاؤ اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے پاس نہ جاؤ) جب تک کہ غسل (نہ) کرلو ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کرسکو تو تیمم کرکے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی لو اور منہ اور ہاتھوں پر مسح (کرکے تیمم) کرلو بےشک خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے

کسی شخص کا حالت جنابت میں مسجد کے اندر سے گزرجانا - قول باری ہے (یا ایھا الذین امنوالاتقربوالصلوۃ وانتم سکاری حتی تعلموا ماتقولون ولاجنبا الاعابری سبیل حتی تغتسلوا، اے ایمان والو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک غسل نہ کرلو الایہ کہ راستہ سے گزرتے ہو) ۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں سکر یعنی نشہ کے مفہوم ومراد میں اختلاف رائے ہے حضرت ابن عباس ، مجاہد، ابراہیم اور قتادہ کا قول ہے کہ شراب کی وجہ سے پیدا ہونے والانشہ مراد ہے مجاہد اور حسن کا قول ہے کہ تحریم خمر کے حکم نے اسے منسوخ کردیا ہے ضحاک کا قول ہے کہ اس سے خاص کر نیند کی وجہ سے پیدا ہونے والی مدہوشی مراد ہے۔- اگریہ کہاجائے کہ نشے میں مدہوش انسان کو روکنا کی سے درست ہوسکتا ہے جبکہ عقل پر پردہ پڑجانے کی بنا پر وہ ایک بچے کی طرح ناسمجھ بن جاتا ہے تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی عقل اس حد تک نہ ماری گئی ہو کہ وہ مکلفین کے دائرے سے باہر ہوگیا ہو اوریہ بھی احتمال ہے کہ انہیں نماز کے اوقات میں نشہ کرنے سے روکا گیا ہو یہ مراد لینا بھی درست ہے کہ نہی صرف اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر انہوں نے نشے کی حالت میں نماز ادا کی ہوتوعقل وحواس درست ہوجانے کے بعد ان پر اس کا اعادہ ضروری ہے اور یہ بھی درست ہے کہ آیت کے نزول کے وقت اس سے درج بالا تمام معانی مراد ہوں۔ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ جب آیت میں اس تاویل کی گنجائش ہے کہ اس سے مراد وہ نشہ باز ہوسکتا ہے جس کی عقل اس حد تک نہ ماری گئی ہو کہ وہ مکلف ہی نہ رہا ہو تو اس صورت میں اسے نماز سے روکنا کیسے درست ہوسکتا ہے جب کہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ اس حالت میں نماز ادا کرنے کا حکم اس پر عائد ہوتا ہے ۔- اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے اگر نسخ تسلیم نہ کیا جائے تو اس میں یہ احتمال ہوگا کہ اسے حضور کے ہمراہ یا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے سے روکا گیا ہے ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت کی درست تاویل یہ ہے کہ سکر سے شراب کانشہ مراد ہے اس لیے کہ سوئے ہوئے انسان نیز اس شخص کو جس کی آنکھوں میں نیند کا غلبہ ہو سکران نہیں کہاجاتا۔- لیکن جس پر شراب کانشہ طاری ہودرحقیقت اسے سکران کہاجاتا ہے اس لیے لفظ کو اس کے حقیقی معنوں پر محمول کرنا واجب ہے اور مجازی معنوں پر صرف اس وقت محمول کیا جاسکتا ہے جب اس کے لیے کوئی دلالت موجود ہو۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سفیان نے عطاء بن ابی سائب سے انہوں نے ابوعبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت علی سے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ ایک انصاری نے کچھ لوگوں کو پینے پلانے کی دعوت دی مجلس میں دورجام چلنے کے بعد جب مغرب کی نماز کا وقت ہوگیا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف امامت کے لیے آگے بڑھے نماز میں انہوں نے سورة الکافرون کی قرات کی اور پوری طرح ہوش میں نہ ہونے کی وجہ سے آیات کو باہم گڈ مڈ کردیا۔- اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ، لاتقربوالصلوۃ وانتم سکاری) ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے روایت بیان کی ہے کہ انہیں جعفر بن محمد بن الیمان المودب نے ، انہیں ابوعبید نے انہیں حجاج نے ابن جریج اور عثمان بن عطاء سے انہوں نے عطاء خراسانی سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، (یسئلونک عن الخمر والمیسر، قل فیھما اثم کبیر، و منافع للناس۔- اورسورہ نساء میں ارشاد ہے ، لاتقربوالصلوۃ وانتم سکاری، پھرا سے اس آیت نے منسوخ کردیا، (یا ایھا الذین امنوانماالخمر والمیسر والانصاب ، ،، اے ایمان والو یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو) ۔- ابوعبید نے کہا ہمیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے قول باری (یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر کے سلسلے میں …

44

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًۭا مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ يَشْتَرُونَ ٱلضَّلَٰلَةَ وَيُرِيدُونَ أَن تَضِلُّوا۟ ٱلسَّبِيلَ

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا تھا کہ وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی رستے سے بھٹک جاؤ

Explained together with ayah 43

45

وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِأَعْدَآئِكُمْ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَلِيًّۭا وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ نَصِيرًۭا

اور خدا تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور خدا ہی کافی کارساز ہے اور کافی مددگار ہے

Explained together with ayah 43

46

مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَٱسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍۢ وَرَٰعِنَا لَيًّۢا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًۭا فِى ٱلدِّينِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَٱسْمَعْ وَٱنظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًۭا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَٰكِن لَّعَنَهُمُ ٱللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًۭا

اور یہ جو یہودی ہیں ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا اور سنیئے نہ سنوائے جاؤ اور زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کی راہ سے (تم سے گفتگو) کے وقت راعنا کہتے ہیں اور اگر (یوں) کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف) اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا (کہتے) تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور بات بھی بہت درست ہوتی لیکن خدان نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے تو یہ کچھ تھوڑے ہی ایمان لاتے ہیں

Explained together with ayah 43

47

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ ءَامِنُوا۟ بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًۭا لِّمَا مَعَكُم مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوهًۭا فَنَرُدَّهَا عَلَىٰٓ أَدْبَارِهَآ أَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّآ أَصْحَٰبَ ٱلسَّبْتِ ۚ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ مَفْعُولًا

اے کتاب والو! قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے مونہوں کو بگاڑ کر ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہاری کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لے آؤ اور خدا نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہوچکا

Explained together with ayah 43

48

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفْتَرَىٰٓ إِثْمًا عَظِيمًا

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کردے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا

Explained together with ayah 43

49

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ ٱللَّهُ يُزَكِّى مَن يَشَآءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں پاکیزہ کہتے ہیں (نہیں) بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا

قول باری ہے (الم تر الی الذین یزکون انفسھم، کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھاجوبہت اپنی پاکیزگی نفس کا دم بھرتے ہیں) حسن ، قتادہ، اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود ونصاری کا وہ قول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ نیز یہ کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہود ی انصاری ہوں گے، حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ ا س سے مراد لوگوں کا ایک دوسرے کی پاکیزگی متنفس کا ظہار ہے تاکہ اس کے ذریعے کوئی دنیاوی مفاد حاصل ہوجائے۔- ابوبکرجصاص کہتے ہیں یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس نقطہ نظر سے پاکیزگی نفس کا دم بھرنا ممنوع ہے اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے ، (فلاتزکوا انفسکم) تم اپنی پاکیزگی نفس کا دم نہ بھرو) حضور سے بھی مروی ہے آپ نے فرمایا، (اذارائیتم المداحین فاحثوا فی وجوھھم التراب، جب تم تعریفیں کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے منہ پر مٹی دے مارو) ۔

50

ٱنظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۖ وَكَفَىٰ بِهِۦٓ إِثْمًۭا مُّبِينًا

دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ (طوفان) باندھتے ہیں اور یہی گناہ صریح کافی ہے

Explained together with ayah 49

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.