Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 31–40 of 176

31

إِن تَجْتَنِبُوا۟ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًۭا كَرِيمًۭا

اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے

Explained together with ayah 30

32

وَلَا تَتَمَنَّوْا۟ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا ٱكْتَسَبُوا۟ ۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا ٱكْتَسَبْنَ ۚ وَسْـَٔلُوا۟ ٱللَّهَ مِن فَضْلِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًۭا

اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

تمنا کرنے کی نہیں - قول باری ہے (ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض، اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو) سفیان نے ابن ابی نجیع سے ، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کی ہے، وہ فرماتی ہیں۔ ” میں نے ایک دن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ مرد لوگ جہاد پر جاتے ہیں عورتیں نہیں جاتیں۔ مردوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ عورتوں کا نہیں ہوتا “ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ولاتتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض) تا آخر آیت ۔ نیز یہ آیت بھی نازل ہوئی (ان المسلمین والمسلمات۔ بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں) تا آخر آیت - قتادہ نے حسن سے روایت کی ہے کہ کوئی شخص مال کی تمنا نہ کرے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ کہیں اسی مال میں اس کی ہلاکت کا سامان نہ موجود ہو۔ زیر بحثت آیت کی تفسیر میں سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ اہل جاہلیت عورت اور بچے کو اپنا وارث نہیں بناتے تھے اور اپنی اپنی پسند کے افراد کو دے دیتے تھے۔ - پھر اسلام آنے کے بعد جب عورت اور بچے کو اپنا اپنا حصہ مل گیا اور مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر قرار دیا گیا تو عورتیں کہنے لگیں کاش ہمارا حصہ بھی مردوں کے حصے کی طرح ہوتا اور دوسری طرف مرد یہ کہنے لگے کہ جس طرح میراث میں حصوں کے لحاظ سے ہمیں عورت۔ ں پر فضیلت ہے امید ہے کہ آخرت میں بھی ہمیں اسی طرح ان پر فضیلت حاصل ہوجائے گی۔ - اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ( وللرجال نصیب مما اکتسبوا و للنساء نصیب مما اکتسبن، جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عورت کو اس کی نیکیوں کا دس گنا بدلہ ملے گا جس طرح مرد کو اس کی نیکیوں کا ملے گا۔ - پھر فرمایا ( واسئلوا اللہ من فضلہ ان اللہ کان بکل شئ علیما، ہاں اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے) اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا کرنے سے منع فرمادیا ہے۔ کیونکہ اس کے علم میں اگر یہ بات ہوتی کہ فلاں کو عطاء کرنے میں اس کی بھلائی ہے تو اس کے مقابلہ میں کسی اور کو اپنے فضل سے نہ نوازتا۔ - دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بخل یا عدم فضل کی بنا پر کسی سے اپنا فضل نہیں روکتا ، بلکہ روکتا اس لیے ہے کہ اسے وہ چیز عطا کرے جو اس سے بڑھ کر ہو۔ اس آیت کے ضمن میں حسد سے نہیں بھی موجود ہے۔ کیونکہ حسد میں اس بات کی تمنا ہوتی ہے کہ دوسرے کی نعمت اس سے زائل ہو کر حاسد کو مل جائے۔ - اس کی مثال وہ روایت ہے جس کے راوی حضرت ابوہریرہ (رض) ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (لا یخطب لارجل علی خطبۃ اخیہ ولایسوم علی سوم اخیہ ولا تسال المرأۃ طلاق اختہا لتکفئ ما مفی صحفتہا فان اللہ ہو رازقہا، کوئی شخص اس عورت کو پیغام نکاح نہ بھیجے جسے اس کا مسلمان بھائی پہلے ہی پیغام نکاح بھیج چکا ہو۔ کوئی شخص اس چیز کی قیمت نہ لگائے جس کی اس کا مسلمان بھائی پہلے ہی قیمت لگا چکا ہو۔ کوئی شخص اس چیز کی قیمت نہ لگائے جس کی اس کا مسلمان بھائی پہلے ہی قیمت لگاچکا ہو۔ اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کی اس نیت سے طلبگار نہ بنے کہ اس کے برتن میں جو کچھ ہے اسے خود سمیٹ لے۔ اس کا رازق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ )- حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمادیا کہ جب ایک عورت کو مرد کی طر ف سے نکاح کا پیغام جا چکا ہو اور عورت کا میلان بھی اس کی طرف ہوگیا ہو اور وہ رضامند بھی ہوگئی ہو تو ایسی صورت میں کوئی شخص اسے پیغام نکاح نہ بھیجے۔ - اسی طرح آپ نے کسی چیز پر ایک شخص کی طرف سے مول بھاؤ ہوجانے پر دوسرے شخص کو اس چیز کی قیمت لگانے سے منع فرما دیا تو حضور اکرم (صلی اللہ …

33

وَلِكُلٍّۢ جَعَلْنَا مَوَٰلِىَ مِمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ ۚ وَٱلَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَٰنُكُمْ فَـَٔاتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدًا

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حق داروں میں تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو بےشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے

عصبہ کا بیان - قول باری ہے (ولکل جعلناموالی مما ترک الوالدان ولاقربون، اور ہم نے ہر اس ترکے کے حق دار چھوڑے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں) حضرت ابن عباس (رض) ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ یہاں موالی سے مراد عصبہ ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ موالی ورثاء کو کہتے ہیں۔ - ایک قول کے مطابق مولیٰ کی اصل معنی ہیں وہ شخص جو کسی چیز کا ولی اور سرپرست بن گیا ہو جس کا مفہوم یہ ہے کہ سرپرستی کا تعلق اس چیز میں تصرف کے حق کے ساتھ قائم ہوجائے۔ - ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ مولی ایک مشترک لفظ ہے جس کے کئی معانی ہیں اپنے غلام کو آزاد کردینے والا آقا مولی کہلاتا ہے۔ کیونکہ اسے آزادی دینے کے سلسلے میں وہی اس کا ولی نعمت ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے آقا کو مولی النعمۃ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ - آزاد شدہ غلام کو بھی مولی کہتے ہیں کیونکہ آقا کی طرف سے اسے آزادی کی نعمت سے مالا مال کرنے کی بنا پر اسے کے آقا کی ولایت اس کے ساتھ متصل ہوجاتی ہے۔ اس لفظ کی حیثیت وہی ہے جو لفظ غریم کی ہے۔ طالب یعنی قرض دینے والے کو بھی غریم کہتے ہیں کیونکہ اسے مقروض کے پیچھے پڑے رہنے اور قرض کی واپسی کے مطالبے کا حق ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ مطلوب یعنی مقروض کو بھی غریم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ وہ قرض کی ادائیگی کے مطالبہ کی زد میں ہوتا ہے اور اس کے ذمے قرض کی رقم لگی ہوتی ہے۔ - باپ اور بیٹے کے واسطے سے مذکر رشتہ داروں یعنی عصبہ کو بھی مولی کہا جاتا ہے اور کسی حلف یعنی دوستی کے معاہدے میں شریک حلیف کو بھی مولی کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ دوستی کے اس معاہدے کی بنا پر وہ اپنے حلیف کے معاملات کا ولی اور سرپرست و نگران ہوتا ہے چچا زاد بھائی کو بھی مولی کہتے ہیں کیونکہ وہ قرابت اور رشتہ داری کی بنیاد پر مدد کرتا اور ساتھ دیتا ہے۔ - ولی کو بھی مولی کہتے ہیں کیونکہ وہ مدد کرنے اور ساتھ دینے کی صورت میں سرپرستی اور معاملات کی نگرانی کرتا ہے قول باری ہے (ذالک بأن اللہ مولی الذین آمنوا و ن الکافرین لامولی لہم) یہ اس لیے کہ اللہ تعلایٰ اہل ایمان کا مولی اور ان کا مددگار ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں ہے۔ ) یعنی اللہ تعالیٰ نصرت اور مدد کے ذریعے اہل ایمان کی سرپرستی کرتا ہے جبکہ کافروں کا کوئی مدد کرنے والا نہیں جس کی مدد کسی شمار و قطار میں ہو۔ فضل بن عباس سے شعر منسوب ہے - مہلا بنی عمنا مہلا موالینا - لاتظہرن لنا ما کان مدفونا - اسے ہمارے چچا کے خاندان والو، اے ہمارے موالی ذرا صبر سے کام لو اور ہمارے سامنے اس دشمنی کا اظہا رنہ کرو جو اسلام آنے کے بعد دفن کردی گئی تھی، شاعر کا روئے سخن بنی امیہ کی طرف ہے۔ - شعر میں شاعر نے چچا کے بیٹوں کو موالی کا نام دیا ہے۔ غلام کے مالک کو بھی مولی کہتے ہیں کیونکہ ملکیت ، نصرت، ولایت ، نصرت اور حمیات کی صورت میں وہ اس کا نگران اور سرپرست ہوتا ہے۔ اس طرح مولی کے سام کے درج بالا معانی ہے اور اس لیے یہ ایک مشترک لفظ ہے جس کی بنا پر اس کے عموم کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ - اس لیے ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنے موالی کے لیے وصیت کی ہو تو اگر درجے کے لحاظ سے اس کے اعلی اور اسفل دونوں قسم کے موالی موجود ہ۔ ں گے تو اس کی یہ وصیت باطل ہوجائے گی کیونکہ ان دونوں قسموں کے موالی کا ایک ہی حالت میں لفظ کے تحت آنا ممتنع ہے نیز ان میں کوئی بھی دوسرے کے مقابلے میں اولی نہیں ہے۔ اس لیے وصیت باطل ہوجائے گی۔ - یہاں مولی کے تمام معانی میں سے عصبہ کے معنی زیادہ قریب ہیں کیونکہ اسرائیل نے حصین سے ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ( انا اولی بالمومنین من مات وترک مالا فمالہ للموالی العصبۃ ۔ ومن ترک کلا او ضیاعا فانا ولیہ۔- میں اہل ایمان کے سب سے زیادہ قریب ہوں جو شخص وفات پا …

34

ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ وَبِمَآ أَنفَقُوا۟ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ ۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٌۭ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُ ۚ وَٱلَّٰتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهْجُرُوهُنَّ فِى ٱلْمَضَاجِعِ وَٱضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا۟ عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيًّۭا كَبِيرًۭا

مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال وآبرو کی) خبرداری کرتی ہیں اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زدوکوب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو بےشک خدا سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے

عورت پر شوہر کی اطاعت کا وجوب - قول باری ہے (الرجال قوامون علی النساء بمافضل اللہ بعضھم علی بعض وبما انفقوا من اموالھم، مرد عورتوں پر قوام ہیں اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ یونس نے حسن سے روایت کی ہے ایک شخص نے اپنی بیوی کو مار کر زخمی کردیا، اس کا بھائی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا آپ نے ساراواقعہ سن کر فیصلہ دیا کہ مرد سے قصاص لیاجائے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، آیت کے نزول کے بعد آپ نے فرمایا، ہم نے ایک امر کا ارادہ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے کسی اور امر کا ارادہ کرلیا۔- جریر بن حازم نے حسن سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طمانچہ مارا، بیوی نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے خلاف شکایت کی ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ دیا کہ قصاص لیاجائے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی، ولاتعجل بالقران من قبل ان یقضی الیک وحیہ، تم قرآن پڑھنے میں جلد بازی نہ کرو، قبل، اس کے کہ آپ پر اس کی وحی نازل ہوچکے) پھر اللہ تعالیٰ نے آیت زیر بحث نازل فرمائی۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ پہلی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان جان لینے سے کمتر کی زیادتی اور نقصان کا کوئی قصاص نہیں ہے۔ زہری سے بھی اسی قسم کی روایت ہے دوسری حدیث میں یہ ممکن ہے کہ شوہر نے اسے اس کی نافرمانی اور سرکشی کی بنا پر طمانچہ مارا ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی حالت میں ضرب اور مارپیٹ کی اباحت کردی ہے۔- چنانچہ ارشاد ہے (وللاتی تخافون نشوزھن فعظوھن واھجروھن فی المضاجع واضربوھن ، اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہوا نہیں سمجھاؤ خوابگاہوں میں ان سے علیحدہ رہو اور مارو) اگر یہ کہاجائے کہ درج بالاواقعہ میں اگر بیوی کی سرکشی کی بنا پر مرد کی طرف سے پٹائی کا اقدام ہوتا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی قصاص واجب نہ کرتے ، اس کے جواب میں یہ کہاجائے کا کہ آپ نے یہ بات اس آیت کے نزول سے پہلے ارشاد فرمائی تھی جس میں سرکشی کی بنا پر ضرب کی اباحت کا حکم دیا گیا ہے۔- اس لیے کہ قول باری (الرجال قوامون علی النساء تا قول باری واضربوھن) بعد میں نازل ہوئی اس لیے آپ نے اس آیت کے نزول کے بعد شوہر پر کوئی چیز واجب نہیں کی۔ اس لیے قول باری (الرجال قوامون علی النساء) میں مرد کے قوام ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ عورت کی حفاظت ونگہبانی کرنے، اس کی ضروریات مہیا کرنے اور اسے تادیب کرنے اور درست حالت میں رکھنے کا ذمہ دارہوتا ہے۔- کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عقل اور رائے کے لحاظ سے مرد کو عورت پر فضیلت دی ہے نیز فضیلت کی کی یہ وجہ بھی ہے کہ مرد عورت کے تمام اخراجات کا کفیل ہوتا ہے ، اس آیت کی کئی معانی پر دلالت ہورہی ہے ایک تو یہ کہ درجے اور مرتبے کے لحاظ سے مرد کو عورت پر فضیلت حاصل ہے اور مرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ عورت کی حفاظت ونگہبانی اور اس کی دیکھ بھال نیز اس کی تادیب کا کام خود سنبھالے رکھے۔- یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ مرد کوا سے گھر میں رو کے رکھنے اور گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگانے کا اختیار اور عورت پر مرد کی اطاعت اور اس کا حکم بجالانا واجب ہے بشرطیکہ وہ کسی معصیت اور گناہ کے ارتکاب کا حکم نہ دے رہا ہو۔- آیت کے اندریہ دلالت بھی ہے کہ مرد پر عورت کانان ونفقہ واجب ہے جیسا کہ ہوا (وبماانفقوا من اموالھم اس کی مثال یہ قول باری ہے (وعلی المولودلہ رزقھم وکسوتھن بالمعروف) نیز) لینفق ذوسعۃ من سعتہ، وسعت والے کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔- حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ، (ولھن رزقھن وکسوتھن بالمعروف، دستور کے مطابق ان کے لیے کھانا کپڑا ہے ) قول باری وبماانفقوا من اموالھم، مہر اور نان دونوں پر مشتمل ہے کیونکہ ان دونوں باتوں کی ذمہ داری شوہر …

35

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَٱبْعَثُوا۟ حَكَمًۭا مِّنْ أَهْلِهِۦ وَحَكَمًۭا مِّنْ أَهْلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصْلَٰحًۭا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيْنَهُمَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًۭا

اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

قول باری ہے (وان خفتم شقاق بینھما فابعثوا حکمامن اھلہ وحکما من اھلھا، اور اگر تمہیں کہیں میاں اور بیوی کے درمیان تعلقات بگڑجانے کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو) اس آیت کے مخاطب کون ہیں اس بارے میں اختلاف رائے ہے ، سعید بن جبیر اور ضحاک کا قول ہے یہ حاکم اور سلطان ہے جس کے پاس میاں بیوی اپنامقدمہ لے کرجاتے ہیں سدی کا قول ہے یہ میاں اور بیوی ہیں۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (واللاتی تخافون نشوزھن) میں شوہروں کے خطاب ہے ، کیونکہ آیت کے تسلسل و ترتیب میں اس پر دلالت موجود ہے ، جو قول باری (واھجروھن فی المضاجع) کی صورت میں ہے اور قول باری (وان خفتم شقاق بینھما) میں بہتر بات یہی ہے یہ اس حاکم کو خطاب ہوجومقدمے کے دونوں فریق کے جھگڑے پر غور کرتا اور ظلم وتعدی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔- یہ اس لیے کہ شوہر کا معاملہ بیان کرنے کے بعد اسے اپنی بیوی کو سمجھانے ، نصیحت کرنے اور اللہ سے ڈرنے کا حکم ملا، پھر باز نہ آنے پر خواب گاہ میں علیحدگی اختیار کرنے کے لیے کہا گیا اور پھر بھی باز نہ آنے اور سرکشی پر قائم رہنے کی صورت میں پٹائی کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد شوہر کے لیے اس کے سو اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا، کہ وہ اپنامقدمہ فیصلے کے لیے اس شخص کے پاس لے جائے جوان دونوں میں سے مظلوم کی داد رسی کردے اور اس کا فیصلہ دونوں پر نافذ ہوجائے۔- شعبہ نے عمرو بن مرہ سے نقل کیا ہے انہوں نے سعید بن جبیر سے حکمین کے متعلق دریافت کیا توا نہیں غصہ آگیا کہنے لگے کہ میں تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوا تھا (دراصل سعید کو غلط فہمی ہوئی کہ سائل ان سے جنگ صفین کے نتیجے میں مقرر ہونے والے حکمین کے متعلق پوچھ رہا ہے۔- عمروبن مرہ نے کہا میں میاں بیوی کا جھگڑا نمٹانے والے حکمین کے متعلق معلوم کرنا چاہتاہوں یہ سن کر سعید بن جبیر نے فرمایا جب میاں بیوی کے درمیان لے دے شروع ہوجائے تورشتہ داروں کو چاہیے کہ دوحکم مقرر کردیں۔- یہ دونوں اس فریق کے پاس جائیں جس کی طرف جھگڑے کی ابتداء ہوئی تھی اور اسے سمجھائیں بجھائیں اگر وہ ان کی بات مان لے توفبھا، ورنہ پھر دوسرے فریق کے پاس جائیں اگر وہ ان کی بات سن کر ان کے حسب منشاء رویہ اپنانے پر رضامند ہوجائے توٹھیک ورنہ ان دونوں کے بارے میں وہ اپنافیصلہ سنادیں ، ان کا جو فیصلہ ہوگا وہ جائز ہوگا اور درست ہوگا۔ عبدالوہاب نے روایت کی ہ یکہ انہیں ایوب نے سعید بن جبیر سے خلع کی خواہش مند بیوی کے متعلق بیان کیا کہ شوہر پہلے اسے سمجھائے اگر وہ باز آجاے توٹھیک ہے ورنہ اس سے علیحدہ رہناشروع کردے اگر پھر بھی باز نہ آئے تو اس کی پٹائی کرے اور اگر پھر بھی وہ اپناسابقہ رویہ ترک نہ کرے توسلطان کے پاس اس کا معاملہ لے جائے ، سلطان خاوند اور بیوی کے رشتہ داروں میں سے ایک ایک حکم مقرر کردے گا۔ بیوی کے خاندان سے مقرر ہونے والاحکم شوہر کی کارگذاریاں گنوائے گا اور شوہر کے خاندان سے مقرر ہونے والاحکم بیوی کی کارگذاریاں بیا کرے گا۔- ان بیانات کی روشنی میں جس طریق کی طرف سے زیادہ ظلم نظر آئے گا اسے حکمین سلطان کے حوالے کردیں گے سلطان اسے ظلم کرنے سے روک دے گا، اگر عورت کی سرکشی ثابت ہوجائے گی تو مرد کو خلع کرلینے کا حکم دے دیاجائے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ طریق کار اس لحاظ سے عنین (نامرد) مجبوب (جس کا عضو تناسل کٹ چکا ہو) اور ایلاء کے سلسلے میں اختیار کیے جانے والے طریق کار کی نظیر ہے کہ ان کے معاملات پر بھی سلطان سوچ بچار کرتا اور اللہ کے حکم سے بموجب ان کا فیصلہ کرتا ہے۔- جب میاں بیوی میں اختلافات بڑھ جائیں اور شوہر اپنی بیوی کی سرکشی اور نافرمانی کی شکایت کرے اور بیوی شوہر کے ظلم وستم اور اپنے حقوق کی پائمالی کی شاکی ہوتوایسی صورت میں حاکم میاں بیوی دونوں کے رشتہ داروں میں سے ایک ایک حکم مقرر کردے …

36

۞ وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا وَبِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْجَارِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْجَارِ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًۭا فَخُورًا

اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

والدین کے ساتھ نیکی کرنا - قول باری ہے (واعبداللہ ولاتشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا) اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو) اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ نیکی کے لزوم کو اپنی عبادت اور وحدانیت کے ساتھ مقرر کردیا اور اس کا اسی طرح حکم دیا جس طرح ان دونوں کا حکم دیا، نیز اپنے قول (ان ش کرلی ولوالدیک، یہ کہ میرا شکرکرو اور اپنے والدین کا) میں ان دونوں کا شکرادا کرنے کے حکم کو رب کا شکر ادا کرنے کے حکم کے ساتھ متصل کردیا۔- والدین کے حقوق کی عظمت اور ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے وجوب پر یہی دلالت کافی ہے نیز فرمایا (ولاتقل لھمااف ولاتنھرھما وقل لھماقولا کریما، اور انہیں اف تک نہ کہو اور نہ ہی انہیں جھڑکو اور ان سے ہمیشہ نرم لہجے میں گفتگو کرو۔ نیز فرمایا، ووصیناالانسان ب والدین حسنا، اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کی وصیت کی ) ۔- کافر والدین کے متعلق ارشاد ہوا (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلاتطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا) اور اگر تمہیں یہ دونوں اس بات پر مجبورکریں کہ تم میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں تو ان دونوں کی نہ مانو اور دنیا میں ان کے ساتھ بھلے طریقے سے رہو) ۔- عبداللہ بن انیس نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا، اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، اور جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑھ کر ہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے جب کوئی شخص کسی چیز کی قسم کھاتا ہے خواہ وہ چیز مچھر کے برابر کیوں نہ ہو تو اس کے دل میں ایک دھبہ پڑجاتا ہے جو قیامت تک باقی رہتا ہے) ۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ معروف میں والدین کی اطاعت واجب ہے اللہ کی معصیت میں نہیں ، اس لیے کہ خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاتی۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ، انہیں ابوداؤد نے ، انہیں سعید بن منصور نے ، انہیں عبداللہ بن وہب نے ، انہیں عمرو بن الحارث نے ، انہیں ابوالسمح دراج نے ابوالہیـثم سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری سے کہ یمن کا ایک شخص ہجرت کرکے حضور کی خدمت میں آگیا۔ آپ نے اس سے دریافت کیا کہ یمن میں تمہارا کوئی رشتہ دار ہے ، اس نے جواب دیا کہ میرے والدین ہیں، آپ نے پوچھا، انہوں نے تمہیں یہاں آنے کی اجازت دی تھی ؟ اس نے نفی میں جواب دیا، آپ نے فرمایا واپس جاؤ اور ان سے اجازت طلب کرو اگر وہ اجازت دے دیں توپھرجہاد پر جاؤ ورنہ ان کے ساتھ نیکی کرتے رہو۔- اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ کسی شخص کے لیے والدین کی اجازت کے بغیر جہاد پر جانا جائز نہیں ہے ، جبکہ دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے والوں کی موجودگی میں اسے جہاد پر نکلنے کی ضرورت نہ ہو، تجارت یا کسی اور غرض سے سفر جس میں قتال کی صورت پیش نہ آتی ہو اگر والدین کی اجازت کرلیاجائے تو ہمارے اصحاب کے قول کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس لیے کہ حضور نے اس یمنی کو والدین کی اجازت کے بغیر جہاد پر جانے سے منع فرمادیا تھا، جبکہ اس فرض کو اس کے سوادوسرے لوگ ادا کررہے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جہاد پر جانے کی صورت میں ممکن تھا کہ وہ شہید ہوجاتا اور اس کے والدین کو اس کا صدمہ برداشت کرنا پڑتا، لیکن تجارت اور جائز قسم کے کاموں کی غرض سے سفر جس میں قتل وغیرہ کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا، والدین سے عام طور پر اس سے نہیں روکتے ، اس لیے ان کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔- والدین کے حقوق کی عظمت کی اللہ تعالیٰ نے جو تاکید کی ہے اس کی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے اگر کسی مسلمان کا کافر باپ مسلمانوں سے برسرپیکار ہو تو وہ اپنے ہاتھ سے قتل کرنے سے گریز کرے کیونکہ فرمان الٰہی ہے ، (ولاتقل لھمااف) نیز قول باری ہے …

37

ٱلَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ ۗ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو (مال) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

بخل کی مذمت - قول باری ہے (الذین یبخلون ویامرون الناس بالبخل ویکتمون مااتاھم اللہ من فضلہ، اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اور اسے چھپاتے ہیں۔ بخل کے معنی کے بارے میں ایک قول ہے کہ کسی کو کچھ دینے کی مشقت اور بوجھ کا نام بخل ہے ایک قول یہ ہے کہ ایسی چیز کونہ دینے کا نام بخل ہے جس کے نہ دینے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور دے دینے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، ایک اور قول ہے کہ جس چیز کا دینا واجب ہوا اسے نہ دینا بخل کہلاتا ہے اس کا مترادف لفظ شح اور متضاد وجود ہے۔- شرعیت میں استعمال ہونے والے اسماء میں اس لفظ کی شمولیت کی بنا پر اس کے جو معنی سمجھے گئے ہیں وہ واجب شی کونہ دینے اور روکنے کے ہیں ایک قول ہے کہ شریعت میں اس لفظ کا اطلاق صرف اس جہت سے درست ہے کہ اس کے مرتکب نے اپناہاتھ روک کر اورواجب ہونے والی چیز نہ دے کر بہت بڑا گناہ کیا ہے۔- ارشاد باری ہے ، (ولایحسبن الذین یبخلون بمااتاھم اللہ من فضلہ ھو خیرالھم بل ھو شرلھم، جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ان کے لیے اچھی ہے ، نہیں، یہ ان کے حق میں نہایت بری ہے ، پھر فرمایا (سیطوفون مابخلوا بہ یوم القیامۃ، جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کررہے ہیں وہی قیامت کے روزان کے گلے کا طوق بن جائے گا) اللہ تعالیٰ نے اس وعید کا ان لوگوں پر اطلاق کیا ہے جو اللہ کے اس حق کی ادائیگی میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں ، جو اس نے ان کے مال میں واجب کردیا ہے ، قول باری (ویکتمون مااتاھم اللہ من فضلہ) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ، مجاہد اور سدی سے مروی ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ انہوں نے اللہ کے عطا کردہ رزق میں بخل کیا تھا اور حضور کی جن نشانیوں اور خصوصیات کا انہیں علم دیا گیا تھا اسے وہ چھپاگئے تھے۔- ایک قول ہے آیت کے مصداق وہ لوگ ہیں جن کے اندر یہ صفت پائی جاتی ہو اور وہ لوگ بھی اس کے مصداق ہیں جو اللہ کی نعمتوں کو چھپاجائیں اور ان کا انکار کربیٹھیں، یہ چیز اللہ کے ساتھ کفر کرنے کے مترادف ہے ۔- ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اللہ کے انعامات کا اعتراف واجب ہے اور ان کا جھٹلانے والاکافر ہے کفر کے اصل معنی اللہ کے انعامات پر پردہ ڈالنے انہیں چھپاجانے اور جھٹلانے کے ہیں یہ بات ا سپردلالت کرتی ہے کہ انسان کے لیے اس پر ہونے والے انعامات ربانی کو بیان کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس میں فخر کا پہلو نہ ہو بلکہ منعم کی نعمت کے اعتراف اور اس کے شکر کا پہلو ہو۔- یہ بات اس قول باری کی طرح ہے ، (وامابنعمۃ ربک فحدث) اور اپنے رب کی نعمت کو بیان کر) حضور کا ارشاد ہے ، میں اولاد آدم کا سردار ہوں لیکن میں اس پر فخر نہیں کرتا، اور میں عربوں میں سب سے بڑھ کر فیصیح ہوں لیکن اس پر فخر نہیں کرتا۔- حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرماکر آپ پر ہونے والے انعامات ربانی کی خبر دی ہے اور یہ واضح فرمادیا کہ آپ ان انعامات کا ذکر اظہار فخر کے طور پر نہیں کررہے ہیں آپ کا ارشاد ہے ، کس بندے کے لیے مناسب نہیں ہے یہ کہنا کہ میں یونس بن متی سے بہترہوں) حضور اگرچہ حضرت یونس بن متی (علیہ السلام) سے بہتر تھے لیکن آپ نے اظہار فخر کے طور پر ایساکہنے سے منع فرمادیا۔- قول باری ہے (فلاتزکوانفسکم ھواعلم بمن اتقی، تم اپنے آپ کو مقدس نہ سمجھو، تقوی والوں کو وہی خوب جانتا ہے ) حضور سے مروی ہے کہ آپ نے ایک شخص کو کسی کی تعریف کرتے ہوئے سنا اپ نے فرمایا، لوسمعک لقطعت ظھرہ، اگر وہ شخص تمہاری بات سن لیتاتوتم ان تعریفی الفاظ کے بوجھ سے اس کی پشت توڑ کر رکھ دیتے۔- حضرت مقداد نے ایک شخص کو حضرت عثمان کے منہ پر ان کی تعریفیں کرتے ہوئے سنا توفورامٹی لے کر اس کے منہ پردے ماری اور …

38

وَٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۗ وَمَن يَكُنِ ٱلشَّيْطَٰنُ لَهُۥ قَرِينًۭا فَسَآءَ قَرِينًۭا

اور خرچ بھی کریں تو (خدا کے لئے نہیں بلکہ) لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہ خدا پر لائیں اور نہ روز آخرت پر (ایسے لوگوں کو ساتھی شیطان ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو (کچھ شک نہیں کہ) وہ برا ساتھی ہے

سخاوت میں ریاکاری کی مذمت - قول باری ہے (والذین ینفقون اموالھم رئاء الناس ولایومنون بااللہ ولابالیوم الاخر ، اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز آخرت پر) ۔- آیت کا مفہوم ۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے جو خود کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دیتے ہیں نیز ان لوگوں کے لیے جو اپنے مال مخصوص لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں ذلت آمیز عذاب تیارکررکھا ہے۔- اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ بندہ جو کام بھی اللہ کی خاطر نہیں کرتا اس میں عبادت کا پہلو نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ اس کام پر ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے اس لیے کہ بندہ جو کام بھی دکھلاوے کی خاطر کرتا ہے اسمیں اس کا ارادہ دنیاوی معاوضہ حاصل کرنا ہوتا ہے مثلا ، یہ کہ اس کام پر خوبصورت الفاظ میں اس کا تذکرہ کیا جائے تعریفوں کے ڈونگرے برسائے جائیں وغیرہ وغیرہ۔- اس طرح یہ بات اس قاعدے کے لیے اصل اور بنیاد بن گئی کہ ہر وہ کام جس میں دنیاوی معاوضہ مدنظر ہو وہ قربت یعنی عبادت نہیں کہلاسکتا مثلاحج کرنے یا نماز کے لیے کسی کو اجرت پر لینا، اس طرح تمام عبادات کا حکم ہے کہ جب عبادت کرنے والاکسی معاوضے کا مستحق قرار دیاجائے گا، تو وہ عبادت تقرب الٰہی کے دائرے سے خارج ہوجائے گی۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ ان افعال کی ادائیگی کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ انہیں تقرب الٰہی اور اس کی رضاجوئی کی خاطر ادا کیا جائے، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان عبادات الٰہی پر کسی معاوضے اور اجرت کا استحقاق جائز نہیں اور ان کے لیے مزدوری کے طورپر کسی کو مقرر کرنا باطل ہے۔

39

وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِهِمْ عَلِيمًا

اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے

قول باری ہے (وماذاعلیھم لوامنوا بااللہ والیوم الاخر وانفقوا ممارزقھم اللہ ، آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی ہے اگر یہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ۔- یہ آیت فرقہ جبریہ کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اگر یہ لوگ اللہ پر ایمان لانے اور اپنامال اس کی راہ میں خرچ کرنے کی استطاعت نہ رکھتے تو ان کے متعلق آیت میں کہی ہوئی بات درست نہ ہوتی اس لیے کہ ان کا عذر واضح ہے اور وہ یہ کہ جس بات کی طرف انہیں بلایاجارہا ہے اس کی نہ انہیں استطاعت ہے اور نہ ہی قدرت۔- جس طرح کسی اندھے کے متعلق یہ کہنا درست نہیں کہ اگر وہ دیکھ لیتا تو اس پر کیا آفت آجاتی، یامریض کے متعلق یہ کہنا کہ اگر وہ تندرست ہوتاتو اس کا کیا بگڑ جاتا۔ اس میں اس بات کی واضح ترین دلیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایمان لانے اور تمام دوسری عبادات بجالانے کا جومکلف بنایا ہے تو اس سلسلے میں ان کے تمام عذر کو ختم کردیا ہے اور یہ بتادیا ہے کہ انہیں عبادات کے بجالانے کی قدرت حاصل ہے۔

40

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةًۭ يُضَٰعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًۭا

خدا کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کرتا اور اگر نیکی (کی) ہوگی تو اس کو دوچند کردے گا اور اپنے ہاں سے اجرعظیم بخشے گا

Explained together with ayah 39

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.