Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 21–30 of 176

21

وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُۥ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًۭا

اور تم دیا ہوا مال کیونکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہے

قول باری ہے (وکیف تاخذونہ وقدافضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا، اور آخرتم اسے کس طرح لے لوگے جبکہ تم اپنی بیویوں سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور انہوں نے تم سے پختہ عہد بھی لے لیا ہے۔ )- ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ فراء کا قول ہے کہ افضاء خلوت کو کہتے ہیں خواہ ہمبستری نہ بھی ہوئی ہولغت کے لحاظ سے الفاظ کے معانی کے سلسلے میں فراء کا قول حجت ہے۔ اگر افضاء کے اسم کا اطلاق خلوت پر ہوتا ہے تو آیت میں خلوت میسرآجاے کے بعد طلاق کی صورت میں مطلقہ سے کسی چیز کو واپس لینے کی ممانعت ہوگئی ہے۔ اس لیے کہ قول باری (وان اردتم استبدال زوج) فرقت اور طلاق کے مفہوم کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ افضاء کا لفظ فضاء سے لیاگیا ہے۔ فضاء اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی عمارت وغیرہ نہ ہو جو وہاں پڑی ہوئی کسی چیز کو حاصل کرنے میں رکاوٹ بن سکے خلوت کو افضاء کا نام اسی لیے دیا گیا کہ اس حالت میں ہمبستری کے عمل کے لیئے کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی۔- بعض کا یہ قول ہے کہ کشادگی کا نام فضاء ہے۔ جب کوئی شخص اپنے مقصود میں کشادگی محسوس کرے توکہاجاتا ہے، افضی الرجل، اس مفہوم کے تحت بھی خلوت کو افضاء کا نام دینا درست ہے کیونکہ اس کے ذریعے مرد کو مقام وطی یعنی بیوی کی شرمگاہ تک رسائی ہوجاتی ہے اور اس عمل کے لیے اسے پوری گنجائش حاصل ہوتی ہے۔ جبکہ خلوت سے پہلے بیوی تک رسائی میں اسے تنگی پیش آرہی تھی اس مفہوم کی بناپرخلوت کو افضاء کا نام دے دیا گیا۔- اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ میاں بیوی کو خلوت میسرآجانے شوہر کو ہمبستری کا موقعہ مل جانے اور بیوی کی طرف سے خود سپرد گی کا مظاہرہ کردینے اور جسمانی تلذذکاپوراموقع دے دینے کے بعد شوہر کے لیے بیوی کو دی ہوئی کسی چیز کی واپسی جائز نہیں ہے۔ ظاہر آیت کی اس پر دلالت ہورہی ہے کہ اگر نفرت اور روگردانی کا اظہار شوہر کی طرف سے ہو تو اس کے لیے دی ہوئی کسی بھی چیز کو واپس لینے کی ممانعت ہے۔ اس لیے کہ قول باری (وان اردتم استبدال زوج مکان زوج) ۔ اس پر دلالت کررہا ہے کہ علیحد گی کا ارادہ شوہر کی طرف سے ہوا ہے بیوی کی طرف سے نہیں بناپر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر نفرت اور روگردانی کا اظہار شوہر کی طرف سے ہو تو اس کے لیے مہر میں سے کسی چیز کو واپس لے لینا مکروہ ہوگا لیکن اگر نفرت اور سرکشی کا اظہار بیوی کی طرف سے ہو توشوہر کے لیے ایسا کرنا جائز ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے (فان خفتم الایقیما حدود اللہ فلاجناح علیھما فیما افتدت بہ) اور جیسا کہ پہلے گذرچکا ہے حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ فاحشہ سے مراد نشوز یعنی نفرت، روگردانی اور نافرمانی ہے اور دوسرے حضرات کے نزدیک اس سے مراد بدکاری ہے۔- نیز یہ قول باری بھی ہے (فان خفتم الایقیما حدود اللہ فلاجناح علیھما فیماافتدت بہ اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ یہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر اس مال میں کوئی گناہ نہیں جو عورت اپنی ذات کے فدیہ کے طورپراداکرے) ۔- بعض کا قول ہے کہ یہ حکم قول باری (وان اردتم استبدال زوج مکان زوج) کی بناپر منسوخ ہوچکا ہے۔- لیکن یہ بات غلط ہے اس لیے کہ یہ قول باری اس حالت کی نشاندہی کررہا ہے جس میں نفرت اور روگردانی کا اظہار شوہر کی طرف سے ہواہوجب کہ قول باری (الاان یخافا الا یقیما حدود اللہ) میں ایسی حالت کا ذکر ہوا ہے جو پہلی حالت سے مختلف ہے اور وہ یہ حالت ہے جس میں سرکشی اور نفرت کا اظہار بیوی کی طرف سے ہواہو اور عورت نے بطور فدیہ شوہر کو کوئی رقم دے دی ہو اس یہ حالت پہلی حالت سے مختلف ہے اور ان دونوں حالتوں میں سے ہر ایک کے لیئے مخصوص حکم ہے۔- قول باری ہے (واخذن منکم میثا قاغلیظا، اور انہوں نے تم سے پختہ عہد لے رکھا ہے حسن ابن سیرین قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد بھلے طریقے سے عقدزوجیت میں باقی رکھنا یا اچھے طریقے سے رخصت کردینا ہے۔ جس کا ذکر قول باری …

22

وَلَا تَنكِحُوا۟ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةًۭ وَمَقْتًۭا وَسَآءَ سَبِيلًا

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا

ان عورتوں کا بیان جن سے نکاح حرام ہے - قول باری ہے۔ (ولاتنکحوامانکح اباء کم من النساء الا ماقد سلف، اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے ہرگز نکاح نہ کرومگر پہلے جو ہوچکا سوہوچکا۔ )- ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ہمیں ثعلب کے غلام ابوعمرونے بتایا ہے کہ ہمیں ثعلب سے اور انہیں کوفہ کے اہل لغت سے نیز مبرد کو بصرہ کے اہل لغت سے جو بات معلوم ہوئی ہے کہ لغت میں نکاح کے اصل معنی دوچیزوں کواکٹھا کردینے کے ہیں۔ عربوں کا قول ہے۔ انکحنا الفرافسنری، (ہم نے جنگلی گدھے اور اس کی مادہ کو اکٹھا کردیا ہے تم دیکھ لوگے کہ کیا بنتا ہے) ۔- یہ ایک ضرب المثل ہے اور اس وقت کہاجاتا ہے جب کسی معاملہ میں لوگ باہم مشورہ کریں اور اس پر اتفاق کرلیں اور پھر دیکھیں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ لغوی طورپرنکاح کا اسم دوچیزوں کو جمع کرنے کے معنی کے لیئے وضع کیا گیا تھا پھر ہم نے یہ دیکھا کہ عرب کے لوگ نفس وطی پر جو عقد کے بغیر ہو نکاح کے اسم کا اطلاق کرنے لگے جیسا کہ اعشی کا شع رہے۔- ؎ ومنکوحۃ غیر ممھورۃ واخری لیقال لھا فادھا - ایک قیدی عورت جس کے ساتھ عقد اورمہر کے بغیر ہم بستری کی گئی ۔ اس کے علاوہ ایک اور عورت ہے جسے فادہہ کے نام سے پکاراجاتا ہے۔- ایک اور شاعرکاشع رہے - ؎ ومن ایم قدانکح تھا رماحنا واخری علی عم وحال تلھف - ایک قیدی بیوہ عورت جس کے ساتھ ہمارے نیزوں نے نکاح کیا اور ایک دوسری عورت جو اپنے چچا اور ماموں کو یادکرکے روتی ہے۔- ایک اور شاعرنا بغہ ذبیانی کہتا ہے۔- ؎ فنکحن ابکاراوھن بامۃ اعجلنھن مظنۃ الاحذار - ان قیدی عورتوں کے ساتھ ان کی دوشیز گی کی حالت میں ہمبستری کی گئی اور یہ آرام وراحت میں تھیں اور ان کے ختنہ ہونے کے وقت تک کا بھی انتظار نہیں کیا گیا۔ نکاح سے شاعر کی مراد وطی یعنی ہمبستری ہے وطی کے معنی پر نکاح کے اسم کا اطلاق کسی کے نزدیک ممتنع نہیں ہے۔ یہ اسم نفس عقد کو بھی شامل ہے ۔- چنانچہ قول باری ہے (اذانکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن، جب تم مومنات سے نکاح کرلو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو ) یہاں نکاح سے مراد عقد ہے وطی نہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (انا من نکاح ولست من سقاح) میرے والدین کے درمیان رشتہ ازواج عقدنکاح کی بناپراستوارہوا تھا، ناجائز تعلقات کی بناپر نہیں ۔ ) آپ کے اس ارشاد کی دومعنوں پر دلالت ہورہی ہے ایک تو یہ کہ نکاح کے اسم کا اطلاق عقدپر ہوتا ہے اور دوسرے یہ کہ اس کا بعض دفعہ عقد کے بغیر کی جانے والی ہمبستری پر بھی اسے محمول کیا جاتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ صرف (انا من نکاح) کے فقرے پر اکتفا کرتے کیونکہ لفظ سفاح یعنی بدکاری کسی حالت میں بھی اسم نکاح کے مفہوم کو اپنے دائرے میں نہیں لیتا اس لیے لفظ نکاح کے ذکرکے بعد آپ کا قول (ولست من سفاح) اس پر دلالت کرتا ہے کہ نکاح کا لفظ دونوں باتوں کو شامل ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ واضح فرمادیا کہ آپ کی ولادت باسعادت عقدحلال کے نتیجے میں ہوئی اس نکاح یعنی ہمبستری کی بناپر نہیں ہوئی تھی جو سفاح یعنی بدکاری اور زناکہلاتی ہے۔- ہماری مذکورہ بالا وضاحت سے جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ نکاح کا اسم عقد اوروطی دونوں پر محمول کیا جاتا ہے نیز لغت کے لحاظ اس کے مفہوم ومعنی کا بھی ثبوت ہوگیا اور یہ معلوم ہوگیا کہ یہ دوچیزوں کواکٹھا کردینے کا نام ہے اور اکٹھا کردینے کا مفہوم ہمبستری کی صورت میں ادا ہوتا ہے، عقد کی صورت میں نہیں اس لیے کہ عقد کی وجہ سے اکٹھا ہونا نہیں ہوتا کیونکہ عقدتومرد اور عورت دونوں کی طرف سے ایک زبانی بات ہوتی ہے جو حقیقت میں اکٹھا کرنے کے مفہوم کی مقتضی نہیں ہوتی۔- ان امور کی روشنی میں یہ بات سامنے آگئی کہ نکاح کے اسم کے حقیقی معنی ہمبستری کے ہیں اور مجازا اس کا اطلاق عقدپر بھی ہوتا ہے۔ عقد کو …

23

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَٰتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَٰتُكُمْ وَعَمَّٰتُكُمْ وَخَٰلَٰتُكُمْ وَبَنَاتُ ٱلْأَخِ وَبَنَاتُ ٱلْأُخْتِ وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّٰتِىٓ أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَٰعَةِ وَأُمَّهَٰتُ نِسَآئِكُمْ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِى فِى حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّٰتِى دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا۟ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَٰٓئِلُ أَبْنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنْ أَصْلَٰبِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا۟ بَيْنَ ٱلْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

سات نسبی اور سات سسرالی رشتے حرام ہیں - قول باری ہے (محرمت علیکم امھا تکم وبناتکم، تم پر تمہاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں حرام کردی گئی ہیں) تاآخر آیت۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ، انہیں محمد بن الفضل بن سلمہ نے انہیں سنیدبن داؤدنے، انہیں وکیع نے ، انہیں علی بن صالح نے سماک سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ قول باری (حرمت علیکم امھاتکم، تاقول باری (وینات الاخت، اور بہن کی بیٹیاں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے سات نسبی رشتے اور مصاہرت کی بناپرحاصل ہونے والے سات سسترالی رشتے حرام کردیئے ہیں۔- پھر فرمایا (کتاب اللہ علیکم واحل لکم ماوراء ذلکم، اللہ تعالیٰ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر فرض کردی گئی ہے اور ان کے ماسواجتنی عورتیں ہیں انہیں تمہارے لیے حلال کردیا گیا ہے) یعن ان محرمات کے ماسوا۔- پھر فرمایا (وامھا تکم اللانی اد ضعنکم واخواتکم منالرضاعۃ اور تمھاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری رضاعی بہنیں) تاقول باری (والمحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم، اور وہ عورتیں جو دوسروں کے نکاح میں ہوں البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو جنگ میں تمہارے ہاتھ آئیں) یعنی جنگ میں گرفتارشدہ عورتیں۔- ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ قول باری (حرمت علیکم) میں ان تمام خواتین کے لیے عموم ہے جو حقیقت کے لحاظ سے اس اسم کے تحت آتی ہوں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نانیاں خواہ واسطوں کے لحاظ سے کتنی دورکیوں نہ ہوں حرام ہیں۔- آیت میں ان کا ذکر نہیں ہے اور صرف ماؤں کے ذکرپراکتفا کیا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ امھات کا لفظ ان سب کو شامل ہے جس طرح آباء کا لفظ دادوں کو شامل ہے خواہ واسطوں کے (رح) لحاظ سے وہ کتنی دورکیوں نہ ہوں۔- قول باری (ولاتنکحوامانکح اباء کم ) سے خودیہ بات سمجھ میں آتی تھی کہ دادوں کے عقد میں آنے والی خواتین حرام ہیں اگرچہ جد کے لیے خاص اسم ہے جس میں باپ شامل نہیں ہوتالیکن ایک اسم عام یعنی ابوت (نسبت پدری) ان سب کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہے۔- اس طرح قول باری (وبناتکم) بیٹوں کے علاوہ اولاد کی بیٹیوں یعنی پوتیوں اور نواسیوں کو بھی شامل ہے خواہ واسطوں کے لحاظ سے وہ کس قدرنیچے کیوں نہ ہوں اس لیے کہ بنات کا اسم انہیں شامل ہے جس طرح آیاء کا اسم اجداد کو شامل ہے۔ قول باری ہے (واخواتکم وعماتکم وخالاتکم وبنات الاخ وبنات الاخت، اور تمھاری ب نہیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھتیجیاں اور بھانجیاں) بھتیجیوں اور بھانجیوں کا الگ سے ذکر کیا اس لیے کہ بھائی اور بہن کا اسم ان کو شامل نہیں تھا جس طرح بنات کا اسم اولاد کی بنات کو شامل تھا۔- نسب کی جہت سے یہ وہ سات خواتین ہیں جو نص قرانی کی بنیاد پر محرمات قراردی گئیں۔ پھر فرمایا (وامھا تکم اللاتی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ وامھات نساء کم ورباء بکم اللاتی فی حجورکم من نساء کم اللاتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلاجناح علیکم وحلائل ابناء کم الذین من اصلابکم فان تجمعوا بین الاختین الاماقد سلف۔- اورتمھاریوہمائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایاہو اورتمھاری دودھ شریک ب نہیں اور تمھاری بیویوں کی مائیں اور تمھاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے، ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمھاراتعلق زن وشوہوچکا ہو ورنہ اگر (صرف نکاح ہواہو اور) تعلق زن وشونہ ہواہو توا نہیں چھوڑکران کی لرکیوں سے نکاح کرلینے میں) تم پر کوئی مواخذہ نہیں اور تمھارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمھاری صلت سے ہوں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرومگرجوپہلے ہوچکاسوہوچکا) ۔- اس سے پہلے فرمایا (وماتنکحوامانکح اباء کم من النساء، جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ، ان سے ہرگز نکاح نہ کرو) یہ سات عورتیں ہوگئیں جو سسرالی رشتے کی جہت سے محرمات قراردی گئیں۔ قول باری …

24

۞ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۖ كِتَٰبَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا۟ بِأَمْوَٰلِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ ۚ فَمَا ٱسْتَمْتَعْتُم بِهِۦ مِنْهُنَّ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةًۭ ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَٰضَيْتُم بِهِۦ مِنۢ بَعْدِ ٱلْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

شوہروں والی عورتوں سے نکاح کی تحریم - قول باری ہے (والمحصنات من النساء الاماملکت ایمانکم، اور جو عورتیں کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں (وہ تم پر حرام ہیں) البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو جنگ میں ہمارے ہاتھ آئیں) اس کا عطف ان عورتوں پر ہے جن کی تحریم کا ذکرقول باری (حرمت علیکم امھاتکم) سے شروع ہوا ہے۔- سفیان نے حماد سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعو (رض) د سے روایت کی ہے کہ (والمصنات من النساء ) سے مسلمان اور مشرک شوہروں والی عورتیں مراد ہیں۔ حضرت علی (رض) کا قول ہے کہ اس سے مشرک شوہروں والی عورتیں مراد ہیں۔- سعیدبن جبیرنے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس سے مراد شوہروالی ہر وہ عورت ہے جس سے ہمبستری زناکے حکم میں ہے سوائے ان عورتوں کے جو جنگ میں گرفتار ہوئی ہوں۔- ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ان حضرات کا اس پر اتفاق ہے کہ قول باری (والمحصنات من النساء) سے مراد شوہروں والی عورتیں ہیں اور جب تک ان کے شوہرموجودہوں ان سے نکاح حرام ہے۔- البتہ ان حضرات کا قول باری (الاماملکت ایمانکم) کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت علی (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تاویل میں یہ فرمایا ہے کہ یہ آیت ان شوہروں والی عورتوں کے متعلق ہے جو جنگ میں گرفتارہوگئی ہوں ان کے ساتھ ملک یمین کی بناپرہمبستری مباح ہوجاتی ہے۔- شوہروں کی گرفتاری کے بغیرتہاء ان کی گرفتاری انہیں ان کے شوہروں سے جدا کرنے کی موجب بن جاتی ہے۔ حضرت عمر (رض) ، حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) اور حضرت ابن عمر (رض) کی بھی آیت کی تاویل میں یہی رائے ہے۔- یہ حضرات فرمایا کرتے تھے کہ لونڈی کی فروخت اس کے حق میں طلاق نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا نکاح باطل ہوتا ہے۔ حضرت ابن مسعو (رض) د، حضرت ابی بن کعب، حضرت انس بن مالک (رض) ، حضرت جابربن عبد (رض) اللہ اور حضرت ابن عباس (رض) بروایت عکرمہ نے آیت کی یہ تاویل کی ہے کہ آیت کا حکم شوہروں والی تمام عورتوں کے لیے ہے خواہ وہ قیدی عورتیں ہوں یا غیر قیدی۔- ان حضرات کا قول ہے کہ لونڈی کی فروخت اس کے حق میں طلاق ہوتی ہے۔ ہمیں محمد بن ب کرنے روایت بیان کی ہے، انہیں ابوداؤد نے، انہیں عبداللہ بن عمربن میسرہ نے ، انہیں یزید بن زریع نے، انہیں سعید نے قتادہ سے ، انہوں نے ابوالخلیل سے ، انہوں نے ابوعلقمہ ہاشمی سے اور انہوں نے حضرت ابوسعیدخدر (رض) ی سے کہ اللہ کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اوطاس کی طرف ایک لشکرروانہ کیا، جس کا دشمن سے آمناسامنا ہوا۔ اور جنگ کے بعد اس پر فتح حاصل ہوئی۔ مجاہدین نے مشرک شوہروں والی عورتوں کو قید ی بنالیا۔ ان عورتوں سے ہمبستری کو مسلمان گناہ کی بات سمجھتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (والمحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم) یعنی یہ عورتیں عدت کی مدت گذرجانے کے بعد تمہارے لیے حلال ہیں۔ یہ کہاگیا ہے کہ اس روایت کے ایک راوی ایک جلیل القدرصاحب علم انسان تھے ان سے یعلی بن عطاء نے روایت بیان کی ہے خود یعلی بن عطاء نے حضرت ابوسعید خدر (رض) ی سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ ابوعلقمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے بہت سی روایتیں نقل کی ہیں۔- زیربحث روایت کی سندصحیح ہے اس میں آیت کے نزول کے سبب کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ آیت جنگ میں گرفتارہونے والی عورتوں کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن مسعود اور آپ کے ہم خیال اصحاب نے آیت کی تاویل میں شوہروں والی ایسی تمام عورتیں مراد لی ہیں جو کسی کی ملکیت میں چلی جانے کے بعد ملکیت حاصل کرنے والوں کی ہمبستری کے لیے حلال ہوجاتی ہیں اور شوہروں سے ان کی تفریق عمل میں آجاتی ہے۔- اگریہ کہاجائے کہ آپ لوگوں کا اصول تو یہ ہے کہ آپ سبب کا اعتبار نہیں کرتے بلکہ لفظ کی حالت کا اعتبار کرتے ہیں کہ اگر لفظ میں عموم ہوتوا سے اس کے عموم پر اس وقت تک محمول کیا جائے جب تک اس …

25

وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ ٱلْمُحْصَنَٰتِ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُم مِّن فَتَيَٰتِكُمُ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ ۚ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَٰنِكُم ۚ بَعْضُكُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۚ فَٱنكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَءَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ مُحْصَنَٰتٍ غَيْرَ مُسَٰفِحَٰتٍۢ وَلَا مُتَّخِذَٰتِ أَخْدَانٍۢ ۚ فَإِذَآ أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَٰحِشَةٍۢ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى ٱلْمُحْصَنَٰتِ مِنَ ٱلْعَذَابِ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِىَ ٱلْعَنَتَ مِنكُمْ ۚ وَأَن تَصْبِرُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کرکے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی ان کو (دی جائے) یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)- اسی طرح قول باری ہے (ولکم نصف ماترک ازواجکم، اور تمہاری بیویوں کے چھوڑے ہوئے ترکہ میں تمہارے لیے نصف ہے جبکہ قائلین متعہ کے نزدیک ایسے مرد اور عورت کے مابین کوئی توارث نہیں ہوتا۔- یہ ہیں نکاح کے وہ احکام جو اس کے ساتھ مختص ہیں البتہ غلامی اور کفر نکاح کی صورت میں توارث کے درمیان حائل ہوجاتا ہے جبکہ متعہ کے اندر جانبین میں ایک کی غلامی یا کفر دوسرے کی میراث سے مانع نہیں ہوتا، اونہ ہی کوئی ایساسبب ہوتا ہے جو علیحدگی کا موجب بن سکتا ہو اورنہ ہی نسب کے ثبوت کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہوتی ہے حالا کہ مرد فراش کی اہلیت رکھتا ہے اور فراش کی بنا پر اس سے نسب کا الحاق ہوسکتا ہے تو ان تمام باتوں سے یہ چیز ثابت ہوگئی کہ متعہ نکاح نہیں ہوتا۔- جب یہ نکاح یا ملک یمین کے دائرے سے خارج ہوگیا تومن جانب اللہ تحریم کی بنا پر یہ حرام ہوگا، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول میں فرمایا ہے (فمن ابتغی وراء ذالک فاولئک ھم العادون) ۔- اگریہ کہاجائے کہ مدت جو علیحدگی کی موجب ہوتی ہے اس کا گذرجانا بھی توطلاق ہے تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ طلاق یاتوصریح لفظ یاکنایہ کی بنا پر واقع ہوتی ہے اور متعہ کی صورت میں ان میں سے کوئی صورت پیش نہیں آئی توپھریہ طلاق کیسے ہوسکتی ہے۔- اس کے باوجود متعہ کے قائل کے اصول کے مطابق اگر حیض کے دوران مدت گزرجائے تو عورت بائن قرار نہ دی جائے کیونکہ قائلین متعہ حائضہ کی طلاق کو جائز نہیں سمجھتے اس لیے اگر مدت گزرنے کے ساتھ واقع ہونے والی علیحدگی طلاق بن جاتی توپھریہ ضروری ہوجاتا کہ حیض کی حالت میں طلاق کا وقوع نہ ہو۔- لیکن جب ان لوگوں نے مدت گزرنے کے ساتھ واقع ہونے والی علیحدگی کو حیض کی حالت میں واقع کردیا تو یہ اس کی دلیل بن گئی کہ یہ طلاق نہیں اور اگر عورت طلاق کے بغیر بائن ہوگئی جبکہ شوہر کی طرف سے کوئی ایسی حرکت نہیں ہوئی جو علیحدگی کی موجب ہو تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ متعہ نکاح نہیں۔- اگریہ کہاجائے کہ ہم نے نسب، عدت اور میراث کی نفی کا ذکر کیا ہے لیکن ان احکام کامنتفی ہوجانامتعہ کو نکاح بننے سے مانع نہیں ہے کیونکہ نابالغ کے ساتھ نسب کا الحاق نہیں ہوتا لیکن اس کا نکاح درست ہوتا ہے اسی طرح غلام وارث نہیں ہوتا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں بنتا لیکن ان احکام کی انتفاء اس کے نکاح کو نکاح کے دائرے سے خارج نہیں کرتا۔- تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ نابالغ کے نکاح کے ساتھ نسب کے ثبوت کا تعلق ہوجاتا ہے جب اس میں فراش جنسی ملاپ کی اہلیت پیدا ہوجاتی ہے جبکہ تم اس کے ساتھ عورت کے بطن سے پیدا ہونے والے بچے کے نسب کا الحاق نہیں کرتے حالانکہ وہ ہمبستری بھی پائی جاتی ہے جس کی بنا پر نکاح کی صورت میں اس کے ساتھ نسب کا الحاق جائز ہوتا ہے۔- غلام اور کافر توغلامی اور کفر کی بنا پروارث نہیں قرار پائے اور یہی دو باتیں مرد اور عورت کے درمیان توارث کے لیے مانع ہیں لیکن متعہ میں یہ دونوں باتیں موجود نہیں ہوتیں، اس لیے کہ طرفین میں سے ہر ایک کے اندر دوسرے سے وارث ہونے کی اہلیت ہوتی ہے۔- اب جبکہ ان دونوں میں میراث کو منقطع کرنے والی کوئی بات نہیں ہوتی اور پھر متعہ کی صورت میں وارثت نہیں پائی جاتی تو اس سے ہمیں یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ متعہ نکاح نہیں ہے کیونکہ اگر یہ نکاح ہوتاتوسبب کی موجودگی اور مانع کی غیرموجودگی کی بنا پر یہ میراث کا موجب بن جاتا نیز اس کے متعلق حضرت ابن عباس نے یہ فرمایا دیا تھا کہ نہ یہ نکاح ہے اور نہ سفاح۔- جب حضرت ابن عباس نے اس سے اسم نکاح کی نفی کردی تو ضروری ہوگیا کہ یہ نکاح نہ کہلائے گاکیون کہ حضرت ابن عباس سے شرع اور لغت کے لحاظ سے اسماء کے احکام مخفی نہیں تھے۔ جب صحابہ میں سے تنہاحضرت ابن عباس ہی متعہ کے قائل تھے اور وہی خود اسے نکاح نہیں تسلیم کرتے بلکہ اس سے نکاح کے اسم کی نفی کرتے ہیں تو اس سے …

26

يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)- اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ کہنا سراسر غلط ہے اور کئی وجوہ سے اس کا انتقاض لازم آتا ہے۔ ایک تو یہ کہ معترض نے اپنے اس قول میں اس علت اور وجہ کی نشاندہی نہیں کی جو ایک حکم کے تحت ان دونوں صورتوں کی یکجائی کی مو جب بن رہی ہے نہ ہی اس دلالت کا ذکر کیا جو اس علت کی صحت کو ثبت کرتی ہے جو دعویٰ ان باتوں سے خالی ہوگا وہ ساقط تصور کیا جائے گا اور قابل قبول نہیں ہوگا۔ - دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر معترض کا یہ دعویٰ تسلیم کرلیا جائے تو اس سے لازم آئے گا کہ اگر کسی شخص کے پاس آزاد عورت کے مہر کی مقدار رقم ہو تو اس رقم کا وجود اس عورت کی ماں یا بیٹی سے نکاح کی ممانعت میں وہی کردار ادا کرے گا جو اس عورت سے نکاح کا وجود ادا کرتا ہے۔ حالانکہ ایسا کبھی نہیں ہوتا جس سے معترض کے اس قول کا بطلان واضح ہوجاتا ہے۔ - ان دونوں صورتوں میں فرق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مملوک نکاح کی کی نظیر نہیں ہوتاکیون کہ ظہار کی صورت میں مملوک آزاد کرنا فرض ہوتا ہے اور ظہار کرنے ولامملوک کی موجودگی میں کفارہ ادا کرنے کے لیے کسی اور طرف رخ نہیں کرسکتا۔ جبکہ نکاح کے امکان کے باوجود مرد کے لیے نکاح نہ کرنا جائز ہوتا ہے اس بنا پر مملوک کی قیمت خرید کی موجودگی، ملکیت میں مملوک کی موجودگی کی طرح ہوتی ہے کیونکہ اسے آزاد کرنا فرض ہوتا ہے اور ظہار کرنے والے کو حتی الامکان اسے آزاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ - اس کے برعکس نکاح فرض نہیں ہے کہ مہر کی موجودگی میں اس تک رسائی اس پر لازم آتی ہو۔ اس لیے کسی کی ملکیت میں مہر کی موجودگی لونڈی کے ساتھ نکاح کی ممانعت میں کسی طرح مؤثر نہیں ہوتی اور اس کی موجودگی اور عدم موجودگی دونوں یکساں ہوتی ہے۔ - ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ عقد میں آزاد عورت کے ہوتے ہوئے مرد کسی لونڈی سے نکاح نہیں کرسکتا تو اس کی وجہ وہ روایت ہے جو حسن اور مجاہد نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (لاتنکح الامۃ علی الحرۃ، آزاد عورت پر لونڈی بذریعہ نکاح نہیں لائی جاسکتی۔ - اگر یہ روایت موجود نہ ہوتی تو عقد میں آزاد عورت کے ہوتے ہوئے لونڈی سے نکاح کی ممانعت نہ ہوتی کیونکہ قرآن مجید میں ایسا کوئی حکم موجود نہیں ہے جو اس ممانعت کا موجب بنتا ہو۔ دوسری طرف قیاس بھی اس کی اباحت کا موجب ہے لیکن ہمارے اصحاب نے اس معاملے میں قیاس کو ترک کر کے روایت کی پیروی کی ہے۔- واللہ اعلم - کتابی لونڈی سے نکاح کا بیان - ابوبکر جصاص (رح) کہتے ہیں کہ اس مسئلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ حس، مجاہد، سعید بن عبدالعزیز اور ابوبکر بن عبداللہ بن ابی مریم رحمہم اللہ سے اس کی کراہت نقل کی گئی ہے۔ سفیان ثوری (رح) کا بھی یہی قول ہے۔ ابومیسرہ اور دوسرے حضرات کا قول ہے اس کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ - امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد اور زفر رحمہم اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ امام ابویوسف (رح) سے یہ منقول ہے کہ اگر ایسی لونڈی کا مالک کافر ہو تو نکاح مکروہ ہے تاہم اگر نکاح ہوجائے تو وہ جائز ہوگا۔ شاید امام ابویوسف (رح) کا ذہن اس طرف گیا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ اس لونڈی کے آقا کا غلام ہوگا حالانکہ وہ اپنے باپ کے مسلمان ہونے کی بنا پر مسلمان متصور ہوگا۔ - اس لیے ایسا نکاح مکروہ ہے جس طرح مسلمان غلام کو کافر کے ہاتھوں فروخت کرنا مکروہ ہے، امام مالک ، اوزاعی، امام شافعی اور لیث بن سعد رحمہم اللہ کا قول ہے کہ یہ نکاح جائز نہیں ہے۔ - اس نکاح کے جواز کی دلیل ان آیات کا عموم ہے جن کا ذکر اس سے پہلے باب میں گذر چکا ہے اور جو آزاد عورت کے ساتھ نکاح کی استطاعت کی موجودگی میں لونڈی کے ساتھ نکاح کے جواز کی موجب ہیں۔ کتابی لونڈی کے ساتھ نکاح کے جواز پر ان کی دلالت مسلمان لونڈی کے ساتھ نکاح کی اباحت پر دلالت کی طرح ہے۔ - ان میں سے جو آیت …

27

وَٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلشَّهَوَٰتِ أَن تَمِيلُوا۟ مَيْلًا عَظِيمًۭا

اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو

قول باری (ویتوب علیکم) فرقہ جبریہ کے عقائد کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ ہماری طرف متوجہ ہونے ا رادہ رکھتا ہے جبکہ ان باطل پرستوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں پر اڑے رہنے والوں کے لیے اصرار اور اڑے رہنے کا اراد ہ کرتا ہے اور ان سے توبہ اور استغفار کا ارادہ نہیں کرتا۔ - قول باری ہے (ویرید الذین یتبعون الشہوات ان یمیلوا میلا عظیما، مگر جو لوگ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ) ۔- بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے ہر باطل پرست مراد ہے کیونکہ وہ ہر صورت میں اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتا ہے خواہ یہ حق کے موافق یا یا مخالف اس کی اسے کوئی پروا نہیں ہوتی اور اپنی خواہش نفس کی مخالفت کرتے ہوئے حق کی پیروی کی اس میں ہمت نہیں ہوتی مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد زنا ہے۔ سدّی کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود ونصاری ہیں۔ قول باری (ان تمیلوا میلا عظیما) سے مراد یہ ہے کہ کثرت سے گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے حق پر استقامت باقی نہ رہے اور قدم لڑکھڑا جائیں۔- باطل پرست جو یہ چاہتے ہیں کہ تم راہ حق سے ہٹ کر دو چلے جاؤ تو اس کی دو وجہیں ہیں یا تو اس عداوت کی بنا پر جو وہ تمہارے خلاف اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور یا اس وجہ کی بنا پر کہ گناہ اور معصیت سے انہیں دلی لگاؤ ہے اور اس پر ڈٹے رہنے میں انہیں سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ جو کچھ وہ ہمارے لیے چاہتا ہے وہ ان باطل پرستوں کے ارادوں سے بالکل مختلف ہے۔ - آیت کی اس مفہوم پر دلالت ہو رہی ہے کہ خواہش نفسانی کی پیروی کا ارادہ قابل مذمت ہے لیکن اگر یہ خواہش حق کے موافق ہو تو اصورت میں اس کی پیروی قابل مذمت نہیں ہوتی۔- کیونکہ اس شکل میں اس کا ارادہ دراصل اتباع حق کا ہوتا ہے۔ اور ایسے شخص کے متعلق یہ کہا درست نہیں ہوتا کہ وہ اپنی خواہشات کا پیروکار ہے اس لیے کہ اس طریق کار سے اس کا مقصد اتباع حق ہوتا ہے خواہ یہ اس کی خواہشات کے موافق ہو یا مخالف ۔

28

يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ ٱلْإِنسَٰنُ ضَعِيفًۭا

خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا ہے

قول باری ہے (یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا، اللہ تعالیٰ تمہارا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے اور انسان تو کمزور بنا کر پیدا کیا گیا ہے) تخفیف سے یہاں تکلیف یک تسہیل مراد ہے یعنی ہمیں جن باتوں کا مطلف بنایا گیا ہے ان میں آسانی اور سہولت کی راہیں پیدا کردی گئی ہیں۔- تخفیف تثقیل (بوجھل بنادینا) کی ضد ہے۔ اس قول باری کی نظیر یہ قول باری ہے (ویضع عنہم اصرہم ولاغلال التی کانت علیہم ، اور وہ ان سے ان کا بوجھ اور طوق اتار دیتا جو ان پر پڑے ہوئے تھے۔ - نیز فرمایا (یرید اللہ بکم الیسر ولایرید بکم العسر، اللہ تعالیٰ تم سے آسانی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ تم سے سختی کا ارادہ نہیں کرتا، نیز فرمایا (وماجعل علیکم فی الدین من حرج، اللہ تعالیٰ نے دین کے معاملے میں تمہارے لیے کوئی تنگی پیدا نہیں کی) ۔ - نیز ارشاد ہے (مایریدلیجعل علیکم من حرج ولکن یرید لیطہرکم، اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی مسلط کر دے وہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کر دے) ۔ - ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے تنگی پیدا کرنے ، ہم پر بوجھ ڈالنے اور ہمیں سختی میں مبتلا کرنے کی نفی فرمادی ہے۔ اس کی مثال حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ ارشاد مبارک ہے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (جیئتکم بالحنیفیۃ السمحاء، میں تم لوگوں کے پاس ایسی شریعت لے کرے یا ہوں جو بالکل سیدھی اور جس میں بڑی گنجائش ہے) ۔- وہ اس طرح کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر وہ عورتیں حرام کردیں جن کا ذکر سابقہ آیات میں گذر چکا ہے لیکن ان کے سوا باقی ماندہ تمام عورتیں ہمارے لیے مباح ہیں کہ انہیں ہم نکاح یا ملک یمین کے ذریعے حاصل کرسکتے ہیں۔- اسی طرح دوسری تمام حرام کردہ اشیاء کی کیفیت ہے کہ جتنی چیزیں حلال کردی گئی ہیں وہ ان حرام شدہ چیزوں کے مقابلے میں کئی گنا ہیں اس لیے حلال کردہ اشیاء کی طرف جانے کی ہمیں ضرورت ہی نہیں۔- حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے اسی مفہوم کا ایک قول منقول ہے کہ ” اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفا ان چیزوں میں نہیں رکھی جو اس نے تم پر حرام کردی ہیں “ حضرت ابن مسعود (رض) کی اس قول سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شفا کو حرام شدہ چیزوں میں منحصر نہیں کردیا بلکہ ہمارے لیے جو غذائیں اور دوائیں حلال کردی ہیں ان میں اتنی وسعت اور گنجائش ہے کہ ہم ان کے ذریے حرام شدہ اشیاء سے مستغنی ہوسکتے ہیں تاکہ دنیاوی امور میں ہمارے لیے جو چیزیں حرام کردی گئی ہیں ان سے دامن بچانے کی بنا پر ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کبھی دو باتوں میں سے ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیشہ وہی بات پسند کرلی جو زیادہ آسان تھی۔- ان آیات سے ان مسائل میں تخفیف کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے جو فقہاء کے نزدیک مختلف فیہ ہیں اور انہوں نے ان میں اجتہاد کی گنجائش نکال لی ہے۔ اس میں فرقہ جبریہ کے مذہب کے بطلان کی دلالت موجود ہے۔ - ان کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسے امور کا مکلف بنا دیتا ہے جن کے کرنے کی ان کے اندر طاقت نہیں ہوتی۔ اس عقیدے کے بطلان کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں پر تخفیف کرنا چاہتا ہے جبکہ تکلیف مالا یطاق یعنی ایسی بات کا مکلف جو اس کی طاقت سے بالا ہو، تثقیل کی انتہا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کے معانی کو زیادہ جاننے والا ہے۔

29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٍۢ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًۭا

مومنو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ حاصل ہو جائے تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ خدا تم پر مہربان ہے

تجارت اور خیار بیع کا بیان - قول باری ہے (یا یہا الذین امنوا لاتأکلو اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم) اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقوں سے نہ کھاؤ۔ البتہ اگر باہمی رضامندی سے تجارت کی صورت ہوجائے، ( تو اس میں کوئی حرج نہیں) ۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس عموم میں ناجائز طریقے سے دوسروں کا مال کھانے نیز اپنا مال کھانے، دونوں کی کی نہیں شامل ہے۔ اس لیے قول باری (اموالکم) کا اطلاق غیر کے مال نیز اپنے مال دونوں پر ہوتا ہے جیسا کہ ایک اور مقام پر ارشاد باری ہے (ولا تقتلوا انلسکم، اپنے آپ کو قتل نہ کرو) ۔ - یہ آیت اپنے آپ کو قتل کرنے نیز کسی اور کو قتل کرنے دونوں سے روک رہی ہے اسی طرح قول باری (لاتأکلوا اموالکم بینکم بالباطل، میں ہر شخص کو ناجائز طیقے سے اپنا مال کھانے نیز کسی اور کا مال کھانے سے روکا گیا ہے۔ - اپنا مال باطل طریقوں سے کھانے کا مفہوم یہ ہے کہ اسے اللہ کی نافرمانی کی راہوں میں صرف کیا جائے اور گناہ کمایا جائے۔ باطل طریقوں سے دوسروں کا مال کھانے کی دو صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ - پہلی صور مفسر سدی نے بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ بدکاری اور قمار بازی کے اڈوں کی کمائی کھائے یا ناپ تول میں کمی کر کے یا ظلم و ذبردستی کے ذریعے کمایا ہوا مال کھائے۔ - دوسری صورت حضرت ابن عباس (رض) اور حسن سے منقول ہے کہ معاوضہ کے بغیر کوئی مال کھائے۔ جب اس آیت کا نزل ہوا تو اس کے بعد لوگوں کی یہ حالت ہوگئی کہ ہر شخص دوسرے کے ہاں جاکر کھانا کھا لینے کو گناہ کی بات سمجھنے لگا یہاں تک کے سورة نور کی ییت (لیس علی الاعمی حرج، نابینا پر کوئی گناہ نہیں) تا قول باری (ولا علی انفسکم ان تأکلوا من بیوتکم، اور نہ ہی تم پر کوئی گناہ ہے کہ تم اپنے ت گھروں میں جاکر کھالو) تا آخر ییت ، نازل ہوئی اور پہلا حکم منسوخ ہوگیا۔ - ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) اور حسن کے اس قول سے ان کی مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ درج بالا آیت کے نزول کے بعد لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں جاکر کھانے کو گناہ کی بات سمجھنے لگے ت ہے، یہ مراد نہیں کہ آیت نے یہ بات لوگوں پر واجب کردی تھی کیونکہ اس آیت کی بنا پر ہبہ اور صدقہ کی صورتوں پر کبھی کوئی پابندی نہیں لگی تھی اس طرح کسی کے ہاں جا کر کھانے پر بھی پابندی نہیں لگی تھی۔ - البتہ اگر یہ مراد لی جیئے کہ کسی کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر جاکر کھا لینا تو آیت میں نہی کا حکم یقینا اس صورت کو شامل ہے۔ شعبی نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے سے روایت کی ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور منسوخ نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قیامت تک منسوخ ہوسکتی ہے۔ - ربیع نے حسن سے روایت کی ہے کہ اس آیت کو قرآن کی کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا آیت میں نہی کا حکم غیر کے مال کونہ کھانے کا مقتضی ہے اس کی نظیر یہ قول باری ہے۔ (ولاتأکلوا اموالکم بینکم بالباطل و تدلوبہا الی الحکام، تم آبس میں اپنے اموال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ اور نہ ہی انہیں حاکموں تک پہنچاؤ) ۔ - اس طرح حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (یحل مال امرئ مسلم الا بطیبۃ من نفسہ، کسی مسلمان کا مال کسی کے لیے حلال نہیں ، الا یہ کہ وہ خوش دلی سے اسے دے دے) - علاوہ ازیں غیر کا مال کھانے کی نہی ایک صفت کے ساتھ مشروط ہے اور وہ صفت یا کیفیت یہ ہے کہ باطل اور ناجائز طور پر کسی کا مال کھالیا جائے۔ اس نہی کے ضممن میں فاسد عقود کے بدل کے طور پر ملنے والے مال کی نہی بھی موجود ہے۔ - مثلا فاسد بیوع سے حاصل شدہ قیمت فروخت جیسے کوئی شخص کوئی خوردنی شئ خرید لے لیکن وہ کھانے کے قابل نہ ہو مثلا انڈے اور اخروٹ وغیرہ۔ اب فروخت کنندہ کے لیے ان سے حاصل شدہ پیسوں کو اپنے استعمال ا میں لانا باطل طریقے سے دوسرے کا مال کھالینے کے مترادف ہے۔ - اس طرح ان اشیاء سے حاصل شدہ …

30

وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَٰنًۭا وَظُلْمًۭا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًۭا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًا

اور جو تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا ہم اس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اور یہ خدا کو آسان ہے

قول باری ہے (ومن یفعل ذالک عدوانا و ظلما فسوف نسلیہ نارا، جو شخص ظلم اور زیادتی کی بنا پر ایسا کرے گا اسے ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے) اس وعید میں روئے سخن کس طرف ہے اس کے متعلق کئی اقوال بیان کیئے گئے ہیں ایک یہ کہ اس کا مرجع باطل طریقے سے مال کھانے نیز ناحق کسی کی جان لینے کے گھناؤنے افعال کی طرف ہے۔ اس لیے جو شخص بھی ان میں سے کسی کا ایک فعل کا مرتکب ہوگا وہ اس وعید کا سزا وار قرار پائے گا۔ - عطاء کا قول ہے کہ اس وعید کا تعلق صرف ناحق کسی کی جان لینے کے فعل سے ہے ۔ ایک قول ہے کہ اس کا مرجع ہر وہ فعل ہے جس کی سورت کی ابتدائی سے یہاں تک ممانعت کردی گئی ہے۔ - ایک اور قول ہے کہ اس وعید کا تعلق قوری باری (یا یہا الذین امنوا لایحل لکم ان ترثوا النساء کرہا) سے شروع ہوتا ہے اس لیے کہ اس کا ماقبل بھی مقرون بالوعید ہے۔ لیکن زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ اس وعید کا تعلق اس سے متصل دو افعال یعنی باطل طریقے سے مال کھانے اور کسی کو ناحق قتل کرنے کے ساتھ ہے وعید کو اپنے قول (عدوانا وظلما) کے ساتھ مقید کیا ہے تاکہ سہو اور غلطی کی بنا پر سرزد ہونے والے افعال اس سے خارج ہوجائیں۔ نیز وہ افعال بھی اس سے نکل جائیں جو احکام میں اجتہاد کی راہ سے تعمد اور عصیان کی حد کو چھو جانے والے ہوں۔ - اللہ تعالیٰ نے ظلم و عدوان دونوں کا ذکر کیا حالان کہ ان دونوں کے معانی متقارب ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دو لفظوں کے معانی متقارب ہوں لیکن ان میں لفظی اختلاف ہو تو ایسی صورت میں دونوں کا اکٹھا ذکر عبارت کے حسن کا سبب بنتا ہے۔ اس کی ایک مثال عدی بن زید کا یہ شعر ہے - وقددت الایم لہا مشیہ - والفی قولہا کذبا و مینا - زبّاء نے اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے جذیمہ کی چمڑی ہاتھ کی دونوں رگوں تک ادھیڑ دی اور جذیمہ نے زباء کے ساتھ اس کے شادی کے وعدے کو جھوٹا پایا۔ کذب اور مین دونوں کے معنی جھوٹ کے ہیں لیکن لفظی اختلاف کی بنا پر ایک کو دوسرے پر عطف کرنا عبارت کے حسن کا سبب بن گیا اسی طرح بشر بن حازم کا شعر ہے۔ - فما وطی الحصی مثل ابن سعدی - ولا لبس النعال ولا احتذاہا - ابن سعدی کی طرح نہ کسی نے کنکریوں کو ورندا ہے اور نہ ہی کسی نے جوتے پہنے ہیں۔ احتذاء جوتا پہننے کو کہتے ہیں۔ اس لیے ان دونوں لفظوں کے معنی ایک ہیں لیکن لفظی اختلاف کی بنا پر شعر میں ان کا ایک ساتھ ذکر ہوگیا جو عبارت کی خوبصورتی کا سبب ہے۔ واللہ اعلم۔

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.